نورالدین جہانگیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جہانگیر
مغل شہنشاہ
Jahangircrop.jpeg
عہد حکومت 15 اکتوبر 1605 - 8 نومبر 1627
تاج پوشی 24 اکتوبر 1605 بمقام آگرہ
پورا نام نورالدین سلیم جہانگیر
پیدائش 30 اگست 1569
جائے پیدائش فتح پور سیکری
وفات 8 نومبر 1627 (عمر 58 سال)
جائے وفات Chingarhsiri
مدفن مقبرہ جہانگیر
پیشرو اکبر اعظم
جانشین شاہجہاں
بیویاں Manbhawati Bai
شہزادی مانمتی
نورجہاں
اولاد

Nisar Begum, Khusrau Mirza, Parwez, Bahar Banu Begum, شاہجہان, Shahryar,

Jahandar
خاندان Timurid
والد اکبر اعظم
والدہ راجکماری ہیرا کنوری (المعروف جودھابائی اور مریم الزمانی بیگم)[1]
مذہب اسلام

اکبر اعظم کے تین لڑکےتھے۔ سلیم ، مراد اور دانیال(مغل خاندان)۔ مراد اور دانیال باپ کی زندگی ہی میں شراب نوشی کی وجہ سے مر چکے تھے۔ سلیم اکبر کی وفات پر نورالدین جہانگیر کے لقب سے تخت نشین ہوا۔ 1605ء میں اس نے کئی مفید اصلاحات نافذ کیں۔ کان اور ناک اور ہاتھ وغیرہ کاٹنے کی سزائیں منسوخ کیں۔ شراب اور دیگر نشہ آور اشیا کا استعمال حکماً بند کیا۔ کئی ناجائز محصولات ہٹا دیے۔ خاص خاص دنوں میں جانوروں کا ذبیحہ بند کردیا۔ فریادیوں کی داد رسی کے لیے اپنے محل کی دیوار سے ایک زنجیر لٹکا دی۔ جسے زنجیر عدل کہا جاتا تھا۔ 1606ء میں اس کے سب سے بڑے بیٹے خسرو نے بغاوت کردی۔ اور آگرے سے نکل کر پنجاب تک جا پہنچا۔ جہانگیر نے اسے شکست دی۔ سکھوںکےگورو ارجن دیو بھی جو خسرو کی مدد کر رہے تھے۔ شاہی عتاب میں آگئے۔ 1614ء میں شہزادہ خرم ’’شاہجہان‘‘ نے میواڑ کے رانا امرسنگھ کو شکست دی۔ 1620ء میں کانگڑہ خود جہانگیر نے فتح کیا۔ 1622ء میں قندھار کا علاقہ ہاتھ سے نکل گیا۔ جہانگیر ہی کے زمانے میں انگریز سر ٹامس رو سفیر کے ذریعے ، پہلی بار ہندوستان میں تجارتی حقوق حاصل کرنے کی نیت سے آئے۔ 1623ء میں خرم نے بغاوت کردی ۔ کیونکہ نورجہاں اپنے داماد شہریار کو ولی عہد بنانے کی کوشش کررہی تھی۔ آخر 1625ء میں باپ اور بیٹے میں صلح ہوگئی۔

بادشاہ جہانگیر اپنی تزک جہانگیری مین لکھتے ہیں کہ عطر گلاب میرے عہد حکومت میں نور جہاں بیگم کی والدہ نے ایجاد کیا تھا۔ جہانگیر مصوری اور فنون لطیفہ کا بہت شوقین تھا۔ اس نے اپنے حالات ایک کتاب توزک جہانگیری میں لکھے ہیں۔ اسے شکار سے بھی رغبت تھی۔ شراب نوشی کے باعث آخری دنوں میں بیمار رہتا تھا۔ 1627ء میں کشمیر سے واپس آتے وقت راستے ہی میں بھمبر کے مقام پر انتقال کیا۔ لاہور کے قریب شاہدرہ میں دفن ہوا۔

نورالدین جہانگیر
جہانگیر کی قبر

حوالہ جات[ترمیم]