وادی سون سکیسر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
وادی سون سکیسر
Soon Valley
Khushab.png
ملک: پاکستانFlag of Pakistan.svg
صوبہ: پنجاب
ضلع: خوشاب
زبان: پنجابی

[[1]]

وادی سون سکیسر پاکستان کی قدیم اور خوبصورت وادی ہے جو قدرتی نظاروں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے۔ نوشہرہ اس وادی کا صدر مقام ہے۔ سکیسر پہاڑ کی چوٹی پر واقع ایک صحت افزاء مقام کا نام ہے یہ ایک وسیع پہاڑی سلسلے کا عنوان ہے جس میں کئي وادیاں اور چھوٹے بڑے گاؤں ہین۔ اس علاقے کو "وادی سون سکیسر' کہا جاتا ہے۔ "عظیم مسلمان فاتح ظہیرالدین بابر کا پوٹھوہار کے علاقے سے گزرہواتھا۔ راستے میں ایک وادی تھی جس کے حسن نے بادشاہ سلامت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پڑائو ڈالا۔ قدرتی حسن تو اس وادی کا تھا ہی اس بادشاہ نے بھی اس وادی کے حسن میں اضافہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ باغات اگانے کا حکم جاری کیا اور اس وادی کے بارے میں تاریخی کلمات ادا کئے۔ جو اس علاقے کے لوگوں کے لئے آج بھی باعث فخر ہیں ظہیرالدین بابر نے کہا کہ:

ایں وادی بچہ کشمیر است

یعنی یہ وادی چھوٹا کشمیر ہے۔ اس بادشاہ کی چند نشانیاں آج بھی اس وادی میں موجود ہیں۔ اس وادی کا نام سون سیکسر ہے۔" [1]

فہرست

وجہ تسمیہ [ترمیم]

"سون' کا لفظ سنسکرت میں سوہن بمعنی خوبصورت کے ہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ سوہن کا تلفظ سون کی شکل اختیار کر گيا۔ یوں یہ "سوہن دھرتی" "وادی سون" کے نام سے پککاری جانے لگی۔ "سکیسر " مرکب ہے "سکی" اور سر" سے سنسکرت ہی "سر " تالاب سے عبارت ہے اور سکی سے مراد منی گوتم ہے۔ ایک روایت کے مطابق "ساکیا" ایک قوم کا نام ہے اور "ساکیانی" کا اطلاق مہاتمابدھ پر بھی ہوتا تھا یوں "سکیسر" کا لفظ ساکی سر سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں ساکیہ کا تالاب۔[2] ڈاکٹر دانی کا خیال ہے کہ سون سنسکرت میں سونے کو کہا جاتا ہے ۔ سک کسی شخص یاقبیلے کا نام ہے ۔ ایسر دراصل ایشوڑا یعنی دیوتا سے لیا گيا ہے۔

مذکورہ روایت کی تائيد اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس پہاڑ کے دامن میں واقع جھیل اوچھالی کو سکی منی گوتم کا "سر " کہا جاتا ہے۔ اس لسانی تجزیہ اور لغوی تحقیق کے ضمن میں ایک وہم کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ دریائے سواں اور وادی سون دو الگ الگ نام ہیں۔ دریائے سواں سالٹ رینج میں بہتا ہے۔ اس علاقے میں قدیم تہذیبوں کے آثار ملے ہین۔ یہ علاقہ ماہرین آثار قدیمہ کی توجہ کا ایک عرصہ سے مرکز رہا ہے لیکن وادی سون اس سے علحیدہ علاقہ ہے اگرچہ یہ علاقہ بھی قدیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے مگر آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیق کاموضوع نہیں بن سکا۔ وادی سون کوہستان نمک اور پوٹھوہار ایک سیدھ میں واقع ہے اس علاقے میں ایسے محجرات اور ڈھانچے ملے ہیں۔ جو ساخت اور زمانے کے اعتبار سے پوٹھوہار اور بالخصوص دریائے سواں کے قریب ڈھوک پٹھان کے آثار و محجرات سے ملتے جلتے ہیں۔ وادی سون کے سرے پر واقع گاؤں چنچی اور اس کے اردگرد محجرات کے وسیع ذخائر کا پتہ چلایا گيا ہے۔ وادی کےدوسرے گاؤں میں بھی آثار قدیمہ کے مطالعہ سے تاریخ قدیم کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ خیال ہے کہ ابتدائی زمانہ میں یہاں انسانی آبادی نہ تھی یہاں مانس رہتے تھے۔ بعد میں انسان نے ترقی کی اور غاروں میں رہنا شروع کیا۔ وہ کچا گوشت ، پھل اور سبزیاں کھاتے تھے ۔ اس علاقہ میں ہر موسم میں جنگلی پھل مل جاتے تھے اور رہنے کیلۓ غاریں تھیں جنہیں علاقائی زبان میں "مہلے" کہا جاتا ہے ۔ ان آثار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں پر انسانی آبادی زمانہ قدیم سے ہے ۔[3]

مجموعی رقبہ [ترمیم]

وادی سون سکیسر کا مجموعی رقبہ دس ہزارایکڑ جبکہ قابل کاشت تین ہز۱ر ایکڑ بنجر یا ناقابل کاشت رقبہ سات ہزار ایکڑہے. کے مشرق میں جہلم چکوال کے کچھ علاقے شمال میں تلہ گنگ مغرب میں میانوالی جبکہ جنوب میں نور پور تھل کا علاقہ ہے۔ [4]

زمینیں اور پہاڑ [ترمیم]

وادی سون کی مٹی زیادہ تر بھر بھری ہے اور یہاں کے پہاڑ ریتلی چٹانوں اور چونے کے پتھر پر مشتمل ہے یہاں کی زراعت کا دارومداربرسات پر ہے۔ ڈھلوانی کھیت عام ہیں پہاڑ اور پتھروں کی مختلف قسمیں جن میں چونے کا پتھر،پیلے رنگ کے پتھر،سفید پتھر،سنگ مرمر وغیرہ شامل ہیں۔ وادی سون کے پہاڑوں سے نمک،گندھک،کوئلہ،بجری کا پتھر موجود ہے۔ موسم: یوں تو یہاں بھی چاروں موسم پائے جاتے ہیں البتہ دو موسم برائے نام ہی ہیں۔ یہاں مارچ سے اکتوبر تک موسم انتہائی خوشگوار رہتا ہے اوریہی وۂ موسم ہے جب وادی سون میں سیر و سیاحت کا مزہ دو بالا ہوتا ہے۔سردیوں میں شدید سردی پڑتی ہے یہاں کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے ژالہ باری اور بارشیں ہونے سے سردی شدید تر ہو جاتی ہے۔وادی سون میں سیر کیلئے انتہائی موزوں مہینے مارچ ،اپریل ،جولائی ،اگست اور ستمبر ہیں۔وادی میں برسات کا موسم انتہائی پر لطف ہوتا ہے جب پہاڑوں سے بہتے نالوں کا شورایک خوبصورت سماں پیش کرتا ہے۔پھولوں اور سبزے میں ایک تروتازگی آجاتی ہے اورگرمی کے موسم میں سرد ہوائیں جاڑے کا احساس دلاتی ہیں۔ برسات کا مزہ ایسی صورت میں اور بھی بڑھ جاتا ہے جب آپ کسی جھیل کے کنارے یا کسی پہاڑی پر ہوں وہاں سے وادی سون کے طول وعرض میں پھیلے ہرے بھرے کھیت جنت کا سماں پیش کرتے ہیں۔یہاں کا موسم انتہائی دلفریب ہے۔ ذرہ سے بادل بنے اورپل میں برس کے آسماں صاف ہو جاتا ہے البتہ سردیوں میں بارش کئی کئی روز تک جاری رہتی ہے۔[5]

زرعی پیداوار [ترمیم]

وادی سوُن باقی بارانی علاقوں کی نسبت زیادہ بہتر زرعی پیداوار کا علاقہ ہے۔ یہاں دونوں موسموں کی فصلیں جبکہ پھلوں میں بادام،آڑو،انگور،سیب ،ناشپاتی ،کینو،لوکاٹ وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ ربیع کی فصلوں میں گندم،سرسوں،چنا کاشت کئے جاتے ہیں انہیں ْ ہاڑیاں کہتے ہیں۔ خریف فصلوں میں جوار ،باجرہ ،مکئی ،مونگ،ماش وغیرہ شامل ہیں انہیں ْ ساونیاں کہتے ہیں۔ گرمئی سبزیوں میں کدو، بھنڈی، کریلا، بینگن، گوبھی، ٹینڈا، کھیرا، مرچ، ٹماٹر زیادہ اہم ہیں۔ یہاں واضح کردوں وادی سوُن کی اگیتی گرمئی گوبھی ملک کے طول وعرض میں بھیجی جاتی ہے جس سے وادی میں خوشحالی کی لہر آئی ہے راقم جب اگست کے اوائل میں وادی میں پھر رہا تھا ہر طرف لوگ گوبھی کی فصلوں میں ایسے نظر آتے جیسے بہار میں کسی گلشن میں پھول کھلے ہوں۔سرِشام ٹرکوں پر اپنی اجناس لاد کر منزل کو روانہ ہوتے ہوئے وادی کے محنتی نوجوانوں کے چہروں پر روایتی طمانیت نظر آتی ۔[6]

محجرات [ترمیم]

وادی سوُن کے متعلق وثوق سے کچھ کہنا تو شاید ممکن نہیں البتہ وادی سے ملنے والے محجرات سے اس کی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے وادی کے کئی مقامات سے مختلف انسانی ڈھانچے ،جانوروں کے ڈھانچے اور کئی ایک گھریلو ضروریات زندگی کی اشیاء ملی ہیں۔کنہٹی کے قریب ڈھانچے ملے ہیں مردوال سے مختلف جانوروں کے ڈھانچے،قدیم طرز رہائش ،سامانِ حرب،گھریلو ضروریات کی چیزیں اور سکے ملے ہیں۔محققین کی رائے میں پوٹھوہار اور وادی سوُن کا زمانہ ملتا جلتا ہے۔آریہ بدھ مت کے زمانے کی جنگوں میں بعض واقعات ثابت کرتے ہیں مثلاً رگ وید میں شرنجے بادشاہ نے سروشوں اور وڑچی ونتوں کے خلاف جنگ لڑی وڑچی ونتو جہلم اور سندھ کے درمیان آباد تھے۔وادی سوُن کے مہاڑی گاؤں وڑچھا کے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ وہی گاؤں ہے جہاں جنگ لڑی گئی اس جنگ کا زمانہ ساڑھے پانچ سو قبل مسیح کا ہے۔محققین نے تہہ دار چٹانوں سے عمر پچاس ملین سال شمار کی ہے۔ پاکستان میں سب سے پرانی تہہ دار چٹانیں کوہِ نمک سے کوئلہ کی کانیں ہیں جن کی عمر ساٹھ ملین سال جبکہ چونے کے پتھر والی چٹانیں چالیس ملین سال پرانی ہیں۔ روایت ہے کہ کبھی کوہِ نمک (TEETHS)سمندر کا حصہ تھا جو رفتہ رفتہ خشک ہوتا گیا ۔سکندراعظم کے حوالے سے کئی ایک روایتیں موجود ہیں یہاں سے سکندر اعظم کے زمانے کے سکے ملے ہیں۔سکندراعظم ۳۷۶ قبل مسیح میں ٹیکسلا وارد ہوا سکندراعظم کی فوجی چھاؤنی کے حوالے سے سید نور علی ضامن نے اپنی کتاب تذکرہ سکندر اعظم اور پٹھان میں کوہِ نمک اور یونان کی اوسط بلندی کو جواز بتایا ہے۔[7]


Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات [ترمیم]

بیرونی روابط [ترمیم]

وادی سون سکیسر