نورجہاں (گلوکارہ)
نور جہاں (1926-2000) پاکستان کے دل کی دھڑکن اردو زبان و گائیکی کی آبرو پنجابی کا مان۔ برصغیر کی مشہور گلوکارہ اور اداکارہ تھیں۔ ملکہ ترنم کا خطاب انھیں پاکستانیوں کی طرف سے ملا۔ انھوں نے 10000 کے قریب گیت ہندوستان و پاکستان میں اردو، سندھی بنگالی پشتو عربی اور پنجابی زبانوں میں گاۓ۔
ابتدائی زندگی [ترمیم]
نور جہاں21 ستمبر 1928کو برطانوی راج کے ھند میں قصور میں پیدا ھوئیں۔گھریلو نام اللہ وسائ تھا۔استاد بابا غلام محمد سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور سٹیج پر اداکاری اور گلوکاری کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں اپنی بہنوں کے ساتھ کلکتہ چلی گئیں اور فلم پنجاب میل میں اداکاری اور گلوکاری کی۔گیت کے بول تھے ۔ سوہنا دیساں وچوں دیس پنجاب۔ یہ فلم 1935 میں بنی۔ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی میں فلم گل بکاو‘لی میں شالا جوانیاں مانے 1939میں گایا 1942میں اردو فلم خاندان میں پہلی بار ھیروئن کا کردار ادا کیا اور گیت گائے۔
تو کون سے بدلی میں میرے چاند ھے آ جا
ان کے گائے سدا بہار ہیں مثلا فلم “غرناطہ“ کا یہ گیت:
کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمہارا
کیوں تم کو دیکھتے ہی دل کھو گیا ہمارا
یا
یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں
کارہائے نمایاں [ترمیم]
نور جہاں نے زیادہ تر گانے انفرادی طور پر گائے اور کئی گلوکاروں کے ساتھ بھی دو گانے گائے ۔ جن میں رونا لیلی اور مالا قابل ذکر ہيں ۔
یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں
- تمغہ حسن کارکردگی
- وصول کنندگان تمغہ حسن کارکردگی
- 1926ء کی پیدائشیں
- 2000ء کی وفیات
- اردو فلمی اداکار
- نگار اعزاز جیتنے والی شخصیات
- پاکستانی مسلم شخصیات
- پنجابی شخصیات
- ضلع قصور کی شخصیات
- پاکستانی فلمی اداکار
- پاکستانی غزل گلوکار
- پنجابی گلوکار
- پاکستانی فلمی گلوکار
- تمغۂ امتیاز
- پنجاب کی شخصیات
- پاکستان کے شہری اعزازات و علامات
- پاکستانی اعزازات