وراثی معالجہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

وراثی معالجہ یا جین تھراپی طب کا وہ شعبہ ہے کہ جسمیں کسی وراثہ (جین) میں مختلف وجوہات کی وجہ سے پیداہونے والے طفرہ (mutation) کی - ایک وراثی تغیر شدہ (genetically altered) وراثہ کو تبدلی وراثہ کی جگہ داخل کر کے - اصلاح کی جاتی ہے ۔

  • سادہ الفاظ میں اسکو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ
  • وراثی معالجہ ایک ایسا جدید طریقہ علاج ہے کہ جسمیں علاج کی غرض سے وراثی مادہ (ڈی این اے) ایک خاص زریعہ (جسکوسمتیہ ( ویکٹر) کہتے ہیں) کی مدد سے مریض کے جسم میں داخل کردیا جاتا ہے اور پھر یہ داخل کردہ وراثی مادہ ، جسم میں موجود نقص شدہ وراثی مادے (DNA) کو درست کردیتا ہے۔

وراثی معالجے سے علماء اور تحقیق کار بہت سی ایسی توقعات وابستہ کررہے ہیں جو کہ آج تک ممکن نہیں تھیں مثلا موروثی امراض کا کامیاب اور مکمل علاج، اسکے علاوہ وراثی معالجے کی مدد سے بعد از پیدائش وراثوں میں طفرہ کی وجہ سے نمودار ہونے والے امراض مثلا سرطان اور وائرس سے پیدا ہونے والے امراض مثلا ایڈز کے علاج کے سلسلے میں بھی اب تک کے تجربات میں وراثی معالجہ نہایت کامیاب اور پرامید رہا ہے۔

سمتیۓ[ترمیم]

سمتیوں کے مفصل ذکر کیلیۓ تو الگ صفحہ مخصوص ہے یہاں مضمون سمجھنے میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر صرف اتنا بیان ہے کہ ویکٹر کو یوں سمجھ لینا چاہیۓ کہ یہ ہمارے مطلوبہ وراثی مادے (جو ہم علاج کی غرض سے جسم میں پہنچانا چاہتے ہوں) کے لیۓ گویا ایک گاڑی کا کام کرتا ہے اور داخل کیے جانے والے وراثی مادے کو سمت دکھا کر اسکے مقام تک پہنچا دیتا ہے اسی لیۓ اسکو ویکٹر یا اردو میں سمتیہ کہا جاتا ہے۔ ویکٹرز یا سمتیے دو بنیادی اقسام کے ہوتے ہیں

  • وائرسی سمتیۓ ؛ جنکو وائرس سے بنایا جاتا ہے
  • غیروائرسی سمتیۓ؛ جنکو دیگر اجزاء مثلا چربی کے بلبلوں وغیرہ سے بنایا جاتا ہے

پسمنظر[ترمیم]

سالماتی حیاتیات میں ہونے والی ترقی نے 1980 میں علماء کو اس قابل کردیا تھا کہ وہ نہ صرف یہ کہ انسانی وراثوں (جینز) کی متوالیت (sequencing) کو معلوم کرسیکیں بلکہ اس وراثے (جین) کی مثل تولید (cloning) بھی کرسیکیں، اس قسم کی مثل تولید جو کہ کسی خلیہ کی نہیں بلکہ ایک جین یا سالمے کی ہوتی ہے کو سالماتی مثل تولید کہا جاتا ہے۔

گو کہ عموما خیال کیا جاتا ہے کہ وراثی معالجہ کوئی نئی طرزمعالجہ ہے جیسے حال کو کوئی پیداوار ہو، مگر ایسا نہیں ہے ۔ وراثی معالجے کا پس منظر کئی دہائیوں پر محیط ہے ۔ علماء عرصہ دراز سے اس بات سے آگاہ تھے کہ وراثے (یا جینز) دراصل وہ مالیکیول ہیں جو کہ نا صرف ماں باپ کے خواص بلکہ بیماریاں بھی منتقل کرنے کا سبب ہیں اور یہ بھی کہ اگر کوئی بیماری کسی وراثے یا جین میں پیدائشی نہ بھی ہو تب بھی وراثہ میں کسی تغیر یا تبدل کی وجہ سے پیدا ہوسکتی ہے، ایسی بیماری جو کہ وراثے میں پیدائش کے بعد کسی تبدل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو محصولی کہی جاسکتی ہے۔