نقطویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عقائد[ترمیم]

ان کے نزدیک نماز، حج اور قربانی بے عقلی کے مترادف ہے۔ طہارت اور غسل کے مسائل کی تضحیک کرتے تھے۔

ان کا عقیدہ تھا کہ مذہب اسلام منسوخ ہو چکا ہے اس لیے اب نئے دین کی ضرورت ہے۔[1]

نقطوی تحریک کے بانی ایرانی علماء تھے۔ جب شاہ عباس صفوی کو ان کے عقائد معلوم ہوئے تو اس نے اس فرقہ کے ماننے والے ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کچھ افراد جان بچا کر ہندوستان آنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان میں شریف آملی بڑا با کمال عالم تھا۔ اکبر کے عہد میں ہندوستان کے حالات اس قسم کی تحریکوں کے لیے پہلے ہی سازگار تھے۔ اکبر بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اکبر بادشاہ اسے اپنے مرشدوں کی طرح مانتا تھا۔ ابو الفضل کا بھی اس فرقہ کے ساتھ گہرا تعلق و ہم آہنگی تھی۔

شریف آملی نے اپنے فرقے کی کتابوں سے ثبوت پیش کر کے اکبر بادشاہ کو نیا دین بنانے کی ترغیب دی۔ علمائے سوء کی تائید و حمایت سے ان کے عقائد اکبر کے دین الہی میں جلوہ گر ہو گئے۔[2]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ دبستان مذاہب، ص300
  2. ^ البینات شرح مکتوبات، جلد اول، مقدمہ از پروفیسر محمد اقبال مجددی، صدر شعبہ تاریخ، اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور، ص41-42