پرواز کا وقت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کمیتی طیف پیمائی میں پرواز کا وقت (time-of-flight) سے مراد ذرات (آئونات (ions)) کو جدا یا علیحدہ کرنے والے کسی آلے (طیف پیما (spectrometer)) کی اس خاصیت یا طریقے کی ہوتی ہے کہ جس کی زریعے وہ طیف پیمائی کرتا ہے۔ مزید وضاحت کی خاطر یوں کہا جاسکتا ہے کہ ایک آئون (مثبت یا منفی) کو کوئی فاصلہ ایک مخصوص مقام سے مخصوص مقام (جیسے ایک مقررہ طوالت کی نلی) تک عبور کرنے کیلیۓ جو وقت (کمیت اور برقی بار پر منحصر) درکار ہوتا ہے اسے پرواز کا وقت کہا جاتا ہے۔ اسکا اختصار اوائل الکلمات (acronym) کی مناسبت سے انگریزی میں TOF کیا جاتا ہے۔

بنیادی نظریہ[ترمیم]

طبیعیات کے اصول کے مطابق کسی بھی برقی میدان میں ایک باردار ذرے کی جہدی توانائی (potential energy) اس ذرے کے برقی بار اور برقی میدان کی طاقت (وولٹج) کے حاصل ضرب کے برابر ہوتی ہے۔

[1] .............. E_{p} = qU\,

یہاں Ep سے مراد ذرے کی مخفی یا جہدیہ توانائی ہے۔ جبکہ q برقی بار کو اور U برقی میدان میں جہدی فرق (potential difference) کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مساوات سے یہ بات ظاہر ہے کہ ایک ذرے پر جس قدر برقی بار ہوگا اسی قدر اسکی جہدی توانائی ہوگی اور جس قدر ایک برقی میدان میں جہدی فرق ہوگا اسی قدر اضافہ وہ ذرے کی جہدی توانائی میں پیدا کرے گا، یعنی سادہ سے الفاظ میں اسکو یوں کہ لیں کہ کسی بھی ذرے کی جہدی توانائی اس ذرے کے برقی بار اور برقی میدان کے براہ راست متناسب ہوتی ہے۔

اس جہدی توانائی کا تعلق پرواز کے وقت سے یہ ہوتا ہے کہ طبیعیات کے قواعد کی رو سے جب کوئی جسم حرکت کرتا ہے تو اسکی جہدی توانائی اسکی حرکی توانائی (kinetic energy) میں تبدیل ہو جاتی ہے، لہذا جس قدر زیادہ کسی ذرے یا جسم کی جہدی توانائی ہوگی اسی قدر اسراع اسکی حرکت میں متوقع ہوگا۔ جب کسی پرواز کے وقت کی نلی (tube) میں کوئی باردار ذرہ اسراع پذیر ہوتا ہے تو اسی جہدی توانائی ، حرکی توانائی میں تبدیل ہوتی ہے اور وہ ذرہ نلی میں حرکت کرتا ہے۔ حرکی توانائی کو درج ذیل مساوات سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

[2] .............. E_{k} = \frac{1}{2}mv^{2}

یہاں m اس ذرے کی کمیت کو اور  v^{2} اسکی سمتار (velocity) کو ظاہر کرتا ہے۔ چونکہ کسی ذرے کی جہدی توانائی ہی حرکی توانائی بنتی ہے اس لیۓ مندرجہ بالا مساوات عدد 1 اور عدد 2 سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں مساواتیں برابر تسلیم کی جاسکتی ہیں ، یعنی

[3] .............. E_{p} = E_{k}\,

اور اسی طرح ان مساواتوں کی قیمتیں رکھ کر یوں بھی لکھا جاسکتا ہے کہ

[4] .............. qU = \frac{1}{2}mv^{2}\,

جب ایک بار ، ذرے کو مسرع کر کہ حرکت میں لے آیا جاتا ہے تو پھر اسکے بعد نلی کے اندر سفر کے دوران اس ذرے کی سمتار تبدیل نہیں ہوتی کیونکہ نلی برقی میدان سے پاک پرواز کے وقت کی خاصیت رکھتی ہے۔ اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ اس حرکت پذیر ذرے کی سمتار معلوم کی جاسکتی ہے جو کہ ایک مقررہ وقت میں اسکے طے کردہ مقررہ فاصلے کی مدد سے نکلتی ہے۔ یعنی اسکی سمتار اس پرواز کے وقت کی نلی کی طوالت (یعنی طے کردہ فاصلے d) سے براہ راست اور اس دوران صرف ہونے والے وقت (t) سے بالعکس متناسب ہوگی، جسے درج ذیل مساوات میں ظاہر کیا گیا ہے۔

[5] .............. v = \frac{d}{t}\,

مساوات 5 سے حاصل شدہ v کی قیمت کو مساوات 4 میں مبادلہ کرنے پر

[6] .............. qU = \frac{1}{2}m\left(\frac{d}{t}\right)^{2}\,

اب اس مساوات 6 میں سے ہم باآسانی --- پرواز کا وقت --- کی قیمت نکال سکتے ہیں

[7] .............. t^{2} = \frac{d^{2}}{2U} \frac{m}{q}\,

بالائی مساوات میں پرواز کا وقت سے اسکا جذر ہٹایا جاۓ تو مساوات درج ذیل نسبتا سادہ صورت میں گروہ بند ہوجاتی ہے۔

[8] .............. t = \frac{d}{\sqrt{2U}} \sqrt{\frac{m}{q}}\,

مندرجہ بالا مساوات 8 میں ہم نے وہ عوامل حاصل کر لیۓ ہیں کہ جو --- پرواز کا وقت --- پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اب غور کیا جاۓ تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بائیں جانب کا گروہ \frac{d}{\sqrt{2U}} اصل میں ایک ایسا گروہ ہے کہ جس کے اجزاء یا عوامل مستقل رہتے ہیں کیونکہ فاصلہ d اور وولٹج U دونوں ہی ایسی مقداریں ہیں جو کہ کسی بھی ایک ذرات کے گروہ پر تجربے کے دوران انکے لیۓ مستقل رہیں گی۔ لہذا مساوات میں انکے لیۓ ایک مستقل علامت k اختیار کی جاسکتی ہے۔

[9] .............. t = k \sqrt{\frac{m}{q}}\,

اس حاصل ہونے والی مساوات 9 میں k کو ایک تناسبی مستقل (proportionality constant) کہا جاتا ہے جو کہ استعمال کیۓ جانے والے آلے کی وضع میں استعمال ہونے والے عوامل کو ظاہر کرتا ہے۔ مندرجہ بالا مساوات سے ہی ہمارے پاس پرواز کے وقت کی قیمت نکل آتی ہے، جو کہ اس مساوات کی رو سے تجربہ کیۓ جانے والے ذرے کے کمیت-بار تناسب (mass-to-charge ratio) کے جذر کے برابر ہوگی۔