پرل ہاربر حملہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایک جاپانی ہوائی جہاز سے لی گئی حملے کی تصویر

پرل ہاربر حملہ (انگریزی: Pearl Harbor attack، دیگر نام: ہوائی آپریشن یا آپریشن زی) 7 دسمبر 1941ء کو جاپانی شاہی بحریہ کے پہلے ہوائی بیڑے کی جانب سے امریکہ کے جزائر ہوائی میں پرل ہاربر کے بحری اڈے پر پر اچانک کیا گیا حملہ تھا جس کا مقصد دوسری جنگ عظیم کے دوران بحر الکاہل میں امریکی فوج اور بحریہ کے بیڑے کو بدستور غیر جانبدار رکھنا تھا۔ پرل ہاربر، ریاست ہوائی کے جزیرے اواہو پر حملے کی زد میں آنے والی عسکری و بحری تنصیبات میں سے ایک تھی۔

اس حملے میں جاپان کے 6 طیارہ بردار بحری جہازوں سے اڑنے والے 353 ہوائی جہازوں نے حصہ لیا۔ حملے کے نتیجے امریکہ کے 8 بحری جہاز تباہ ہوئے اور 9 کو شدید نقصان پہنچا۔ 188 طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 2403 امریکی فوجی اور 68 شہری ہلاک ہوئے۔ البتہ بحر الکاہل کےلیے امریکی بحری بیڑے کے تین طیارہ بردار جہاز اس وقت بندرگاہ پر موجود نہ تھے اس لیے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا۔

حالانکہ ابتداءً اسے جاپان کی ایک زبردست فتح سمجھا جا رہا تھا لیکن طویل المیعاد طور پر حکمت عملی کے اعتبار سے یہ حملہ جاپان کی ایک فاش غلطی ثابت ہوا کیونکہ اس سے امریکہ کو جنگ عظیم دوئم میں کودنے کا موقع ملا اور یوں جنگ کا پانسہ اتحادیوں کے حق میں پلٹ گیا۔ یہ معرکہ تاریخ کو بدلنے والے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ، جو اس وقت ایک ابھرتی ہوئی عسکری و اقتصادی قوت تھا، نے بڑی تعداد میں فوجی اور اسلحہ اور رسد اتحادیوں کو بھیجی تاکہ محوری طاقتوں، جرمنی، اطالیہ اور جاپان، کا مقابلہ کیا جا سکے جنہیں بالآخر 1945ء میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے کے نتیجے میں نازی جرمنی کو 4 روز بعد امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کرنا پڑا۔

جنگ عظیم دوئم میں اتحادیوں کی فتح اور امریکہ کا ایک غالب عالمی قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آنا موجودہ بین الاقوامی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنے کا باعث بنا۔

نگار خانہ[ترمیم]