پروفیسر غفور احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پروفیسر غفور احمد


پروفیسر عبدالغفور احمد (پدائش: 26 جون 1927ء-وفات:26 دسمبر 2012ء) ممتاز دانشور، سیاستدان اور نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان تھے۔


ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

26 جون1927ء کوبریلی یوپی انڈیا میں پیدا ہوئے۔ 1948ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے کامرس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انڈسٹریل اکاؤنٹس کا کورس مکمل کیا اور انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینیجمنٹ اکاؤنٹس کے فیلو ہوگئے۔

درس و تدریس[ترمیم]

تجارتی اداروں میں کام کرنے کے علاوہ آپ نے متعدد تعلیمی اداروں میں بھی پڑھایا۔ ان میں انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹس پاکستان،انسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل اکاؤنٹس اور اردو کالج کراچی شامل ہیں۔ تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں میں دلچسپی اور شغف کی بنا پرآپ کئی برس تک سندھ یونیورسٹی ، کراچی یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی بورڈ فار کامرس کے نصاب سے منسلک رہے۔

جماعت اسلامی[ترمیم]

پروفیسرغفوراحمد1950 ء میں23 برس کی عمر میں جماعت اسلامی کے رکن بنے۔ آپ کئی برس تک کراچی جماعت کے امیر رہےاوراب مدت دراز سے مرکزی نائب امیر جماعت کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

عملی سیاست[ترمیم]

شروع ہی سے سیاست میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ 1958 ء میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے ممبر منتخب ہوئے۔ بعد میں 1970 ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1977ء میں وہ دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئےاور جماعت اسلامی کی پارلیمانی پارٹی کے قائد بھی بنائے گئے۔آپ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ آپ قومی اتحاد کی اس مذاکرتی ٹیم میں شامل تھے کہ جس نے ذوالفقارعلی بھٹو سے مارشل لا کے نفاذ سے پہلے فیصلہ کن مذاکرات کیے۔

1978 ء سے لے کر1979ء تک آپ محض پاکستان قومی اتحاد کی قیادت میں وفاقی وزیر صنعت رہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنی اس دور وزارت کو اپنی زندگی کا تاریک باب قرار دیا ہے۔ بعد ازاں 1988 ء سے لے کر1992 ء تک اسلامی جمہوری محاذ کے سیکرٹری جنرل کے طور پرکام کیا۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں وہ متعدد بار گرفتار ہوئے۔ گرفتاری کا طویل ترین دورانیہ نومہینے کا وہ عرصہ ہے جب جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دیاگیا تھا اور پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے بحال کیا تھا۔ پروفیسر غفوراحمد پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جوپاکستانی سیاست سے متعلق ہیں۔

26 دسمبر 2012ء کو کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔



وفات