وحید مراد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
وحید مراد
وحید مراد اپنی فلم ارمان میں
پیدائش وحید مراد
2 اکتوبر 1938 (1938-10-02)
سیالکوٹ, پنجاب
وفات نومبر 23, 1983 (عمر 45 سال)
کراچی, پاکستان
مدفن گلبرگ قبرستان، علی زیب روڈ، لاہور
یادگار وحید مراد روڈ، کراچی
رہائش

کراچی

لاہور
اسمائے دیگر چاکلیٹ ہیرو
لیڈی کلر
ویدو
تعلیم ماسٹرز ڈگری برائے انگریزی ادب
مادر علمی کراچی یونیورسٹی (پاکستانی فلم انڈسٹری کے پہلے ماسٹرز ڈگری ہولڈر اداکار)
پیشہ اداکار
پروڈیوسر
مصنف
سالہائے فعالیت 1959–1983
آبائی شہر کراچی
شریک حیات سلمہ مراد
اعزازات ستارہ امتیاز

لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز (2010)
نگار اعزاز

بہترین اداکار
ہیرا اور پتھر (1964)
ارمان (1966)
عندلیب (1969)
مستانہ ماہی (1971)

پہترین پروڈیوسر
ارمان (1966)

لیجنڈ اعزاز برائے لائف ٹائم اچیومنٹ (2002)

وحید مراد (اردو: وحید مراد) (1938 2 اکتوبر - 1983 نومبر 23) ایک نامور پاکستانی فلم اداکار، پروڈیوسر اور سکرپٹ مصنف تھے. وحیدمراد جنوبی ایشیا کے سب سے زیادہ مشہور اور بااثر اداکاروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں. وحید مراد سیالکوٹ میں پیدا ہؤے تھے۔ وہ فلم تقسیم کار نثار مراد کے واحد بیٹے تھے. وحید مراد نے کراچی گرامر اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، Marie Colaco School کراچی سے میٹرک کیا، ایس ایم آرٹس سے گریجویشن کیا، اور اس کے بعد کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا.

نومبر 2010 میں، انتقال کے 27 سال بعد، پاکستان کے صدر آصف زرداری نے ستارہ امتیاز ادب ، فنون لطیفہ، کھیل، طب کے شعبوں میں ممتاز میرٹ کے لئے نوازا ۔

فلم کیریئر[ترمیم]

ہیرا اور پتھر (1964) میں وحید مراد اور زیبا

پروڈیوسر کے طور پر وحید مراد اپنے والد کے قائم شدہ فلم آرٹس کے تحت فلم انسان بدلتا ہے سے اپنے کیریئرکا آغاز کیا۔ پروڈیوسر کے طور ان کی دوسری فلم جب سے دیکھا ہے تمہیں میں انہوں نے ہیروئین کے طور پر زیبا کو درپن کے ساتھ ڈالا . اس کے بعد درپن نے زیادہ تر سٹوڈیو میں دیر سے آنا شروع کر دیا. زیبا نے ان کی اگلی فلم میں ہیرو کے طور پر خود وحید کی تجویز پیش کی . وحید خود اپنی فلموں میں بہ طور ہیرو کرنے کے لئے تیار نہیں تھے . مگر جب یہی تجویز اپنے پرانے اچھے دوست پرویز ملک سے آئی تو انہوں نے زیبا کے شریک اسٹار ہونے کی شرط رکھی، زیبا نے شرط قبول کر لی. نتیجے کے طور پر انہوں نے سب سے پہلی فلم 1962 کی اولاد میں ایک سپورٹؤ کردار میں اداکاری کی. فلم میں ان کے دوست ایس ایم یوسف کی طرف سے ہدایت کاری کی گئی تھی۔ اولاد ناقدین کی طرف سے بہت زیادہ پسند کی گئی، اور سال کی سب سے بہترین فلم کے زمرے میں نگار ایوارڈ ملا . ہیرا اور پتھر ایک معروف اداکار کے طور پر ان کی پہلی فلم تھی اور اس کی بڑی کامیابی سمجھی گئی۔ انہں اسی فلم کے لیے بہترین اداکار کے زمرے میں نگار ایوارڈ ملا۔ [1]

1966 میں، انہوں نے پرویز ملک کی ہدایت کردہ اپنی پروڈکشن ارمان میں کام کیا. ارمان نے اس وقت کے تمام باکس آفس کے ریکارڈز توڑ دیئے اور تھیٹر میں 75 ہفتے مکمل کئے اور غالباً انہیں پاکستانی فلموں کا پہلا سپر اسٹار بنایا. فلم ایک رومانوی اور مدھر محبت کی کہانی ہے. خاص طور پر احمد رشدی کے گائے ہوئے کوکو کورینا، اکیلے نہ جانا، بے تاب ہو ادھر تم اور زندگی اپنی تھی ابتک جیسے گانے نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں میں بے حد مقبول ہوئے۔ انہوں نے فلم ارمان کے لئے دو نگار ایوارڈز حاصل کئے، ایک بہترین پروڈیوسر اور دوسرا بہترین اداکار کے طور پر۔ اسی سال کے دوران، وہ زیبا کے ساتھ ایک سپرہٹ فلم جاگ اٹھا انسان میں اداکاری کی. یہ حقیقت ہے کہ وحید نے زیبا کو اپنی فلموں میں کاسٹ کرکے اس کی ملک گیر شہرت میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا۔

1967 میں، انہوں نے دیور بھابی، دوراھا، انسانیت اور ماں باپ جیسی لازوال فلموں میں معروف اداکاری کی. سینما گھروں میں 50 ہفتے مکمل کرنے والی فلم دیور بھابی ان کی بہترین فلموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ دیور بھابی کی کہانی، پاک بھارت کی فرسودہ اور جاہلانہ سماجی خیالات و روایات پر مبنی ہے. انسانیت میں وحید نے ایک سرشار ڈاکٹر کا کردار ادا کیا ہے جو ان کی بہترین فلموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

1964 سے 1968 تک، وحید مراد اور پرویز ملک نے ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان، دوراھا اور جہاں تم وہاں ہم جیسے کامیاب فلم بنائیں۔ وحید مراد، پرویز ملک، مسرور انور، سہیل رانا، احمد رشدی اور زیبا کی کامیاب ملاپ نے ایک بڑی تعداد میں بہترین فلمیں بنائیں۔ وحید مراد فلم آرٹس کی چھتری کے تحت پرویز ملک، مسرور انور اور سہیل رانا آئے. لیکن 1960 کی دہائی کے اخیر میں، وحید مراد اور دیکر ’فلم آرٹس‘ کی ٹیم ارکان کے درمیان جھگڑے میں اضافہ ہوگیا۔ پرویز ملک وحید کی فلموں کی کامیابی کا سارا کریڈٹ خود لینے اور دوسروں کو بہت کم پذیرائی دینے پر ناخوش تھے. تو یوں فلم آرٹس کو توڑ دیا گیا اور پرویز ملک نے نئے اداکاروں کے ساتھ ان کے اپنے منصوبوں میں کام کرنا شروع کر دیا. دو فلموں یعنی اسے دیکھا اسے چاہا اور دشمن، جو 1974 میں 6 سال کی ایک طویل وقفے کے بعد بنائی گئیں جو کہ ’فلم آرٹس‘ کے زیرِ پروڈکشن بھی نہیں تھیں، سمیت سات فلمیں وحید اور ملک کی کامیاب جوڑی نے بنائی۔

وحید مراد اور شبنم فلم عندلیب, 1969

1969 میں، وحید نے فلم اشارہ بنائی، جسے اس نے بیکوقت پروڈیوس و ہدایت کاری و تحریر و اداکاری کی، مکر فلم باکس آفس پر ناکام رہی۔ 1969 میں فرید احمد کی ہدایت کردہ فلم عندلیب جاری کی گئی۔ جس میں دیگر شریک ستاروں میں شبنم، عالیہ، ظالش اور مصطفی قریشی شامل ہیں. عندلیب سال کی سب سے بڑی فلموں میں سے ایک ثابت ہوئی. فلم بینوں نے ان کی اداکاری بے حد پسند کی، بالخصوص احمد رشدی کا گایا ہوا گانا کچھ لوگ روٹھ کر بھی، جس میں وحید اپنی سرخ سپورٹس کار میں شبنم کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں چھیڑچھاڑ کررہے ہیں، بے حد مقبول ہوا۔ وحید مراد نے فلم کے لیے بہترین اداکار کے زمرے میں نگار ایوارڈ حاصل کیا. ناقدین اس بات پر متفق ہیں کہ گلوکار احمد رشدی کا وحید مراد کی کامیابی میں اہم کردار تھا، اور رشدی کی آواز خاص اسی کے لئے بنائی گئی تھی۔

1970 سے 1979 تک 1970 کی نصیب اپنا اپنا اور انجمن جیسی سپرہٹ، 1971 کی نیند ہماری خواب تمہارے اور مستانہ ماہی (وحید کی پہلی پنجابی فلم)، 1972 کی بہارو پھول برساو، عشق میرا ناں (پنجابی فلم)، 1974 کی شمع، 1975 کی جب جب پھول، 1976کی شبانہ، 1978 کی سہیلی، پرکھ اور خدا اور محبت، اور 1979 کی آواز اور بہن بھائی جیسی فلمیں سپرہٹ رہیں. مستانہ ماہی وحید کی پہلی پنجابی فلم تھی جو انہوں نے خود بنائی جبکہ افتخار خان نے ہدایت کاری کی تھی۔ مستانہ ماہی خالصتا ایک رومانٹک اور موسیقی سے بھرپور فلم تھی. وحید نے مستانہ ماہی میں بہترین اداکار کے لئے نگار ایوارڈ حاصل کیا.

ابتدائی 1970 کی دہائی کے دوران، چند اداکاراؤں نے انکے ساتھ کام کرنے سے انکارکردیا۔ زیبا کو محمد علی کے ساتھ شادی کے بعد، وحید مراد کے ساتھ بطور نایکا کام کرنے کی پابندی لگ گئی تھی. جلد ہی شبنم کو اس کے نوبیہاتا شوہر روبن گھوش وحید کے ساتھ کام نہ کرنے پر مجبور کردیا. یہاں تک کہ نشو کو بھی اس کے ساتھ کام کرنے کی اجازت بھی نہیں رہی تھی. یہ وحید کی کیریئر کے لئے بہت بڑا دھچکہ تھا. ایک خاص لابی کی اجارہ داری کی وجہ سے پائے کے پروڈیوسر و دائیرکٹرز نے وحید کو مرکزی کردار کے بجائے بطور معاون اداکار کے طور پر پیشکش کرنا شروع کردیا۔ مزید یہ کہ ندیم کی 1970 کی دہائی فلمیں وحید کو ایک سخت مقابلہ دے رہی تھی۔ لہٰذا وحید مرکزی کرداروں کے لئے دوسرے درجے کے ہدایت کاروں کی فلموں تک محدود رہ گئے، جس میں وہ ایک دقیانوسی رومانٹک ہیرو کا کردار کرتے ہوئے نظر آتے۔ ناگ منی (1972) ، مستانی محبوبہ (1974) ، لیلی مجنون (1974) ، عزت (1975) ، دلربا (1975) ، راستے کا پتھر (1976) ، محبوب میرا مستانا (1976) ، اور ناگ اور ناگن (1976) جیسی فلموں نے انہیں ناکامیوں کی گہرائیوں تک پہنچادیا. 1970 کی دہائی کے اخیر اور ابتدائی 1980 کی دہائی میں وحید پرستش (1977) ، آدمی (1978) ، خدا اور محبت (1978) ، آواز (1978) ، بہن بھائی (1979) ، وعدے کی زنجیر (1979) ، راجہ کی آئی گی بارات (1979) ، ضمیر (1980) ، بدنام (1980) ، گن مین (1981) ، کرن اور کلی (1981) ، گھیراو (1981) آہٹ (1982) ، اور مانگ میری بھردو (1983) جیسی فلموں میں ندیم یا محمد علی کے ساتھ بطور معاون اداکار کے طور پر محدود رہ گئے۔ ہیرو (1985) اور زلزلہ (1987) ان کی موت کے بعد ریلیز کی گئیں۔ انکی غیر رلیز شدہ یا نامکمل فلمیں مقدر، آنکھوں کے تارے ، آس پاس اور انداز تھیں۔ ہیرو ان کے قریبی دوست اقبال یوسف کی طرف سے ہدایت کردہ وحید کی زندگی کی آخری فلم تھی . فلم 1985 میں وحید کی موت کے تقریبا دو سال کے بعد جاری کی گئی تھی . ایک اور وحید کی تاخیری فلم زلزلہ بھی جو کہ اقبال یوسف کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی ، جسے 1987 ء میں ان کی موت کے 4 سال کے بعد ریلیز کی گئی تھی . زلزلہ تاہم باکس آفس پر کچھ نہ کرسکی مگر ہیرو ان کی کامیاب فلموں میں سے ایک تھی اور اس نے کراچی کے سینماوں میں 25 ہفتے مکمل کئے۔

وحید مراد نے اپنے 25 سالہ کیریئر میں زیبا، شمیم آرا، رانی، نغمہ، آلیہ، سنگیتا، کویتا، آسیہ، شبنم، دیبا، بابرہ شریف، رخسانہ، بہار اور نیلو جیسی اداکاراؤں کے ساتھ فلموں میں جوڑی بنائی. انہوں نے کل 124 فلموں میں کام کیا جن میں 38 بلیک اینڈ وھائیٹ اور 86 رنگین فلموں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 6 فلموں میں بطور مہمان اداکار کام کیا، جن میں انکے کیریئر کی پہلی فلم ساتھی، جو کہ 1959 میں ریلیز ہوئی تھی، بھی شامل ہے۔ انہوں نے 115 اردو فلموں، 8 پنجابی فلموں اور 1 پشتو فلم میں کام کیا، اور بطور بہترین پروڈیوسر اور بطور بہترین اداکار کے طور پر 32 فلم ایوارڈز حاصل کئے۔ اس کے علاوہ انہیں 2010 میں صدارتی ایوارڈ ’ستارۂ امتیاز‘ سے بھی نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ انکی بیوہ سلمہ مراد نے حاصل کیا۔ [2]

ذاتی زندگی[ترمیم]

وحید مراد سیالکوٹ میں 2 اکتوبر 1938 کو پیدا ہوئے تھے. وہ مشہور پاکستانی فلم ڈسٹری نثار مراد اور انکی اہلیہ شیریں مراد کی واحد اولاد تھے. بچپن میں اپنے والد کے پاس باقاعدگی کے ساتھ آنے والے نامور اداکاراوں سے متعرف ہونے سے وحید مراد میں اداکاری کرنے کے لئے حوصلہ ملا۔ بچپن میں وہ گردن پر گٹار لٹکانے اور اپنے دوستوں میں ایک اچھا ڈانسر کے طور پر مشہور تھے. انہوں اسکول کی کئی ڈراموں میں حصہ لیا جس نے انہیں بچپن میں مزید شہرت دی۔ ان کے بہترین دوست پرویز ملک اور اقبال یوسف نے بھی وہی پیشہ اپنایا جو وحید نے اپنایا تھا اور پھر ساری زندگی وہ اس سے منسلک رہے. وحید نے Marie Colaco School کراچی سے 1954 میں میٹرک پاس کیا. فلمی کیرئیر میں آنے کے لئے بے تاب وحید کو والدین نے پہلے اسے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے کہا۔ وحید نے ایس ایم آرٹس کالج کراچی میں میں گریجویشن کیا اور پھر کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز مکمل کیا۔ وہ پاکستان کے پہلے ماسٹرز کئے ہوئے ہیرو تھے۔ اتنے مضبوط تعلیمی پس منظر اور فلمی گھرانے نے وحید مراد کو دیگر فلم سازوں کے مقابلے میں ذیادہ مضبوط اور ظاقتور اداکار کے طور پر لا کھڑا کردیا۔

وحید مراد اور پرویز ملک بچپن کے دوست تھے۔ گریجوئشن کے بعد دونوں نے اپنے والدین سے بیرونِ ملک اعلی تعلیم کی خواہش ظاہر کی۔ مگر وحید اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے، انہیں بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہ مل سکی، البتہ پرویز ملک فلم پروڈکشن میں ماسٹرز کرنے کیلیفورنیا، USA چلے گئے۔ ادھر وحید نے بھی کراچی یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں ماسٹرز کے لئے داخلہ لے لیا۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت کے پہلے ماسٹرز ڈگری رکھنے والے اداکار تھے۔ چار سال بعد جب پرویز ملک وطن لوٹے تو ملک کے واحد ہدایت کار بن گئے جنہوں نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے فلم پروڈکشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

وحید مراد کراچی کے میمن صنعتکار ابراھیم میکر کی بیٹی سلمہ کو پسند کرتے تھے۔ ان کی شادی جمعرات 17 ستمبر 1964 کو منعقد ہوئی. شادی کی تقریب طارق روڈ کراچی میں نثار مراد کے گھر میں منقعد کی گئی۔ وہ گھر پر ’بی بی‘ کے نام سے اپنی بیوی سے پکارا کرتے تھے. انکی دو بیٹیاں (آلیہ اور سعدیہ) اور ایک بیٹے عادل تھے. سعدیہ بچپن میں انتقال کرگئی تھی۔

جدوجہد کے دن[ترمیم]

1970 کی دہائی کے اخیر میں وحید ندیم یا محمد علی کے ساتھ بطور معاون اداکار کے طور پر یا ' بی کلاس' فلم ڈائریکٹرز کی طرف سے پیش کی جا نے والی فلموں بطور اداکار کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ زیبا ، شبنم اور نشو جیسی معروف نایکاوں کے شوہروں کی طرف سے وحید کے ساتھ لیڈ کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں تھی. وحید مراد اس طرح کی ایک بدترین برتاو کو برداشت نہ کر پا رہے تھے، لیکن خاموش رہے اور اپنے دوستوں سے مدد طلب نہیں کی. ستر کی دہائی میں مضبوط بن جانے والے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر پرویز ملک نے ایک مقامی اخبار میں لکھا: "اس دوران ایک بار بھی وحید میری فلموں میں کام کی تلاش میں میرے پاس نہیں آئے۔" وحید اداس ہوتا جا رہا تھا . ان کے قریبی دوست نے انکشاف کیا کہ وہ شراب، تمباکو نوشی اور نیند کی گولیوں کے عادی ہوتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ ان کی گھریلو زندگی کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی بیوی سلمی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے چھوڑ گئی. بری عادتوں اور کشیدگی کی ایک مجموعہ نے 1981 میں وحید کی پیٹ میں ulceration کا وجہ نی. ان کو خون کی کمی سے نقصان اٹھانا پڑا اور ان کی زندگی کو بچانے کے لئے ulcer ہٹانے کے لئے آپریشن سے گزرنا پڑا . اس کے بہت سے پرستار اپنے پسندیدہ ہیرو کی زندگی بچانے کے لئے خون کا عطیہ دینے ہسپتال آئے. وہ ٹھیک ہوا، اگرچہ، وزن کی ایک قابل ذکر رقم کھو دی. اس مشکل وقت میں حقیقی دوست ثابت ہوا اقبال اختر اور اقبال یوسف، جنہوں نے اپنی فلموں میں وحید مراد کو لیا۔ دل نے پھر یاد کیا اور گھیراو میں وحید کی حالت قابل رحم نظر آتی ہے۔ یہ چیز اس کے پرستاروں نے بھی محسوس کی۔

وحید مراد اپنی آخری فلم ہیرو (1985) میں بابرہ شریف کے ساتھ

1983 میں انور مقصود، ایک مشہور ٹی وی مصنف اور اینکر اور وحید کے ایک قریبی دوست، نے ٹی وی کے اپنے مزاحیہ شو سلور جوبلی مین وحید کو مدعو کیا. صرف 90 پونڈ میں، وحید نے کسی پنسل کی طرح پتلے نطر آتے ہوئے ایک بہادر انسان کے طور پر سامنے پیش ہونے کی کوشش کی. تاہم مبصرین دیکھ سکتے ہیں کہ وحید اپنے ماضی کی طرح عوام پر ایک سحر قائم کرنے میں ناکام رہے۔ صرف عالمگیر کے گانے تمہیں کیسے بتادوں کے دوران وحید اپنی مخصوص شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ ماضی میں کھوئے ہوئے نظر آئے۔

بابرہ شریف، اس وقت کی سب سے اوپر کی اداکارہ، ہیرو کے ایک منظر کی فلم بندی کے دوران وحید اس کی طرف تیزی سے چلنے ہوئے آئے کہ ان کا توازن کھو گیا، ان کو ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لئے اپنی سانس کو بحال کرنے میں کئی منٹ لگے۔

جولائی 1983 میں وحید بہت تیزی سے گاڑی چلا رہا تھے، جو کہ ان کے پسندیدہ شوق تھا، کہ ان کی گاڑی ایک بڑے درخت سے ٹکراگئی۔ وحید بہت مشکل سے بچے لیکن ان کے چہرے پر ایک بڑا نشان چھوڑ گیا تھا. حادثے کے کچھ دنوں کے بعد، وحید نے ایک کردار کے لئے اپنے دوست پرویز ملک سے پوچھا. ملک چانتے تھے کہ وحید اس حالت میں اداکاری کے لئے تیار نہیں۔ یہ جان کر اس نے کہا کہ"ویدو تم صحیح ہوجاو اور میں تم کو اپنی اگلی فلم میں لیڈ لو گا." اپنے تیز دماغ سے وحید نے جواب دیا "تم مجھے رول دو اور میں صحیح ہوجاونگا۔" اس وقت وہ اپنے داغ کا علاج کرانے کراچی جارہے تھے تاکہ وہ اپنی فلم ہیرو کے چند آخری سینز ریکارڈ کراسکیں۔ [3] ہوائی اڈے پر انکی ملاقات فلم میگزین ’نگار‘ کے چیف ایڈیٹر الیاس رشیدی سے ہوئی۔ رشیدی اپنے میگزین میں لکھتے ہیں:

"اسی موقع پر ایک مشہور فلم پروڈیوسر بھی انتظار کر رہے تھا اور اس نے وحید کو جاوید شیخ کے والد کا کردار ادا کرنے کے لئے کہا۔۔۔۔۔۔ پروڈیوسر کا وحید کو چکما دینا بہت مشکل تھا."

پرواز کے دوران وحید بہت کڑوا تھا. اس نے الیاس کو بتایا کہ وہ بدر منیر جو کہ ان کا گاڑی ڈرائیور تھا کے ساتھ ایک پشتو فلم میں کام کرنے تک رہ گیا ہے۔

آخری دن اور موت[ترمیم]

وحید کے بیٹے عادل مراد نے اپنے نانی کے ساتھ کراچی میں تھا. چہرے کی سرجری سے ایک دن پہلے، وحید نے اس کی سالگرہ منائی. انہوں نے عادل کے لئے تحفہ خریدا اور ایک خوش سال کی تمنا کی. وہ انیتا ایوب کی ماں ممتاز ایوب کے گھر میں رات گزارنے کرنے کے لئے دیر سے واپس آئے. صبح جب وحید دیر تک نہیں جاگا، دروازہ توڑ کر کھولا گیا تو وحید مردہ فرش پر پڑا پایا گیا. اس کے پان میں 'کچھ' پایا گیا تھا. کوئی نہیں جانتا کہ وہ دل کا دورہ تھا یا کوئی خود کش۔ وحید گلبرگ قبرستان، علی زیب روڈ، لاہور میں اپنے والد کی قبر کے قریب دفن کئے گئے۔

چند ماہ ان کی موت سے پہلے، وحید مراد کے ساتھ ساتھ دیگر اداکاروں اور گلوکاروں نے احمد رشدی کو خراج تحسین پیش ادا کرنے کے لئے ایک شو منقعد کیا تھا ، چھ مہینے بعد یہی لوگ وحید کی موت پر ایک شو منقعد کررہے تھے۔

ورثہ[ترمیم]

وحید ka عروج و زوال ایلوس پریسلے Elvis Presley کی طرح ہے۔ بقول فلمی ناقدین کے دونوں اپنی ابتدائی زندگی میں کامیابیوں کی انتہا کو چھو لیا، مگر پھر جب گرے تو بری طرح گرے اور یک دم اچانک اموات ہوئیں۔ بلاشبہ وحید مراد ابتدائی کامیابیوں میں ملک کے سب سے زیادہ سحر انگیز شخصیت ہونے کا لطف اٹھایا اور پھر ایلوس کی طرح زوال کا شگار ہوئے اور پھر اچانک اس کوچہ فانی سے چلے گئے. ان کی فلموں کو آج بھی بار بار فلم فیسٹیول، سینما گھروں اور ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔

’وحید پیدائشی ہیرو تھا۔‘ الیاس رشیدی

’انکی اتنی فلمیں دیکھنے کے بعد میں یہ مانتا ہوں کہ وہ ایک عظیم اداکار تھا اور میں ان کی بے مثال اداکاری کو پسند کرتا ہوں۔‘ راجیش کھنہ

’"وحید مراد ایک فرد نہیں تھا بلکہ وہ ایک دور تھا جسے ابتدائی 1980 کے دہائی میں فلمی صنعت پر قبضہ کر نے والے لوگوں نے ایک کونے میں لگا دیا تھا... وہ ایک عظیم اداکار تھے جس نے رومانٹک ہیرو کی بہترین تصویر پیش کی۔ ان میں موسیقی کی اچھی حِس تھی اور گانوں کی عکس بندی میں وہ منفرد تھے۔" غلام محی الدین

لہری، ایک پاکستانی فلم کامیڈین، نے کہا کہ:

"وہ ایک عظیم ساتھی، ایک ناقابل فراموش دوست اور پیسے اور قسمت کے دھنی شائستہ آدمی تھا."

حال ہی میں ہالی ووڈ فلم Agent Cody Banks 2: Destination London میں اداکارہ Leilah Isaac اسحاق کے کردار Sabeen نے وحید مراد کو یاد کیا. Frankie Muniz ایجنٹ کوڑی بینکس کا کردار ادا کرہا ہے اپنے ساتھیوں کو بتا رہا ہے کہ وہ ایک سیکرٹ ایجنٹ ہے، جس پر نائیجیریا کا لڑکا (مذاقتا) کہتا ہے کہ وہ Spiderman ہے، جبکہ دوسری لڑکی کہتی ہے کہ وہ Lara Croft ہے۔ جیسا کہ ہر ساتھی اپنی پسندید کرداروں سے اپنے آپ کو تشبیہ دینے لگا۔ Sabeen نے کہا: ’اور وہ وحید مراد ہے!‘، جس پر لوگ نے پوچھا: ’کیا؟‘ تو وہ بولی:’ایک مشہور انڈین اداکار!‘

"وحید مراد ایک شاندار اداکار اور شاید Lollywood کے سب سے بہترین اداکار تھے. فلموں میں ان کی ناکامی ٹیلنٹ کی کمی کی وجہ سے نہیں. اصل میں، وہ پاکستان میں سب سے زیادہ سجیلا اور اصل اداکار تھا. انہوں اپنے ٹیلنٹ سے معمولی سکرپٹ کو چمکا کر فلمی صنعت کے امیج کو بہتر کیا، مگر بدلے اس نے ان کو بری قسمت سے نوازا۔ ان کی اپنی مضبوط شخصیت اور دلربا اداکاری نے انہیں برباد کردیا۔ تاہم وہ اب بھی شائقین کے لاکھوں کے دلوں میں رہتا ہے۔ اس کی بیٹی آلیہ کہتیں ہیں: "اگر ابو جانتے کہ انہیں اتنا پسند کیا جاتا تو وہ نہیں مرتے."

وحید مراد کے حاصل کردہ ایوارڈز[ترمیم]

وحید مراد کے حاصل کردہ ایوارڈز

وحید مراد کی فلمیں[ترمیم]

وحید مراد کی فلمیں

وحید مراد پر فلمائے گئے گانے[ترمیم]

وحید مراد پر فلمائے گئے گانے

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]