پرویز مشرف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پرویز مشرف


در منصب
20 جون 2001ء – 18 اگست 2008ء
وزیرِ اعظم ظفراللہ خان جمالی
چوہدری شجاعت حسین
شوکت عزیز
محمد میاں سومرو
یوسف رضا گیلانی
پیشرو محمد رفیق تارڑ
جانشین محمد میاں سومرو (عبوری)

در منصب
12 اکتوبر 1999ء – 21 نومبر 2002ء
صدر محمد رفیق تارڑ
پیشرو نواز شریف (وزیراعظم)
جانشین ظفراللہ خان جمالی (وزیراعظم)

در منصب
6 اکتوبر 1998ء – 28 نومبر 2007ء
پیشرو جہانگیر کرامت
جانشین اشفاق پرویز کیانی

پیدائش 11 اگست 1943 (1943-08-11) ‏(71)
دہلی, برطانوی ہندوستان
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم)
ازواج صہبا مشرف
مادر علمی فارمین کرسچین کالج
پاکستان ملٹری اکیڈمی
کمانڈ اینڈ سٹاف کالج
جامعہ قومی دفاع، پاکستان
رائل کالج آف ڈیفینس سٹڈیز
پیشہ سپاہی
مذہب اسلام
فوجی خدمات
نوکری/شاخ پاک فوج (PA – 6920)
نوکری کے سال 1964–2007
عہدہ جنرل
اکائی آرٹلری کور (16 SP)
اَمر چالیسویں انفینٹری ڈیویژن (اوکاڑہ)
ڈی جی ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او)
آئی سٹرائیک کور (منگلا)
چیف آف آرمی سٹاف
چئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی
جنگیں پاک بھارت جنگ 1965ء
پاک بھارت جنگ 1971ء
تنازعہ سیاچن
کارگل جنگ
لال مسجد و جامع حفصه آپریشن
جنگ شمالی علاقہ جات
اعزازات تمغۂ بسالت
ہلال امتیاز (عسکری)
نشانِ امتیاز (عسکری)

جنرل (ر) پرویز مشرف (پیدائش: 11 اگست 1943ء، دہلی) پاکستان کے دسویں صد‏‏ر تھے۔ مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو بطور رئیس عسکریہ ملک میں فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو جبراً معزول کر دیا اور پھر 20 جون 2001ء کو ایک صدارتی استصوابِ رائے کے ذریعے صدر کا عہدہ اختیار کیا۔ جس سے قبل آپ ملک کے چیف ایگزیکٹو (chief executive) کہلاتے تھے۔ مشرف نے 18 اگست 2008ء کو اپنے نے قوم سے خطاب کے دوران اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ انہوں نے متواتر آئین کی کئی خلاف ورزیاں کیں اور علی الاعلان اس کو مانا۔

پاک بھارت جنگوں میں شمولیت

جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ ہونے والی دونوں جنگوں یعنی پاک بھارت جنگ 1965ء اور پاک بھارت جنگ 1971ء میں حصہ لیا اور کئی فوجی اعزازات حاصل کیے لیکن پرویز مشرف کے سنیر آفیسر اور استاد جرنل حمید گل کا کہنا ہے کہ مشرف ان دنوں جنگوں میں سے کسی میں شریک نہیں ہوئے۔

اقتدار پر قبضہ

جب 12 اکتوبر 1999 میں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو معطل کر کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیاء الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا تو اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک سے باہر سری لنکا میں سرکاری دورے پر گئے ہوئے تھے اور ملک واپس آنے کے لیے ایک کمرشل طیارےپر سوار تھے۔ تب فوج کے اعلی افسران نے ان کی برطرفی کو مسترد کر دیا اور جنرل پرویز مشرف نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی منتخب جمہوری حکومت کو معزول کر دیا اور ان کے خلاف ایک کیس تیار کر دیا۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تین سالوں میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ پلان پہلے سے ہی بنا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ مشرف کو معطل کیا جا رہا تھا۔

امریکی جنگ میں شمولیت

9 ستمبر 2001ء میں امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد 13 ستمبر 2001 کو پاکستان میں امریکی سفیر ونڈی چیمبر لین کے ذریعے پرویز مشرف کے سامنے واشنگٹن نے سات مطالبات رکھے جنہیں پرویز مشرف نے فوری طور پر تسلیم کر لیا اور یوں امریکی جنگ میں پاکستان باقاعدہ طور پر شامل ہوگیا۔ راتوں رات تین دہائیوں پر مشتمل افغان بالیسی تبدیل کردی گئی۔

پاکستانی شہریوں کی امریکہ کو حوالگی

اس جنگ کے دوران پرویز مشرف نے امریکی ہدایات پر 689 افراد کو گرفتار کیا جن میں سے 369 افراد بشمول خواتین کو امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ جنرل مشرف اپنی یاداشت پر مبنی کتاب In The Line Of Fire میں اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے ان افراد کے عوض امریکہ سے کئی ملین ڈالرز کا انعام وصول کئے۔ یہ جملہ انہوں نے بعد ازاں اردو ترجمہ سے حذف کردیا۔ وہ MANHUNT نامی مضمون میں لکھتے ہیں۔

We have captured 689 and handed over 369 to the United States. We have earned bounties totaling millions of dollars . Page No. 237

پرویز مشرف کے گرفتار اور امریکی کے حوالے کئے جانے والے افراد میں اکثریت ان عام افراد کی تھی جو افغانستان میں تعلیمی و فلاحی یا نجی کاموں سے گئے تھے جن کو امریکہ نے گوانتا ناموبے میں کئی برس تک بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بالآخر رہا کردیا۔

ریفرینڈم 2002

20 مئی 2000 میں عدالت عظمیٰ پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا کہ وہ اکتوبر 2002 تک انتخابات کروائیں۔ اپنے اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی غرض سے انہوں نے 30 اپریل 2002 میں ایک صدارتی ریفرینڈم کروایا۔ جس کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ البتہ اس ریفرینڈم کو سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے مسترد کر دیا اور اسکا بائیکاٹ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے بہت سے عہدیداروں کو بھی ہٹایا جن میں عدالت عظمیٰ کے منصفین حضرات اور بلوچستان پوسٹ کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔

اکتوبر 2002 عام انتخابات

اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یہ جماعت اور جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست حامی تھے۔ دسمبر 2003 میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے لیکن انہوں نے اپنے اس وعدے کو پورا نہ کیا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں سترہویں ترمیم منظور کروا لی جس کی رو سے انہیں باوردی پاکستان کے صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔

ستمبر 2007 نواز شريف كي واپسی

10 ستمبر 2007 كو جلاوطن مسلم ليگی رہنما سابق وزیراعظم مياں محمد نواز شريف سعودی عرب سے واپس پاکستان آئے. لیکن مشرف حکومت نے ان کو کافی دیر جہاز میں روکے رکھا اور مبینہ طور پر دھوکے سے ایک دفعہ پھر سے جلاوطن کر کے سعودی عرب بھیج دیا۔ پاکستان کے سیاسی قائدین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا۔ یورپی یونین نے بھی نواز شریف کے حق میں صرف بیان دیا۔

دوسرا فوجی تاخت

تفصیلی مضمون فوجی تاخت 2007ء

3 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف نے رئیس عسکریہ کی حیثیت سے دوسرا فوجی تاخت انجام دیا، جس کا مقصد اعلی عدالت کے ریاستی ادارے کی آزادی ختم کرنا تھا۔ نو سال بعد مشرف فوج کے سربراہ کے عہدے سے 28 نومبر 2007ء کو سبکدوش ہو گئے۔ 29 نومبر 2007ء کو پانچ سال کے نئے دور کے لیے صدر کا حلف اُٹھایا، جو عوامی اور سیاسی حلقوں میں متنازعہ ہے۔[1]

چند مزید متنا زع اقدامات

  • پتنگ بازی اور مخلوط میراتھن ریس
  • حدود آرڈینیس میں ترمیم
  • جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر فوجی آپریشن
  • قومی مفاہمتی آرڈینینس المعروف این آر او
  • بلوچستان آپریشن، اکبر بگٹی کا قتل
  • ڈاکڑ عبد القدیر خان کی بے توقیری اور طویل نظر بندی
  • ڈاکڑ عافیہ صدیقی کا اغوا اور آمریکہ کو حوالگی
  • اسرائیل سے درپردہ روابط
  • اعتماد سازی کے نام پر بھارت سے دوستی اور ثقافتی روابط

صدارت سے استعفیٰ

پرویز مشرف نے 18 اگست، 2008 کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا۔ اُن کی جگہ آئین کے تحت سینٹ کے چیئر مین میاں محمد سومرو نے عبوری صدر عہدہ سنمبھالا۔ پارلیمنٹ کو ایک مہینے کے اندر اندر نئے صدر کا انتخاب کرنا تھا۔ چنانچہ عام انتخابات 2008ء میں نئی حکومت کے بعد آصف علی زرداری نے نئے صدر کا حلف اٹھایا۔ بحیثیت صدر پرویز مشرف نے اپنی خود نوشت انگریزی میں بنام ان دی لائین آف فائر (انگریزی: In the Line of Fire) تحریر کی جس کو اردو میں سب سے پہلے پاکستان کے نام شائع کیا گیا۔

صدارت سے ہٹنے کے کچھ دیر بعد مشرف برطانیہ جا کر مقیم ہو گیا۔ 2011ء میں زرداری حکومت نے بے نظیر قتل مقدمہ کی تفتیش کی خاطر مشرف کو پاکستان واپس بھیجنے کا برطانیہ سے مطالبہ کیا جو کہ برطانیہ نے رد کر دیا۔[2]

بیرونی روابط

سرکاری
مشرف کے مقالہ جات
گفتگو
تبصرے

حوالہ جات

فوجی دفاتر
پیشرو
خالد لطیف مغل
جنرل آفس کمانڈنگ آئی سڑائیک کور
1995–1998
جانشین
سلیم حیدر
پیشرو
جہانگیر کرامت
چئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی
1998–2001
جانشین
عزیز خان
چیف آف آرمی سٹاف
1998–2007
جانشین
اشفاق پرویز کیانی
سیاسی دفاتر
پیشرو
نواز شریف
as وزیر اعظم پاکستان
چیف ایگزیکٹو پاکستان
1999–2002
جانشین
ظفراللہ خان جمالی
as وزیر اعظم پاکستان
پیشرو
نواز شریف
وزیر دفاع
1999–2002
جانشین
راؤ سکندر اقبال
پیشرو
محمد رفیق تارڑ
صدر پاکستان
2001–2008
جانشین
میاں محمد سومرو
عبوری