پاکستان قومی کرکٹ ٹیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاکستان
پاکستان کرکٹ

پاکستان کرکٹ
ٹیسٹ اجازت نامہ حاصل ہوا 1952
پہلا ٹیسٹ میچ بمقابلہ Flag of بھارت بھارت بمقام فیروز شاہ کوٹلہ، دہلی، بھارت 16–18 اکتوبر 1952۔
کپتان Flag of پاکستان مصباح الحق (ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ) Flag of پاکستان محمد حفیظ (ٹی20)
تربیت کار Flag of آسٹریلیا ڈیوڈ واٹمور
رسمی آئی سی سی ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی20 درجہ بندی چوتھا (ٹیسٹ)
چھٹا (ایک روزہ)
تیسرا (ٹی20) [1]
ٹیسٹ میچ
– اس سال
370
4
آخری ٹیسٹ Flag of سری لنکا سری لنکا بمقام گال اسٹیڈیم، گال، 22–25 جون 2012۔
جیتے/ہارے
– اس سال
115/101
3/1
آخری تجدید: 8 ستمبر 2012

پاکستان کرکٹ ٹیم کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کرتی ہے جس کی انتظامیہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہے۔ پاکستان کوبین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت بین الاقوامی کرکٹ انجمن (International Cricket Council) نے 1952 میں دی۔ پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 16 اکتوبر، 1952 میں بھارت کے خلاف دہلی میں کھیلا۔[1] پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت دنیا کی مظبوط ترین ٹیموں میں شامل ہے۔ پاکستان نے اپنا پہلا عالمی کرکٹ کپ عمران خان کی قیادت میں 1992 میں برطانیہ کے خلاف جیتا ۔ پاکستان نے کئ مایہ ناز گیند باز پیدا کیے ہیں جن میں عمران خان، وسیم اکرم، عبدالقادر ، سرفراز نواز ، وقار یونس ، شعیب اختر ، انضمام الحق اور جاوید میانداد کا نام آتا ہے۔

دسمبر 2012 تک پاکستان نے 370 ٹیسٹ کھیلے ہیں جن میں سے 115 جیتے اور 101 ہارے، اور 154 ڈرا ہوے۔[2] ICC کے درجے کے مطابق پاکستان ٹیسٹ میچوں میں جوتھے (4) اور ایک روزہ میچوں میں چھٹے (6) اور ٹی20 میں چھٹے (6) نمبر پر ہے، [2]

انتظامیہ[ترمیم]

پاکستان میں ہر قسم کی کرکٹ (فرسٹ کلاس) ، ٹیسٹ کرکٹ، اور ایک روزہ کرکٹ، پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمہ ہے۔ یہ محکمہ صدر پاکستان کے زیرہ نگرانی کام کرتا ہے۔ اس کی انتظامیہ میں پرانےکرکٹر، ارور کاروباری حضرات شامل ہیں۔ علاقائ ٹیمرں کے مقابلے جن میں قائد اعظم ٹرافی شامل ہے کا انتظام اور میدانوں کی دیکھ بھال بھی اسی کے ذمہ ہے۔

صدر پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر کا انتخاب کرتا ہے اس وقت بورڈ کا صدر ذکا اشرف ہے۔ حال ہی میں صدر پاکستان نے نۓ آئن کی منظوری دی ہے جس کے تحت علاقائی ٹیموں کی انتظامیہ کے افراد کرکٹ بورڈ کو چلائیں گے۔

بین الاقوامی مقابلوں کی تاریخ[ترمیم]

کرکٹ عالمی کپ چیمپئین ٹرافی ایشیا کپ شارجہ کپ ٹوئنٹی/20 عالمی کپ

کھیل کے میدان[ترمیم]

میدان شہر ٹیسٹ میچ ایک روزہ میچ
نیشنل اسٹیڈیم کراچی 40 33
قذافی اسٹیڈیم لاہور 38 49
اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد 24 12
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی 8 21
ارباب نیاز اسٹیڈیم پشاور 6 15
ملتان کرکٹ اسٹیڈیم ملتان 5 4
نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد 5 6
جناح اسٹیڈیم سیالکوٹ 4 9
شیخوپورہ اسٹیڈیم شیخوپورہ 2 1
جناح اسٹیڈیم گوجرانوالہ 1 11
ابن قاسم باغ اسٹیڈیم ملتان 1 6
پنڈی کلب گرائونڈ راولپنڈی 1 2
ظفر علی اسٹیڈیم ساہیوال 0 2
ایوب نیشنل اسٹیڈیم کوئٹہ 0 2
سرگودھا اسٹیڈیم سرگودھا 0 1
بگٹی اسٹیڈیم کوئٹہ 0 1

موجودہ ٹیم کے کھلاڑی[ترمیم]

نام بلے بازی کا طریقہ گیند بازی کا طریقہ علاقائی ٹیم
کپتان
مصباح الحق دائیں ہاتھ سے لیگ بریک میانوالی
سابق کپتان
شاہدآفریدی دائیں ہاتھ سے کراچی
وکٹ کیپر
عدنان اکمل دائیں ہاتھ سے لاہور
سرفراز احمد دائیں ہاتھ سے کراچی
اننگ کھو لنے والے بلے باز
ناصر جمشید بائیں ہاتھ سے آف بریک لاہور
محمد حفیظ دائیں ہاتھ سے آف بریک لاہور
توفیق عمر بائیں ہاتھ سے لیگ بریک لاہور
اویس ضیا بائیں سے آف بریک چکوال
مڈل آرڈر بلے باز
اظہرعلی دائیں ہاتھ سے آف بریک کراچی
عمر اکمل دائیں ہاتھ سے آف بریک کراچی
یونس خان دائیں ہاتھ سے آف بریک کراچی
اسد شفیق دائیں ہاتھ سے کراچی
مصباح الحق دائیں ہاتھ سے کراچی
آل راؤنڈر
شاہد آفریدی دائیں ہاتھ سے میڈیم , لیگ بریک گوگلی کراچی
عبدالرزاق دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم لاہور
سہیل تنویر بائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ میڈیم فاسٹ راولپنڈی
حماد اعظم دائیں ہاتھ سے میڈیم فاسٹ اٹک
فاسٹ گیند باز
سہیل تنویر ہاتھ سے فاسٹ میڈیم راولپنڈی
اعزاز چیمہ دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم سرگودھا
محمد عرفان بائیں ہاتھ سے فاسٹ گگو منڈی
عمر گل دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم پشاور
افتخار انجم دائیں ہاتھ سے میڈیم اسلام آباد
وہاب ریاض بائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم لاہور
سپن گیند باز
سعید اجمل دائیں ہاتھ سے آپ بریک فیصل آباد
عبدالرحمان بائیں ہاتھ سے سلو لیفٹ آرم آرتھاڈاخس سیالکوٹ

ٹیم کے شیدائی فین[ترمیم]

عبدالجلیل جو پاکستان میں چاچا کرکٹ کے نام سے مشہور ہیں ، ہر جگہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افضائی کے لیے میدان میں موجود ہوتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کو ماہانہ دس ہزار روپیہ دیتا ہے۔ وہ سال 1969 سے ٹیم کے ساتھ ہیں۔

عملہ[ترمیم]

تربیتی عملہ[ترمیم]

انتظامی عملہ[ترمیم]

  • ٹیم مینیجر: نوید اکرم چیمہ
  • سیکورٹی مینیجر: کرنل (ر) وسیم احمد
  • تجزیہ کار: عمر فاروق

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://content-www.cricinfo.com/ci/engine/match/62741.html
  2. ^ 2.0 2.1 http://www.icc-cricket.com/match_zone/team_ranking.php

متعلقہ مضامین[ترمیم]

پاکستان کرکٹ بورڈ کرکٹ

مزید معلومات[ترمیم]