نظیر اکبر آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

نظیر اکبر آبادی کا نام شیخ ولی محمد تھا۔ نظیر تخلص رکھ کر شاعری کی،)(1735)ء]] میں دلی میں پیدا ہو‎ئے۔ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والدہ کے ساتھ آگرہ منتقل ہوگۓ اور محلّہ تاجج گنج میں مقیم ہوۓ۔ ایک مکتب سے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ طبیعت میں موزنیت فطرت سے ملی تھی اس لیے شاعری شروع کی۔ نظیر ایک سادہ اور صوفی منش آدمی تھے، ان کی ساری عمر معلمی میں بسر ہوئی۔ وہ قناعت پسند تھے، بھرت پور کے حکمرانوں نے داعوت نامے بھیجے پر انہوں نے قبول نہ کیے۔ وہ کسی دربار سے وابستہ نہیں ہوۓ، آخری عمر میں فالج کی حالت میں مبتلا ہوۓ اور 1830ء میں انتقال کرگۓ۔

شاعری[ترمیم]

نظیر اکبر آبادی کی شاعری اپنی علیدہ دنیا رکھتی تھی۔ انہوں نے میر وسودا کی بہارسخن بھی دیکھی اور دبستان لکھنو کی جوانی کا نکھار بھی لیکن ان کی آزاد منشی اور منفرد رنگ طبیعت نے انہیں کسی دبستان کا پابند نہی ہونے دیا۔ تاریخ پیدائش 1735

عوامی شاعر[ترمیم]

نظیر اکبر آبادی کو بجا طور پر اردو کاپہلا عوامی شاعر تسلیم کیا جاسکتا ہے وہ زندگی کے ہر پہلو پر گہری دلچسپی سے غور کرتے، شدت سے محسوس کرتے اور پھر اسے شاعری کا جامہ پہنا دیتے۔ وہ عوام کے شاعر تھے اور انہی کے مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے۔ عوامی رنگرلیوں، چہل پہل، تفریح وغیرہ میں شوق و ذوق سے شریک ہوتے۔ اردو کے دوسرے شعراء کے یہہاں فلسفہ ہے، تغزل ہہے۔ لففظی و معنوی ضائع ہیں۔ جن سے اہل علم لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن ان پڑھ انہیں سمجھ نہیں پاتے کیونکہ ان میں عوام کے دلوں کی دھڑکنیں نہیں ہوتیں۔ نظیر عوام کے شاعر تھے نیز وہ خالص ہندوستانی شاعر تھے۔ وہ ہندو مسلمان سب کے غم و ماتم میں شریک ہوتے۔ عید، شب برات، ہولی، دیوالی، دسہرہ غرض ہر تہوار پر نظمیں لکھتے تھے۔ ایک طرف خواجہ معین الدین چشتی کی تعریف کرتے تو دوسری طرف گرونانک کو بھی نذرعقیدت پیش کرتے ہیں۔