پدما وت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

(دیوناگری: पद्मावत) اودھی زبان کا پہلا رزمیہ ہے۔ جو کہ 1540 میں ملک محمد جائسی نے لکھا۔ یہ چتوڑ کے راجپوت راجا رتن سین اور رانی پدمنی کی محبت کا قصہ اور علاؤ الدین خلجی کے رانی کے عشق میں مبتلا ہونے اور چتوڑ قلعے پر چڑھائی کرنے کی داستان ہے۔ کہانی کی تاریخی حیثیت متنازعہ ہے لیکن اسے راجپوتوں کے ہاں خاص تاریخی و نسلی تقدس حاصل ہے۔

کہانی[ترمیم]

پدماوت کی کہانی کے دو حصے ہیں۔

رتن سین اور پدمنی کی محبت[ترمیم]

سنہل دیپ کے راجا کی حسین بیٹی پدماوتی جوان ہونے کے بعد دل گرفتہ رہنے لگی۔ یہ ایک توتے کو بہت عزیز رکھتی تھی جو اس کو عشق و محبت کے حسین خواب دکھاتا تھا۔ راجا نے توتے کو ہلاک کرنا چاہا مگر وہ بچ نکلا اور ایک برہمن کے زریعے چتوڑ کے راجا رتن سین کے پاس پہنچ گیا۔ راجا نے توتے سے پدماوتی کے حسن و جمال کا حال سنا تو اس پر عاشق ہو گیا اور راج پاٹ چھوڑ کر شہزادی کے حصول کے لیے جوگی کے لباس میں سنہل دیپ پہنچ گیا۔ کافی جدو جہد کے بعد دونوں کی شادی ہو گئی۔ راجا پدماوتی کو چتوڑ لے آیا اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے۔

سلطان علاؤ الدین کا رانی پر مر مٹنا[ترمیم]

اس کے بعد کا حصہ نیم تاریخی رنگ کا ہے۔ سلطان علاؤالدین خلجی چتوڑ کے ایک برہمن کی زبانی پدماوتی کے حسن و جمال کا حال سن کر اسے پانے کے لیے بے تاب ہو جاتا ہے اور چتوڑ گڑھ قلعے کا محاصرہ کر لیتا ہے۔ مگر آٹھ برس تک بھی قلعہ فتح نہیں ہوتا۔ اہل چتوڑ محاصرے کی تاب نہ لاتے ہوئے آپس میں صلاح مشورہ کرتے ہیں اور صلح پر غور کرتے ہیں۔ راجپوتوں کے لاکھ اختلاف کے باوجود رانی پدمنی رعایا اور مملکت کی بہتری کے لیے صلح کا مشورہ دیتی ہے جسے بحث کے بعد مان لیا جاتا ہے۔ سلطان کو قلعے میں داخل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے اور کئی دن تک جشن اور دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سلطان راجا رتن سین کی مہمان نوازی کو دیکھ کر رانی پدمنی کو بہن کہتا ہے اور فرمائش کرتا ہے کہ اس سے ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔ بہتیری صلاح کے بعد راجپوت اس پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور بادشاہ کو ایک ایسی جگہ لے جایا جاتا ہے جہاں ایک ٹھہرا حوض ہوتا ہے، سلطان رانی کو نہیں پاتا لیکن جونہی حوض میں دیکھتا ہے، اوپر جھروکے میں کھڑی رانی کا ایک دھندلا سا عکس دیکھتا ہے، جونہی سلطان رانی کو براہ راست دیکھنے کے لیے اوپر دیکھتا ہے، پردہ گرا دیا جاتا ہے۔ سلطان کی انا کو ناصرف اس پر ٹھیس پہنچتی ہےبلکہ وہ رانی کے حسن کا تشنہ سا عکس دیکھ کر اور بھی بیتاب اور فریفتہ ہو جاتا ہے۔ سلطان اپنی ناراضگی کا اظہار کیے بغیر اپنے خیموں میں واپس جاتا ہے اور رتن سین کو اپنے ہاں بلواتا ہے اور دھوکے سے گرفتار کر لیتا ہے۔


رانی اپنے راجا کے فراق میں کڑھتی ہے اور اس کے دماغ میں ترکیب آتی ہے۔ وہ سلطان کو خط بھجواتی ہے کہ وہ اس کے حرم میں آنے کو تیار ہے۔ سلطان رانی کی ہامی سن کر بہت خوش ہوتا ہے۔ رانی بظاہر قابل قبول شرائط پیش کرتی ہے کہ راجپوتوں کی روایت ہے کہ ان کی بیگمات کی پالکیاں راجپوت کہار ہی اٹھاتے ہیں۔ وہ بھاری بھرکم پالکیوں میں اپنے بہترین سپاہی سوار کرتی ہے اور کہاروں کی جگہ بہترین سپاہی ان پالکیوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔جونہی وہ سلطان کے خیموں میں پہنچتے ہیں، ہلہ بول دیتے ہیں اور رتن سین کو چھڑوا کر چتوڑ واپس لے آتے ہیں۔

پدمنی کا جوہر[ترمیم]

اس صریح اعلان جنگ کے بعد علاؤالدین خلجی چتوڑ قلعہ پر فیصلہ کن حملہ کرتا ہے۔تمام راجپوت مرد زعفرانی رنگ کی پگڑیاں پہن کر میدان میں آتے ہیں۔ علامتی طور پر اس خاص وردی کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی آخری جنگ لڑنے میدان میں آئے ہیں۔ سبھی راجپوت بے جگری سے لڑ کر کھیت ہوتے ہیں۔ رانی اپنے قلعے کی سبھی عورتوں کے ساتھ مل کر ایک بڑا سا الاؤ بھڑکاتی ہے۔ سبھی عورتیں سولہ سنگھار کر کے ایک بلند مقام پر اکٹھی ہو کر الاؤ میں کود جاتی ہیں۔ راجپوت اس رسم کو "جوہر" کہتے ہیں۔ پدمنی کے بعد روایتوں میں ہے کہ بعد میں چتوڑ گڑھ کا قلعہ آٹھ بار مفتوح ہوا اور آٹھوں بار راجپوت عورتوں نے سبھی مردوں کے مرنے کے ساتھ ہی فصیلوں کے اندر "جوہر" کی رسم دہرائی۔

قلعہ فتح ہونے کے بعد جب سلطان اندر داخل ہوا تو سوائے عورتوں کے جلے ہوئے جسموں کی سڑاند کے کچھ اس کے پاس نہیں تھا۔ یوں سلطان رانی کے لیے ہاتھ ملتا رہ گیا۔

نمونہ متون[ترمیم]

پدماوت جائسی کے بعد درجنوں قصہ نویسوں نے تحریر کی ہے اور قدرت بیان و قصہ خوانی کے جوہر دکھائے ہیں۔

ملک محمد جائسی[ترمیم]

رتن سین جوگیوں کے ساتھ گندھرب سین کے شہر میں گھس گیا ہے اور راجا کے ملازمین انہیں چوری کے الزام میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ گندھرب سین برہمنوں سے جوگیوں کی سزا کے بارے میں مشورہ کرتا ہے۔

बोलहु सुआ पियारे-नाहाँ। मोरे रूप कोइ जग माहाँ ?
सुमिरि रूप पदमावति केरा । हँसा सुआ, रानी मुख हेरा ॥
(नागमती-सुवा-संवाद-खंड)
بولہو سؤا پیارے نانہہ
مورے روپ کوئی جگ مانہہ
سمری روپ پدماوتی کیرا
ہنسا سؤا رانی سکھ ہیرا
صفحہ از:ناگ متی سؤا سنواد کھنڈ (باب مکالمہ ناگ متی و آئینہ)

راجیں سنا جوگ گڑھ چڑھے

پونچی پاس پنڈت جو پڑھے

جوگی گڈھ جو سیندھ دے آونہہ

کہہ جو سو سبد سدھ جس پاونہہ

کہن بید پڑھ پنڈت بیدی

جوگ بھنور جس حالت بھیدی

جیسے چور سیندھ سر میلنہہ

تس میں دوؤ جیو پر کھیلنہہ

پنتھ نہ چلنہہ بید جس لکھے

سرگ جائے سولی چڑھ سکھے

چور ہوئے سولی پرموکھو

دیئی جو سیولی تیہ ننہہ دوکھو

غلام علی عشرت[ترمیم]

مرزا لطف علی خاں کے شاگرد غلام علی عشرت کی منظوم پدماوت اسی منظر کو یوں بیان کرتی ہے؛[1]

خبر جس وقت یہ راجے نے پائی

غضب سے سن کے اس کو تپ چڑھ آئی

برہمن تھے کئی وہ جو مصاحب

تو یہ کہنے لگا ان سے کہ صاحب

کریں جوگی جو دزدی کا ارادہ

سزا ان تیرہ بختوں کی ہے پھر کیا

کہو اس کی جو کچھ ان کو سزا دوں

خیال دزدی کا ان کو مزا دوں

انہوں نے دیکھ دیکھ اپنی وہ تقویم

کیا یہ مسئلہ راجا کو تعلیم

گدا سے ہو جو ایسا کام اظہار

تو پھر اس کی سزا ہیگی سزاوار

سو ان کو لے کے سولی پر چڑھا دو

سوا اس کے انہیں مت کچھ سزا دو

غلام علی دکھنی[ترمیم]

شادی کے بعد جب راجا رتن سین پدمنی کو ساتھ لیے چتوڑ کو واپس روانہ ہوتا ہے تو راہ میں ان کا جہاز طوفان میں گھر کر پاش پاش ہو جاتا ہے اور یہ لوگ ایک راکشس کے نرغے میں پھنس جاتے ہیں؛

میں راکش توں انسان میرا خوراک

لے آیا ہوں یہاں تج کوں کرنے ہلاک

دیوانا ہے توں منج لب آئیا

مری بات سن سات توں آئیا

دیپک پتنگ عشرتی[ترمیم]

آغاز کی حمد:

الہی توں سر جیاز میں ہوں زماں

دیپایا سورج جوت سوں آسماں

فلک کوں بنایا توں گردش کے چال

سیہ تس میں لایا چندر کا ہلال

خاتمہ:

بھنور میں ہوں دیکھا سو وہ سبب نیں

سٹیا بھیگی خشک روٹی کتئیں

ضیاء الدین عبرت[ترمیم]

راجا رتن سین کا جوگی بن کر سنگل دیپ جانا اور توتے کی زبانی پدماوت کو پیغام دینا۔

رتن سین ایک راجا میں نے پایا

تری خاطر ہوں جوگی کر کے لایا

وہ شہزادہ ہے اب تیرا بھکاری

ترے بن زندگی ہے اس کو بھاری

وہ اپنی سی نہایت کر چکا ہے

تو کر آگے جو کچھ تیری رضا ہے

وہاں بیکس کی ناحق جان جاوے

یہاں ناحق تو ہتیاری کہاوے

جو توتے سے سنی حیرت کی گفتار

ہوئی وہ نازنیں اک نقش دیوار

جوانی کا جو عالم تھا پدم کا

سرایت کر گیا قصہ یہ غم کا

لیا دل کا وہیں تھام اس نے مینا

کہ راز عشق ہو جاوے نہ افشا

کہا توتے تری خاطر ہے منظور

مرے اس راز کو رکھیو تو مستور

صنم کے پوجنے کے دن ہیں نزدیک

کروں میں جا کے روشن جان تاریک

جو یوں جاؤں سمجھ اے نیک فرجام

کہ و مہتر میں ہ جاؤں گی بدنام[2]

نسخے[ترمیم]

پدماوت کے مطالعے کے دوران ہندوستان میں لکھے گئے متعدد نسخوں سے استناد کیا جا سکتا ہے؛

فارسی نسخے[ترمیم]

  • عبدالشکور بزمی، عہد جہانگیری (1618ء)
  • عاقل خاں رازی، مثنوی شمع و پروانہ (1658ء)
  • حسام الدین، مثنوی حسن و عشق (1660ء)
  • حسن غازانہ، مثنوی پدماوت
  • لچھمن رام، متوطن ابراہیم آباد "فرح بخش" ـ 1217ھ (نثری فارسی ترجمہ مثنوی شمع و پروانہ)
  • نواب ضیاء الدین احمد خان، خلاصہ 'فرح بخش'
  • حسین غزنوی، قصص پدماوت (عہد فرخ سیر)
  • رائے گوبند منشی، تحفۃ القلوب، نثری ترجمہ، 1652ء
  • سید محمد عشرتی، گلے ختمی، 1698ء
  • مثنوی بوستان سخن، قلمی۔ 1629ء
  • منشی آنند رام مخلص، ہنگامۂ عشق۔ 1152ھ
  • قصۂ پدمنی قلمی (مثنوی) مجہول المصنف، کتبخانۂ سلطان ٹیپو والئ میسور۔
  • قصۂ رتن و پدم، مجہول الصنف، کتاب خانۂ آصفیہ، حیدرآباد دکن

اردو نسخے[ترمیم]

  • مرزا عنایت علی بیگ لکھنوی، پدماوت بھاکا مترجم۔ مطبوعہ 1898ء کانپور۔
  • احمد علی رسا، پدماوت بھاکا مترجم۔ 1899ء کانپور
  • سالک رام، پدماوت یعنی ایک سچی داستان۔ لاہور 1898ء
  • پنڈت بھگوتی پرشاد پانڈے انوج، پدماوت بھاکا۔ لکھنؤ
  • میر عبدالجلیل بلگرامی۔
  • نوشیروان جی مہربان جی آرام۔ منظوم اردو ڈرامہ، بمبئی
  • محمد اکبر علی خاں افسوں شاہجہانپوری، محبت کی پتلی یعنی رانی پدماوتی۔ ابوالعلائی پریس آگرہ۔
  • بہاری لال بیدل، مثنوی پدم سماخ اردو۔ 1885ء بجنور
  • پنڈت سروپ چند دسوڑ کھیڑی، طابع شمبھو دیال دینا ناتھ، دریبہ کلاں دہلی، اواخر 1800ء
  • سی ایچ حکم چند، ہیرامن طوطا پدماوت ناز۔ مطبوعہ دہلی[3]

نزاع، تنقید، اختلاف[ترمیم]

یہ کہانی سب سے پہلے ملک محمد جائسی نے لکھی اور بے پناہ مقبول ہوئی اور راجپوتوں میں اس کو بے پناہ تقدس ملا۔ لیکن مؤرخین نے اس واقعے کی تاریخی حیثیت سے بہت اختلاف کیا ہے۔ سلطان علاؤ الدین خلجی سے اس واقعے کے تعلق پر ابتدائی مسلم مؤرخین خاموش ہیں، جبکہ معاصر مسلم مؤرخین اس کی صحت کو رد کرتے ہیں۔ علاؤ الدین کی معاصر تواریخ میں اس کا زکر کہیں نہیں ملتا۔ تاریخ محمدی اور تاریخ مبارک شاہی [4] میں پدمنی کا کوئی زکر نہیں ہے۔ ضیا الدین برنی نے بھی اپنی تواریخ میں اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔ خواجہ نظام الدین احمد نے طبقات اکبری [5]میں اور مولانا عصامی دہلوی [6]نے شاہنامہ موسوم بہ "فتوح السلاطین" میں چتوڑ کی فتح کا زکر تو کیا ہے لیکن پدمنی کے وجود کو اس کا سبب قرار نہیں دیا۔ امیر خسرو نے "خزائن الفتوح" میں چتوڑ کی فتح کو مفصل بیان کیا ہے لیکن وہ بھی اس واقعے کا زکر جائسی کی طرح نہیں کرتے۔ [7] خسرو فتح چتوڑ کے عینی شاہد تھے لیکن ان کے ہاں پدمنی کا کہیں زکر نہیں۔ اگر جنگ کی تہہ میں واقعی پدمنی کی کشش کارفرما ہوتی تو امیر خسرو جیسا بے ریا شاعر اسے ضرور بیان کرتا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ اس واقعے کے بیان کرنے میں سلطان کی توہین اور خفت تھی اس لیے ہم عصر مؤرخین نے اسے خلاف مصلحت قرار دے کر بیان ہی نہ کیا۔ لیکن "تاریخ فیروز شاہی" عہد علاؤ الدین خلجی کے بہت عرصہ بعد فیروز شاہ تغلق کے زمانے میں لکھی گئی۔ اس میں علاؤ الدین خلجی کے جملہ نقائص اور عیوب پوست کندہ بیان کر دیے گئے ہیں۔ اگر پدمنی والا واقعہ سچ ہوتا تو اسے صاف صاف لکھ دینے میں تاریخ فیروز شاہی کے مصنف کو کا تامل ہو سکتا تھا۔ چنانچہ تاریخی ناقدین اس قصے کو رد کرتے ہیں۔ اور مزید برآں درج زیل دلائل پیش کیے جاتے ہیں؛ ٭ جائسی کا بیان ہے کہ علاؤ الدین خلجی اور رتن سین میں متواتر آٹھ سال جنگ ہوتی رہی۔ اس کے برعکس خزائن الفتوح اور تاریخ فیروز شاہی متفق ہیں کہ علاؤ الدین خلجی نے چتوڑ کو ایک ہی حملے میں فتح کر لیا۔ ٭ جائسی نے رتن سین کو چوہان بتایا ہے جبکہ علاؤ الدین خلجی کے زمانے میں چتوڑ میں ششودھیا خاندان کی حکومت تھی۔ ٭ اس زمانے میں لنکا کا راجا پراکرمابھو چہارم تھا، لیکن جائسی نے لنکا کے معاصر بادشاہ کا نام گورودھن بتایا ہے۔ (تاریخ سلاطین خلجی، ص 139) ٭ کھمان راسا کی لوک روایت میں علاء الدین خلجی کے ہم عصر چتوڑ کے راجا کا نام رتن سین نہیں، بلکہ "لکھم سی" اور اس کے چچا کا نام "بھیم سی" آیا ہے۔ [8]

ممکنہ مآخذ[ترمیم]

واقعے کے حقیقی ہونے پر شبہ ہونے کے ساتھ ساتھ بعض اصحاب نے اس کہانی کو ماخوذ بھی قرار دیا ہے۔ جیمز ٹوڈ کے بقول یہ کہانی راجپوتوں کی قومی گاتھا "کھمان راسو" سے اخذ کی گئی ہو سکتی ہے۔ [9]

تاریخی اثبات[ترمیم]

ہندوستان میں تاریخ کی نہایت اہم کتاب "تاریخ فرشتہ" میں ملک محمد جائسی کے بتائے ہوئے واقعات کی تائید بھی ہوتی ہے۔ تاریخ فرشتہ کا اقتباس ملاحظہ ہو:

"در خلال ایں احوال راجہ رتن سین راجۂ قلعۂ چتوڑ کہ تا آں وقت در حبس بود، بروش غیر مقرر، نجات یافت و شرح آں چنیں است کہ پس از مدتے کہ راجہ در قید بود، بسمع پادشاہ رسانیدند، کہ درمیان زنان راجہ چتوڑ زنے ست پدمنی نام، سہی قد، سیہ چشم، ماہ سیما و بجمیع صفات محبوبی متصف۔ پادشاہ بہ وے پیغام داد کہ خلاصئ تو منحصر دو احضار آں جمیلہ است۔ رائے قبول نمودہ کساں بطلب اہل و عیال خود، کہ بہ کوہستانات محکم پناہ بردہ بودند۔ فرستاد تا ازاں میاں مقصود بادشاہ را حاصل نماید۔ اما راجپوتان خویش راجہ ازاں پیغام دلگیر گشتہ، سرزنش بسیار کردند۔ دختر رائے کہ بہ فہم و عقل مشہور خویش و قبیلہ خود بود، گفت؛ تدبیرے بخاطرم رسیدہ، کہ ہم پدر زندہ ماند و ہم بے ناموسی نرسد۔ و آں اینست کہ پالکی بسیار پر از مردمان کار، با جماعتے از پیادہ و سوار روانۂ دہلی کنید و آوازہ افگنید کہ حسب الحکم پادشاہ زنان راجہ متوجہ حضورند و چوں بحوالئ شہر رسند، وقت شب بہ معمورہ درآمدہ راہ حبس خانہ راجہ را پیش گیرند و بعد ازاں کہ نزدیک آں رسند، جملہ راجپوتاں تیغ ہا علم کردہ بدرون وثاق در آیند، و سر کشانے کہ قدم ممانعت پیش گزارند، جدا کردہ پدرم بر اسپ دار رفتار سوار سازند و برق ساں راہ ملک خود پیش گیرند۔ راہل رائے آں رائے را پسندیدہ بداں عمل نمودند، و جماعتے از فدائیان در پالکی ہا نشستہ روانۂ دہلی شدند۔ وقتیکہ پاسے از شب گزشتہ بود، بہ شہر درآمدند و آوازہ انداختند کہ پدمنی را با سائر متعلقان رائے آوردیم۔ چوں بوثاق نزدیک شدند، یک بار راجپوتاں شمشیر ہا کشیدہ از پالکی ہا بیروں آمد دویدند، و بہ قتل محافظاں اقدام نمودہ زنجیر رائے بشکستند و او را سوار کردہ۔ ہم چو مرغے کہ از قفس بہ جہد از شہر بیروں شدند و بہ جماعتے از راجپوتان کہ موجود بودند، پیوستہ راہ ولایت خود پیش گرفتند۔ در اثنائے راہ سواران پادشاہ کہ تعاقب کردہ بودند، در چند موضع بایشان رسیدہ تلاشہا کردند و جمعے کثیر از راجپوتان بقتل آوردند۔ لیکن رائے بہر عنوان کہ توانست، افتاں و خیزاں بہ مشقت بسیار خود را بہ کوہستانے کہ اہل و عیال او درانجا بودند، رسانید و بیمن دولت تدبیر دختر خوب سیرت از چنگ عقوبت پادشاہ نجات یافتہ" [10]

جزوی اثبات[ترمیم]

پدماوت کی کہانی کی کلی تردید اور کلی تائید کے ساتھ ساتھ بہت سے محققین نے اس کہانی سے جزو طور پر بھی اتفاق کیا ہے۔ محمد احتشام الدین دہلوی کا خیال ہے کہ اس کہانی میں بیان کردہ واقعات کو سچ تسلیم کر لیا جائے تو کچھ تاریخی وجوہ کی بنا پر اس واقعے کو سلطان غیاث الدین خلجی سے مانا جا سکتا ہے جو علاء الدین خلجی کے دو سو برس بعد مالوہ کا تاجدار ہو گزرا ہے۔ اس کی حدود سلطنت چتوڑ سے باہم ملی ہوئی تھیں اور ان میں باہم لڑائیاں بڑے تواتر کے ساتھ تاریخ میں ملتی ہیں۔[11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ پدماوت منظوم از ضیاء الدین عبرت و غلام علی عشرت۔ مرتبہ: ڈاکٹر گوہر نوشاہی۔ مجلس ترقی ادب لاہور
  2. ^ مثنوی شمع و پروانہ
  3. ^ گوپی چند نارنگ، مثنویات پدماوت
  4. ^ (تاریخ مبارک شاہی، یحیی بن احمد بن عبداللہ ایسہرندی۔ مرتبہ محمد ہدایت حسین۔ کلکتہ 1931ء)
  5. ^ طبقات اکبری، خواجہ نظام الدین احمد، مرتبہ بی۔ ڈے، جلد اول۔ کلکتہ 1927ء
  6. ^ فتوح السلاطین، مولانا عصامی، مرتبہ ڈاکٹر مہدی حسین، 1938ء آگرہ
  7. ^ خزائن الفتوح۔ امیر خسرو، مرتبہ محمد حبیب (انگریزی)
  8. ^ افسانۂ پدمنی، محمد احتشام الدین دہلوی۔ ص 146
  9. ^ James Tod, ‘Annal and Antiquities of Rajisthan. جلد اول، مطبوعہ 1914
  10. ^ تاریخ فرشتہ (جلد اول) مطبوعہ نولکشور لکھنؤ۔ 1873ء
  11. ^ افسانۂ پدمنی، محمد احتشام الدین دہلوی۔ ص 146