ون یونٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ون یونٹ وہ منصوبہ تھا جسے پاکستان کی وفاقی حکومت نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں و علاقوں کے انضمام کے لیے شروع کیا تھا۔ جس کے تحت مملکت پاکستان کے مغربی حصے کے تمام صوبوں کو یکجا کر کے ایک اکائی کی صورت دی گئی جبکہ اس کا دوسرا حصہ مشرقی پاکستان کی صورت میں موجود تھا۔ اس طرح پاکستان محض دو صوبوں پر مشتمل ایک ریاست بن گیا۔

ون یونٹ منصوبے کا اعلان وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے 22 نومبر 1954ء کو کیا اور 14 اکتوبر 1955ء کو مملکت خداداد کے مغربی حصے کے تمام صوبوں کو ضم کر کے مغربی پاکستان صوبہ تشکیل دیا گیا جس میں تمام صوبوں کے علاوہ ریاستیں اور قبائلی علاقہ جات بھی شامل تھے۔ یہ صوبہ 12 ڈویژن پر مشتمل تھا جبکہ اس کا دارالحکومت لاہور تھا۔ دوسری جانب مشرقی بنگال کے صوبے کو مشرقی پاکستان کا نام دیا گیا جس کا دارالحکومت ڈھاکہ تھا۔ وفاقی دارالحکومت 1959ء میں کراچی سے راولپنڈی منتقل کیا گیا، جہاں فوج کے صدر دفاتر تھے، اور دارالحکومت نئے شہر اسلام آباد کی تکمیل تک یہاں موجود رہا جبکہ وفاقی مجلس قانون ساز ڈھاکہ منتقل کی گئی۔

گو کہ اس پالیسی کا مقصد بظاہر انتظامی بہتری لانا تھا لیکن کئی لحاظ سے یہ بہت تباہ کن اقدام تھا۔ مغربی پاکستان میں موجود بہت ساری ریاستوں نے اس یقین دہانی پر تقسیم ہند کے وقت پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی کہ ان کی خود مختاری قائم رکھی جائے گی لیکن ون یونٹ بنا دینے کے فیصلے سے تمام مقامی ریاستوں کا خاتمہ ہو گیا۔ اس سلسلے میں بہاولپور، خیرپور اور قلات کی ریاستیں بالخصوص قابل ذکر ہیں۔

معاملات اس وقت مزید گمبھیر ہوئے جب 1958ء کی فوجی بغاوت کے بعد وزیر اعلیٰ کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور صدر نے مغربی پاکستان کے اختیارات اپنے پاس رکھ لیے۔ سیاسی ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کہ مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو یکجا کرنے کا مقصد مشرقی پاکستان کی لسانی و سیاسی اکائی کا زور توڑنا تھا۔

بالآخر یکم جولائی 1970ء کو صدر یحییٰ خان نے ونٹ یونٹ کا خاتمہ کرتے ہوئے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں بحال کر دیا۔