پروٹوسیمیٹک
وکیپیڈیا سے
ابجدموجودہ دور میں رائج زبانوں کی بنیاد ہے، یہ ابجد کس طرح بن گئے اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ قدرت نے انسان کو پیدا کرتے وقت ابجد کا سرمایا بھی ساتھ ہی عطا فرمایاچنانچہ ہر ننھے بچے کی زبان سے خواہ کسی ملک کا بھی ہو آں، اوں، با، تا، دا، شاں، شوں، غاں، غوں، فاں، فوں، ماں، ناں، وا وغیرہ کی آوازیں خود بخود نکلتی ہیںاور انسان نے انہیں آوازوں سے ابجد کی بنیاد ڈالی۔ ابجد کے حروف انہیں آوازوں سے وضع کیے گئے: ا ب ج د ہ و ز ح ط ی ک ل م ن س ع ف ص ق ر ش ت اس کے بعدان آوازوں سے جو انسان کے لب و حلق سے نکلتی ہیں، دوسرے حروف بھی متعین کرلی گئیںمثلاً ث خ ذ ض ظ غ پ ٹ چ ڈ ڑژ گ آ ں ءوغیرہ اگرچہ حروف تہجی کی تعداد مختلف زبانوں میں مختلف ہے مگر اُن سب کا ماخذ ایک ہی ہے، تعداد میں فرق ہونے کا سبب یہ ہے کہ بعض قوموں نے آواز کے باریک پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے زیادہ حروف بنالئے اور بعض نے موٹے پہلو کے اعتبار سے کم حروف وضع کئے۔آثارِ قدیمہ اور لسانیات کے ماہرین کے مطابق وہ پہلی زبان جس نے اولین ابجدی حروف وضع کئے پروٹو سیمیٹک ہے ۔
[ترمیم] پروٹو سیمیٹک
پروٹو سیمیٹک ProtoSemitic جسے آثارِقدیمہ کے اکثر ماہرین پروٹو سینائیProtoSinaitic اور پروٹوکنعانی ProtoCanaanite زبان بھی کہتے ہیں، حقیقتاً تمام ابجدزبانوں کی ماں ہے یعنی آج ہم جو بھی حروف پڑھتے ہیںچاہے وہ ا ب پ ت ٹ ہوں یاABCD وغیرہ یہ تمام حروف اسی زبان سے اخذ کئے گئے ہیں۔آثار قدیمہ نے اس زبان کے زیادہ تر آثار مغربی ایشیا اور افریقہ کے درمیانی علاقوں سے دریافت کئے ۔
[ترمیم] حروف تہجی
پروٹو سیمیٹک زبان میں حروف تہجی کی تعداد 22ہوتی تھی یعنی اب ت ج ح د ر ز س ش ص ط ع ف ق ک ل م ن و ہ ی اور باقی حروف مثلاً ث خ ذ ض ظ غ پ ٹ چ ڈ ڑژ گ جیسے الفاظ اس میںشامل نہ تھے۔یہ زبان اردو ہی کی طرح دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اس زبان کے رکھے گئے نام پروٹو سیمیٹک سے ہی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ زبان سامی النسل اقوام کی اولین زبان تھی۔ یہ زبان آج سے چھ سے آٹھ ہزارسال قبل مغربی ایشیا میں رائج تھی اور اس سے دیگر جو زبانیں وجود میں آئیں ان میں میخی، پیکانی، عکادی،کنعانی، فونیقی، آرامی، عبرانی، سریانی، عربی، یونانی، لاطینی، اہرامک، گیز(ایتھوپیائی)، سبائی، ثمودی، بربر، آرمینی، پہلوی، برہمی، سائرلک اور انگریزی وغیرہ شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پروٹو سیمیٹک زبان کے اکثر الفاظ آج بھی اِن زبانوں میں جوں کے توں رائج ہیں
[ترمیم] حوالہ
ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کراچی

