پاکستان - ریاستہائے متحدہ امریکہ تعلقات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


پاکستان - ریاستہائے متحدہ امریکہ تعلقات سے مراد پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات ہیں۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد بیشتر عرصہ میں دونوں ممالک کے درمیان "حلیفانہ" تعلقات رہے مگر اکثر شک و شبہ کا شکار رہے۔

  • امریکہ نے پاکستان پر بیشتر عرصہ تجارتی پابندیاں لگا رکھی رہی۔ جو کاروباری پاکستان سے لین دین کرے اس کی گرفتاریاں کرتا ہے[1]
  • جنگوں کے دوران امریکہ نے اپنے ہتھیاروں کے پرزے دینے سے انکار کر دیا۔
  • پاکستان سے ایف-16 طیاروں کے پیسے لے کر طیارے نہیں فراہم کیے اور پیسے بھی واپس نہیں کیے۔
  • امریکی ذرائع ابلاغ اور اہلکار اکثر پاکستان پر الزامات لگاتے اور پراپیگندا میں مصروف رہتے ہیں۔[2]
  • پاکستان جوہری برمجہ کی مخالفت میں امریکہ پیش پیش رہا۔
  • کشمیر میں زلزلہ کے بعد امداد کی آڑ میں امریکہ نے سینکڑوں سی آئی اے اور فوجی کارندے پاکستان میں داخل کر دیے جن کا مقصد پاکستان کے جوہری برمجہ کو نقصان پہنچانا اور آئی ایس آئی میں گھسنا تھا۔[3]