پاکستان کے صدارتی انتخابات 2013ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
2013ء صدارتی انتخاب پاکستان
Flag of پاکستان
2008 ←
اگست 2013
→ 2018

  وجیہ الدین احمد
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان تحریک انصاف

صدر قبل از انتخابات

آصف علی زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی

صدر-منتخب


پاکستان مسلم لیگ (ن)

پاکستان میں 2013ء کے صدارتی انتخابات 30 جولائی 2013ء کو ہوئے۔ آئین کے مطابق پاکستان کی پارلیمان، ایوان بالا، اور صوبائی اسمبلیاں مل کر صدر کے انتخاب میں ووٹ ڈالتی ہیں۔ تمام صوبوں کے بلامتیاز آبادی اور رقبہ برابر ووٹ ہوتے ہیں۔ صدارتی انتخابات میں تحریک انصاف کے وجیہ الدین احمد اور ن لیگ کے ممنون حسین کے درمیان مقابلہ تھا۔[1] ممنون حسین کو ن-لیگ کے علاوہ "مہاجر قبیلہ" سے تعلق کی بنا پر متحدہ قومی تحریک کی حمایت بھی حاصل تھی۔ جماعت اسلامی پاکستان نے وجیہ الدین احمد کی حمایت کا اعلان کیا۔ پارلیمان میں ن-لیگ اور اس کے اتحادیوں کی اکثریت کی وجہ سے نتیجہ ڈھاک کے تین پات نکلا۔ ممنون حسین 432 ووٹ لے کر کامیاب قرار پایا جب کہ وجیہ الدین کو 77 ووٹ پڑے۔[2] اگرچہ رائے شماری خفیہ ہوتی ہے، مگر نتائج سے معلوم ہوا کہ کسی نے ضمیر کی آواز پر جماعتی بنیادوں سے ہٹ کر ووٹ نہیں ڈالا۔

موجودہ صدر آصف علی زرداری کی مدت ستمبر 2013ء کو ختم ہو گئی اور زرداری نے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کی انتخابات میں شرمناک شکشت کے بعد دوبارہ انتخاب میں خود حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے رضا ربانی کو جماعت کا امیدوار مقرر کیا۔ رضا ربانی کو جمیعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن نے حمایت کا یقین دلایا تھا، تاہم پیپلز جماعت کے مقاطعہ کے بعد مولانا نے ووٹ ممنون کو لگائے۔


تنازعہ تاریخ انتخاب[ترمیم]

انتخابی لجنہ پاکستان نے انتخابات کی تاریخ 6 اگست 2013ء مقرر کی تھی مگر ن-لیگ نے عدالت اعظمی میں شکایت کی کہ اس کے کئی ارکان رمضان کے آخرری عشرے میں عمرہ کے لیے تشریف لے جائیں گے اور اسطرح انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ آئین کے مطابق انتخابات 8 اگست سے پہلے کروانا لازمی تھے (8 ستمبر کی صدارتی مدت ختم ہونے سے 30 دن پہلے)۔ چنانچہ عدالت نے انتخابات 30 جوالائی کو کرانے کا حکم دے دیا۔ پیپلز پارٹی نے یہ موقف اختیار کیا کہ اسطرح ان کے امیدوار کو انتخابی مہم چلانے کا وقت نہیں ملے گا اور عدالت نے ان کا موقف سننے کے لیے انھیں نہیں بلایا۔ احتجاجاً پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر دیا، اور رضا ربانی نے اپنا نام واپس لے لیا۔ ساتھ ان کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل نے بھی مقاطعہ کا اعلان کیا۔ عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد نے یہ موقف اختیار کیا کہ ممنون حسین کی حیثیت نواز شریف کے ذاتی ملازم سے زیادہ نہیں اور اسی بنیاد پر اس کا انتخاب کیا گیا ہے اور اس لیے ممنون حسین قابل عہدہ بالا نہیں، جس کی وجہ سے وہ بھی انتخاب کا مقاطعہ کرے گا۔[3] تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی مہم کے لیے قلیل وقت ملنے پر برہمی کا اظہار کیا، تاہم انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔[4] عمران خان نے کہا کہ وہ انتخابات کا مقاطعہ کرنا چاہتا تھا، مگر وجیہ الدین احمد کی درخواست پر ایسا نہیں کیا۔[5] مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے مقاطعہ کا اصل مقصد عدلیہ کے خلاف محاز کھول کر اسے کمزور کرنا تھا تاکہ وہ زرداری کے خلاف رشوت کے مقدمات اس کی صدارت ختم ہونے کے مطابق دوبارہ نہ کھول پائے۔[2] پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم گیلانی کا بیٹا اور راجہ رینٹل کو بھی بدعنوانی اور منشیات کے مقدمات کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس محاز کی صدارت چودھری اعتزاز احسن نے کی جِس نے عدلیہ پر ن-لیگ کا ساتھ ہونے کے الزامات لگائے۔[6]

انتخابی تنازعات کی تاب نہ لاتے ہوئے، انتخابی لجنہ کے فخرو بھائی نے صدارتی انتخابات کے فوری بعد 31 جولائی 2013ء کو استعفی دے دیا۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]