پرویز مشرف
وکیپیڈیا سے
جنرل (ر) پرویز مشرف (ولادت: 11 اگست 1943ء، دہلی) پاکستان کے سابق صدر ہیں۔ مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو بطور رئیس عسکریہ ملک میں فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو معزول کر دیا اور پھر 20 جون 2001ء کو ایک صدارتی استصوابِ رائے کے ذریعے صدر کا عہدہ اختیار کیا۔ جس سے قبل آپ ملک کے چیف ایگزیکٹو (chief executive) کہلاتے تھے۔ مشرف نے 18 اگست 2008ء کو اپنے نے قوم سے خطاب کے دوران اپنے استعفی کا اعلان کیا۔ انہوں نے متواتر آئین کی کئی خلاف ورزیاں کیں اور علی الاعلان اس کو مانا۔
فہرست |
[ترمیم] خاندانی پسِ منظر
جنرل پرویز مشرف کے والدین ایک سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی والدہ زہرہ مشرف انگریزی میں گریجوایٹ ہیں۔ انہوں نے ایک بین الاقو امی تنظیم "انٹرنیشنل لیبر آرگنائیزیشن" کے لیے کام کیا اور 1968 میں رٹائر ہوئیں۔ جنرل پرویز مشرف کے والد سید مشرف الدین وزارت خارجہ میں سیکشن آفیسر تھے۔ انہوں نے کئی سال انقرہ، ترکی میں پاکستانی سفارتخانے کے لیے کام کیا۔ 1977ء میں جب پرویز مشرف کے والد جکارتہ میں تعینات تھے تو انہیں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بدعنوانی کی وجہ سے معطل کر دیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنا لڑکپن اور جوانی کا کچھ حصہ ترکی میں گزارا ہے اور وہ بڑی روانی سے ترکی زبان بول سکتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے فوراََ بعد ہونے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کی مصطفٰی کمال اتا ترک ان کے آئیڈیل ہیں۔
[ترمیم] تعلیم
جنرل پرویز مشرف نے ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس ہائی سکول، کراچی سے حاصل کی اور پھر فارمین کرسچین کالج، لاہور سے 1958 میں گریجوایشن کی۔ (ایف سی کالج)
[ترمیم] فوجی تربیت
1961 میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شامل ہوئے اور وہاں فوجی تربیت حاصل کی۔ یہ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس کالج راولپنڈی میں بھی زیر تربیت رہے۔
[ترمیم] فوجی دور
جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ ہونے والی دونوں جنگوں یعنی ستمبر 1965 اور 1971 میں حصہ لیا اور کئی فوجی اعزازات حاصل کیے۔ پرویز مشرف کے سنیر آفیسر اور استاد جرنل ھمید گل کا کہنا ہے کہ مشرف ان دنوں جنگوں میں سے کسی میں شریک نہیں ہوئے۔
[ترمیم] سیاسی دور
جب 12 اکتوبر 1999 میں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیا الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا تو اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک سے باہر ایک سرکاری دور پر گیے ہوئے تھے اور ملک واپس آنے کے لیے ایک کمرشل طیارے پر سوار تھے۔ تب فوج کے اعلی افسران نے ان کی برطرفی کو مسترد کر دیا اور جنرل پرویز مشرف نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دوستور کی اور فوج کے ساتھ اپنے حلف کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ان کو معزول کر دیا اور طیارہ سازش کیس تیار کیا گیا۔۔ اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تین سالوں میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ پلان پہلے سے ہی بنا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ مشرف کو معطل کیا جا رہا تھا۔
[ترمیم] امریکی جنگ میں شمولیت
9 ستمبر 2001 میں امریکی ٹریڈ ٹاور حملوں کے بعد 13 ستمبر 2001 کو پاکستان میں امریکی سفیر ونڈی چیمبر لین کے ذریعے پرویز مشرف کے سامنے واشنگٹن نے سات مطالبات رکھے جنہیں پرویز مشرف نے فوری طور پر تسلیم کر لیا اور یوں امریکی جنگ میں پاکستان باقاعدہ طور پر شامل ہوگیا۔ راتوں رات تین دہائیوں پر مشتمل افغان بالیسی تبدیل کردی گئی۔
[ترمیم] پاکستانی شہریوں کی امریکہ کو فروخت
اس جنگ کے دوران پرویز مشرف نے امریکی ہدایات پر 689 افراد کو گرفتار کیا جن میں سے 369 افراد بشمول خواتین کو امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ جنرل مشرف اپنی یاداشت پر مبنی کتابIn The Line Of Fire میں اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے ان افراد کے عوض امریکہ سے کئی ملین ڈالرز کا انعام وصول کئے۔ یہ جملہ انہوں نے بعد ازاں اردو ترجمہ سے حذف کردیا۔ وہ MANHUNT نامی مضمون میں لکھتے ہیں۔
| ” |
We have captured 689 and handed over 369 to the United States. We have earned bounties totaling millions of dollars . Page No. 237 |
“ |
پرویز مشرف کے گرفتار اور امریکی کے حوالے کئے جانے والے افراد میں اکثریت ان عام افراد کی تھی جو افغانستان میں تعلیمی و فلاحی یا نجی کاموں سے گئے تھے جن کو امریکہ نے گوانتا ناموبے میں کئی برس تک بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بالآخر رہا کردیا۔
[ترمیم] ریفرینڈم 2002
20 مئی 2000 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا کہ وہ اکتوبر 2002 تک جنرل الیکشن کروائیں۔ اپنے اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی غرض سے انہوں نے 30 اپریل 2002 میں ایک صدارتی ریفرینڈم کروایا۔ جس کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ البتہ اس ریفرینڈم کو سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے مسترد کر دیا اور اسکا بائیکاٹ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے بہت سے عہدیداروں کو بھی ہٹایا جن میں سپریم کورٹ کےجج حضرات اور بلوچستان پوسٹ کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔
[ترمیم] اکتوبر 2002 عام انتخابات
اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ق نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یاد رہے کہ یہ جماعت اور جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست حامی ہیں۔ دسمبر 2003 میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے۔ لیکن وہ پوری قوم کے سامنے کئے گئے اپنے اس وعدے سے پھر گئے۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں سترھویں ترمیم منظور کر والی جس کی روح سے انہیں با وردی پاکستان کے صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔
[ترمیم] ستمبر 2007 نواز شريف كي واپسی
10 ستمبر 2007 كو جلاوطن مسلم ليگی رہنما مياں محمد نواز شريف سعودی عرب پاکستان آئے- مشرف حکومت نے ان کے کتنی ہی دیر جہاز ميں روکے رکھا اور مبینہ طور پر دھوکے سے ایک دفعہ پھر جلا وطن کر کے سعودی عرب بھیج دیا ـ سیاسی پرٹوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ـیورپین یونین نے بھی نواز شریف کے دفاع کے حق کے متعلق بیان دیاـ
[ترمیم] دوسرا فوجی تاخت
- تفصیلی مضمون فوجی تاخت 2007ء
3 نومبر 2007ء کو جناب نے رئیس عسکریہ کی حیثیت سے دوسرا فوجی تاخت انجام دیا، جس کا مقصد اعلی عدالت کے ریاستی ادارے کی آزادی ختم کرنا تھا۔ نو سال بعد مشرف فوج کے سربراہ کے عہدے سے 28 نومبر 2007ء کو سبکدوش ہو گئے۔ 29 نومبر 2007ء کو پانچ سال کے نئے دور کے لیے صدر کا حلف اُٹھایا، جو عوامی اور سیاسی حلقوں میں متنازعہ ہے۔[1]
[ترمیم] چند مزید متنا زع اقدامات
- پتنگ بازی اور مخلوط میراتھن ریس
- حدود آرڈینیس میں ترمیم
- جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر فوجی آپریشن
- بدنام زمانہ قومی مفاہمتی آرڈینینس المعروف این آر او
- بلوچستان آپریشن، اکبر بگٹی کا قتل
- ڈاکڑ عبد القدیر خان کی بے توقیری اور طویل نظر بندی
- ڈاکڑ عافیہ صدیقی کا اغوا اور آمریکہ کو حوالگی
- 12 مئی کو کراچی میں قتل عام کو پوشیدہ پشت پناہی
- اسرائیل سے درپردہ روابط
- اعتماد سازی کے نام پر بھارت سے دوستی اور ثقافتی روابط
[ترمیم] صدارت سے استعفیٰ
پرویز مشرف نے 18 اگست، 2008 کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا۔ اُن کی جگہ آئین کے تحت سینٹ کے چیئر مین میاں محمد سومرو نے قائم مقام صدر عہدہ سنمبھال لیا ہے جبکہ پارلیمنٹ کو ایک مہینے کے اندر اندر نئے صدر کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بحیثیت صدر پرویز مشرف نے اپنی خود نوشت انگریزی میں بنام ان دی لائین آف فائر (انگریزی: In the Line of Fire) تحریر کی جس کو اردو میں سب سے پہلے پاکستان کے نام شائع کیا گیا۔
[ترمیم] ذاتی زندگی
ذاتی زندگی میں مشرف ایک شراب نوش اور کتے پالنے والے کے طور پر مشہور ہیں۔ انہیں موسیقی اور ناچ گانے سے بھی لگاؤ ہے۔ صدر ہونے کے باوجود وہ ایک تقریب میں ناچنے سے باز نہ آئے۔ صدارت سے علیحدگی کے بعد لندن میں وہ مختلف کلبوں میں جاتے ہیں جہاں شراب نوشی کے علاوہ گانے بھی گاتے ہیں۔ ان کی بیوی صہبا مشرف بھی مختلف تقریبات میں پیتے ہوئے نظر آئیں ہیں۔ [حوالہ درکار]
- مشرف کی تصویر شراب پیتے ہوئے
- مشرف کی بیوی صہبا مشرف بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ شراب پیتے ہوئے ۔تصویر
[ترمیم] بیرونی روابط
[ترمیم] مدونات
- کامران شافی، "What don’t we know?"
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ روزنامہ نیشن، 30 نومبر 2007ء، "Lawyers beaten black and blue "
|
|||||||