واجد علی شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
واجد علی شاہ

ریاست لکھنؤ کے نواب۔ 30 جولائی 1822 کو اودھ کے شاہی خاندان میں ان کی پیدائش ہوئی۔ ان کا پورا نام ابو المنصور سکندر شاہ پادشاہ عادل قیصر زماں سلطان عالم مرزا محمد واجد علی شاہ اختر تھا۔ اپنے والد امجد علی شاہ کے بعد تخت نشین ہوئے۔

دور حکومت[ترمیم]

واجد علی شاہ کے دور حکومت میں دراصل واجد علی شاہ کے والد امجد علی شاہ کے دور تک آتے آتے ایسٹ انڈیا کمپنی فوجی اور سیاسی حیثیت سے اودھ کے معاملات میں اتنا حاوی ہو چکی تھی کہ اب وہ محض یہ موقع تلاش کر رہی تھی کہ اس حکومت کو کس طرح سے قبضے میں لے لیا جائے۔ لیکن واجد علی شاہ کی تخت نشینی 1847کے فوراً ہی بعد ان کے خلاف بدنظمی، ہیجان، انتشار اور ان کی نا اہلی اور عیاشی کے ایسے ایسے الزامات تراش لئے گئے جس کا علاج ان کی معزولی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ ان کی تخت نشینی کے کچھ ہی عرصہ بعد لارڈ ہارڈنگ نے نومبر 1847 میں متنبہ کر دیا تھا کہ اگر سلطنت کے حالات میں سدھا ر نہ ہوا تو کمپنی اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔ دراصل یہ سلسلہ کی پہلی کڑی تھی۔ لیکن 1849 میں جب کرنل سلیمن کو ریزیڈنٹ بناکر لکھنو بھیجا گیا تو اس کا اصل مقصد یہی تھا۔ بظاہر اس نے تین مہینے تک پوری ریاست کا دورہ کرنے کے بعد رعایا کی تباہ حالی او رکام کی سر کشی لاقانونیت او رقتل، لوٹ مار کی کیفیات رپورٹ کی شکل میں مرتب کی تھی اور یہی ان کی معزولی کا شاخسانہ بنی۔ جس کے باعث واجد علی شاہ کو اپنے صاحبزادے برجیس قدر کو 1857 میں تخت نشیں کر کے جلا وطن کر دئیے گئے۔

فنون لطیفہ سے دلچسپی[ترمیم]

وہ صرف اردو کے شاعر ہی نہیں تھے بلکہ انہیں رقص و سرور کے رموز پر بھی کمال حاصل تھا۔ گانے، بجانے، ڈرامے، شاعری، راگ راگنی کے ماہر تھے۔ کتھک رقص کو انہوں نے از سر نو زندہ کیا تھا۔ رہس، جو گیا، جشن اور اس قسم کی کئی چیزوں کو انہوں نے نہ صرف زندگی دی تھی بلکہ ان کے ماہرین کو بھی انہوں نے لکھنﺅ میں جمع کیا تھا۔ انہیں یہ رموز استاد باسط خاں، پیارے خاں اور نصیر خاں نے سکھائے تھے۔ ان تمام چیزوں کی تربیت اور ارتقاءکے لئے انہوں نے لکھنﺅ میں عالیشان قیصر باغ بارہ دری بنوائی جو آج بھی قائم ہے۔ انہوں نے خود کئی نئے راگ اور راگنیوں کی ایجاد کی۔ ہندوستان کا کوئی بھی فرماں روا ادب، تہذیب و ثقافت کا ایسا دلدادہ نہیں تھا جیسا کہ واجد علی شاہ اختر تھے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے تمام رموز پر الگ الگ کتابچے بھی لکھے تھے جن کی تعداد سو سے بھی زائد تھی۔

انتقال[ترمیم]

اپنی جلا وطنی کے ہی دور میں 65 سال کی عمر میں یکم ستمبر 1887 کو کلکتہ کے مٹیا بر ج میں ان کا انتقال ہو گیا۔

نمونہ کلام[ترمیم]

بابل مورا نیہر چھوٹو جائے

چار کہار میرا ڈولیا سجائے

مورا اپنا بیگانو چھوٹو جائے

آنگن تو پربت بھئیو اور ڈیری بھئی بدیش

جائے بابل گھر آپنو ں میں چلی پیا کے دیس

بابل مورا نیہر چھوٹو جائے