پرومیتھیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پرومیتھیس سزا کے دوران

پرومیتھیس (Prometheus) یونانی دیو مالا کا ایک کردار ہے۔ وہ ایک دیوتا تھا اور اسے انسانوں کے ساتھ ہمدردی کے جرم میں سزا دی گئی۔

کہانی کے مطابق سب سے بڑا دیوتا زیوس انسانوں کی بری حرکتوں کی وجہ سے نسل انسانی کو سردی سے ختم کر دینا چاہتا تھا، پرومتھیس کو جب اس بات کی خبر ہوئي تو اس نے انسانوں کو سردی سے بچانے کے لیۓ آگ جلانے کا فن سکھایا اور یوں انسان بچ گیا۔ زیوس کو جب اس پورے واقع کی خبر ہوئی تو اسنے سزا کے طور پر پرومیتھیس کو ایک چٹان سے بندھوا دیا اور اس پر ایک گدھ چھوڑ دیا جو اسکے جگر کو کھا جاتا ہے۔ اگلے دن پرومیتھیس پھر ٹھیک ہو جاتاہے اور گدھ پھر اسکے جگر کو کھاتا ہے۔ پرومتھیس اپنے کئے پر پچھتایا نہیں۔ انسانوں نے بھی اسکی اس قربانی کو یاد رکھا۔

پرومیتھیس ظلم اور جبر کے سامنے جرات بہادری اور تخلیق کی علامت ہے۔

  • پرومتھیس کی اس کہانی پر 2300 سال پہلے یونانی ڈرامہ نگار ایسچلس نے ایک شاہکار ڈرامہ لکھا۔
  • یونانی فلسفی افلاطون نے بھی پرومتھیس کا بھی اپنی کتابوں میں ذکر کیا۔
  • 19 ویں صدی میں جرمن فلسفی اور صحافی کارل مارکس نے اپنے اخبار رہائینش زایتنگ کہ پہلے صفحے پر اسکی تصویر رکھی۔
  • سبط حسن نے اپنی کتاب موسی سے مارکس تک کے پہلے صفحے پر پرومتھیس کی تصویر لگائی۔
  • علم کیمیا میں عنصر نمبر 61 پرومیتھیم ہے۔ جو پرومیتھیس کے نام پر ہے۔