ولید ثانی بن یزید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750
  • ولید ثانی بن یزید

125ھ سے 126ھ 743ء سے 744ء


تعارف[ترمیم]

ہشام بن عبدالملک کے بعد ولید ثانی رییع الثانی 125ھ میں تخت نشین ہوا۔ وہ انتہائی نالائق اور غلط کار شخص تھا۔ ہشام بن عبدالملک نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کی عادات کو سنوارنے کی کئی ناکام کوششیں کی تھیں۔


ولید ثانی کی بد اخلاقی کی بنا پر کئی امرا نے اس کی ولی عہدی کی مخالفت کی تھی۔ جب وہ تخت نشین ہوا تو اس نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ اپنے مخالفوں کو چن چن کر مروا دیا۔ اس کی اس سفاکی پر بعض متاثر افراد اس قدر پریشان ہوئے کہ وہ ہشام بن عبدالملک کی قبر جا کر رویا کرتے تھے۔

قتل[ترمیم]

ظلم و ستم کے علاوہ اپنی حد سے بڑھتی ہوئے بد اخلاقی کی وجہ سے بھی اسکی مخالفت زور پکڑتی گئی۔ آخر کار ایک سال اور دو مہینے کی خلافت کے بعد اپنے مخالفوں سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ ایک مشہور مؤرخ نے تو یہ لکھا ہے کہ جب لوگ اسکو قتل کرنے کے لیے چڑھ آئے تو وہ یہ کہہ کر قرآن خوانی میں مصروف ہو گیا کہ " جس طرح حضرت عثمان رض تلاوت قرآن کرتے ہوئے مارے گیے تھے مرا بھی خاتمہ اسی طرح ہو"۔


شغف[ترمیم]

ولید ثانی کو شعر و سخن اور رقص و موسیقی سے بے حد لگاؤ تھا۔ بادہ نوشی کے بارے میں اس کے اشعار تو اس وقت کے عظیم ترین شاعروں کو بھی شرما دیتے تھے۔