پرتھوی راج چوہان
دہلی اور اجمیر کا آخری ہندو راجا جو رائے پتھورا کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اس کی بہادری کے کارنامے شمالی ہندوستان میں مشہور ہیں۔ اس نے اپنے ہمسایہ راجپوت حکمرانوں کے ساتھ کئی جنگیں لڑیں۔ جے چند والیء قنوج کی لڑکی سنجوگتااور پرتھوی راج چوہان آپش میں بے حد محبت کرتے تھے، اس وچہ سے پرتھوی نے سنجوگتا کو سوءمبر سے اٹھا کر اس کے ساتھ شادی کرلیا۔ اس پر اس کی جے چند سے دشمنی ہوگئی تھی۔ 1191ء میں اس نے محمد غوری کو ترائن (تراوڑی) کے میدان میں شکست دی۔ لیکن 1192ء میں سلطان محمد غوری نے اُسے شکست دے کر اپنے ساتھ غور لے گیا-پرتہوینے اپنے دوست سے استدعا کی کہ دشمین کے ہاتھوں سے مرنے سے بہتر ہوگا کہ وہ اپنے دوست کے ہاتھوں مرے۔ اس کی درباری شاعر چاند بروئی نے اس کی زندگی کے حالات ایک کتاب چاند رہسہ میں لکھے ہیں۔
یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
ترچھا متن