نماز مغرب

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

نماز مغرب کو دن کا وتر کہا جاتا ہے ، نماز مغرب کا آغاز سورج کے غروب ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور شفق کے غائب ہونے تک باقی رہتا ہے ۔

فہرست

[ترمیم] حدیث نبوی

عن عبد اللہ بن عمر قال قال النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وقت صلا ۃ المغرب اذا غابت الشمس مالم یغب الشفق ۔[1]

ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: مغرب کی نماز کا وقت سورج کے غروب ہونے سے لیکر اس وقت تک ہے جب تک شفق کی سرخی غائب نہ ہو جائے ۔

[ترمیم] شفق کی تعریف

شفق کی تعریف میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ، فقہاء حنفیہ نے شفق سے مراد وہ سفیدی لی ہے جو کہ مغرب کی طرف سرخی کے غائب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے اس لیے احناف کے ہاں مغرب کا وقت سرخی غائب ہو جانے تک ہے جبکہ مالکیہ ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک شفق سرخی ہی ہے اور نماز مغرب کا وقت اس سرخی کے غائب ہونے تک رہتا ہے ۔ [2]

[ترمیم] مغرب کا وقت

نماز مغرب کو اول وقت میں پڑ ھنا افضل ہے اور اس کو بلا وجہ مؤخر کرنا سخت مکروہ ہے ۔

عن انس بن مالک قال : کنّا نصلی المغرب مع النبی ثُم نرمی فیری احدنا موضع نبلہ ۔[3]

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز مغرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ پڑ ھتے پھر تیراندازی کرتے تو ہر ایک تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ لیتا تھا۔

یعنی نماز مغرب کے بعد اتنی سفیدی (روشنی) باقی ہوتی کہ دور کی چیز نظر آ جاتی تھی ۔


عن سلمۃ بن اکوع قال : کان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یصلی المغرب ساعۃ تغرب فیہ الشمس اذا غاب حاجبہا۔ [4]

ترجمہ: حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز مغرب غروب آفتاب کے ساتھ ہی پڑ ھ لیتے تھے یعنی سورج کا ایک کنارہ غروب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جلدی سے نماز مغرب ادا کرتے ۔


عن ابی ایوب قال قال النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : لا تزال امتی بخیر او قال علی الفطرۃ مالم یؤخروا المغرب الی ان تشتبک النجوم۔[5]

ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت اس وقت تک خیر یا فطرت پر رہے گی جب تک تارے نظر آنے تک مغرب میں تاخیر نہیں کریگی۔


تنبیہ: ان احادیث کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ قبل ازمغرب دو رکعت نہ پڑ ھی جائیں بلکہ ان دو رکعتوں کی ادائیگی کے بعد جلد از جلد نماز مغرب کاآغازکر دینا چاہئے

[ترمیم] رکعات

مغرب کی نماز میں سات رکعات پڑھی جاتی ہیں۔

[ترمیم] نماز مغرب میں قرأت

نماز مغرب میں سورۃ الفاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت تلاوت کی جا سکتی ہے ۔

ثم اقراء ما تیسّر معک من القرآن [6]

ترجمہ: پھر تم (یعنی سورۃ فاتحہ کے بعد) قرآن کا جو حصہ آسانی سے پڑ ھ سکتے ہو پڑ ھو۔


رسول معظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز مغرب میں درج ذیل سورتیں تلاوت کیا کرتے تھے ۔

  1. سورۃ الطور۔ [7]
  2. سورۃ الاعراف ۔ [8]
  3. سورۃ المرسلات ۔ یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زندگی کی آخری نماز مغرب میں تلاوت کی ۔ [9]
  4. سورۃ الانفال ۔ [10]
  5. سورۃ التین۔ [11]
  6. کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طوال مفصل ، قصار مفصل اور اوساط مفصل میں سے بھی تلاوت کرتے تھے ۔[12]


سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ آپ نماز مغرب میں قصار مفصل سورتیں تلاوت کریں ۔ ([13]


ہمارے ہاں جہری نمازوں میں قرأت کے مسئلہ میں کچھ لوگ سخت موقف اختیار کرتے ہیں ، حقیقت میں اس مسئلہ میں اسلام نے وسعت رکھی ہے ، ائمہ حضرات نمازیوں کی سہولت کو پیش نظر رکھ کر قراء ت کریں یہی معتدل اور جمہور علماء کا مؤقف ہے ۔ واللہ اعلم بالصوا ب نماز مغرب کے بعد دورکعت سنتیں رواتبہ (موکدہ) ادا کرنا بھی معمولات محمدیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں شامل ہے ۔

عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال : صلّیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رکعتین قبل الظہر ورکعتین بعدہا ورکعتین بعد الجمعۃ ورکعتین بعد المغرب [14]

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ دو رکعت ظہر سے پہلے اور دورکعت اس کے بعد ، دو رکعت جمعہ کے بعد، اور دورکعت نماز مغرب کے بعد پڑ ھیں ۔


سنت مغرب میں اکثر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سورۃ الکافرون اور سورۃ اخلاص پڑ ھتے تھے ۔[15]


عن عائشہ رضی اللہ عنہا قالت : کان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یصلی بالناس المغرب ثم یدخل فیصلی رکعتین[16]

ترجمہ: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لوگوں کو نماز مغرب پڑ ھا کر پھر (میرے )گھر تشریف لاتے اور دور کعتیں پڑ ھتے تھے۔

[ترمیم] نماز مغرب کے بعد کے اعمال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کبھی کبھار نماز مغرب سے لیکر نماز عشاء تک نفل نماز میں مشغول رہتے تھے ۔ [17] اور کبھی اپنی ازواج مطہرات کے پاس اپنا وقت گزارا کرتے تھے ، پھر نماز عشاء پڑ ھ کر جس بیوی کی باری ہوتی اس کے حجرے میں تشریف لے جاتے ، یاد رہے کہ نماز مغرب سے لیکر نماز عشاء تک سونا منع ہے ۔

[ترمیم] مزید دیکھئے

  • نماز (عبادات)
  • فجر (صبح کی نماز)
  • ظہر (دوپہر کی نماز)
  • عصر (سہ پہر کی نماز)
  • مغرب (غروب آفتاب کے بعد کی نماز)
  • عشاء (رات کی نماز)


[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ صحیح مسلم
  2. ^ الفقہ علی المذاہب الاربعہ
  3. ^ سنن ابی داؤد، ۴۱۶، ص:۱۶۵، ج: ۱، باب فی وقت المغرب
  4. ^ ملخص از سنن ابی داؤد
  5. ^ ملخصا از سنن ابو داؤد
  6. ^ اخرجہ السبعۃ واللفظ للبخاری بحوالہ : بلوغ المرام ، ص:۷۸
  7. ^ صحیح بخاری ، صحیح مسلم
  8. ^ سنن نسائی
  9. ^ صحیح ترمذی ، ۳۰۸
  10. ^ الطبرانی الکبیر بسند صحیح
  11. ^ البراء بن عازب ، صحیح ترمذی
  12. ^ ملخص از صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم للشیخ الالبانی ، ص:۸۵
  13. ^ صحیح ترمذی ، صححہ الالبانی
  14. ^ متفق علیہ
  15. ^ صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم للالبانی ، ص:۸۵
  16. ^ صحیح مسلم
  17. ^ الترغیب والترہیب: ج: ۱، ص:۲۶۹


ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
آلات
دیگر زبانیں