پاکستان ریلویز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاکستان ریلویز
قسم ماتحت وزارت ریلوے، حکومت پاکستان
صنعت پٹری نقل و حمل
قیام 1947
صدر دفتر لاہور، پنجاب
علاقہ خدمات پاکستان
خدمات مسافروں اور مال کی ریل گاڑیوں کے زریعے ترسیل
آمدنی پاکستانی روپیہ 18,612 ملین (2010-2011) [1]
مالکان حکومت پاکستان (100%)
ملازمین 82,424 (2010-2011) [1]
ویب سائٹ pakrail.com/index.php/
پاکستان ریلویز

پاکستان ریلویز ( انگريزی: Pakistan Railways ) حکومت پاکستان کا ایک محکمہ ہے جو پاکستان میں ریلوے خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کا صدر دفتر لاہور میں ہے اور یہ وزارت ریلوے کے تحت کام کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہم ہے جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر آمدورفت کی سستی تیز رفتار اور آرام دہ سہولیات فراہم کرتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

خیبر بھاپ ریل گاڑی

موجودہ پاکستان میں ریلوے کا آغاز 13 مئی 1861ء میں ہوا جب کراچی سے کوٹری 169 کلومیٹر ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 24 اپریل 1865ء کو لاہور - ملتان ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ 6 اکتوبر 1876ء کو دریائے راوی, دریائے چناب اور دریائے جہلم پر پلوں کی تعمیر مکمل ہو گئی اور لاہور - جہلم ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ 1 جولائی 1878ء کو لودهراں - پنوعاقل 334 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 27 اکتوبر 1878ء کو دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کوٹری سے سکھر براستہ دادو اور لاڑکانہ ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ رک سے سبی تک ریلوے لائن بچھانے کا کام جنوری 1880ء میں مکمل ہوا۔ اکتوبر 1880ء میں جہلم - راولپنڈی 115 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ 1 جنوری 1881ء کو راولپنڈی - اٹک کے درمیان 73 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ 1 مئی 1882ء کو خیرآباد کنڈ - پشاور 65 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر مکمل ہو گئی۔ 31 مئی 1883ء کو دریائے سندھ پر اٹک پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد پشاور - راولپنڈی سے بزریعہ ریل منسلک ہو گیا۔

1885ء تک موجودہ پاکستان میں چار ریلوے کمپنیاں سندھ ریلوے، انڈین فلوٹیلا ریلوے، پنجاب ریلوے، اور دہلی ریلوے کام کرتیں تھیں۔ 1885ء میں انڈین حکومت نے تمام ریلوے کمپنیاں خرید لیں اور 1886ء میں نارتھ ويسٹرن اسٹیٹ ریلوے کی بنیاد ڈالی جس کا نام بعد میں نارتھ ويسٹرن ریلوے کر دیا گیا۔

مارچ 1887ء کو سبی - کوئٹہ ریلوے لائن کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ 25 مارچ 1889ء کو روہڑی اور سکھر کے درمیان لینس ڈاؤن پل کا افتتاح ہوا۔ اس پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد کراچی - پشاور سے بزریعہ ریل منسلک ہو گیا۔ 15 نومبر 1896ء کو روہڑی - حیدرآباد براستہ ٹنڈو آدم، نواب شاہ اور محراب پور ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 25 مئ 1900ء کو کوٹری پل اور 8 کلومیٹر طویل کوٹری - حیدرآباد ریلوے لائن مکمل ہو گئی۔ اس سیکشن کے مکمل ہو جانے کے بعد پاکستان ریلویز کی کراچی - پشاور موجودہ مرکزی ریلوے لائن بھی مکمل ہو گئی۔

نارتھ ويسٹرن ریلوے کو فروری 1961ء میں پاکستان ويسٹرن ریلوے اور مئی 1974ء میں پاکستان ریلویزمیں تبدیل کر دیا گیا۔

گیج ﴿ پٹری کی چوڑائی ﴾[ترمیم]

قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں تین مختلف براڈ گیج، میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں استمال ہوتی تھیں۔ جن میں سے کچھ میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں براڈ گیج میں تبدل کر دیں گیئں ہیں اور باقی بند ہوچکی ہیں۔ اب پاکستان ریلوے کے نظام میں صرف براڈ گیج ریلوے لائنیں استمال ہورہی ہیں۔

رفتار[ترمیم]

پاکستان ریلویز کی ٹرینوں کی رفتار زیادہ سے زیادہ 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ کراچی - لاہور ریلوے سیکشن کے کچھ حصوں پر ٹرینں 120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتیں ہیں۔ پاکستان ریلویز کراچی - خان پور ریلوے سیکشن کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد اس سیکشن پر ٹرینں 140 کلو میٹر فی گھنٹہ سے چل سکیں گی۔

اہم ریلوے لائنیں[ترمیم]

اہم ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

کراچی چھاونی ریلوے اسٹیشن
لاہور جنکشن

کراچی تا پشاور مرکزی ریلوے لائن

دیگر ریلوے لائنیں

بین الاقوامی ریل رابطے[ترمیم]

پاکستان بھارت, ایران اور ترکی سے بذریعہ ریل منسلک ہے۔

بھارت[ترمیم]

پاکستان بھارت سے لاہور - دہلی اور میر پور خاص - جودھ پور ریلوے لائنوں کے زریعے ملا ہوا ہے۔ دو مسافر ٹرینیں سمجھوتا اکسپريس لاہور اور دہلی کے درمیان ہفتہ میں دو بار اور تھر اکسپريس ہفتہ وار کراچی اور جودھ پور کے درمیان چلتیں ہیں۔

ایران[ترمیم]

پاکستان ایران سے کوئٹہ - زہدان ریلوے لائن سے بذریعہ ریل منسلک ہے۔ مہینے میں دو مسافراور مال بردار ٹرینیں کوئٹہ اور زہدان کے درمیان چلتیں ہیں۔

ترکی[ترمیم]

ایران میں کرمان - زہدان ریلوے لائن کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد پاکستان ترکی اور یورپ سے بھی بذریعہ ریل منسلک ہو گیا ہے۔ 14 اگست 2009 کو پاکستان اور ترکی کے درمیان مال بردار ٹرین کا آغاز ہو چکا ہے جو اسلام آباد سے استنبول براستہ تہران 6,500 کلو میٹر کا فاصلہ 14 دن میں تہ کرتی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

سانچہ:لاہور میٹرو