وفاقی جامعۂ اردو
|
||
| تاریخ قیام: | 13 نومبر 2002 | |
| مقام: | کراچی اور اسلام آباد، پاکستان | |
| وائس چانسلر: | ڈاکٹر محمد قیصر | |
| بانی: | مولوی عبد الحق | |
| وجہ شہرت: | اردو زبان میں اعلی تعلیم اور سائنسی، قانونی و دیگر علوم کے اردو میں تراجم | |
فہرست |
تعارف
سابق سربراہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عطاءالرحمن کی ذاتی کوششوں سے سابقہ وفاقی اردو کالج برائے سائنس، گلشن اقبال اور سابقہ وفاقی اردو کالج برائے فنون و تجارت (مولوی عبدل الحق کیمپس) کو ترقی دے کر وفاقی اردو یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 13نومبر ، 2002 کو صدر پاکستان جناب جنرل (ریٹارڈ) پرویز مشرف نے وفاقی اردو یونیورسٹی کی باضابطہ بنیاد رکھی۔ اس وقت یونیورسٹی کے تین کیمپسز گلشن کیمپس، عبل حق کیمپس اور اسلام اقبال کیمپس کامیابی کے ساتھ فروغ علم میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
پس منظر
بابائے اردو مولوی عبدل الحق نے اپنی زندگی کو اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ یہ ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اردو جسے ابتداء میں صرف ایک رابظے کی زبان سمجھا جاتا تھا کو تعلیمی اور سرکاری زبان بنانے کے قابل سمجھا جانے لگا۔ مولوی صاحب نے سن 60 کے عشرے میں زاتی کوششوں اور سرمائے سے کراچی کے علاقے صدر کے قریب ایک اردو کالج کی بنیاد رکھی۔ جس کا مقصد اردو زبان میں اعلی تعلیم کے راستے کھولنا تھے۔ اس کے بعد اسی کالج سے منسلک گلشن اقبال میں ایک اردو سائنس کالج قائم کیا گیا جسکا مقصد بھی سائسی علوم کو اردو زبان میں ترقی دینا تھا۔ 70 کی دہائی میں سابق وزیر اعظم پاکستان زوالفقار علی بھٹو نے نیشنلائزیشن کی پالیسی شروع کی تو ان دونوں کالجز کو بھی قومیا لیا گیا۔ جس کے بعد اردو کالج وفاقی اردو کالج میں تبدیل ہوگیا۔ سن 2002 میں اس کالج کو یونیورسٹی کے درجے پر ترقی دے کر مولوی عبدال الحق کے ایک خواب کو پورا کردیا گیا۔
چانسلر و وائس چانسلر
چانسلر : صدر مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب
وائس چانسلر :ڈاکٹر محمد قیصر
کیمپسز
1۔ گلسن اقبال کیمپس، کراچی
2۔ مولوی عبل حق کیمپس، کراچی
3۔ اسلام آباد کیمپس
شعبہ جات
اردو یونیورسٹی، گلشن کیمپس : پندرا شعبےمع سائنس، کمپیوٹر سائنس ،تجارت، ماکس کمیونیکیشن اور بزانس
اردو یونیورسٹی، عبد الحق کیمپس : اٹھارہ شعبے مع قانون، فنون، لسانیات، اور ماکس کمیونیکیشن
اردو یونیورسٹی، اسلام آباد کیمپس : آٹھ شعبے مع سائنس، قانون، کمپیوٹر سائنس، تجارت، بزنس اورمعیشت
