نیل (رنگ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

نیل ایک رنگدار مرکب ہے جسے انگریزی میں indigo dye کہتے ہیں۔ یہ ایک پودے سے حاصل کیا جاتا تھا جس کا نام Indigofera tinctoria یا Indigofera sumatrana ہے جو ہندوستان میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا تھا۔ ماضی میں نیلا رنگ بڑا نایاب تھا اس لیئے یورپ میں نیل کی بڑی مانگ تھی۔ یہ سفید کپڑوں کو زیادہ اجلا بنانے کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ آجکل ہر سال کئی ہزار ٹن نیل مصنوعی طریقے سے بنایا جاتا ہے۔ جینز کی پینٹ کا نیلا رنگ اسی مرکب سے رنگنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔

نیل کے ڈلے جنہیں پیس کر نیل کا سفوف بناتے ہیں.
Indigo
Lump of Indian indigo dye
Indigo
دیگر نام 2,2'-Bis(2,3-dihydro-3- oxoindolyliden), Indigotin
شناختساز
کاس عدد

[482-89-3]

ریٹکس عدد

DU2988400

اسمائلس
شناختساز
ChemSpider ID 4477009
خـواص
سالماتی_صیغہ

C16H10N2O2

مولرکمیت

262.27 g/mol

صورت dark blue crystalline powder
کثافت

1.199 g/cm3

نقطۂ_پگھلاؤ

390-392 °C, 663-665 K, 734-738 °F

نقطۂ ابال

decomposes

حل پذیری

پانی میں

990 µg/L (at 25C)

خـطرات
یورپی_اتحاد جماعت_بندی

207-586-9

جملۂ اختطار

R36/37/38

جملۂ سلامتی

S26-S36

وابستہ مرکبات
وابستہ مرکبات Indoxyl
Tyrian purple
Indican
سانچہ:Chembox verificationExcept where noted otherwise, data are given for materials in their standard state (at 25 °C, 100 kPa)
Infobox references

حصول[ترمیم]

نیل کے پودے میں ایک بے رنگ مرکب indican پایا جاتا ہے جو امینو ایسڈ ٹرپٹوفین کا مرکب ہے۔ پودے کی پتیوں کو پانی میں بھگو کر خمیر ہونے دیتے ہیں جس سے انڈیکان indoxyl میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ انڈوکسل کے دو مولیکیول ہوا کی آکسیجن کی موجودگی میں باہم جڑ کر نیل کا مولیکول بنا دیتے ہیں۔ چونکہ نیل پانی میں حل نہیں ہوتی اس لیئے یہ تہہ نشین ہو جاتی ہے۔ اسے الگ کر کے اس میں کاسٹک سوڈا ملایا جاتا ہے اور سوکھنے پر جو ڈلے حاصل ہوتے ہیں انہیں پیس کر نیل حاصل کر لی جاتی ہے۔ woad کے پودے سے بھی اسی طرح نیل حاصل کی جا سکتی ہے جو یورپ میں پایا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ہندوستان میں صدیوں سے نیل کی کاشت ہوتی تھی اور یہ باقی دنیا کو بڑی مقدار میں نیل بیچتا تھا۔ درحقیقت نیل کا انگریزی نام انڈیگو لفظ انڈیا سے ہی ماخوذ ہے۔ ایک زمانے میں نیل کو "نیلا سونا" (blue gold) کہتے تھے۔ بہار کا چمپا رن ضلع اسکی کاشت کے لیئے مشہور تھا۔
1897 میں 19000 ٹن قدرتی نیل بنائی گئی تھی۔ اس وقت 7000 مربع کلو میٹر پر نیل کی کاشت ہوتی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بنائے ہوئے زمین داری نظام (Permanent Settlement) میں نیل کے کاشت کار غلاموں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ لیکن جرمنی میں نیل بنانے کا مصنوعی طریقہ ایجاد ہونے کی وجہ سے 1914 میں نیل کی پیداوار صرف ایک ہزار ٹن رہ گئی۔
2002 میں مصنوعی نیل کی پیداوار 17000 ٹن تھی۔

مصنوعی نیل[ترمیم]

ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت ہندوستان سے نیل کی تجارت برطانیہ کے ہاتھ لگ گئی اور دوسرے یورپی ممالک کو نیل بڑی مہنگی پڑتی تھی۔ جرمنی کی مشہور کیمیکل کمپنی BASF نے ایک کروڑ 80 لاکھ مارک خرچ کیئے تا کہ نیل کے پودے کے بغیر نیل بنانے کا کوئی طریقہ دریافت ہو جائے لیکن صرف آدھی کامیابی ملی۔ نیپتھلین سے ایک مرکب (phthallic anhydride (PA حاصل کیا گیا جس سے نیل بن سکتی تھی مگر یہ طریقہ سستا نہیں تھا۔
1896 میں BASF کا ایک ٹیکنیشیئن Eugene Sapper تھیلک این ہائیڈریٹ (PA) بنانے کے لیئے نیپتھلین کو گندھک کے تیزاب کے ساتھ گرم کر رہا تھا مگر مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے تھے۔ اس دوران جب اس نے درجہ حرارت ناپنے کے لیئے تھرمامیٹر ڈالا تو اس کا ہاتھ پھسل گیا اور تھرمامیٹر برتن کی دیوار سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا۔ اس میں سے پارہ نکل کر تیزابی آمیزے میں گرا جہاں اس نے عمل انگیز (catalyst) کا کام کیا اور تھیلک این ہائیڈریٹ (PA) بڑی مقدار میں بن گیا۔ اس طرح مصنوعی نیل بنانا آسان اور سستا ہو گیا۔[1] اس کے بعد نیل کی کاشت کی ضرورت کم ہوتی چلی گئی۔
مصنوعی نیل aniline سے بھی بنائی جا سکتی ہے جو ایک سستا مرکب ہے۔ اینیلین سے ہی پیراسٹامول بھی بنتی ہے۔

بناوٹ[ترمیم]

نیل کا مولیکیول کاغذ کی طرح یک سطحی ہوتا ہے۔ یہ نارنجی رنگ کی روشنی جذب کرتا ہے جن کا طول موج 613 نینو میٹر ہوتا ہے اور اس وجہ سے نیلا نظر آتا ہے۔

نیل کا مولیکیول۔ سرخ رنگ سے آکسیجن اور ہلکے نیلے رنگ سے نائیٹروجن کے ایٹم کو ظاہر کیا گیا ہے۔

اگر نیل کے مولیکیول میں سے دونوں NH نکال کر گندھک کا ایٹم لگا دیا جائے تو اس کا رنگ گہرا سرخ ہو جاتا ہے اور اس مرکب کو تھائیو انڈیگو کہتے ہیں۔ گندھک کا تیزاب نیل سے تعامل کر کے انڈیگو کارمین بناتا ہے جس کا رنگ سبز مائل نیلا ہوتا ہے۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالے[ترمیم]

  1. ^ The Blue Gold