پشاور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پشاور
پېښور
—  شہری ضلع  —
شعار:
پشاور رات میں
M1 Motorway Peshawar Nishtar Hall-Peshawar
اسلامیہ کالج یونیورسٹی
بائیں جانب اوپر سے: پشاور رات میں، ایم ون موٹروے، Nishtar Hall, اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی۔
پشاور is located in پاکستان
پشاور
پاکستان میں پشاور کا محل وقوع
متناسقات: 34°01′N 71°35′E / 34.017°N 71.583°E / 34.017; 71.583متناسقات: 34°01′N 71°35′E / 34.017°N 71.583°E / 34.017; 71.583
ملک پاکستان
صوبہ خیبر پختونخوا
ضلع پشاور ضلع
یونین کونسلز 25
حکومت
 - ناظم Asya Abbas (ANP)
رقبہ
 - کُل 1,257 کلومیٹر2 (485.3 میل2)
بلندی 359 میٹر (1,178 فٹ)
آبادی (2010)[1]
 - کُل 3,307,798 Million
 کثافتِ آبادی خطاء تعبیری: غیر تسلیم شدہ محرفی تنقیط ","۔/کلومیٹر2 (خطاء تعبیری: غیر متوقع < مشتغل۔/میل2)
منطقۂ وقت پاکستانی معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
رموز رقبہ 091
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع پشاور کا محل وقوع

پشاور (پشتو: پیښور)پاکستان کا ایک قدیم شہر اور صوبہ خیبر پختونخواہ کا صدر مقام ہے۔ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کا انتظامی مرکز بھی یہیں ہے۔ بڑی وادی میں بنا یہ شہر درہ خیبر کے مشرقی سرے پر واقع ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد اس کے پاس ہی ہے۔ وسط ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کی اہم گذرگاہوں پر واقع یہ شہر علاقے کے بڑے شہروں میں سے ایک اور ثقافتی لحاظ سے متنوع ہے۔ پشاور میں آب پاشی کے لئے دریائے کابل اور دریائے کنہار سے نکلنے والی نہریں گذرتی ہیں۔

پشاور پاکستان کے نسلی اور لسانی اعتبار سے متنوع ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس کی شہری آبادی بڑھ رہی ہے جس کی وجوہات مقامی آبادی کا روزگار کے سلسلے میں بڑے شہر کو منتقلی، تعلیم اور دیگر خدمات شامل ہیں۔اس کے علاوہ آس پاس کے علاقوں میں فوجی کاروائیوں اور افغان مہاجرین کی آمد سے بھی یہاں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں تعلیمی ، سیاسی اور کاروباری اعتبار سے پشاور سب سے آگے ہے اور علاقے کے ترقی یافتہ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں طب اور تعلیم کے حوالے سے بہترین تعلیمی اداروں میں سے کئی پشاور میں قائم ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

قدیم پشاور[ترمیم]

وسطی، جنوبی اور مغربی ایشیاء کے درمیان ہونے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے پشاور صدیوں سے افغانستان، جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک مرکز کی حیثیت سے قائم چلا آیا ہے۔ قدیم تعلیمی مرکز ہونے کی وجہ سے دوسری صدی قبل مسیح میں بکھشالی طرزِ تحریر پر مشتمل ایک ریاضی کلیہ (جذر معلوم کرنا) اس کے نزدیک سے برآمد ہوئی ہے۔

وید دیومالا میں پشاور اور آس پاس کے علاقے کو "پشکلاوتی" کے نام سے جانا جاتا ہے جو "رامائن" کے بادشاہ "بھارت" کے بیٹے "پشکل" کے نام سے منسوب ہے۔ تاہم اس بارے ابھی کوئی یقینی رائے موجود نہیں۔ مصدقہ تاریخ کے مطابق اس علاقے کا عمومی نام "پورش پورہ" (انسانوں کا شہر) تھا جو بگڑ کر پشاور بن گیا۔ دوسری صدی عیسوی میں مختصر عرصے کے لئے وسطی ایشیاء کے توچاری قبیلے "کشان" نے پشاور پر قبضہ کر کے اسے اپنا دارلحکومت بنایا۔

اس کے بعد 170 تا 159 ق م اس علاقے پر یونانی باختر بادشاہوں نے حکمرانی کی اور اس کے بعد مملکتِ یونانی ہندکے مختلف بادشاہ یہاں قابض ہوتے رہے۔ ایک تاریخ دان کے مطابق پشاور کی آبادی 100 عیسوی میں 1،20،000 کے لگ بھگ تھی اور اس وقت آبادی کے اعتبار سے دنیا کا 7واں بڑا شہر تھا۔ بعد میں پارتھی، ہند پارتھی، ایرانی اور پھر کشان حکمرانوں نے قبضہ کئے رکھا۔

گندھارا پشاور[ترمیم]

کشان حکمران "کنیشکا" 127 عیسوی کے لگ بھگ بادشاہ بنا، نے اپنا دارلحکومت پشکلاوتی (موجودہ چارسدہ) سے منتقل کر کے پورش پورہ (موجودہ پشاور) قائم کیا۔ دوسری صدی عیسوی سے بدھ بھکشو زرتشت، ہندو اور روحیت کے پشاور زرتشت مذہب کے کشان حکمرانوں سے مشاورت کر نے آتے رہے تھے۔ کشان حکمرانوں نے ان کی تعلیمات سے متائثر ہو کر بدھ مت قبول کر لیا اور بدھ مت کو شہر میں سرکاری درجہ مل گیا۔ حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پشاور بدھ مت کی تعلیمات کا اہم مرکز بن گیا جبکہ آبادی کی اکثریت زرتشت اور روحیت کی پیروکار رہی۔

بدھ مت کے مخلص پجاری ہونے کی حیثیت سے کانیشکا نے اس دور کی دنیا کی بلند ترین عمارت بنوائی جو بدھ مت کا سٹوپا تھا اور جہاں بدھ مت سے متعلق مذہبی تبرکات جمع کئے گئے تھے۔ یہ ستوپا پرانے پشاور کے گنج دروازے کے ساتھ باہر بنا ہوا تھا۔ اس سٹوپا کے بارے قدیم ترین روایت چینی سیاح اور بھکشو فاہیان کی تحریر سے ملتی ہے جو یہاں 400 عیسوی میں آیا تھا۔ اس کے مطابق سٹوپا کی بلندی 40 چانگ سے زیادہ یعنی اندازاً 120 میٹر تھی اور اس پر ہر طرح کے قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے۔ فاہیان کے مطابق اس نے آج تک جتنے مندر اور سٹوپا دیکھے تھے، کانیشکا سٹوپا ان سے کہیں زیادہ خوبصورت اور مضبوط تر تھا۔ آسمانی بجلی گرنے سے سٹوپا تباہ ہوا اور کئی بار اس کی مرمت کی گئی۔ ہیون سانگ کی 634 عیسوی میں آمد تک سٹوپا کا ذکر ملتا ہے۔ بدھا سے منسوب تبرکات جو ایک جواہرات جڑی ٹوکری میں رکھے تھے، کو 1909 میں سٹوپا کے عین وسط میں ایک زیر زمین کمرے سے کھدائی کر کے ڈاکٹر ڈی بی سپونر نے نکالا۔

مسلم حملہ آور[ترمیم]

خُراساں پر عرب قبضے کے بعد پشتون اسلام لانے لگے۔ 1001 عیسوی میں ترک بادشاہ محمود غزنوی نے اپنی غزنوی سلطنت کو افغانستان سے آگے برصغیر تک پھیلایا۔ 997 میں سبگتگین کی وفات کے بعد خراساں کا گورنر ان کا بیٹا محمود بنا جس نے بعد ازاں سامانی بادشاہت سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی سلطنت قائم کی اور 999 عیسوی میں سلطان کا لقب اختیار کیا۔

ابتدائی دور میں پشاور کے علاقے میں کئی خونریز جنگیں ہوئیں جن کا آغاز محمود اور ہندو بادشاہ جیا پالا کے درمیان جنگ سے ہوا۔ جیا پالا کی مستقل خواہش تھی کہ سبگتگین کے ہاتھوں چھینی گئی سلطنت کو واپس لیا جائے۔ جیا پالا کی مدد کے لئے کچھ پٹھان تو تھے لیکن ان کی حمایت زیادہ دیر تک نہ چل سکی۔

نومبر 1001 میں جیا پالا کی شروع کی ہوئی جنگ میں اسے شکست ہوئی اور اس سمیت اس کی فوج قیدی بنی۔ آزاد ہونے پر اس نے اپنے بیٹے آنند پال کو بادشاہ بنایا۔ محمود نے پٹھانوں کو سزا دی اور مسلمان ہونے کے بعد وہ محمود کے ساتھ وفادار ہو گئے۔

پشتون، مغل اور مرہٹہ قبضے[ترمیم]

افغان (پشتون) شہنشاہ شیر شاہ سوری نے پشاور کی تعمیر نو کو تیزی دی اور اس نے اپنی دہلی سے کابل کی شاہراہ درہ خیبر کے راستے 16ویں صدی بنوائی اور بعد میں مغلوں نے پشاور پرقبضہ کر لیا۔ مغل بادشاہت کا بانی بابر جب موجودہ دور کے ازبکستان سے پشاور پہنچا اور بگرام کا شہر آباد کرایا اور 1530 میں قلعہ دوبارہ بنوایا۔ بابر کے پوتے اکبر نے اس کا نام بدل کر پشاوا کر دیا جس کا مطلب ہے "سرحد پر واقع جگہ"۔ دنیا بھر سے مسلمان صوفیا، مشائخ، استاد، معمار، سائنس دان، تاجر، سپاہی، افسرِ شاہی، ٹیکنو کریٹ وغیرہ غول در غول جنوبی ایشیاء کی اسلامی سلطنت کو آن پہنچے۔ مغربی ایران کی طرح یہاں بھی شجر کاری اور باغات اگانے سے پشاور شہر "پھولوں کا شہر" بن گیا۔

خوشحال خان خٹک جو مشہور افغان/پشتون شاعر تھے، پشاور کے نزدیک پیدا ہوئے اور ان کی زندگی پشاور سے وابستہ ہو رہی۔ افغان آزادی کی حمایت کرنے کی وجہ سے یہ مغل بادشاہوں بالخصوص اورنگزیب کے لئے مستقل سر درد بنے رہے۔ 18ویں صدی میں ناصر شاہ کے دورِ حکومت میں مغل سلطنت کے زوال کے بعد پشاور پر ایران نے قبضہ کر لیا ۔

1747 میں لوئیہ جرگہ نے پشاور کو افغان درانی حکومت کا حصہ بنا دیا جس پر اس وقت احمد شاہ درانی کی حکومت تھی۔ 1776 میں احمد شاہ کے بیٹے تیمور شاہ درانی نے پشاور کو اپنا سرمائی دارلحکومت بنایا اور بالا حصار کا قلعہ افغان بادشاہوں کی قیام گاہ بن گیا۔ درانی دورِ حکومت میں پشتونوں نے جنوبی ایشیاء پر حملوں میں حصہ لیا۔ 19ویں صدی کے آغاز پر سکھوں کے قبضے تک پشاور درانیوں کے سرمائی دارلحکومت کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔

پشاور پر مختصر عرصے کے لئے مرہٹوں کا قبضہ بھی رہا جو ہندوستان کی سلطنت پر قابض تھے۔ انہوں نے 8 مئی 1758 کو قبضہ کیا۔ بعد میں افغان درانیوں کے بڑے لشکر نے 1759 میں پشاور پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

سکھ حکمرانی[ترمیم]

1812 میں پشاور پر افغانستان کا قبضہ ہوا لیکن جلد ہی اس پر سکھوں نے حملہ کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ برطانوی مہم جو اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے سابقہ ایجنٹ ولیم مور کرافٹ کی سربراہی میں ایک مہم پہنچی تو اسے کابل کی حکومت اور لاہور کے سکھ حکمرانوں سے تحفظ کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا گیا۔ مور کرافٹ کو پشاور کی گورنر کا عہدہ بھی پیش کیا گیا اور علاقے کی ایسٹ انڈیا کمپنی سے وفاداری پیش کی گئی جسے اس نے رد کر کے اپنا سفر پشاوری فوجیوں کے ساتھ ہندوکش کا سفر جاری رکھا اور کابل جا پہنچا۔ 1818 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر کے یہاں کا دورہ کیا اور 1834 میں اسے سکھ ریاست میں شامل کر لیا اور شہر کا زوال شروع ہو گیا۔ مغل دور کے بہت مشہور سارے باغات تباہ کر دیئے گئے۔ سکھوں کے نمائندے کے طور پر اطالوی باشندے پاولو آویتابائل نے حکمرانی کی اور اس کے دور کو پھانسیوں اور سولیوں کا دور کہا جاتا ہے۔ پشاور کی مشہور مسجد مہابت خان جو 1630 میں بنائی گئی تھی، کو سکھوں کے دور میں تباہ کر دیا گیا۔

سکھ مت کو قائم رکھنے کے لئے ہری سنگھ نلوا نے گوردوارہ بھائی جوگا سنگھ اور گوردوارہ بھائی بیبا سنگھ بنوائے۔ اگرچہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد پشاور سے سکھوں کی آبادی انتہائی کم ہوگئی ہے لیکن پھر بھی افغانستان اور قبائلی علاقوں سے پناہ کی تلاش میں آنے والے 4000 سکھوں کی وجہ سے آبادی پھر کسی حد تک بڑھ گئی ہے۔ 2008 میں پاکستان میں سکھوں کی سب سے بڑی تعداد پشاور میں ہی آباد تھی۔ پشاور کے سکھ خود کو پشتون کہلاتے اور بطور مادری زبان ہندکو بولتے ہیں۔

1835 میں دوست محمد خان کو شہر پر قبضے میں اس وقت ناکامی ہوئی جب اس کی فوج نے دل خالصہ کا مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دوست محمد خان کا بیٹا محمد اکبر خان 1837 کی جمرود کی جنگ میں پشاور پر قبضے میں تقریباً کامیاب ہو گیا تھا لیکن پھر اسے ناکامی ہوئی۔ سکھوں کی حکمرانی 1849 میں اس وقت ختم ہوئی جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے سکھوں کے ساتھ دوسری جنگ جیت لی۔

پشاور پر برطانوی راج[ترمیم]

1849 میں سکھوں کے ساتھ دوسری جنگ کے بعدپشاور انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1857 کی سپاہیوں کی بغاوت کے بعد مقامی فوجیوں کے 4000 افراد کو بغیر خون بہائے غیر مسلح کر دیا گیا۔ اس طرح 1857 کی بغاوت کے بعد پورے ہندوستان میں ہونے والے خون خرابے سے پشاور بچ نکلا۔ مقامی سرداروں نے برطانوی راج کا ساتھ دیا۔ شہر کے باہر کے پہاڑوں کے نقشے 1893 میں سر مورٹیمر ڈیورنڈ نے بنائے جو اس وقت برٹش انڈیا حکومت کا خارجہ سیکریٹری تھا۔ اس نے افغان حکمران عبدالرحمان خان کے ساتھ مل کر افغان سرحد کا نقشہ بنایا۔

1868 میں شہر کے مغرب میں برطانیہ نے ایک بڑی چھاؤنی قائم کی اور پشاور کو اپنا سرحدی مرکزی مقام بنا دیا۔ مزید برآں پشاور میں انہوں نے کئی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جن میں شہر کو بذریعہ ریل ملک کے دیگر حصوں سے ملانے اور مسجد مہابت خان کی تعمیر و تزئین شامل ہے۔ برطانیوں نے کننگہیم کلاک ٹاور بھی بنایا جو ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کی تقریبات کے سلسلے میں بنایا گیا تھا۔ 1906 میں ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں وکٹوریہ ہال بنایا جہاں اب پشاور کا عجائب گھر قائم ہے۔ مغربی تعلیم دینے کے لئے برطانیہ نے ایڈورڈز کالج اور اسلامیہ کالج 1901 اور 1913 میں بالترتیب بنائے اور بہت سارے سکول بھی بنائے جن کو اینجلیکن چرچ چلاتا ہے۔

پشاور پشتون اور ہندکو مشاہرین کے مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ ہندکو بولنے والے افراد برطانوی راج میں یہاں کی ثقافت پر غالب اثر رکھتے تھے۔

پشاور میں ہی غفار خان کی چلائی ہوئی عدم تشدد کی تحریک سامنے آئی جو موہنداس گاندھی سے متائثر تھی۔ اپریل 1930 میں مقامی افراد کے بڑے گروہ نے قصہ خوانی بازار میں پرامن مظاہرہ کیا کہ ان کے خلاف برطانیہ نے امتیازی قوانین بنائے ہیں۔ برطانوی افواج کی فائرنگ سے 400 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

جدید پشاور[ترمیم]

1947 میں پشاور نوزائیدہ پاکستان کا حصہ بن گیا کہ مقامی سیاست دانوں نے پاکستان میں شمولیت کی منظوری دی۔ اگرچہ اکثریت اس الحاق کے حق میں تھی لیکن عبدالغفار خان کی قیادت میں ایک چھوٹے گروہ کا خیال تھا کہ جنوبی ایشیاء میں ایک کنفیڈریشن زیادہ بہتر ہوتی اور انہوں نے متحدہ ہندوستان کو بہتر سمجھا۔ تاہم عوام کی بھاری اکثریت متحدہ ہندوستان اور خود کو ہندوستانی کہلوانے کے سخت مخالف تھے۔ انتہائی قلیل تعداد پشاور کو افغانستان میں شامل دیکھنا چاہتی تھی۔ یہی خیال بعد ازاں پشتونستان کی بنیاد بنا جو پاکستان اور افغانستان، دونوں سے آزاد ریاست ہوتی۔

نئے پاکستان کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی نیت سے افغانستان نے دو رخہ حکمت عملی تیار کی تاکہ شمال مغربی سرحدی صوبے کو عدم استحکام کا شکار بنا سکے۔ ایک طرف تو اس نے پاکستان کے مخالف ہندوستان سے دوستی کی تو دوسری طرف روس کے ساتھ بھی دوستی شروع کر دی جو بالآخر افغانستان پر روسی حملے پر منتج ہوئی۔دوسری طرف اس نے 1960 کی دہائی میں اپنی مرضی کے سیاست دانوں کو معاشی امداد مہیا کی۔ 1960 کی دہائی سے 1970 کی دہائی تک اس حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ رہا تاہم بعد میں عوام کی اکثریت نے پاکستان کو قبول کر لیا تاہم پنجابی طبقہ اشرافیہ کے خلاف ان کی ناپسندیدگی بڑھتی رہی۔ پشتونوں کو پاکستان میں شامل ہونے کے بعد پاکستانی سیاست اور قومی افسرِ شاہی میں بھی آنے کا موقع ملا جس کے نتیجے میں ایوب خان جو کہ ایک پشتون تھے، پاکستان کے صدر بن گئے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پاکستان کا حصہ بننے کو قبول کر لیا اور ایک انتہائی چھوٹی اور غیر اہم سیاسی جماعت پختونخواہ ملت پارٹی نے پاکستان اور افغانستان سے علیحدگی کی باتیں جاری رکھیں۔ اگرچہ علیحدگی کی تحریک بہت کمزور تھی لیکن پاک افغان تعلقات میں اس کی وجہ سے مستقل دراڑ پڑ گئی۔ آج پشاور کے پشتون خود کو فخریہ پاکستان کے رکھوالے اور پاکستانی کہلاتے ہیں۔

1950 کی دہائی کے وسط تک پشاور دیواروں کے بیچ گھرا شہر تھا جس کے 16 دروازے تھے۔ ان میں کابلی دروازہ سب سے زیادہ مشہور تھا۔ جنوری 2012 میں اس وقت کے ڈی سی او سراج احمد نے اعلان کیا کہ "وقت کے ساتھ ساتھ شہر کے تمام پرانے دروازے پرانی حالت میں بحال کر دیئے جائیں گے"۔ شہری آبادی کے تناسب سے شہر کا حجم نہیں بڑھا اور اسی وجہ سے آلودگی اور آبادی کی گنجانی کی وجہ سے شہر پر برے اثرات ہور ہے ہیں۔ آبادی کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں افغان گاڑیاں بھی شہر سے گذرتی ہیں جس سے شہر کی فضاء مزید آلودہ ہو رہی ہے۔

گاڑیوں کے دھوئیں سے کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، دھواں، مٹی اور ٹیٹرا ایتھائل لیڈ پھیلتا ہے۔ ایندھن میں ملاوٹ اور غیر معیاری مرمت شدہ گاڑیوں کی وجہ سے مزید آلودگی بڑھ رہی ہے۔ بری حالت میں موجود سڑکوں اور سڑک کے کچے کناروں پر چلنے والی گاڑیوں سے بہت دھول اڑتی ہے۔ افغان سرحد پر ہونے کی وجہ سے پشاور میں بہت بڑی تعداد میں افغان ٹریفک بھی آتی ہے۔

1980 میں افغان جنگ کی وجہ سے پشاور سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تربیت یافتہ مجاہدین گروپوں کے سیاسی مرکز اور افغان مہاجر کیمپوں کا مرکز رہا۔ اکثر روسی جاسوس ان گروہوں میں گھس کر تشدد کو ہوا دیتے رہے اور روسی اور امریکی ایجنٹوں کے درمیان میدانِ جنگ پشاور میں بن گیا۔

1988 کے انتخابات کے دوران تقریباً ایک لاکھ افغان مہاجرین یہاں آباد تھے اور غیر رجسٹر شدہ مہاجرین کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ بہت سارے نسلی پشتون افغان آسانی سے پشاور میں مقامی آبادی میں گھل مل گئے ہیں اور ابھی تک پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

2012 میں پشاور افغانستان اور وسطی ایشیاء کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ پشاور پاکستان کے اندر اہم شہر کی حیثیت رکھتا ہے اور پشتون ثقافت اور گندھارا آرٹ کا مرکز ہے۔ طالبان شدت پسندوں کا نشانہ ہونے کی وجہ سے یہاں پشتون تعمیرات کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ حتیٰ کہ پشتون شاعر رحمان بابا کے مزار کو 2009 میں بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔

جغرافیہ[ترمیم]

خیبر پختون خواہ کی طرح درہ خیبر کے مشرقی سرے پر واقع پشاور سطح مرتفع ایران کا حصہ ہے۔

حالیہ جغرافیائی دوروں میں وادئ پشاور میں سلٹ، ریت اور پتھر جمع ہوتے رہے ہیں۔ دریائے کابل اور بدنی نالا کے درمیان سیلابی میدان ہیں جو شمال مغرب میں وارسک تک جاتے ہیں۔ پشاور کے میدان میں داخل ہوتے ہوئے دریائے کابل کئی شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جن میں دو زیادہ بڑی ہیں۔ مشرق کو جانے والی شاخ ادیزئی دریا کہلاتی ہے جو چارسدہ کو جاتی ہے اور شاہ عالم شاخ آگے جا کر دریائے نگومن میں مل جاتی ہے۔

موسم[ترمیم]

پشاور کا موسم نیم بنجر ہے اور گرمیاں بہت سخت جبکہ سردیاں نسبتاً سرد ہوتی ہیں۔ سردیوں کا موسم نومبر سے شرو ع ہو کر مارچ کے اواخر تک اور کبھی کبھار اپریل کے وسط تک چلا جاتا ہے۔ گرمیاں وسط مئی سے وسط ستمبر تک جاتی ہیں۔ گرمیوں میں گرم ترین مہینوں کا اوسط درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر چلا جاتا ہے اور کم سے کم اوسط 25 ڈگری ہے۔ سردیوں کا اوسط کم سے کم درجہ حرارت 2 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 15.35 ڈگری رہتا ہے۔

پشاور مون سون علاقے میں نہیں آتا تاہم بارش سردیوں اور گرمیوں میں بھی ہوتی رہتی ہے۔ مغربی اثرات کی وجہ سے فروری اور اپریل میں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں۔ سردیوں کی سب سے زیادہ بارش کی مقدار فروری 2007 میں ریکارڈ کی گئی جو 236 ملی میٹر تھی۔ گرمیوں کی سب سے زیادہ بارش جولائی 2010 میں 402 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ اسی دوران 29 جولائی 2010 کو چوبیس گھنٹے میں بارش کا نیا ریکارڈ قائم ہوا جو 274 ملی میٹر تھا۔ سردیوں میں ہونے والی بارش گرمیوں کی نسبت زیادہ رہتی ہے۔ 30 سال کے ریکارڈ کے مطابق سالانہ بارش کی اوسط مقدار 400 ملی میٹر ہے اور سب سے زیادہ ایک سال میں 904.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو 2003 میں ہوئی تھی۔ ہوا کی رفتار دسمبر میں 5 ناٹ جبکہ جون میں 24 ناٹ تک ریکارڈ ہوئی ہے۔ جون میں ہوا میں اوسط نمی کا تناسب جون میں 46 فیصد جبکہ اگست میں 76 فیصد ہے۔ 18 جون 1995 کو سب سے زیادہ 50 ڈگری جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 7 جنوری 1970 میں منفی 3.9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔

آبادی[ترمیم]

پشاور کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 1998 میں آبادی 2،982،816 تھی۔ آبادی میں اضافے کی شرح 3.29 فیصد ہےجو پاکستان کے دیگر شہروں کی اوسط سے زیادہ ہے۔

  • شہری آبادی: 51.32فیصد ہے جو کہ 1،536،000 ہے
  • دیہاتی آبادی: 48.68 فیصد جو کہ 1،600،000 ہے
  • مرد اور عورت کا تناسب: 1.1:1

نسلی اور لسانی[ترمیم]

2002 میں آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح کی وجہ سے آبادی 20 سال میں دو گنا ہو گئی ہے۔ ضلع پشاورشمالاً جنوباً 50 کلومیٹر جبکہ شرقاً غرباً 30 کلومیٹر ہے۔ شہر سطح سمندر سے 359 میٹر بلند ہے۔ وادئ پشاور تقریباً گول ہے اور دریائے سندھ سے خیبر کی پہاڑیوں تک پھیلی ہے۔ اس کے شمال اور شمال مشرق میں پہاڑی سلسلہ ہے جو پشاور کو وادئ سوات سے الگ کرتا ہے۔ شمال مغرب میں خیبر کے سنگلاخ پہاڑ واقع ہیں اور جنوب میں کوہ سفید کی شاخ شروع ہو جاتی ہے اور یہی شاخ پشاور کو کوہاٹ سے جدا کرتی ہے۔ کوہ لقا کی بلندی 6600 فٹ ہے اور خیبر ایجنسی میں واقع ہے جو شہر کے وسط سے 25 کلومیٹر جبکہ حیات آباد سے 15 کلومیٹر دور ہے۔

مذہب[ترمیم]

پشاور کی آبادی کا 99 فیصد سے زیادہ حصہ مسلمان ہے جن کی اکثریت سنی ہے۔ شیعہ بھی اہم اقلیت ہیں۔ موجودہ دو رکا پشاور اگرچہ مسلمان اکثریت پر مشتمل ہے تاہم ماضی میں یہاں ہندو، سکھ، یہودی، زرتشت اور بہائی مذہب کے لوگ بھی یہاں آباد تھے۔ تاہم سکھوں کی آبادی کے علاوہ یہاں ہندو اور عیسائی بھی آباد ہیں۔

ثقافت[ترمیم]

پشاور کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے ثقافتی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی ثقافت طویل عرصے تک گندھارا ثقافت، پختون ثقافت اور ہندکو ثقافت سے متائثر ہوتی آئی ہے۔ پشاور جس صوبے میں ہے، اس کی اکثریت آبادی پختون ہے جبکہ پشاور میں 1980 کی دہائی کے اوائل تک آبادی کی اکثریت ہندکو تھی جو یہاں کے مقامی ہیں۔ پختون اور ہندکو ثقافتوں میں کافی چیزیں مماثل ہیں اور جغرافیائی اعتبار سے کچھ اختلافات بھی ہیں۔ ہندکو افراد زیادہ تر شہری جبکہ پختون افراد کی اکثریت دیہاتی پس منظر رکھتی ہے۔ اسی طرح شادی بیاہ اور رہن سہن میں بھی واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔

افغان جنگ کی وجہ سے افغان مہاجرین پاکستان پہنچے اور پشاور میں افغان موسیقار اور فنکار بھی آن بسے۔ اس کے علاوہ پشتو موسیقی اور سینما، دری موسیقی جو تاجک افراد کی پسند ہے اور فارسی میں کتب کی چھپائی بھی پشاور میں اب جڑ پکڑ چکی ہیں۔ پشاور سے شیعہ مذہبی کتب قصہ خوانی بازار سے چھپتی ہیں۔

2002 میں متحدہ مجلس عمل کی انتخابی کامیابی کے بعد عوامی سطح پر موسیقی کی نمائش اور پبلک ٹرانسپورٹ پر موسیقی پر پابندی لگ گئی۔ تاہم زیر زمین استعمال بڑھ گیا۔ 2008 میں نسبتاً آزاد خیال عوامی نیشنل پارٹی کی جیت کے بعد ثقافتی سرگرمیوں کو جِلا ملی ہے لیکن طالبان کی وجہ سے ثقافت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

ماضی میں پشاور کے گرد دیوار بنی ہوئی تھی جس کے اب آثار ہی باقی بچ گئے ہیں۔ زبادہ تر گھر کچی اینٹوں سے بنے ہیں اور اس میں لکڑی استعمال ہوئی ہے تاکہ زلزلے کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ شہر کی پرانی عمارات سیٹھی محلہ، مسجد مہابت خان، کوٹلہ محسن خان، چوک یادگار اور قصہ خوانی بازار وغیرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ مسلسل تعمیر و ترقی کی وجہ سے پرانی عمارات کے تحفظ کی فوری ضرورت ہے۔

زبانیں[ترمیم]

شہر کی اکثر آبادی ایک یا ایک سے زیادہ زبانیں بولتی ہے:

  • اردو، قومی زبان اور عام رابطہ کے لئے استعمال ہوتی ہے
  • ہندکو، پنجابی کا ایک لہجہ ہے جو شہر کی آبادی کی اکثریت 1980 کی دہائی تک بولتی تھی
  • پختو، آس پاس اور افغانستان سے پختونوں کی اکثریت کی آمد کے بعد 1980 کی دہائی سے بڑی زبان بن گئی ہے
  • معیاری پنجابی، شہر کے مرکز اور چھاؤنی میں بولی جاتی ہے
  • سرائیکی، پنجابی کا ایک لہجہ ہے جو ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے لوگ بولتے ہیں
  • کوار، چترال کے لوگ بولتے ہیں
  • کوہستانی، مالا کنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے لوگ بولتے ہیں
  • دری، ہزارگی، فارسی اور تاجک، مختلف افغان مہاجرین بولتے ہیں

دیگر زبانوں میں گوجری، کشمیری، شینہ، رومانی، برشسکی، واخی، بلتی، بلوچی، براہوی، سندھی اور انگریزی (سرکاری سطح پر اور سیاحت سے متعلق) بھی استعمال ہوتی ہیں۔

تحریری طور پر اردو اور انگریزی ہی پشاور میں استعمال ہوتی ہیں جبکہ پشتو اور فارسی انتہائی کم مقدار میں استعمال ہوتی ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

پشاور میں بہت سارے تعلیمی ادارے ہیں جن میں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نے پشاور یونیورسٹی اکتوبر 1950 میں قائم بنائی۔ ایڈورڈز کالج 1900 میں ہربرٹ ایڈورڈز نے بنایا اور اسے صوبے کا قدیم ترین کالج مانا جاتا ہے۔

ذیل میں پشاور کے سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں میں سے کچھ کے نام ہیں:

  • پشاور یونیورسٹی
  • اسلامیہ کالج یونیورسٹی
  • خیبر میڈیکل یونیورسٹی
  • این ڈبلیو ایف پی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی
  • زرعی یونیورسٹی
  • نسٹ، پشاور کیمپس
  • انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ سائنسز
  • گندھارا یونیورسٹی
  • اقراء یونیورسٹی
  • ایمز یونیورسٹی آف امرجنگ سائنسز
  • قرطبہ یونیورسٹی
  • سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
  • سی ای سی او ایس یونیورسٹی آف آئی ٹی اینڈ امرجنگ سائنسز
  • پریسٹن یونیورسٹی
  • سٹی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی
  • فرنٹیئر وومین یونیورسٹی
  • اباسین یونیورسٹی

شماریات[ترمیم]

ضلع کا کُل رقبہ 1257 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلو میٹر 2040 افراد آباد ہيں

سال 2004-05 ميں ضلع کی آبادی 2564000 تھی

دیہی آبادی کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔

کُل قابِل کاشت رقبہ78930 ہيکٹر ہے

نگار خانہ[ترمیم]

  1. ^ Stefan Helders (2005). "Pakistan: largest cities and towns and statistics of their population". World Gazetteer. Stefan Helders. http://world-gazetteer.com/wg.php?x=&men=gcis&lng=en&des=wg&geo=-172&srt=npan&col=abcdefghinoq&msz=1500&pt=c&va=&srt=pnan. Retrieved 13 December 2012.