پشتون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Pashtun
پښتانه
Paṣ̌tun
Sher Shah Suri by Breshna-cropped.jpg
Dost Mohammad Khan, Nawab of Bhopal-cropped.jpg
Mir Wais Hotak of Afghanistan.jpg
Shah Mahmud Hotak of Afghanistan.jpg
Portrait miniature of Ahmad Shah Durrani-cropped.jpg
Dost Mohammad Khan of Afghanistan-cropped.jpg
Lithograph of Akbar Khan in 1842-cropped.jpg
Abdur Rahman Khan of Afghanistan-cropped.jpg
MohammadAyoubKhan-cropped.jpg
King Amanullah of Afghanistan-cropped.jpg
Queen Soraya of Afghanistan-cropped.jpg
King Zahir Shah of Afghanistan in 1963-cropped.jpg
Abdul Ghaffar Khan-cropped.jpg
Madhubala in the 1949 film Dulari-cropped.jpg
SalimKhan-cropped.jpg
KaderKhan-cropped.jpg
Shahrukh Khan CE.jpg
Saif Ali Khan snapped at Imperial Hotel, New Delhi 05.jpg
Karzai in June 2014-cropped.jpg
Z Khalilzad-cropped.jpg
Konferenz Pakistan und der Westen - Imran Khan (4155877864) cropped.jpg
Ashraf Ghani Ahmadzai in July 2011-cropped.jpg
Shahid Afridi 2010-cropped.jpg
Malala Yousafzai at Girl Summit 2014-cropped.jpg
کل آبادی
Approx. 50 million (2011)[3]
علاقے جہاں یہ قبیلہ آباد ہے
 پاکستان 29,342,892 (2012) [4]
 افغانستان 12,776,369 (2012) [5]
 بھارت Over 6,000 families [6]
Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات 338,315 (2009) [7]
 ریاستہائے متحدہ امریکہ 138,554 (2010) [8]
Flag of Iran.svg ایران 110,000 (1993) [9]
 برطانیہ 100,000 (2009) [10]
 جرمنی 37,800 (2012) [11]
 کینیڈا 26,000 (2006) [12]
 روس 9,800 (2002) [13]
 آسٹریلیا 8,154 (2006) [14]
 ملائشیا 5,500 (2008)
Flag of Tajikistan.svg تاجکستان 4,000 (1970) [9]
زبانیں

Pashto
Urdu, Dari and English as second languages

مذاہب

Islam (Sunni حنفی)
with small Shia minority

پشتون یا پختون (فارسی: پشتون ، اردو:پٹھان ،ہندیपश्तून:) ہند-جو کہ دنیا کے بیس بڑے شعوب میں سے ہے۔ جوکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں افغانستان،پاکستان، بھارت اول نمبر پر ہیں۔ دنیا میں پشتون اپنے وفا اور غیرت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ لفظ پشتون کا مطلب ہوتا ہے غیرت و وفا والا اور اپنے عزت اور دین پر مر مٹنے والا۔پشتون قوم نے نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ دنیا کے کہیں ممالک میں ٹکانہ لگایا ہے۔ اس سے پہلے پشتونوں نے قیام پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔

  • == پس منظر ==

پشتون کی اصلاح عموماً پٹھان اور افغان عموماً پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے۔ افغان کی اصطلاح درانیوں اور ان متعلقہ قبائل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ لیکن یہ محض نام کا فرق ہے۔ یعنی ایرانی نام افغان قدرتی طور پر مغربی قبائل کے لئے استعمال ہوتا ہے اور پھٹان کا اطلاق جو مقامی نام کی بدلی ہوئی ہندی شکل ہے اور مشرقی قبائل پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پشتون سے مراد پشتو بولنے والا اور پشتون دستور پر عمل کرنے والے کے ہیں۔

  • == محل وقوع ==

افغانستان میں دوسری نسلی اور لسانی وحدتیں بھی آباد ہیں، مگر نصف کے قریب پشتون آباد ہیں۔ ان کی اکثریت جنوبی و مشرقی افغانستان میں جلال آباد کے شمال سے قندھار اور وہاں سے مغرب کی جانب سبزوار کے علاقے میں آباد ہے۔ کابل و غزنی کے علاقے میں یہ زیادہ تر فارسی بولتے ہیں۔ اس طرح شمال و مغربی افغانستان بھی پشتون قبائل آباد ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سرحد میں اکثر باشندے پشتون ہیں جو دیر و سوات سے جنوب کی جانب اور مشرق میں سبی تک جنوب و مشرق میں مستونگ تک ان کی آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تقریباً تمام افغانستان میں آباد ہیں اور اس وقت ان کی سب سے بڑی تعداد کراچی میں آباد ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ پچیس سے تیس لاکھ پشتون آباد ہیں۔ * == پشتون (پختون) == پشتون کی جمع پشتیانہ ہے، (شمال مشرق کی بولی میں پختون) لیسن نے اور اس تبع میں بعض اور لوگوں نے پشتون کا موازنہ ہیروڈوٹیس کے پکھتولیس Paktolies سے کیا ہے۔ یہ شناخت ممکن صحیح ہو اگرچہ یقینی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کو صوتی اور یگر وجوہ کی بنا پر رد کردینا لازم ہے۔ آخر جز ’اون‘ آنہ سے مشتق ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ زمانہ قدیم کا صوتی مرکب جس کے نتیجے میں پشتو کا شت وجود میں آیا ہے۔ (بعد کی بولی میں خت) یونانی حروف سے ادا کیا گیا ہو۔ زیادہ قرین قیاس بات وہ ہے جو سب سے پہلے ماکوارٹ نے کہی تھی کہ اس نام کا تعلق بطلمیوس کے پارو فامیس کوہ بابا یا کوہ سفید میں آباد ایک قبیلہ پرسوا سے ہو۔ پشتو کا رس زمانہ قدیم کے رس سے مشتق ہوسکتا ہے اور غالباً اس کی قدیم شکل پرسوانہ تھی۔ مگر اس سے لازم نہیں آتا ہے کہ ان زیر بحث ایرانی قبیلوں کے درمیان کوئی رشتہ تھا۔ ہیروڈوٹسHerodatieis کے پکھتولیس اور بطلمیوس کے پرسوا سے پشتون سے تعلق اور اس کی تبدیلیوں کے بارے میں تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ اس طرح ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ یونانی عموماً ناموں کو بگاڑ کرکے لکھتے ہیں۔ اس لئے انہیں سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے ہم اس کی حقیقت کے لیے دارا اول کے کتبہ بہستون سے مدد لے سکتے ہیں۔ غالب امکان یہ ہے کہ ہیروڈوٹس کے پکتھولیسPaktolies کو باختر یا باختریا & Bectaria Bectar جس کو دارا کے کتبے میں باختریش Bectarishکہا گیا ہے اور ہیروڈوٹس Herodatieis نے اس کا پختولیس Paktolies کے نام سے تذکرہ کیا ہے۔ تاہم بعد کے یونانی ماخذوں میں اس کا تذکرہ باکترا Baktra کے نام سے ملتا ہے اور اس کے لئے رگ وید Reg Veda میں پکھتا اور پکتھ اور اوستا Avesta میں اس کا نام بختہ اور بخت آیا ہے۔ اس کے لئے رگ وید میں پکھتا اور پکھت کے علاوہ اوستا میں بختہ بخت آیا ہے۔ نہ کہ اس سے مراد کسی خاص قبیلے یا گروہ سے ہے۔ جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اسطرح رگ وید میں آنے والا کلمہ بلہہ یا بلہکا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے مراد بلخ ہے۔ تاہم یہ ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ اس وقت تک بلخ وجود میں نہیں آیا تھا۔ یونانی ماخذوں میں باختریہ کا نام باکتر اBaktra ملتا ہے۔ جب کہ بلخ کاتذکرہ یونانییوں کے یہاں بخپا Boxtapa کی شکل میں ملتا ہے تاہم سکندر کی مہموں میں بلخ کا تزکرہ نہیں ملتا ہے۔ غالباً اس وقت تک یہاں کوئی شہر وجود میں نہیں آیا تھا۔ بالہک یا بالہق آریائی زبان کا کلمہ ہے۔ اس کے معنی شہر کے ہیں۔ یہ ترکوں میں ’گوا بالق‘ یعنی خوبصورت شہر۔ غز بلیغ، قر بالیغ، قربلیق، غور بالیغ آیا ہے۔ مرکورٹ نے ’غز بالیغ‘ یعنی ترکوں کا شہر کوصیح تسلیم کیا ہے۔ غزبالیق ان کی دستاویزوں میں ملتا ہے جو قرہ خانی خاندان کے متعلق ہیں۔ صدیوں کے بعد منگولوں نے ’خان بالہق‘ یعنی خان کا شہر کا ذکر کیا ہے۔ اس لئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ رگ وید میں آنے والا کلمہ بلہہ اور بلہکا سے مراد شہر کے ہیں نہ کہ کسی خاص شہر سے ہے۔ کیوں کہ رگ ویداور اوستا کی تدوین کے سیکڑوں سال بعد بلخ شہر وجود میں آیا ہے۔ اگر بلخ آریاؤں کے دور میں آباد ہوتا تو سکندر کی مہموں میں اس کا تذکرہ ضرور ملتا۔ بلخ کا سب سے پہلا تزکرہ یونانی نوآبادی کی حثیت سے یونانی سردار ڈیوٹس کی بغاوت کے دوران سنے کو ملتا ہے۔ یونانی نو آبادی سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ یونانیوں نے آباد کیا ہو۔ مگر نام سے اندازہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسے مقامی باشندوں نے آباد کیا تھا اور بعد میں یونانیوں نے اسے اپنا مستقرر بنا لیا ہو اور مقامی باشندے اس کو بالق یا بالغ یعنی کے شہر کے نام سے پکارتے ہوں گے۔ اس لیے یونانوں نے بخپا کہا ہے جو رفتہ رفتہ بلخ میں بدل گیا۔ قدیم زبانیں ابتدا میں آرامی رسم الخط میں لکھی جاتی تھیں۔ بعد میں اس رسم الخط میں ترمیم کرکے مقامی رسم الخط ترتیب دیئے گئے۔ سامی رسم الخط میں ’پ‘ نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے عہد قدیم میں ’ب‘ اور ’پ‘ کی تمیز نہیں رکھی جاتی تھی اور مختلف کلموں میں ’ب‘ اور ’پ‘ متبادل استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً ’اسب۔ اسپ‘، ’دبیر۔ دپیر‘ تب۔ تپ‘ وغیرہ ہیں۔ علاوہ ازیں پ / ب دو لبی صوتے ہیں، اس لئے ماہرین لسانیات ان کو ایک سلسلے کے صوتے تسلیم کرتے ہیں اور یہ ترتیب پاننی اور دوسرے قدیم ماہرین لسانیات سے لے کر آج دور جدید کی تحریروں میں قائم ہے۔ سنسکرت میں ’خ‘ کا حروف نہیں ہے اور یہ سنسکرت میں ’کھ‘ میں بدل جاتا ہے۔ یعنی ’ک اور خ‘ کے بین اس کی آواز ہے۔ اس لئے رگ وید میں یہ کلمہ پکھتا پکھت آئے ہیں۔ جب کہ یہ کلمات اوستا میں بخت اور بختہ آئے ہیں جو کہ باختریہ کے ہی ہند آریائی اور ایرانی دو مختلف لہجے ہیں۔ قدیم یونانی میں ’خ‘ کے لئے X استعمال ہوتا تھا۔ جو اب ’ک اور س‘ کی درمیانی آواز دیتا ہے۔ اس لئے ہیروڈوٹس نے پکھت یا پکتھ (باختریہ) کے لئے یونانی تلفظ میں پکھتولیس سے ادائیگی کی تھی۔ رگ وید میں ’داش راجیہ‘ کے نام سے دس بادشاہوں کی لڑائی کا ذکر آیا ہے۔ یہ ایک بڑی جنگ تھی جس میں ’بھرت‘ قبیلہ کے خلاف دس قبائل نے متحدہ ہو کر جنگ لڑی۔ جس میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ بھرت کے حق میں ہوا اور قبائلی اتحاد کو شکست ہوئی۔ ان دس شکست خوردہ قبیلوں میں ایک پکھتا بھی تھا جو کہ دریائے کروُمو (کرم) کے منبع کے علاقہ میں رہتا ہے۔ اس پکھت کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پختون یا پٹھان ہیں۔ مگر یہ گمان غلط ہے۔ یہ قبیلہ باختریہ کے علاقہ سے تعلق رکھتا ہو اس نسبتی کلمہ مطلب ہے باختروی ہے۔ قرین ترین قیاس یہی ہے کہ کلمہ پشتون (پختون) ’پار تو‘ جو کہ داراکے کتبہ میں پارتھیا کے ’رت‘ سے پشتون کا شت وجود میں آیا ہے۔ قدیم ایرانی زبانوں میں بعض اوقت ’ر‘ کی جگہ ’ش یا س، یا چ‘ استعما، ہوتا تھا اور یہ تینوں حروف ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً قدیم فارسی زبان میں اوستا کے ’ر‘ کی جگہ ’ش‘ استعمال ہوا ہے مثلاً ’مرت یہ‘ اوستا میں، جبکہ قدیم فارسی میں مشیہ آیا ہے۔ اس طرح سوغدی (چغدی) زبان میں میانہ فارسی کے ’تھ + ر‘ کی جگہ ’ش‘ بھی استعمال ہوا ہے۔ ایک قدیم کتاب جو اوستا میں لکھی گئی تھی، اس میں فریدون کے لڑکے کا نام توچ آیا ہے۔ جب کہ فردوسی نے یہ نام تور لکھا ہے جو غالباً اس کا اصل تلفظ ہے۔ قدیم زبانوں میں اس طرح ’چ‘ ’ش‘ کے متبادل کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ مثلاً تاشقند کے لئے قدیم زمانے میں تاش اور شاش دونوں استعمال ہوتے تھے۔ اس لئے قرین ترین قیاس ہے کہ ’پار تو‘ جو کہ دارا کے کتبہ میں پارتھیا کے ’رت‘ سے پشتون کا ’شت: وجود میں آیا ہے۔

  • == پٹھان ==

یہ اصطلاح عام طور پر شمالی مغربی اور بلو چستان کے پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ مگر پشتون مورخین کا دعویٰ ہے پٹھان ہیں اور صرف قیس عبدالرشید کی نسل سے تعلق رکھنے والے ہی پٹھان ہیں، مزید ان کا کہنا ہے کہ قیس عبدالرشید کو اس کی بہادری پر حضور ﷺ نے اس کی بہادری سے خوش ہوکر پٹھان کا خطاب دیا تھا۔ مگر اسماء رجال کی کتابوں اور شرح صحابہ کی کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ فرشتہ کا کہنا ہے کہ افغانوں کو پٹھان اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے پہل سلاطین کے عہد میں ہندوستان آئے تو یہ پٹنہ میں مقیم ہوگئے تو اہل ہند انہیں پٹھان کہنے لگے۔ مگر یہ بیانات ہیں موضع اور تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں اس لیے ان کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ پروفیسر احمد حسین دانی کا کہنا ہے کہ افغان اور پٹھان میں امتیاز نہ پٹھانوں کے نذدیک صحیح ہے اور نہ ہی تاریخی طور پر درست۔ سولویں صدی سے پہلے یہ کلمہ کسی کتاب میں نہیں ملتا ہے۔ لیکن ٹھ کا استعمال بتاتا کہ یہ ہند آریائی کلمہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کلمہ دو لفظوں پارت + استھان = پارٹھان سے مل کر بنا ہے۔ یعنی اس کی ابتدائی شکل پارٹھان ہوگی۔ پارت قدیم زمانی میں موجودہ خراسان کو بولتے تھے اور استھان ہند آریائی کلمہ ہے، جس کے معنی جگہ یا ٹھکانے کے ہیں۔ پارتھی جنہوں نے قدیم زمانے میں شمالی برصغیر کو پنے قبضہ میں کرلیا تھا اور انہوں نے ستھیوں کے ساتھ مل کر شمالی ہندمیں نیم آزاد حکومتیں (سٹراپی) قائم کیں تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ کلمہ پٹھان پارٹھان یا پارتھان سے بنا ہے اور اس کلمہ میں تکرار سے ’ر‘ خارج ہوگیا، اس طرح یہ پٹھان بن گیا۔ اکثر زبانوں میں ’ر‘ خارج ہوجاتا ہے اور اس کا کوئی قائدہ متعین نہیں ہے۔ مثلاً آذری زبان میں فعل کے صعیفے، جمع، مخاطب اور صیفعہ غائب میں ہمیشہ ’ر‘ گر جاتا ہے۔ مثلاً Dir کی جگہ Di بولا جاتا ہے۔ اس طرح سنسکرت میں بھی بعض اوقات ’ر‘ گر جاتا ہے مہا بھارت میں کوہ آبو کا نام ’آربو‘ اور ’اربد‘ آیا ہے۔ اشکانی کے بانی کا نام ارشک تھا اور اس کے نام سے یہ خاندان اشکانی مشہور ہوا۔ اس میں سے بھی ’ر‘ خارج ہوگیا۔ خود پشتو میں ’لڑکے‘ کو ’ر‘ خارج کر ’لکا‘ کہتے ہیں۔ پارتی آریائی تھے اس لئے ایرانیوں اور برصغیر کے باشندوں کے ہم نسل تھے، اس لئے ان کا مذہب اور زبان تقریباً ایک تھی۔ صرف لہجہ کا فرق تھا کیوں کہ قدیم ایرانی کے غیر کشیدہ حروف صیح میں بدل گئے۔ اس پارتھی سے پارتی، پارتھ سے پارت اور پارتھیا سے پارتیا کہلانے لگے جبکہ یہ جگھڑالو حروف ہند آریائی میں بدستور استعمال ہوتے رہے بلکہ ان کی بندشیں بڑھ گئیں۔ بھارت ہندو دیوملائی ہیرو تھا جس کے نام پر اس ملک کا نام رکھا گیا ہے۔ رگ ویدمیں بھارت قبیلے کا ذکر ملتا ہے، جو سروتی و جمنا کے کنارے آباد ہوا تھا۔ ان بندشوں کے بڑھ جانے سے پارت ہی بھارت ہوگیا۔ اس طرح بالاالذکر کلمات بھٹی، بھاٹی، بھٹ، بھٹہ اور بھٹو میں تبدیل ہوگئے۔ ان سب کلمات کی اصل ایک ہی ہے۔ پ / پھ / ب / بھ دو لبی صوتے ہیں اور یہ سب مسودے ہیں، اس لئے ماہرین لسانیات ان کو ایک سلسلے کے صوتے تسلیم کرتے ہیں اور یہ ترتیب پاننی اور دوسرے قدیم ماہرین لسانیات سے لے کر آج دور جدید کی تحریروں میں قائم ہے۔ یہی وجہ ہے آج بھی پنجابی میں بھائی کو پرا اور بھابی کو پابی کہا جاتا ہے۔ جب کہ سنسکرت میں بھائی، بھرائی کہلاتا ہے۔ بٹ ایک کشمیری قبیلہ ہے اور ہند آریائی میں یہ بھٹ کہلاتا ہے۔ نام نہاد قیس عبدالرشید کا نام نہاد لڑکا بٹن جس کاایک تلفظ بطان بتایا جاتا ہے۔ اس سے ایک قبیلہ بٹانی نکلا ہے، بٹائیوں کو ڈیرہ جات میں بھٹانی کہا جاتا ہے۔ اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے ان سب کلمات کی اصل ایک ہی ہے اور یہ کلمات پارت یا پارتھیاکے معرب ہیں۔

  • == افغان ==

افغان کے لغوی معنی افغانستان میں رہنے والے کے ہیں۔ مگر عموماً پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے۔ افغان کی اصطلاح درانیوں اور ان متعلقہ قبائل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ لیکن یہ محض نام کا فرق ہے۔ یعنی ایرانی نام افغان قدرتی طور پر مغربی قبائل کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پشتون مورخین کا دعویٰ ہے کہ افغان جلا الوطن یہود نسل سے ہیں۔ ظاہر ان کے دلائل تاریخ سے ماخذ ہی نہیں ہیں۔ سب سے پرنی شہادت ایک ایرانی کتبہ میں جو تیسری صدی عیسوی کا ہے۔ یہ کلمہ ابگان کی صورت میں ملتا ہے۔ پرفیسر احمد دانی کا کہنا ہے کہ کلمہ افغان، اوگان یا اباگان تیسری صدی عیسویں (عہد ساسانی) اور چھٹی صدی عیسویں میں ملتا ہے۔ ایرانیوں نے کلمہ افغان استعمال کرنا شروع کیا جو آج تک مروج ہے۔ ہندی ہیت دان ورمہ مہرہ کی کتاب برہت سیمتہ میں یہ کلمہ اوگانہ کی شکل میں آیا ہے۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد چینی سیاح ہیوانگ سانگ کی سوانح حیات میں یہ کلمہ ایپوکین (اوگن) کی شکل میں ملتا ہے جو کوہستان کے شمال میں آباد تھے۔ ابتدائی دور کی مسلمان مصنفوں کی کتابوں میں یہ کلمہ سب سے پہلے ’حدود العالم‘ (۳۲۳ھ/۲۸۹ء) میں ملتا ہے، اس کے بعد الُعتبی (تاریخ یمنی) اور البیرونی نے بھی ذکر کیا ہے۔ فریدون کے زمانے میں ایک مشہور اور نامور پہلوان اوگان تھا اور بہادر و دلیر لوگوں کو اس نام سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ فردوسی نے اپنے شاہنامہ میں مشہور بہادروں کو اوگان سے تشبیہ دی ہے۔ فردوسی نے اس کو اوغان اور ابن بطوطہ ان کا ذکر الافغان کے نام سے کرتا ہے۔ تیمور اپنی توزک میں اوغانیوں کا ذکر کیا ہے۔ قدیم ایران کے ہخامنشی خاندان کے بادشاہ دارا اول (چھی صدی عسوی) نے کتبہ نقش رستم میں خود کو ایرانی کا بیٹا اور آریا کی اولاد سے موسوم کیا ہے اس کتبہ میں آریہ کا تلفظ ’اُرِئی‘ ہے۔ یہی وجہ ہے میں میرا گمان تھا کہ افغانستان کے علاقہ میں ابتدا میں یہ کلمہ ’اُرِیَ‘ استعمال ہوا ہوگا اور بعد میں غان نسبتی کلمہ لگ کر اورغان ہوگیا اور کثرت تکرار سے ر خارج ہوگیا۔ اس طرح یہ کلمہ اوغان بن گیا جو کہ افغان کے لئے ابتدا میں استعمال ہوتا تھا۔ مگر میں ترکوں کے مطالع سے اس نتیجے پر پہنچا کہ ایسا ہونا یقینی نہیں ہے۔ یہ کلمہ اوغان اوغہ سے نکلا ہے جس کی ’گ‘ اور ’غ‘ سے مختلف شکلیں ہیں۔ حدود العالم ہے کہ ننہار (ننگر ہار) موجودہ جلال آباد کا بادشاہ اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور تیس بیویاں رکھتا ہے جو کہ مسلمان، افغان اور ہندو ہیں۔ اس فقرے میں مسلمان کی تفریق معنی خیز ہے۔ اس جملہ سے واضح ہوتا ہے کہ افغان مسلمانوں سے ہٹ کر ایک علحیدہ قومیت اور مذہب رکھتے تھے۔ کتاب الاغانی کی کے مطابق رود گرگان کے ترکوں نے ایرانیوں کی زبان و مذہب اختیار کر چکے تھے اور وہ سانیوں دور میں ہی اس علاقے کو فتح کرچکے تھے۔ اس لئے ساسانیوں کے زمانے میں غالباََ چھٹی صدی عیسوی میں ترک اس علاقہ کو فتح کرچکے ہوں گے۔ جو ترک قبائل بلاد اسلام کے قریبی ہمسائے تھے۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا۔ جسے اغوز بھی پکارا جاتا تھا اور اسی نسبت سے بلاد اسلام میں ترکی النسل قبائل کو اغوز کہا جاتا تھا۔ اغوز یا غز ْقبیلے نے دوسرے ترک قبائل کے ساتھ غالباً چوتھی اور پانچویں صدی ہجری درمیان اسلام قبول کرلیا تھا۔

   غالب امکان یہی ہے کہ افغانستان میں رہنے والے ترک قبائل جنہیں اوغوز (جمع کے صیفہ میں) اور فرد واحد کو اوغہ پکارا جاتا تھا۔ یہ اوغہ رفتہ رفتہ ان ترک قبائل کے لئے پکارا جاتا ہو گا جنہوں نے مقامی ثقافت، زبان اور مذہب اختیار کرلیا تھا۔ یہ کلمہ اوغہ جس کی جمع اوغان تھی رفتہ رفتہ تمام مقامی قبائل کے لئے پکاجانے لگا اور بعد میں یہ بھول گئے کہ یہ کلمہ ترک نژاد قبائل کے لئے یہ کلمہ استعمال ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے تمام پشتون قبائل کو افغان بولا جاتا ہے۔ آج بھی ہزارہ قبائل پٹھانوں کو اوغہ کہتے ہی۔ 

ایران میں گان کا کلمہ اکثر نسبت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً گر گان۔ جب کہ افغانستان میں نسبت کے لئے اس کی ترکی شکل میں یہ کلمہ غان آیا ہے۔ یہ شہروں اور علاقوں کے ناموں میں عام استعمال ہوا ہے۔ مثلاً لمغان، شبرغان، پغان، دامغان اور کاغان وغیرہ۔ اس طرح یہ کلمہ اوغہ + غان = اوغان ہوگیا اور یہ اوغان رفتہ رفتہ افغان ہوگیا کیوں کہ یہ اکژ زبانوں میں ’و‘ ’ف‘ سے بدل جاتا ہے۔ * == پشتون نسل == پشتون روایات کا اہم ماخذ نعمت اللہ ہراتی کی مخزن افغانی ہے۔ اس کتاب میں جو نسب نامے دیئے گئے ہیں وہ تاریخی ماخذ کے طور پر قابل اعتماد نہیں ہیں۔ تاہم ان روایتوں کے سلسلے میں جو سترویں صدی میں افغانوں میں پھیلی ہوئیں تھیں قابل قدر ہے۔ ان روایات کے مطابق بشتر افغانوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید جو ساول یا طالوت کے ایک پوتے افغانہ کی نسل سے تھا۔ ان روایات کے مطابق پشتونوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا تھا اور اس قیس کے تین بیٹے سربن یا سرابند، بُٹن یا بَٹن اور گرگشت یا غرغشت تھے۔ سرابند کے دو بیٹے شرخبون اور خرشبون تھے۔ زیادہ تر افغان قبائیل ان کی اولاد ہیں۔ باقی ماندہ قبائیل کڑلان کی نسل سے بتائے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے مصنف کو کڑرانی گروہ کے قبائیل کا علم نہیں تھا۔ اس لئے کڑلانی گروہ کے قبائیل کو صراحۃً پشتون تسلیم کیا جاتا ہے۔ یورپی محقیقین نے پشتونوں کے دعویٰ کی تائید میں چند رسومات کو پیش کیا ہے جو کہ بنی اسرائیل میں بھی مروج تھیں۔ مگر ہم چند رسومات کی بنا پر افغانوں کو بنی اسرائیل نہیں ٹہراسکتے ہیں۔ جب کہ افغانوں میں یہ رسومات عام بھی نہیں ہیں۔ پشتونوں کی یہ نام نہاد رسومات کو آریائی قوموں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ بیوا کی شادی دیور سے کرنے کا جٹوں میں رواج ہے۔ اس طرح ادلہ بدلہ اور لڑکی کے پسے لینا برصغیر کی دوسری اقوام بھی رواج ہے، ہندو سے مسلمان ہونے والی قوموں میں اس کا عام رواج ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً راجپوتوں میں یہ غیرت کا مسلۂ ہوتی ہے، جب کہ دوسری اقوام میں جائیداد کا بٹوارہ اور جاٹوں میں یہ ادلہ بدلہ ہوتی ہیں۔ جنرل جارج میکمن کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مسلمان راجپوتوں کے خصاص کا مقابلہ اگر پٹھانوں سے کیا جائے تو کچھ زیادہ فرق نہیں آتا ہے، ماسوائے پہاڑی ماحول کا اثر ہے اور دوسری طرف پنجاب کے میدانوں میں ایک منضبط زندگی ہے۔ پشتونوں کے نام زیادہ تر یہودانہ ہیں لیکن یہ بات شاید دوسرے مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے۔ جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے میں بحیرہ خزر سے لے کر گنگا کے کنارے ایک ہی قوم یادو یا جادو آباد تھے اور ان کی اصل اندوسیتھک ہے۔ ان یادو کی نسبت سے پشتونوں کو یہ گمان ہوا کہ وہ یہود النسل ہیں۔ مختلف پشتون قبائل نسلاً ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ B S Guha کے بیان کے مطابق باجور کے پشتوں چترال کے کاشوں سے قریبی رشتہ رکھتے ہیں۔ غالباً اس لیے وہ افغانوں رنگ میں رنگے ہوئے درد ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان چوڑے سر والے پشتون اپنے بلوچ ہمسائیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ پشاور اور ڈیرہ جات کے میدانی علاقہ میں کس قدر ہندی خون کی آمزش ہے اور بعض قبائل میں ترک منگول اثر کی علاماتیں پائی جاتی ہیں، لیکن عام طور پر کہا جاسکتا ہے پشتون بحیرہ روم کی لمبوتری کھوپڑی والی ایرانی افغانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی ناک اکثر خم دار کھڑی ہوتی ہے جو سامیوں سے مخصوس سمجھی جاتی ہے۔ اس قسم کی ناک بلوچوں اور کشمیریوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ پشتونوں کے بال عموماً سیاہ ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی مستقل ایک اقلیت بھورے یا سنہرے بالوں۔ اس سے ان میں شمالی نارڈی Nordic خون کی آمزش ظاہر ہوتی ہے، ان کی ڈارھیاں گھنی ہوتی ہیں۔ آلف کیرو کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی روایات چھٹی صدی قبل عیسوی میں بنی اسرائیل سے جلاوطنی سے شروع ہوتی ہیں۔ جو 559 ق م سائرس کی تخت نشینی کا سال تھا۔ اس خاندان کی حکومت 331 ق م میں سکندر نے ختم کردی تھی۔ اس دوران کی صدیوں میں افغانستان صوبہ سرحد اور پنجاب کا کچھ حصہ ایران کی سلطنت کا حصہ رہے اور ان اقوام پر ایرانی تاریخ و تہذیب کے اثرات اسلام کے اثرات سے گہرے اور پرانے ہیں۔ پشتون، ایرانیوں اور آریاؤں اور برصغیر کے ہم نسل ہیں یعنی آریا نسل۔ گو پشتون قبائیل ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم تاہم ان میں اس کی وجہ دوسری نسلوں کا اختلاط ہے اور برصغیر کے آریاؤں کی نسبت ان میں میل کم ہوا ہے۔ جب کہ برصغیر کے باشندوں میں کثرت سے میل ہوا ہے، اس لئے یہ برصغیر کی آریا اقوام سے مختلف ہیں۔ تاہم یہ کشمیریوں اور راجپوتوں کی ان کی نسلی خصوصیات ملتی ہیں۔ ایران، افغانستان اور برصغیر کی اکثر اقوام کا تعلق مشترک نسلی سرچشمہ سے ہے جو کہ اب علیحدہ علیحدہ نسلی تشخص کی دعویٰ دار ہیں۔ قدیم حملہ آوار اقوام جو اس علاقہ میں حملہ آور ہوئی اور پھر اس علاقہ میں آباد بھی ہوئیں لیکن اب ان کا نام ہی صرف تاریخ کے صفحوں پر رہے گیا ہے اور وہ بظاہر نست و نابود ہوگئیں ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ اقوام فنا نہیں ہوئیں ہیں بلکہ نئے ناموں کے ساتھ وجود میں آگئیں ہیں۔ اگرچہ وقت کے فاصلوں نے ان کے نام ہی مختلف نہیں کردیئےاور اب ان کی مذہبی اور لسانی صورتیں بھی بدل گئیں ہیں۔ کیوں جب مختلف نسلی اور لسانی گروہ کسی جغرافیائی خطہ میں آباد ہوتے تو رفتہ رفتہ ان کے مفادات بھی مشترک ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ان کے صدیوں کے میل جول سے یک نسلی اور لسانی قوم وجود میں آگئی۔ برصغیر پر جو قومیں حملہ آور ہوئیں ان کی باقیات افغانستان میں بھی آباد ہوئیں۔ ان میں آریا سے لے کر ترکوں تک کی وہ تمام اقوام شامل ہیں۔ برصغیر کی آباد اقوام جن میں راجپوت، گوجر اور جاٹ وغیرہ اور دوسری اقوام کی باقیات افغانستان سے لے کر برصغیر میں آباد ہیں۔ اگرچہ الگ خطہ، الگ لسان، الگ ثقافت اور الگ مذہب اور صدیوں کی گرد نے ان کی شکل مختلف ہوگئیں ہیں۔ افغانوں کے وضح کئے ہوئے شجرہ نسب میں ان کے مورث قیس (کش) سربنی، بٹن، غرغشت، کڑران، خر، لو اور دوسرے ناموں کا تعلق بھی اور برصغیر کی روایتوں سے ہے۔ بیلیو کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی تین شاخیں اپنے کو قیس کی اولاد بیان کرتے ہیں۔ ان کی ایک شاخ سرابند کے نام سے موسوم ہے۔ یہ کلمہ پشتو زبان میں اس نام کا ترجمہ ہے جو پرانے زمانے مین سورج بنسی کا نام تھا۔ اس طرح سربن کے لڑکے کرشیون، شرخیون اور اس کے پوتے شیورانی (شیرانی) کے نام راجپوتوں اور برہمنوں کے عام نام کرشن، سرجن اور شیورانی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ پشتون یہودیوں کی نسبت راجپوتوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ * == قومیت کی تشکیل ==

   بارویں صدی میں منگولوں کا حملہ قدتاً تبدیلوں کا سبب بنا۔ کیوں کہ اس حملے کی بدولت جہاں سیاسی تبدیلیاں واقع ہوئیں، وہیں یہ پشتون یا پٹھان قومیت کی تشکیل کا پیش خیمہ بنا۔ کیوں کہ منگولوں کے حملے کی باعث مقامی حکومتیں ختم ہوگیں اور مختلف نسلی گروہ منتشر ہوگئے اور وہ آپس میں اختلاف رکھنے کے باوجود قومی اور مقامی سطح پر اتحاد کے لئے مجبور ہوگئے۔ وہاں کے مختلف نسلی گروہ جو مسلمان ہوچکے تھے نے متحد ہو کر منگولوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس طرح قدرتاً منگولوں کا حملہ پشتونوں کی قومیت کی تشکیل کا سبب بنا۔ اس طرح مختلف نسلی اور لسانی گروہ جن کی روایات اور شناخت مختلف تھیں اس اتحاد کی بدولت مشترک ہوگئیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ یک جدی یا پشتون کا روپ دھار لیا ۔

افغانستان میں آباد ہونے والی اقوام مسلمان ہوگئیں۔ برصغیر میں آباد ہونے والے گروہ بت پرست ہونے کی وجہ سے باآسانی مقامی اقوام میں جذب ہوکر مقامی مذہبی اساطیر کا حصہ بن گئے اور اپنا نسلی تشخص کو بھلا اپنی نئی پہچان اپنا لی اور یہی کچھ پشتونوں نے کیا، انہوں نے مسلم روایات کو اپنایا اور ان سے نسلی تعلق برتری کے لیے مختلف دعویٰ کئے گئے ہیں اور ان کی صداقت کے لیے مختلف فسانے گھڑے گئے۔ مگر اس کے باوجود برصغیر میں آباد کی قوموں کی روایات پشتونوں کی روایات بہت ملتی ہیں اور ان کا مطالعہ کریں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا نسلی سرچشمہ ایک ہی ہیں۔ * == پشتون ولی == پشتون قبائل کا معاشرتی آئین و دستور یا ضابطہ اخلاق جو پشتون ولی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ ضابطہ اخلاق (معیار) سے واقفیت نظم و نسق کے نقطہ نظر سے کم اہم نہیں ہے۔ یہ ماضی میں بھی رائج تھا اور ہنوز اکثر لوگوں کے اعمال و افعال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ چند تبدیلوں کے ساتھ تمام پشتون قبائل میں رائج رہا ہے۔ اگرچہ رفتہ رفتہ اس کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ پشتون ولی یہ درج ذیل کیا جارہا ہے۔ # خون کا بدلہ۔ (بدل) # پناہ لینے والے کے لئے آخری دم تک لڑنا۔ # سپرد کردہ جائیداد کی آخری دم تک حفاظت کرنا۔

#  مہمان نوازی اور مہمان کے جان و مال کی حفاظت کرنا۔
# ہندو، کمین، عورت اور کم سن بچے کو قتل کرنے سے پر ہیز کرنا۔    
# مجرم کے خاندان کی کسی عورت کی درخوات پر لڑائی بند کرنا۔
# اس آدمی کو مارنے سے گریز کرنا جو کسی پیر کی زیارت میں داخل ہوگیا ہو۔
# جو ہتھیار ڈال دے یا منہ میں گھانس ڈال کر پناہ مانگے اس کی جان بخشنا۔ (ننواتے)
# ملا ، سیّد اور عورت سر پر قران رکھ کو آئے تو لڑائی بند کردینا۔
# سیاہ کار کو موت کے گھات اتارنا۔
یہ ضابطہ پشتونوں میں بہت اہم رہے ہیں۔ زن، زر اور زمین بالخصوص آخری الذکر افغانوں میں ہمیشہ کشت و خون کے محرکات رہے ہیں اور ان ضوابط کی بناء پر ہمیشہ پشتون قبائل کے درمیان کشت و خون جاری رہا ہے۔ 

پشتونوں کے ضابطہ معاشرت نہ صرف پشتونوں میں بلکہ برصغیر کی دوسری قوموں خاص کر بلوچوں، جٹوں اور راجپوتوں میں چند تبدیلوں کے ساتھ رائج رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بطور ضابطہ کے مروج نہیں تھے۔ مگر وہ اس سے رد گردانی کا سوچ نہیں سکتے ہیں۔ گویا یہ آریائی دستور ہیں اور انہیں باقیدہ ضابطہ کے تحت بلوچوں اور پشتونوں میں ارتقائی شکل اختیا ر کی۔

  • == پشتون قبائل کی جغرافیائی تقسیم ==

درانی سبزوار اور زمین داور سے قندھار اور چمن کے جنوب و مشرقی علاقہ تک آباد ہیں۔ ان کی شاخوں میں پوپل زئی بہ شمولیت سدو زئی اور بارک زئی ہیں۔ درانیوں کے بعد طاقت ور قبیلہ غلزئی ہے۔ ہوتک ان کی شاخ تھی، اب ان کی اہم شاخ سلیمان خیل ہے۔ خروٹی غلزئیوں کے قریب ہیں۔ یہ قلات غلزئی سے جلال آباد تک آباد ہیں۔ کاکڑ اور ترین بلوچستان کے اضلاع پشین اور زوب میں طرف آباد ہیں۔ سبی کے پنی ان کے ہمسائے ہیں۔ زوب کے شمال مغرب میں تخت سلیمان کے آس پاس شیروانی ملتے ہیں۔ وزیری جو درویش خیل اور محسود میں تقسیم ہیں دریائے گومل اور دریائے کرم کے درمیانی کوہستانی علاقہ سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔ مشرقی جانب کی پہاڑیوں میں بٹانی اور لوہانی ملتے ہیں۔ کُروم زرین کے جنوب میں جو میدان ہیں ان میں مروت بستے ہیں ۔ وادی ٹوچی میں دوری اور بنوچی آباد ہیں۔ خٹک کوہاٹ کے میدانوں میں بسے ہوئے ہیں اور ان سلسلہ آبادی اٹک تک جاتا ہے۔ دریائے کرم کی بالائی وادی میں بنگش، شیعہ توری خیل اور دیگر قبائل پائے جاتے ہیں اور سرحد کے پار افغانستان کی جانب جاجی اپنے ہمسایہ منگل اور خوست وال کے ساتھ آباد ہیں بنگش کے شمال میں اورک زئی بستے ہیں تیراہ اور خیبر و کوہاٹ کے دونوں جانب آفریدی اور ان کے شمال میں شنواری آباد ہیں۔ دریائے کابل کے شمال میں ضلع پشاور اور افغانستان دونوں طرف مہمند برائے جمان ہیں اور ضلع پشاور کے خلیل ان کے رشتہ دار ہیں۔ مہمند کے مشرق میں پشاور کے علاقے اور شمال کے پہاڑوں (بنیر، سوات، دیر وغیرہ) کے علاقہ میں یوسف زئی اور ان کے حلیف منداں وغیرہ آباد ہیں۔ جو داردیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اور اپنے اندر ملاتے چلے جارہے ہیں۔ انہیں سواتی کہا جاتا ہے اور یہ مخلوط نسل کے لوگ ہیں۔ جنہیں یوسف زیؤں نے دریائے سندھ کے پا ہزارہ میں دھکیل دیا ہے۔ وادی کنڑ اور افغانستان کے دوسرے شمالی و مشرقی حصوں میں صافی پائے جاتے ہیں۔ * == قبول اسلام == کیرو کا کہنا ہے کہ اس قوم پر ایرانی اثرات اسلام کے اثرات سے زیادہ گہرے اور پرانے ہیں۔ مزید اس کا کہنا ہے کہ سفید ہنوں کے خاتمہ اور محمود غزنوی کا زمانہ (چارسو سال) ایران کی مشرقی سرحد تاریخی لحاظ سے گمنام اور تاریک ہے۔ صرف چند سکوں سے کچھ حالات معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ عرب چارسو سال تک افغانستان و گندھارا کو فتح نہیں کر سکے۔ جب کہ عرب مکمل طور پر کابل و غزنی کو مکمل طور پر فتح نہیں کرسکے اور وہ کوہ سلیمان تک تو بالکل پہنچ نہیں سکے۔ اسلام کی ابتدائی دو صدیوں میں عربوں کا اثر صرف سیستان تک رہا۔ وہ ہرات اور بست سے آگے مشرق کی طرف نہیں بڑھے۔ زاابلستان اور کابل پر بدستور ہندو شاہی حکومت کررہے تھے۔ اس لئے گندھارا اور اس کی ملحقہ آبادی مسلمان نہیں تھی۔ پشتونوں نے چوتھی صدی ہجری میں اسلام قبول کیا تھا۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اسلام پہلی صدی ہجری بلکہ دور نبوت میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ مگر یہ تمام روایات موضوع ہیں اور وضع کی گئیں ہیں۔ چوتھی صدی ہجری تک اس علاقہ میں مسلمانوں اور مقامی باشندوں میں لڑائیاں ہورہی تھیں۔ اس وقت زابل، کابل، بست جروم اور دوسرے علاقوں کے مقامی حکمران غیر مسلم تھے۔ ابن کثیر لکھتا ہے کہ افغانستان کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا، مگر خود پشتون ابھی تک مسلمان نہیں تھے اور کافر سمجھے جاتے تھے۔ یہ علاقہ صفاریوں کے دور میں مسلمانوں کے قبضہ میں آئے تھے اور افغانستان کے اکثر قبائل محمود غزنوی کے دور میں مسلمان ہونا شروع ہوئے تھے۔ ابن حوقل چوتھی ہجری میں غور کے علاقے میں آیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ مسلمان پائے جاتے ہیں باقی کافر ہیں۔ محمود غزنوی نے غور پر حملہ کیا اور محمد بن سوری کو گرفتار کر کے لے جارہا تھا کہ اس نے راستے میں وفات پائی۔ العتبی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ اپنے نام کے باوجود مسلمان نہیں تھا۔ حدود العالم میں ہے کہ یہ ہندو تھا۔ محمود غزنوی نے اس کے بیٹے ابو علی کوحکمران بنا دیا جو کہ راسخ العقیدہ مسلمان تھا۔ صاحب حدود العالم قندھار شہر کو برہمنوں اور بتوں کی جگہ، لمغان کو بت خانوں کا مرکز، بنیہار کو بت پرستوں کا مقام خیال کرتا ہے۔ اس وقت بست، رخج اسلامی شہر تھے اور کابل کی نصف آبادی مسلمانوں کی اور نصف ہندوں کی تھی۔ الاصطخری غور کو دارلکفر قرار دیتا ہے جہاں مسلمان بھی رہتے ہیں۔ منہاج سراج لکھتا ہے کہ امیر سوری کے عہد میں بعض علاقے مثلاً ولشان بالا و زیر ابی شرف اسلام نہیں ہوئے تھے اور ان میں باہم جھگڑے ہونے لگے۔ صفاریوں نے نیمروز سے بست و زمند کا قصد کیا۔ یعقوب لیث نے تگین آباد (رخج) کے امیر لک لک (لویک) پر حملہ کردیا۔ غوریوں کے مختلف گروہ سنگان کی سرحد پر پہنچ گئے (غالباً حملے کی وجہ سے) اور وہاں سلامت رہے۔ لیکن ان کی لڑائی جھگڑے جاری رہے اور یہ لڑائی اہل اسلام اور اہل شرک کے درمیان تھے۔ چنانچہ گاؤں گاؤں میں جنگ جاری تھی۔ چونکہ غور کے پہاڑ بہت اونچے تھے اس لئے کسی غیر کو ان پر تسلط پانے کا شرف نہیں ملا۔ البیرونی لکھتا ہے کہ ہندوستان کے مغربی کوہستان میں افغانستان میں افغانوں کی بہت سی قومیں رہاش پزیر ہیں اور وہ سندھ تک پھلی ہوئی ہیں۔ وہ ان کے متعلق لکھتا ہے کہ کہ جنگ جو وحشی قبائل ہندوستان کی سرحد سے کابل تک آباد ہیں اور یہ ہند المذہب ہیں۔ سبکتگین نے پہلے پہل کابل و گندھارا سے ہندوئں کو نکالنے کی کوشش کی۔ اس نے دودفعہ جے پال کو لمغان اور ننگرباد میں شکست دی اور انہیں وادی کابل کے بالائی علاقے سے نکال باہر کیا اور دریائے سندھ کے مغربی کنارے بھی خالی کرالئے، بلکہ ہندوستان پر بھی حملے کیئے۔ غوری قبائل چوتھی صدی ہجری تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ محمود غزنوی کے دور سے پہلے تک اس اطراف میں نہ اسلامی درسگاہیں تھیں نہ ہی اسلامی تعلیم کا رواج تھا اور نہ ہی مسلمان علماء یہاں پھیلے تھے۔ چوتھی صدی ہجری میں محمود غزنوی کے دور میں یہاں کے قبائل نے اسلام قبول کیا تھا۔

  • == پشتو (پختو) زبان ==

پشتو جنوبی و مشرقی افغانستان میں جلال آباد کے شمال میں قندھار اور وہاں سے مغرب کی جانب سبزوار تک بولی جاتی ہے۔ جب کہ کابل اور غزنی کے علاقہ میں فارسی بولی جاتی ہے۔ پاکستان میں خیبر پختون خواہ کے زیادہ تر باشندے دیر اور سوات سے جنوب کی طرف، نیز پنجاب کے بعض اقطلاع میں اور بلوچستان میں جنوب کی جانب کوئٹہ میں پشتو رائج ہے۔ ڈاکٹر شہید اللہ کا کہنا ہے کہ پشتو ہند یوری زبانوں کے گروہ کی ہند آریائی شاخ سے تعلق رکھتی ہے اور ہند آریائی کی چھوتی شاخ ایرانی سے ماخذ ہے۔ اس میں دردی گروہ (باشگلی، وائے لا، دیرون اور تیراہی وغیرہ) کی بعض صوتی خصوصیات شامل ہیں۔ ایک روسی مشترق وی اے ابائیف کا کہنا ہے کہ پشتو میں لثوی اصوات آریائی اصوات کا حصہ نہیں رہے ہیں، وہ لازمی دڑاوری زبان سے ماخذ ہیں۔ افغانستان شروع ہی سے قوموں کی گزر گاہ رہا ہے۔ یہ قبائل چاہے مشرق کی طرف چینی ترکستان کی طرف سے آئے ہیں یا مغرب میں یونان، ایران و عرب ممالک کی سے اور ان قبائل تمام نے پشتو زبان کی تشکیل میں حصہ یا اپنا اثر چھوڑا ہے۔ ترخان میں بعض اوراق ایک اور زبان کے ملے ہیں، جسے سغدی زبان قرار دیا گیا ہے اور یہ ہند سکاتی یا سکاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے، جو مشرقی ایرانی زبانیں کہلاتی ہیں جن کی نمائندگی پشتو اور پامیر کی بعض زبانیں (سری، قولی، دخی وغیرہ) کرتی ہیں۔ سیکاتی یا سیھتی یا ساکا افغانستان کے شمالی علاقوں میں عہد قدیم سے آباد تھے۔ یہ آریوں کے ہم نسل تھے۔ یہ بعد کے زمانے میں افغانستان پر چھاگئے اور انہوں نے افغانستان پر حکومت بھی کی۔ ان کی حکومتیں افغانستان سے ختم ہوگیں، مگر ان کے اثرات افغانستان پر بدستور قائم رہے۔ ساکاؤں کے جہاں افغانستان پر گہرے اثرات پڑے وہاں ان کے اثرات مقامی زبانوں پر بھی پڑے۔ مثلاً پشتو میں دریا کو سین بولتے ہیں یہ بھی ساکائی کلمہ ہے۔ آج شمالی برصغیر اور رجپوتانے کے اکثر دریاؤں نہروں اور نالوں کے نام سین، سون اور سندھ کی شکل میں ملتے ہیں۔اس طرح پشتو میں تلوار کو تور کو کہتے ہیں۔ جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ سیتھا میں تلوار کو تر کہتے ہیں۔ پشتو زبان جو جو سیکاتی گروہ کی زبان کہلاتی ہے اور یہ دوسری ایرانی زبانوں کی نسبت سیتھی زبان سے زیادہ متاثر ہے۔ عربوں کے دور میں عربی کا نمایاں اثر پڑا اور خاص سامی یا عربی حروف کا پشتو میں استعمال ہوا۔ اس سے پہلے یہاں ’ث، ح، ڈ، ص، ض ط، ظ اور ع‘ کا استعمال یہاں کی زبانوں میں نہیں ہوتا تھا اور بہت سے عربی الفاظ یا ان کے معرب پشتو میں استعمال ہوئے۔ پشتو آریائی کی ایرانی شاخ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے اکثر الفاظ اوستا، فارسی اور سنسکرت کے قریب ہیں۔ بقول جمال الدین افغانی کہ حق تو یہ ہے لوگ ایرانی الاصل ہیں اور ان کی زبان ژند و اوستا سے ماخوذ ہے اور آج کل کی فارسی سے بہت مشابہہ رکھتی ہے۔ جدید مورخین مثلاً فرانسس فغورمان وغیرہ اس کی تعائید کرتے ہیں۔ اس کی تعائید میں درج ذیل کچھ الفاظ پیش کئے جارہے ہیں، جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پشتو آریائی زبان ہے۔

پشتو ===== سنسکرت ===== اوستا ====== فارسی ========= معنی ===[ترمیم]

دکلہہ ===== جمالہ ======= زیم ====== زمین ========= زمین ===[ترمیم]

== ستاری ==== ستاری ====== ستوبہ ====== ستارہ ========= ستارے ===== 

نخ == ==== مکر ======= درکھ ======= رخ ========= چہرہ ===[ترمیم]

شبد ===== جرمن ====== شپ ======= شب ========= رات ===[ترمیم]

سخر ===== ہوسور ====== ہورسور ====== خسر ========= سسر ===[ترمیم]

جوا ===== ۔ ======= زبان ========= زبان ===[ترمیم]

خاخ ===== شاکھ ======= ۔ ======== شاخ ========= شاخ ===[ترمیم]

اوبہ ===== آپ ======= آپ ======== آب ========= پانی ===[ترمیم]

ونہ ===== ون ======= دن ======== وخت ========= درخت ===[ترمیم]

سرمن === چرمن ====== جرمن ======= چرم ========= چنرہ ===[ترمیم]

پلار ===== پائری ======= پتر ======== پدر ========= باپ ==[ترمیم]

غرما ===== گرما ======= گر ========= ۔ ========== دوپہر ===[ترمیم]

غوا ===== گؤ ======= گؤ ========= گاؤ ========== گائے ===[ترمیم]

تاوا ===== نؤ ======= نااؤ ========= ۔ ===== ===== کشتی ===[ترمیم]

== اسپا ===== اشو   ====== اسپو     ======== اسپ ========= گھوڑا =====

ذات ===== جات ===== زات ======== زاد ========= ذات ===[ترمیم]

پشتو میانہ فارسی (پہلوی) سے قریب ہے۔ اس میں فرق ’ل‘ کا ہے۔ میانہ فارسی میں جہاں ’ر‘ استعمال ہوا ہے، وہاں پشتو میں ’ل‘ یا ’ڑ‘ استعمال ہوا ہے۔ قدیم ایرانی زبانوں (اوستا، قدیم فارسی، پہلوی) میں ’ل‘ استعمال نہیں ہوا ہے۔ پشتو میں ایرانی الفاظ کی اندورنی ’د‘ کی جگہ ’ل‘ استعمال ہوا ہے، اور ہندوستانی زبانوں کی قربت کی وجہ سے اس زبان میں کوزی حروف بھی مروج ہیں۔ ===== پشتو ========== ایرانی ===== ===== معنی ===== ===== زوڑ ========== بڑھا، ========== قدیم ===== ===== پلار ========== پدر ========== باپ ===== ===== پل ===== ===== پد ===== ===== پاؤں ===== ترکی النسل قبائل میں یوچی، ہن اور ترک شامل ہیں۔ انہوں نے اس علاقے پرطویل عرصہ تک حکومت کی۔ ان قبائل کی حکومتیں اگرچہ برصغیر خاص کر شمالی برصغیر پر بھی قائم ہوئیں۔ مگر وہاں ان کا تسلط زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہا اور دوسری اہم بات یہ ہے یہ قبائل برصغیر کی ثقافت کے زیر اثر آجانے کی وجہ سے اپنے وہ گہرے اثرات مرتب نہیں کئے۔ جو انہوں نے افغانستان میں چھوڑے ہیں اور آج بھی بہت سے افغان قبائل ترکی النسل ہیں۔ یہی وجہ ہے ترکی زبان کے اثرات پشتو پر بھی پڑے اور خاص کر ’ف اور ق‘ کا پشتو میں استعمال عام ہوا۔ ترکی النسل قبائل کا اثر پشتو کی تشکیل اور ارتقاء باعث بنا اور پشتو میں ایرانی ’گ‘ کی جگہ ’غ‘ استعمال ہوا۔ مثلاًً ==== ایرانی ========== پشتو ======= معنی ===== ===== گان ========== غان ===== ===نسبتی کلمہ ہے جو کلمہ کے اسمی لاحقہ کے آخر میں آتا ہے۔ ===== گر ===== ===== غڑ ========== پہاڑ ===== ===== گرما ========== غڑما ========= دوپہر ===== ہندآریائی زبانوں کی قربت کی سے حنکی حرف استعمال ہوتے ہیں اور یہ زبان دوحصوں میں تبدیل ہوگئی، ایک مشرقی اور دوسری مغربی۔ پشتو بولنے والے اس طرح دو طبقوں میں مستقیم ہیں ایک وہ ’ژ‘ اپنی اسی آواز کے ساتھ بولتے ہیں جو پشتو میں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے وہ جو ’ژ‘ کی جگہ ’گ یا ج‘ بولتے ہیں۔ اس امتیاز کے لئے عام طور پر ’ژ اور ش‘ بولنے والے خٹک لہجے کے پشتون اور ’گ، ج اور خ بولنے والے یوسف زئی لہجے کے پختون کہلاتے ہیں۔ پشتو میں اس امتیاز کی فرضی لکیر اٹک سے افغانستان میں دور تک چلی گئی ہے۔ سر آلیف کیرو باالوضاحت سے بتلائی ہے کہ شمال مشرقی قبیلے پختو اور جنوب مغربی قبیلے پشتو بولتے ہیں۔ دونوں کے درمیان حد فاضل شرقاً و غرباً اٹک کے جنوب میں دریائے سندھ سے کوہاٹ اور وادی میراں زئی سے ہوتی ہوئی تل تک، وہاں سے دریائے کرم کے جنوب میں ہریوب اور درہ شترگردن تک چلی گئی ہے۔ اس حد کے شمال مشرق میں پختو بولی جاتی ہے اور یہ قبائل دیر، سوات، بنیڑ اور باجور کی زبان ہے۔ اس حد کے جنوب مغرب میں جو قبائل پشتو بولتے ہیں، ان میں خٹک، درانی اور قریب قریب (جلال آباد کے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر) خوست، وزیرستان کے سارے قبائل بنوں، ڈیرہ جات کے قبائل اور ژوب اور بلوچستان کے دوسرے علاقے بھی جو قندھار کے قریب واقع ہیں پشتو بولتے ہیں۔

مغربی ========== مشرقی ======== معنی[ترمیم]
زناور ========== جناور ========= جانور[ترمیم]
سمسہ ========== چمچہ ========== چمچ[ترمیم]
گژئی ========== گلتی ========== اولے[ترمیم]
شیشہ ========== خیخہ ========== شیشہ[ترمیم]
  • پشتو (پختو) ادب

عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ غوریوں کی زبان پہلے پشتو تھی۔گز شتہ صدی کے وسط میں پشتو کی کوئی کتاب سترویں صدی سے پہلے کی شائع ہوئی تھی۔ لیکن 1940ء۔ 1941ء میں عبدالحئی حبیبی نے سلیمان ماکو کے کچھ اجزاء شائع کئے۔ یہ ایسی نظموں پر مشتمل ہے جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتاہے کہ یہ گیارویں صدی میں لکھی گئیں تھیں۔ 1944ء؁ میں عبدالحئی حبیبی نے کابل میں محمد ہوتک کی ’پٹہ خزانہ‘ (تکمیل 1729ء؁) میں شائع کی۔ جس کے متعلق دعویٰ کیا گیاکہ یہ قندھار میں لکھی گئی تھی جو آٹھویں صدی سے مولف کے عہد تک کے شعرا کی بیاض ہے۔ ڑاورٹی لکھتا ہے کہ شیخ ملی نے 1417ء؁ میں یوسف زئیوں کی ایک تاریخ لکھی تھی۔ لیکن اس تصنیف کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے۔ایک مخطوطہ موجود ہے جو بایزید انصاری (م 1585ء؁)کی خیر البیان پر مشتمل ہے اس کا معائنہ کیا جاچکا ہے۔ سترویں صدی کی ابتدائی دور سے ہمارے پاس بایزید انصاری کے راسخ العقیدہ مد مقابل اخوندہ درویزہ کی دینی اور تاریخی کتاب (مخزن افغانی، مخزن اسلام) موجود ہیں، جو طعن و تشنع سے لبریز ہیں۔ سترھویں اور اٹھارویں صدی میں متعدد شعرا پیدا ہوئے۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر فارسی کے نقال ہیں۔ یورپی معیار کی رو سے اور جدید افغانستان کے فومی شاعر کی حثیت سے ان میں سب سے نمایاں خوشحال خان خٹک (1022ھ / 1613ء تا 1106ھ / 1694ء) ہے۔ سلیمان ماکو اور محمد ہوتک کی کتابیں معتدد لسانی اور تاریخی گنجلکیں پیدا کرتی ہیں اور ان کے صحیح ہونے کا سوال حتمی طور پر اس وقت تک طہ نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک ان کے اصلی مخلوطات لسانی تحقیقات کے لئے سامنے نہیں لائے جاتے ہیں۔ اگر محمد ہوتک کی پٹہ خزانہ کی صحت تسلیم کرلی جائے تو یہ امر بھی پھر بھی مشتبہ رہتا ہے کہ محمد ہوتک نے نظموں کی جو تاریخی لکھی ہیں وہ کہاں تک درست ہیں۔ پٹہ خزانہ اور حسن میمندی کے متعلق دعویٰ کی صھت کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔ دیمز کا کہنا ہے کہ یہ بات فرض کرنے کے لئے کوئی شہادت نہیں ہے کہ غور کے باشندے شروع میں پشتو بولتے تھے۔ صاحب طبقات ناصری منہاج سراج جو غور میں رہائش پزیر رہا اور یہ غوریوں کا ہم عصر اور اس نے غور کے شاہی محل میں پرورش پائی تھی۔ اس کے غور کے حکمرانوں سے ذاتی تعلقات رہے اور اس کی کتاب طبقات ناصری غوریوں کے دور کے بارے میں مستند ماخذ ہے۔ مگر منہاج سراج ایسا کوئی تذکرہ نہیں کرتا ہے کہ غوری ابتدا میں پشتو بولتے تھے۔ اگر غوری ابتدا میں پشتو بولتے تھے تو عوام الناس کی زبان تو پشتو ہونی چاہیے تھی۔ مگر ہمیں ایسا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ اس طرح منہاج سراج نے غوریوں کے دور کے متعدد شعرا کا ذکر کر تا ہے، جس میں بعض ان میں حکمران بھی شامل تھے اور منہاج ان کا کلام بھی درج کیا ہے۔ ان میں علاؤالدین جہاں سوز قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اس دور کی علمی سرگرمیں پر بھی روشنی ڈالی ہے، مگر پشتو کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ہے۔ یہی وجہ ہے ڈیمز کو کہنا پڑا کہ اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملتی ہے کہ غوریوں کی زبان ابتدا میں پشتو تھی۔ اگرچہ عبدالحئی حبیبی نے تقلیمات طبقات ناصری میں متعدد ایسے کلمات کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہ پشتو میں استعمال ہوتے ہیں۔ مگر خود عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ پشتو پہلوی سے نکلی ہے، اوپر بالا الذکر ہوچکا ہے کہ پشتو پر حملہ آور قوموں کی زبان کے اثرات بھی پڑے ہیں اور پشتو ایرانی کی مشرقی شاخ جو کہ ساکائی یا سیکاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور مسلمانوں کی آمد کے وقت وہاں ترکی اقوام بھی آباد تھیں۔ وہاں اس وقت ان اقوام کی مقامی حکومتیں قائم تھیں اور وہاں مقامی طور پر ہند آریائی کی بولیاں، ترکی، سیھتی اور دوسری بولیاں بولی جاتی تھیں۔ لہذا ان اثرات کے تحت چند کلمات میں اس قسم کا اشارہ ملا ہے، تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ پشتو کی تشکیل ساسانی عہد یا اس سے پہلے ہی تشکیل پاچکی تھی اور وہ علمی اور ادبی زبان بن چکی تھی جیسا کہ پشتو موخین دعویٰ کرتے ہیں۔ کیوں کے محض دعویٰ کے علاوہ کسی قسم کا ثبوت نہیں ملا ہے۔ لہذا یہ تمام نام نہاد دعویٰ بے بنیاد ہیں جن کا مقصد یہی ہے کہ حقیقت کے برعکس پشتو کی قدامت کو ثابت کیا جائے

  • پشتون قبیلہ

پشتون ایک قبائیلی سردار کے تحت منعظم نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کا جمہوری مزاج ہر چھوٹے سا گروہ اپنا معتبر خود چنتا ہے۔ ان کے یہاں توارث کو اہمیت حاصل نہیں ہے بلکہ اکثر رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ایک دفعہ رسوخ حاصل کرلیا جائے تو اس کی بقا قبائیلی حمایت کے بجائے اکثر خارجی پشت پناہی جیسے سرکاری دستگیری پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لئے کمزور مظبوط سے دبتے چلے جاتے ہیں اور کور ذہن ذکی الفہم سے۔ لہذا پشتونوں میں انفردیت کے با نسبت دوسرے قبائیل کے نپنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ معتبری یا خانی کے لئے اکثر سازشوں سے کام لیا جاتا ہے۔ جو معتبر یا خان ان سے کام نہ لے وہ جلد ہی سربراہی سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اکثر قبائیل کی تنظیم جمہوری ہوتی ہے اور مورثی خان کو محدود اختیارات ہوتے ہیں۔ زیادہ اہم امور اس قبیلے کی شاخوں اور خیلوں کے سرداروں کے مشورے سے طے کئے جاتے ہیں۔ قبیلے یا گاؤں کی مجلس جو جرگہ کہلاتی ہے، بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ عام طور پر پشتون سماجی یا طبقاتی تمیز کے قائل نہیں ہیں۔ تاہم چند خاندانوں جیسے سردار خیل اور بعض سادات مختلف وجوہ کی بنیاد پر اپنے آپ کو اپنے ساتھیوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ باقی لوگوں میں سماجی حثیت ایک جیسی ہے۔ ملک کا خطاب کسی کو کوئی فوقیت نہیں بخشتا ہے اور عام قبائیلی اسے اپنا ہمعسر گرانتے ہیں۔ سابقہ ایام میں یہ ملوک کافی بااثر تھے۔ مالیہ اور عام نظم و نسق کے ذمہ دار تھے اور اس طرح فضیلت کا دعویٰ رکھتے تھے۔ لیکن یہ کافی کم ہوگیا ہے۔ سیّد یا ملا کی غیر موجودگی میں افغان اجتماع میں معمر ترین فرد کو ترجیع دی جاتی ہے۔ نظری طور پر ایک قبیلہ یک جدی ہوتا ہے۔ عزیز و اقارب کے کئی گروہوں سے مل کر بنتا ہے۔ صرف وہی وارث ہوتے ہیں جو نسلی طور پر درست پوتے ہیں۔ خاندان کو آباء اجداد سے جدا نہیں سمجھا جاتا ہے اور فرد قوم سے نہیں بلکہ خاندان سے پہنچانا جاتا ہے۔ نسل باپ کے توسط سے چلتی ہے اور بیٹا باپ کے خون کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن قبیلہ کے گروہ بہت سے حصوں میں مستقیم ہوتے ہیں، جن کا سراغ لگانا محال ہے اور یہ چار رائج العام ہیں۔ # قوم = یعنی من حثیت الکل۔ # خیل یا زئی = یعنی پارہ قبیلہ جو مشترکہ علاقہ میں مقیم ہے۔

#           حصہ = جو ایک دوسرے کے قریب رہتا ہے اور غالباً مشترک الجائداد ہوتا ہے۔ 
#        کہول = یعنی خاندانی گروہ جو رشتہ داریوں میں بندھا ہوتا ہے۔

جب ہم پشتون قبائل کا مطالع کریں تو کئی پیچدیگیوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔ اکثر قبائل کے ساتھ غیر نسلی گروہ بھی مسلک ہوتے ہیں۔ جنہیں ہنڈون یا ہمسایہ کہتے ہیں۔ ان کے لئے رشتہ داری کی شرط نہیں ہوتی ہے۔ ایسے خاندان یا فرد مشترکہ دکھ سکھ کے حوالے سے قبیلے سے مربوط ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں مشترکہ خونی عداوت اتحاد قبیلہ کا بنیادی اصول ہے اور یہ مشترک خون یعنی رشتہ خون یعنی یک جدی خون کے مفروضہ کا روپ دھار لیتا ہے۔ قبیلے کے بہت سے گروہ ہوتے ہیں جو خود بھی کئی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ان کا سراخ لگانا آسان نہیں ہے۔ اس طرح کی پیچیدیگیوں کو واضح کرنے کے لئے یوسف زئی قبیلے کی مثال دی جاسکتی ہے۔ اس قبیلے کی پانچ شاخوں میں ایک اکو زئی ہے۔ اکوزئی، رانی زئی اور دوسری شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ رانی زئی کے پانچ خیلوں میں ایک خیل غیبی زئی ہے اور غبی زئی مزید پانچ شاخوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ان میں ایک نور محمد خیل ہے جو خود دو خیلوں غریب خیل اور ڈور خیل میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ بعید نہیں ہے کہ کسی قبیلے کی کوئی شاخ طاقتور ہوگئی تو رفتہ رفتہ اور پورا قبیلہ اس شاخ کی نسبت سے پہچانا جانے لگا اور اصل قبیلہ یا قوم پس پردہ میں چلی گئی اور اس نے رفتہ رفتہ اس نے ایک ذیلی شاخ کی حثیت اختیار کرلی یا غائب ہوگئی۔ یہی وجہ ہے وقت کے ساتھ بہت سے اہم قبائل پس پردہ ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ نئے جنم لینے والے قبیلے بھی قدیم قبیلے سے کی ہی باقیات ہوتے ہیں مگر ان کا روپ بدل جاتا ہے۔ عہد قدیم میں طاقت کا انحصار کسی قبیلے کی افرادی قوت پر ہوتا تھا اور ایسا بھی ہوتا تھا کہ حملہ آور جب کسی قوم یا قبیلے پر حملہ آور ہوتے تھے تو مقامی باشندے شکست خوردہ ہونے کی صورت میں وہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ باقی پس مندگان حملہ آورں میں جذب ہوجاتے تھے۔ کیوں کہ اسی میں فاتحین کا مفاد ہوتا تھا اور اس طرح ان کی افرادی قوت بڑھ جاتی تھی۔ اس طرح نہ صرف ان کی حکومت کو استحکام حاصل ہوتا تھا بلکہ مزید جارہانہ اقدام بھی کر سکتے تھے۔ اس کی ہمارے سامنے بڑی مثال منگولوں کی ہے۔ جو کہ ایک معمولی قبیلہ تھا اور چنگیز خان نے ہر شکست خوردہ قبیلے کو اپنے ساتھ ملا کر منگولیا سے ترکستان تک کے قبائل کو اپنے اندر جذب کر کے نصف دنیا کو روند ڈالا۔ اس ٹوٹ پھوٹ اور اشتراک عمل سے نئے نئے قبیلے جنم لیتے ہیں۔ گویا کوئی گروہ عروج حاصل کر لیتا ہے تو اسے نیا قبیلہ تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے جب کوئی ذیلی گروہ طاقت ور ہوجاتا ہے تو وہ قبیلے کے لئے خطرہ بن جاتا ہے کہ وہ اسے جذب نہ کرلے۔ اس لئے اس کی جداگانہ تنظیم کردی جاتی ہے۔ ہمارے سامنے اس کی مثال بارک زئیوں کی ہے۔ احمد شاہ ابدالی نے بارک زئیوں کی روز افزؤں تعداد سے ڈر کر انہیں سواد اعظم سے علحیدہ جدا گانہ تنظیم بنادی۔ اس طرح مختلف قبائلی گروہ اپنے مفادات کے تحت اس نو تشکیل گروہ میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور جب اس ذیلی شاخ کو عروج حاصل ہوجاتا ہے تو اس کو خارجی امور کی پشت پناہی سے ہی اس کو قائم رکھ سکتا ہے۔ دوسری صورت میں شکست و رنجیت کی صورت میں وہ قبیلہ انتشار کا شکار ہوکر غائب ہو جاتا ہے۔ ہمارے سامنے اس کی بڑی مثال سیانی قبیلے کی ہے جو ایک طاقت ور قبیلہ تھا مگر خارجی پشت پناہی نہ ہونے کی وجہ سے انتشار کا شکار ہو کر غائب ہوگیا۔ جب ٹوٹ پھوٹ اور اشتراک کا عمل جاری رہتا ہے تو گویا قوم کی تشکیل نو ہوتی رہتی ہے۔ کیوں کہ مختلف قوموں کی باقیات متحد ہو کر نئی قوم کی تشکیل کا موجب ہوتی ہیں اور مختلف قوموں کی روایات جو ٹوٹ پھوٹ اور اشتراک عمل کی بدولت بہت حد تبدیل ہوجاتی ہیں اور وہ اشتراک عمل کی بدولت مشترک ہوجاتی ہیں اور وہ قوم کی تشکیل نو کی بدولت وہ قومی روایات بن گئیں۔ پشتون قبائل کے اکثر نام کلمہ خیل سے بنتے ہیں یا لائقہ زئی ہوتا ہے۔ لیکن بعض صورتوں میں اس مراد پورا قبیلہ ہوتا ہے۔ ہم جب ان کے شجروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں آریائی اقوام سے لے کر ترکوں کی باقیات کا پتہ چلتا ہے۔ جو اب مختلف قبائل کی شاخوں صورت میں پائے جاتے ہیں اور ان کے مشترک ناموں سے بخوبی اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ نام جو مختلف صورتوں یعنی منفرد، مرکب اور معرب کی صوتوں میں ملتے ہیں اور اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی قوم یا گروہ کی باقیات ہیں جو بکھر جانے کی وجہ سے اب مختلف قبائل میں جذب ہوگئے ہیں یا اب اپنی شناخت کو کھود کر نئی شناخت اپنالی ہے اس لئے اب ان کی اصلیت کا پتہ چلانا دشوار ہے۔ اس کی ایک مثال سہاکاکزئی ہے جو امتعداد زمانہ سے اسحٰق زئی کہلانے لگے یہ سیتھی یا ساکا قبائل ہیں جو اب بہت سے قبائل کی ذیلی شاخ بنے ہوئے ہیں۔ یہ سھتی یا ساکا قبائیل جنہوں نے قدیم زمانے میں افغانستان کے علاوہ وسطہ برصغیر تک کو زیر کرلیا تھا اور ایرانی بادشاہوں کے لیے عذاب بنے ہوئے تھے۔ ان کی سورشوں کی روک تھام میں کتنے بادشاہ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

  • == تاریخ ==

ٍٍ عربوں کے حملے کے وقت علاقہ غور میں جہان پہلوان کی حکمرانی تھی۔ بعد کے دور میں یہاں غوری حکمران ہوئے۔ غالباً یہ جہان پہلوان کے اخلاف تھے اور اس علاقے کی نسبت سے غوری مشہور ہوئے۔ اس طرح پہلی پستون حکومت غوریوں کی مملکت تھی جو مسلمانوں کی آمد سے قبل غور کے علاقے میں قائم ہوئی تھی اور اسلام قبول کرنے کے بعد میں اپنے عروج کے زمانے میں بنگال سے لے کر خوارزم تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی سلطنت تیرویں صدی میں پہلے خوارزم شاہیوں اور پھر منگولوں نے مٹا دیا اور اس علاقے میں ایلخانی سلطنت قائم ہوگئی۔ کیرو لکھتا ہے کہ ترکی النسل محمود غزنوی کی حکومت لودھیوں کی شکست اور بابر کا عہد 1526ء کے آغاز اور پھر شیر شاہ سوری 1539ء تا 1555؁ء کا عرصہ افغانوں کے عروج و ملکی اثرات و غلبہ اور ان کے مسلمان ہونے اور پشتونوں کے قیام سلطنت (نہ کہ آبائی وطن) کا زمانے ہے۔ اس زمانہ کی پہلی دو صدیوں میں مرکز حکومت غزنی رہا اور آخر کی تین صدیوں میں دہلی و ہندوستان کے دوسرے علاقہ میں۔ ان دونوں زمانے میں افغان ہر اول دستہ رہے۔ پہلے بطور تنخوادار ملازموں کے اور بعد میں خود صاحب حکومت ہونے کے۔ اس تمام عرصہ میں ان کے وطن پر کسی نے باہر سے حملہ ہوا اور نہ انہوں نے خود منعظم حکومت قائم کی۔ اس عرصہ میں ان کا وطن مختلف قبیلوں کی پروش گاہ رہا۔ جہاں سے جنگ آزما سپاہی مہیا ہوتے رہے۔ شہاب الدین غوری کے نائب قطب الدین ایبک نے 1193؁ء میں دہلی پر قبضہ کیا۔ لیکن غزنوی دور کے امراء اور سالاران فوج کے اثر و رسوخ میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کیوں کہ ترکی امراء کی تعداد تھوڑی تھی۔ لہذا سلطنت کے تحفظ اور توسیع اکا انحصار پشتون سپاہیوں کی کار کردگی پر تھا اور منگولوں کے پے درپے حملوں کے باعث ترکستان اور ایران سے آمد و رفت کا سلسلہ التمش کے زمانے میں ٹوٹ گیا تھا اور سلاطین دہلی نے ہندوستان کو ہی اپنا وطن تسلیم کرلیا تھا۔ سلطان بلبن ترکوں سے زیادہ پشتون لشکریوں پر بھروسہ کیا کرتا تھا۔ چنانچہ اس کی فوج کا نگران اعلیٰ ملک فیروز خلجی تھا۔ بلبن کی وفات کے بعد کیفباد حکمران ہوا۔ جب کیفباد پر فالج گرا اور وہ بے دست پا ہوگیا تو ملک خلجی فوج لے کے چڑھ آیا۔ افغان سرداروں نے ملک فیروز خلجی کو بادشاہ منتخب کرلیا۔ اس طرح 1290ء؁ میں دہلی میں پہلی پٹھان سلطنت قائم ہوگئی۔ جلال الدین فیروز خلجی کے اس کارنامے پر کہ اس نے ہندوستان میں پہلی پشتون سلطنت قائم کی تھی اس کے ہم وطن صدیوں تک اس پر فخر کرتے ہے۔ چنانچہ خوشحال خٹک 1650ء؁ میں لکھتا ہے کہ بیا سلطان جلال الدین پوہ سربر کخئا ست چمیہ پو اصل کخے غلچی داد لایت ودہ

اس خاندان کا سب سے مشہور بادشاہ علاؤالدین خلجی تھا۔ جو جلاؤالدین فیروزکا بھتیجا اور داماد تھا۔ جو اپنے چچا کو قتل کرکے تخت پر بیٹھا تھا۔ یہ پہلا حکمران تھا جس نے جنوبی ہند کو فتح کیا۔ اس کے علاوہ یہ اپنی دور رس اصلاحات کی وجہ سے تاریخ میں مشہور ہوا۔ اس خاندان کا آخری حکمران اس کا بیٹا قطب الدین مبارک خلجی تھا جس کو اس کے نومسلم غلام خسرونے قتل کرکے اس خاندان کا خاتمہ کردیا۔ 

1426ء؁ میں مالوہ کی حکمرانی خلجیوں نے حاصل کرلی۔ اس خاندان کا بانی محمود خلجی تھا۔ اس نے اپنے برادر نسبتی کو ذہر دے کر ہلاک کردیا اور خود تخت پربیٹھ گیا۔ یہ ایک بیدار مغز بادشاہ تھا۔ اس کا سنتیس سالہ دور حکومت کا بیشتر حصہ گرد و نواع کی حکومتوں سے لڑنے اور سلطنت کی توسیع میں گزرا۔ اس خاندان کا آخر حکمران باز بہادر تھا۔ اس کو اکبر کی فوجوں نے 1561ء؁ میں تخت سے محروم کردیا۔ تیمور نے برصغیر کی حکمرانی سید خاندان کے حوالے کردی تھی اور سید خاندان کے مبارک شاہ کو بہلول لودھی نے 1451ء؁ میں سیّد خاندان کو تخت سے بے دخل کر کے خاندان لودھی خاندان کی بنیاد رکھی۔ اس طرح برصغیر میں ایک پشتون حکومت پھر قائم ہوگئی۔ بہلول لودھی نے اپنی سلطنت مستحکم کرنے کی غرض سے پشتونوں کے قومی جزبہ کو ابھارا اور ان کو جاگیروں کا لالچ دے کر ترک وطن پر آمادہ کیا۔ بہلول کی دعوت پر بہت سے پٹھان قبائل ہندوستان میں آباد ہوگئے۔ بہلول نے اپنی سلطنت کی آدھی زمین پشتونوں میں بطور جاگیر تقسیم کردی اور ان جاگیروں کو مورثی بنا دیا۔ لودھیوں نے ہندوستان پر 1451ء؁ تا 1526ء؁ تک حکومت کی ہے۔ اس خاندان کا سب سے نامور حکمران سکندر لودھی تھا۔ اس کا بیٹا ابراہیم لودھی جو اس کے بعد حکمران بنا۔ اس نے اپنی کوتابینی سے امراء کو دشمن بنا لیا۔ جنہوں نے بابر کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ بابر نے پانی پت کے میدان میں اسے شکست دی اور ابراہیم لودھی مارا گیا، اس کے ساتھ ہی ہندوستان پر سے لودھی خاندان کو خاتمہ ہوگیا۔ بابر جس کی طبعیت کابل کی بادشاہی پر قانع نہ ہوئی اور وہ ہندوستان کو فتح کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔ وہ سرحد، دیپالپور، سیالکوٹ، لاہور، سرہند، پانی پت اور دہلی کو فتح کرتا ہوا آگرے میں داخل ہوگیا۔ مگر اس کو ہندوستان میں فقط چار سال حکومت کرنے کا موقع ملا۔ سوری خاندان کی حکومت (1540؁ء تا 1555ء؁) تک رہی ہے۔ اس خاندان کا بانی شیر شاہ سوری نے اپنے فہم و فراست سے اور سازشوں کے ذریعے ایک اتالیق سے ترقی کرکے بہار و بنگال کی حکومتوں کو زیر کرلیا اور اپنی طاقت بڑھایا تھا کہ ہمایوں شیر شاہ کی سرزش کے لئے بنگال پہنچا۔ شیر شاہ جو علاقائی حکمران تھا اور اس قابل نہیں تھا کہ ہمایوں سے دو بدو جنگ کرسکے۔ لہذا اس نے ہمایوں کو اپنی اطاعت کا یقین دلایا اور ہمایوں مطمین ہوگیا۔ شیر شاہ سوری نے ہمایوں کی غفلت کا فائدہ اٹھایا اور اس کے لشکر پر شب خون مارا جس سے ہمایوں کے لشکر میں انتشار اور بگڈر مچ گئی اور مغل حکومت کا بنیادی ڈھانچہ مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے اور اپنے بھائیوں کی دغابازی کی وجہ سے ہمایوں کہیں رک نہ پایا اور نہ ہی لشکر فراہم ہوسکا۔ فرشتہ لکھتا ہے کہ سوری اپنا شیر شاہ سوری نے جب مغلوں سے لڑنے کے لئے کمر باندھی تو اس نے پشتونوں کو یہ کہہ کر جوش دلایا کہ مغل غاصب اور غیر ملکی ہیں، انہوں نے تمہای سلطنت پر قبضہ کرلیا ہے۔ لہذا تمہارا قومی فریضہ ہے کہ مغلوں کے خلاف نبرآزما ہو جاؤ۔ چنانچہ اس کی دعوت پر بہت سے پشتون فوج میں شامل ہوگئے۔ شیر شاہ سوری کے براقتدار میں آنے کا بڑا سبب مغلوں کی داخلی کمزوری اور ہمایوں کی لاپروائی تھی۔ اس کی حکومت کے مستحکم ہونے میں اس کی قائدانہ صلاحیتوں سے زیادہ حالات تھے جس کا اس نے فائدہ اٹھایا۔ اس کا دور حکومت مختصر لیکن شاندار تھا۔ یہ پورا دور جدو جہد کا تھا۔ اس نے مغلوں کو غیر اور غاصب کہہ کر اپنے بھائی بندوں کو اکھٹا کرلیا۔ مگر اس کی موت کے بعد ہی یہ طسلم ٹوٹ گیا۔ ایک بار پھر اس کے بیٹوں کے درمیان میں تخت نشینی کی جنگوں کے علاوہ درباری سازشیں ابھر آئیں۔ یہی وجہ ہے مغلوں کو دوبارہ ہند پر قبصہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ اٹھارویں صدی میں قندھار کے علاقہ میں قندھار کے علاقہ میں غلزئیوں کی ہوتکی شاخ نے میر اویس کی سردگی میں ایرانی حکومت کے انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حکومت قائم کرلی۔ لیکن اس کو استحکام حاصل نہیں حاصل ہوسکا۔ کیوں کے اسے دوسرے قبائل کی حمایت حاصل نہیں تھی اور اسے افغان قبائل کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ جن میں ابدالی سرفہرست تھے۔ دوسری طرف ایرانی حکومت بھی اس کی مخالفت کررہی تھی۔ مگر ایرانی خود بھی انتشار کا شکار تھے۔ اس لئے وہ خود اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرسکے۔ جب کہ میر اویس کے پوتے اشرف نے ایرانی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اصفہان پر قبضہ کرلیا۔ اصفہان پر دوبارہ قبضہ اور ہوتکی حکومت کا خاتمہ نادر شاہ افشار نے کیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں نادر شاہ افشار نے افغانستان پر مکمل قبضہ کرلیا۔ مگر نادر شاہ کے قتل ہوتے ہی ایرانی حکومت ایک دفع پھر انتشار کا شکار ہوگئی۔ نادر شاہ درانی کے افغانی جرنیل احمد شاہ ابدالی نے اس انتشار کو دیکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قندھار آگیا اور اس نے موجودہ افغانستان کی بنیاد رکھی۔ بالاالذکر ہوچکا ہے کہ افغانوں کی عصبیت خاندانی اور قبائیلی ہوتی ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پشتونوں نے مختلف حکومتوں کے قیام اور استحکام کے لئے بہت مختلف خذمات انجام دیں ہیں، جنہیں ہم نذر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ تاہم جہاں پشتون حکومتوں کے قیام میں جہاں یہ مدد گار ہوئے وہاں یہ ان کی شکست و رنجیت میں بھی ان کا حصہ رہا ہے۔ برصغیر میں پشتون حکمرانوں کی دعوت پر ان کی بڑے پیمانے پر آمد اور آباد کاری بھی ہوئی اور ان حکمرانوں کی حکومتوں میں یہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ مگر ان کی شورش اور سازشوں کی وجہ سے یہ حکومتیں ذوال پزیر ہوئیں۔ ان میں لودھی، سوری کے علاوہ بنگال اور بہار کی حکومتیں قابل ذکر ہیں۔ یہاں تک افغانستان کی ابتدائی ہوتک حکومت بھی ان کی مخالفت کا شکار رہی۔ جب کہ افغانستان کی بنیاد رکھنے والے ابدالی خاندان کی حکومت سازشوں اور مخالفتوں کی وجہ سے صرف تین پشت تک قائم رہی۔ یہی حال افغانستان کی دوسری حکومتوں کا ہوا۔ افغانستان کی حکومتیں اٹھارویں صدی سے بیشتر افغانستان کا ایک حصہ ایران کے ماتحت تھا، دوسرا حصہ ہندوستان کے ماتحت تھا تیسرا حصہ بخارا کے ازبک خوانین کے ماتحت تھا۔ اٹھارویں صدی میں نادر شاہ افشار نے افغانستان کو تسخیر کرلیا۔ احمد خان جو نادر شاہ کی فوج میں جرنیل تھا نادر شاہ کے قتل کے بعد افغانستان کا نظم و ضبط سنبھال لیا اور موجودہ افغانستان کی بنیاد رکھی۔ اس کی وفات کے وقت (1773؁ء کے وقت اس کی حدودیں مشہد، بلوچستان، کشمیر و پنجاب پر مشتمل تھا۔ اس کا بیٹا تیمور شاہ (1773ء تا 1793ء) ایک کمزور حکمران تھا۔ دارلحکومت قندھار سے کابل لے گیا اور بہت سے ہندوستانی علاقے نکل گئے اور قبائلی اختلاف ابھر آئے۔ تیمور شاہ کا فرزند زمان شاہ (1793ء تا 1799؁ء) کی حکومت کا آغاز بھائیوں کے جھگڑوں اور قبائلی کشمکش سے ہوا۔ پہلے یہ اپنے بھائیوں کا دبانے میں کامیاب ہوگیا، بعد میں اپنے بھائی محمود شاہ کے ہاتھوں گرفتار ہوا جس نے اسے اندھا کردیا۔ محمود شاہ (1799ء تا 1803ء؁) اول مرتبہ کو اس کے بھائی شاہ شجاع نے اقتدار سے محروم کردیا، مگر یہ قید سے بچ نکلا اور (دوبارہ 1810ء؁ تا 1818؁ء) اس نے اپنے بھائی شاہ شجاع کو شکست دے کر تخت پر قبضہ کرلیا۔ اس کا وزیر فتح خان جو اس کا بڑا حامی تھا، اس کی برطرفی پر قبائل نے بغاوت کردی۔ وہ ہرات کے سوا جہاں 1829ء؁ حکمران رہا باقی علاقوں سے دست بردار ہوگیا اور فتح خاں کے بھائیوں نے مستقل ریاستیں قائم کرلیں۔ شاہ شجاع اپنے بھائی کو شکست دے کو حکمران بنا۔ اس نے انگریزوں سے تعلقات بڑھائے مگر اسے محمود شاہ نے برطرف کردیا۔ شاہ شجاع، رنجیت سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا کہ شاہ شجاع کو افغانستان کا تخت واپس دلایا جائے گا۔ 1829ء؁ میں ایک انگریزی فوج کابل پہنچی اور دوست محمد کو گرفتار کرکے ہندوستان بھیج دیا گیا۔ شا شجاع تخت پر بیٹھ گیا لیکن اس سے ملک میں سخت بیچینی پھیلی اور برطانوی اثر کے خلاف سخت سورش پیدا ہوگئی۔ دوست محمد کے بیٹے اکبر خان کی سردگی میں حملے کئے گئے اور تین فوجی قتل کردیے گئے۔ ایک اور انگریزی فوج کابل پہنچی جس نے کابل پر قبضہ کرلیا اور مجرموں کو سزا دی گئی۔ مگر انگریزی فوج نے ٹہرنا مناسب نہیں سمجھا اور واپس چلی گئی اور دوست محمد 1852ء؁ میں پھر حکمران بن گیا۔ دوست محمد فتح محمد کا بھائی اور غزنی کا حکمران اور بارک زئی خاندان کا بانی تھا۔ وہ ۶۲۸۱ء؁ میں کابل پر اور 1834ء؁ میں قندھار پر قابض ہوگیا۔ اور 1835ء؁ میں افغانستان کا حکمران بنا۔ پہلی دفعہ 1935ء؁ تا 1829ء؁ اور دوسری دفعہ 1842ء؁ تا 1863ء؁ تک حکمران رہا۔ اس نے 1855ء؁ میں قندھار پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ 1855ء؁ میں اس نے ایرانیوں کے خلاف انگریزوں سے معاہدہ کیا۔ کیوں کہ ایران نے ہرات پر قبضہ کرلیا تھا۔ برطانیہ نے 1856ء؁ میں ایران کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ مارچ 1857ء؁ میں ایران ہرات سے دستبردار ہوگیا اور افغانستان کی آزادی کو تسلیم کرلیا۔ دوست محمد نے دس مہینے کے محاصرے کے بعد ہرات اس حاکم سے واپس ہوگیا جو ایران کے بعد ہرات پر قابض ہوگیا تھا۔ دوست محمد خان کی وفات کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ برطانیہ نے دوست محمد کے تیسرے فرزند شیر علی کی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ تاہم اس کو اپنے بھائیوں سے دعویٰ منوانے میں بڑی مشکلات پیش آئیں۔ 1870ء؁ میں یہ حکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے برطانیوی دباؤ میں توازن پیدا کرنے کے لئے روس سے تعلقات بڑھائے اور 1878ء؁ میں روس سے باہمی امداد کا معاہدہ کیا۔ اس پر برطانیوی حکومت نے اصرار کیا کہ اس کا بھی ایک مشن منظور کیا جائے۔ شیر علی کے نتیجے میں دوسری جنگ (1878ء؁ تا 1879ء؁) ہوئی۔ اسی دوران 1879ء؁ میں شیر علی نے وفات پائی۔ یعقوب خان (1879ء؁ تا 1880ء؁) امیر شیر علی کا فرزند مسند نشین ہوا۔نگریز ملک کے بڑے حصہ کو پامال کرچکے تھے۔ لہذا معاہدہ گندمک پر مجبور ہوا۔ اس کے مطابق انگریزوں کو درہ خیبر پر قبضہ کا حق مل گیا اور خارجہ پالیسی کا انتظام برطانیہ کے ذمہ اور اسے تجارت کی کامل آزادی مل گئی اور ہر سال امیر کو دس ہزار پاونڈ امداد منظور کی۔ اس نتیجہ میں برطانیہ کہ خلاف بغاوت ہوئی اور برطانوی سفیروں کا قتل ہوا۔ برطانیہ نے کابل کی طرف پیش قدمی کی۔ امیر یعقوب نے حکومت سے دستبرداری اور خود کو برطانیہ کے حوالے کردیا۔ عبدالرحمٰن (1880 تا 1901ء؁) امیر شیر علی کا بھتیجا اور اس کے مخالف تھا جو روس میں پناہ لیا ہوا تھا۔ اسے وہاں سے بلا کر امیر بنایا گیا۔ اس نے معاہدہ گندمک کو قبول کرلیا لیکن فراست کے ساتھ روسیوں کو انگریزوں کے خلاف اور انگریزوں کو روسیوں کے خلاف استعمال کرتارہا۔ یوں ملک کو بچا کر اور ساتھ ہی اس نے بہت سے قبائل کو مسخر کرکے اپنا اقتدار کو قائم کیا۔ 1885ء؁ میں پنج دہ سرحدی جھگڑے میں روسی اور افغانی فوجوں چھڑپیں ہوئیں۔ اس سے روس اور برطانیہ کے درمیان نازک صورت حال پیدا ہوگئی، لیکن 1886ء؁ میں گفت شنید کے ذریعے معاملات طہ کئے گئے۔ اس کے عہد میں افغانستان کی سرحدیں متعین کی گئیں۔ برطانیہ میں کے ساتھ معاہدہ ڈیوڈینڈر (1863ء؁) اس کے مطابق چترال سے بلوچستان تک ہندوستان و افغانستان کی سرحدیں متعین ہوگئی۔ روس کے ساتھ ایک طویل کشمکش کے بعد پامیر کی سرحد کافیصلہ 1890ء؁ میں افغانستان نے ایک تنگ پٹی رکھی جو روس کو برطانوی مقبوضات کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔

حبیب اللہ خان (1901ء؁ تا 1919ء؁) یہ کم اثر و رسوخ والا حکمران تھا اور حرم و علماء کے زیر اثر تھا۔ جب کہ یورپی خیالات بترویج پھیل گئے۔ روس کی سرگرمیوں کے جواب میں برطانیہ سے نیا معاہدہ جس میں سابقہ معاہدوں کی تصدیق کی گئی۔ 1907ء؁ میں برطانیہ اور روس کے درمیان سمجھوتے جس کے مطابق روس نے افغانستان میں برطانیہ کی مقتدر حثیت تسلیم کرلی اور افغانستان کے معاملات میں دخل نہ دینے کا عہد کیا۔

افغانستان پہلی جنگ عظیم میں غیر جانبدار رہا۔ کیوں کے ہندوستان نے اس کے لئے بھاری رقم اس کے لئے دی تھی۔ اگرچہ جرمنی اور ترکی مشنوں نے اس پرزور ڈالا اور مذہبی پروپنگنڈا بھی ہوا کہ افغانستان کو ترکی کا ساتھ دینا چاہیے۔ مگر حبیب اللہ انگریزوں کے تابع ہوگیا تھا اور 1919ء؁ میں قتل کردیا گیا۔ قدامت پسندوں نے اس کے بھائی نصراللہ خان کے امیر ہونے کا اعلان کردیا۔ لیکن اس کے بیٹے امان اللہ خان جس کی فوج حامی تھی اور وہ کابل کا حاکم تھا دارلحکومت کو اس نے اپنے قبضہ میں رکھا، جس پر نصراللہ دستبردار ہوگیا۔ امان اللہ خان (1919ء؁ تا 1929ء؁) افغانستان میں انگریزوں کے خلاف جزبات کا طوفان موجزن تھا۔ ہندوستان چار سالہ جنگ کرتے کرتے تھک چکا تھا۔ امان اللہ نے صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور برطانیہ کہ خلاف جنگ کا اعلان کردیا اور ہندوستانی مسلمانوں سے بھی برطانیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔ چند ابتدائی کامیابیوں کے بعد اسے پیچھے ہٹنا پڑا اور خود انہیں بھی خطرہ ہوگیا۔ چونکہ طویل جنگ کے لئے کوئی تیار نہیں تھا اس لئے گفت شنید ہوئی اور برطانیہ سے 1921ء؁ میں معاہدہ ہوا اور اس میں افغانستان کی آزادی تسلیم کیا گیا اور اسے تمام طاقتوں سے براہ راست تعلق پیدا کرنے کا حق مل گیا اور برطانیہ نے امدادی رقوم بند کردیں۔ 1921ء؁ میں امان اللہ نے روس نے ترقی کا اور ایران سے ایک دوسرے کے خلاف عدم جارحیت معاہدہ کیا اور اس کے بعد امان اللہ آہستہ آہستہ روس پر انحصار کرنے لگا۔ 1933ء؁ میں ترکی کے دستور کے نمونے پر دستوری اصلاحات ایک قومی مجلس کا اعلان کیا۔ جس کے نصف ممبر منتخب اور نصف نامرز تھے، جسے قانون سازی کے بعض اختیار دیے گئے تھے۔ مگر بیشتر اختیارات امیر نے اپنے پاس رکھے گئے تھے۔ اس کی خواہش تھی کہ ملک کو تیزی سے نئے اصول پر لے آئے۔ 1926ء؁ میں امان اللہ نے بادشاہ کا لقب اختیار کیا۔ 1929ء؁میں روس کے ساتھ معاہدہ کیا۔ جس میں پہلے معاہدوں کی توثیق نیز غیر جانبداری اور عدم مداخلت کا کیا۔ 1927ء؁ میں ایران کے ساتھ دوستی اور حفاظت کا معاہدہ، ترکی کے ساتھ 1928ء؁ ترکی کے ساتھ دوسرا معاہدہ کیا۔ 1928ء؁ میں امان اللہ خان اور اس کی ملکہ نے ہندوستان، مصر اوریورپ کی سیاحت کی، جہاں اپنے ملک کے لئے اقتصادی اور مشاورتی معاہدے کئے اور ملک کی ترقی کے لئے نئے خیالات لے کر آئے۔ لیکن ملک میں ان کی مخالفت ہوئی، جس کو مذہبی اور قبائلی حلقے ہوا دے رہے تھے اور بغاوت کا آغاز ہوگیا۔ امان اللہ خان نے دیکھا کہ وہ مخالفت روک نہیں سکتا ہے تو اپنے بھائی عنایت اللہ خان کے حق میں دستبردار ہوگیا۔ عنایت اللہ خان آرام پسند اور بے اثر شخص تھا۔ ایک قزاق بچہ سقہ نے ٹھورے سے آدمیوں کے ساتھ کابل پر قبضہ کرلیا اور حبیب اللہ کے لقب سے اپنی بادشاہی کا اعلان کردیا۔ اس کے خلاف کئی دعوے دار اٹھ کھڑے ہوگئے۔ ان میں ایک امان اللہ بھی تھا۔ اس نے قندھار میں فوج جمع کرلی لیکن کابل پر پیش قدمی کرتے ہوئے شکست کھائی۔ محمد نادر شاہ (1929ء؁ تا 1933ء؁) ایک ممتاز فوجی افسر تھا اور یورپ سے آیا تھا۔ اس نے فوج جمع کرکے کابل پر قبضہ کرلیا اور اپنی بادشاہی کا اعلان کردیا۔ حبیب اللہ خان مارا گیا لیکن کئی دعوے دار کھڑے ہوگئے۔ نادر شاہ نے انہیں شکست دے دی۔ اس کی پالیسی ایسی تھی کے ملک کو جدید اصولوں پر لانے کا کام کیا جائے لیکن اس کی نمائش کم کی جائے۔ اس نے نئے دستور کا اعلان کیا جو کہ 1923۱ء؁ کے نمونے کا تھا لیکن اس میں دو ایوان تھے۔ ایک ایوان نامرز ممبر کا تھا اور دوسرے ایوان کے ممبر منتخب ہوتے تھے۔ 1933ء؁ میں نادر شاہ کو شہید کردیا گیا۔ محمد ظاہر شاہ (1933ء؁ تا 1979ء؁) نادر شاہ کا فرزند تھا، اس کو اپنے چچاؤں کی حمایت حاصل تھی۔ اس نے اپنے باپ کی پالسیوں کو جاری رکھا۔ اس کے عہد میں بھی مقامی بغاوتوں نے سر اٹھایا۔ پاکستان کی آزادی کے وقت اس نے صوبہ سرحد کے ان علاقوں پر اپنا دعویٰ ظاہر کیا جو کہ ڈیوینڈر معاہدے کے تحت ہندوستان کے حوالے کئے تھے اور صوبہ سرحد میں پختونستان کا نعرہ لگوایا۔ گو اس کو پاکستان میں چند ایک کے سوا کوئی اہمیت نہیں دی۔ 1979ء؁ میں اس کے قریبی عزیز داؤد خان نے تخت پر قبضہ کرلیا۔ ظاہر شاہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ داؤد خان نے ظاہر شاہ کو اقتدار سے بے دخل کرکے ملک کے جمہوریہ کا اعلان کردیا۔ اس نے پختونستان کے مسئلہ کو اٹھایا۔ لیکن 1979ء؁ نور محمد تراکی کی روسیوں کی مدد سے بغاوت کردی اور قتدار پر قبضہ کرلیا داؤد خان مارا گیا اور روسی فوجیں ملک میں داخل ہوگئیں اور ایک کڑور سے زیادہ پناہ گزین پاکستان اور دوسرے ملکوں میں پناہ گزین ہوگئے۔ پاکستان میں ان کی تعداد ساٹھ لاکھ سے زائد تھی۔ مقامی باشندوں نے روس کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کردی۔ یہ لوگ جو منشر اور غیر تربیت یافتہ تھے۔ پاکستان نے انہیں منعظم کیا اور تربیت فراہم کی اور انہیں محدود پیمانے پر اسلحہ بھی دیا اور ان کی رہنمائی کی۔ بعد میں امریکہ بھی ان کی مدد کرنے لگا۔ اس طرح مجاہدین کو جدید ترین اسلحہ ملنے لگا اور مجاہدین نے اپنی جدوجہد تیز سے تیز تر کردی گئی۔ روس نے دس سال افغانستان میں قبضہ سے شدید نقصان اٹھایا اور اس سے اس کے اقتصادی ڈھانچہ کو شدید نقصان اٹھایا اور اس سے ایک پاکستان سے ایک معاہدے کے تحت 1990ء؁ میں افغانستان کی کٹ پتلی حکومت جس کا سربراہ ببرک کارمل تھا بے مدد گار چھوڑ کر واپسی اختیار کرلی۔ مجاہدین نے کابل کا رخ اختیار کیا اور کابل پر قبضہ کرلیا۔ لیکن اس ساتھ ہی مجاہدین ببرک کارمل نے ازبک ملشیا کے سربراہ رشید دوستم کے ساتھ مل کر مزاحمت گئی۔ 1995ء؁ میں ملا عمر نے اس خانہ جنگی سے تنگ آکر قندھار میں طا لبان کومنعظم کیا۔ جس میں علماء اور مذہبی عناصر شامل تھے۔ طالبان نے ان گروپوں کے خلاف کاروائی کی جو اقتدار کے لئے آپس میں لڑ رہے۔ طالبان نے کابل پر قبضہ کرلیا اور ببرک کارمل کو گرفتار کرکے پھانسی دے گئی۔ طلبان نے ملک کا بیشتر حصہ ان کے تسلط سے آزاد کرالیا۔ مخالف گروپ جس میں سابقہ کمونسٹ عناصر بھی شامل تھے اور آپس میں لڑ رہے تھے وہ طلبان کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے متحد ہوگئے اور ایک گروپ میں ضم ہوگئے جو کہ شمالی اتحاد کے نام سے موسوم ہوا اور اسے امریکہ روس اور یورپی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ اگر چہ ان اتحادیوں کے قبضہ میں صرف شمال کا کچھ علاقہ رہے گیا تھا۔ عوام جو خانہ جنگی سے تنگ آگئے تھے انہوں نے طالبان کا خیر خیر مقدم کیا اور ملک میں امن قائم کیا۔ طالبان کی حکومت کو صرف تین ملکوں پاکستان سعودی عرب اور شارجہ نے تسلیم کیا۔ اس کی وجہ طالبان کو انتہا پسندانہ روئیہ تھا اور انہوں نے بیرونی مالک سے تعلقات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جس کی وجہ سے افغانستان مغرب مخالف عناصر کا گڑھ بن گیا۔ جس میں القائدہ اور اسامہ بن لادن شامل تھا۔ گیارہ ستمبر2001ء؁کے واقع کا امریکہ اس کا الزام القائدہ پر لگایا اور افغانستان سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردے اور دوسری صورت میں دھمکی دی کہ دوسری صورت میں امریکہ افغانستان پر حملہ کرکے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ مگر طالبان نے امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور ان کا کہنا ہے کہ یہ القائدہ پر محض الزام ہے ۔ پاکستان نے کوشش کی کہ طالبان اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر کے افغانستان کو ممکنہ تباہی سے بچالے ۔ مگر طالبان اپنے انکار پر ڈٹے رہے ۔ پاکستان اور دوسرے ممالک نے افغانستان سے اپنے تعلقات ٹوڑ لئے اور اس طرح افغانستان پوری دنیا میں تنہاہ رہے گیا ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے میں افغانستان پر مزائلوں اور فضائی حملے طالبان اور القائدہ کے ٹھکانوں پر ممکنہ حملے کئے ۔ دوسری طرف شمالی اتحاد جس کو امریکہ کی پوری مدد حاصل تھی ۔ مگر شمالی اتحاد طالبان کو پیچھے ڈھکیلنے میں ناکام رہے ۔ لیکن طالبان پنتیس دن مزاحمت کرنے کے بعد مزار شریف اور کابل خالی کردیئے اور ملک کے باقی حصوں پر اقتدار مقامی یا قبائلی سرداروں کے حوالے کرکے خود رپوش ہوگئے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجیں افغانستان میں اتر گیں ۔ امریکہ نے ایک جلاوطن رہنما حامد کرزئی جو اعتدال پسند تھا کی سردگی میں ایک غبوری حکومت تشکیل دی ۔ جس میں شمالی اتحاد کو اہم عہدے دیئے گئے ۔ جینوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان کی صدارت میں مختلف نسلی گروہوں جلاوطن افغانوں کے علاوہ سابقہ ظاہر شاہ کے نمائندوں کا اجلاس جس میں افغانستان کا آئندہ لائمہ عمل کا انتخاب طے کرنے کے لئے ہوا ۔ اس اجلاس میں پاکستان ، امریکہ اور روس کے نمائندے مبصر کی حثیت سے شریک ہوئے ۔ اس اجلاس میں آئندہ طرز حکومت کے لئے لوئی جرگہ کے ناموں کا انتخاب ہوا ۔ اس اجلاس میں ناموں کے انتخاب پر پشتو بولنے والوں نے سخت احتجاج کیا کہ انہیں غبوری حکومت کی طرح جس میں ان کی آبادی سے کم عہدے دیئے گئے تھے ، اس طرح لوئی جرگہ میں ان کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم دی گئی ہے ۔ سخت اختلاف رائے کے بعد لوئی جرگہ کے ناموں کا انتخاب ہوا اور یہ طہ پایا گیا کہ لوئی جرگہ طرز حکومت طہ کرے گا ۔ لوئی جرگہ کا اجلاس کابل میں ہوا ۔ جس میں سخت طرز حکومت پر سخت اختلاف رائے ہوا اور یہ طہ پایا گیا کہ دوسال تک یہی غبوری حکومت حامد کرزئی کی قیادت میں رہے اور اس دوران غبوری حکومت آئین بھی تشکیل دے اور الیکشن بھی کرائے ۔ اب جب کہ افغانستان میں بظاہر ایک منتخب حکومت قائم ہے اور ایک آئین بھی تشکیل بھی دے دیا ہے ۔ اب کرزئی حکومت صرف کابل تک محدود رہے گئی ہے اور ملک میں باقی جگہ قبائلی یا علاقائی سرداروں کی حکمرانی ہے اور اکثر اتحادیوں کی طلبان سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں ۔ اتحادیوں کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر ابھی تک امریکہ کی پہنچ سے دور ہیں اور اس دوران امریکہ نے کوشش کی کہ طالبان کے کسی ڈھرے کو الگ کرکے اقتدار اپنی شرائط پر ان کے حوالے کردے ۔ مگر امریکہ کو اس میں ناکامی ہوئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ جب تک اتحادی افواج ملک میں رہیں گی کرزئی حکومت قائم رہے گی ۔ جرگہ قبائیلی علاقوں میں ہر یا اور قبیلے کی ایک نمائندہ مجلس یاپنچایت جرگہ کہلاتی ہے۔ قبائیلی جرگہ کے علاوہ علاقائی جرگہ بھی ہوتا ہے جو عموماً مختلف قبائل کے درمیان تنازع کو طہ کرانے کے لئے مصالحت کروانے والے قبائل فریقین کا جرگہ بلاواتے ہیں اور اس میں خود بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ علاقائی جرگہ ہوتا ہے۔ قبائیلی علاقہ میں پولیٹکل احکام بھی بلواتے ہیں۔اس طرح مفرور، شورش پسند اور بغاوت کے مرتب افراد کے خلاف تعزیاتی کاروائیاں اور علاقہ بدر کیا جاتا ہے۔ اس طرح جرگہ کی بدولت حکومت قبائیلی معملات میں دخل دیئے بغیر باآسانی ناپسندہ افراد کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے۔ اس لیے ان جرگوں کے فیصلوں کو عدالتیں بھی تسلیم کرتی ہیں۔ پشتون قبائل سخت انفرادیت پسندی، خود پسندی اور شورش پسند ہونے کی وجہ سے ان پر حکم چلانا ممکنات میں شامل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ایک سردار کے ماتحت میں نہیں ہوتے ہیں۔ یہ اپنے معتبر خود منتخب کرتے ہیں جو کوئی خاص اختیارات کے مالک نہیں ہوتے ہیں۔ انہیں بھی فیصلے کرنے کااختیار نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں اپنے فیصلے منوانے کے لئے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری محفوظ رکھنے کے لئے مختلف ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں۔ ان میں اثر و رسوخ، سازش، پشت پناہی اور مال و دولت کا استعمال شامل ہے اور جرگہ کے ذریعے قبائیلی عمائدین کو مٹھی میں رکھا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس طرح جرگہ کے فیصلے بھی عموماً طاقت کے توازن کے مطابق ہوتے ہیں۔ ایک عام جرگہ کے فیصلے عموماً تین طرح سے نافذ کئے جاتے ہیں۔ یہ فیصلے دوغہ کہلاتے ہیں۔ (۱) نیکہ = یہ عموماً قتل یا تور (بدنامی) کے بدلے جرگہ کے فیصلہ سے مجرم سے ایک بھاری رقم لیجاتی ہے۔ لیکن مدعی خلاف ورزی کرے تو رقم واپس کردی جاتی ہے۔ (۲) سورہ = اس کے معنی بدلے کی لڑکی کے ہیں۔ یہ عموماً کسی لڑکی کے اغوا یا مرضی کی شادی ہونے کی صورت میں بدلے میں لڑکی لی جاتی ہے۔ (شڑونے = یہ کلمہ شڑل جس کے معنی بھگانا، دھتکارنا، دیس سے نکال نا اور شہر بدر کرنے کے ہیں اور شڑونے کے معنی نکلنے والے کے ہیں اور یہ کلمہ قندھار کے علاقہ میں کشندہ یا کشنوندہ بھی کہلاتا ہے۔ افغانستان میں لوئی جرگہ جو طالبان کے بعد حکومت کی تشکیل کے لئے اتحادیوں نے بلوایا تھا۔ لوئی کے معنی بزرگ کے ہیں اس طرح لوئی کے معنی بزرگ جرگہ کے ہیں۔ یہ سب سے پہلے احمد شاہ ابدالی نے اس لئے بلوایا تھا کہ افغانوں کو ایک علحیدہ ملک اور حکومت کے تحت منظم کیا جائے۔ اس جرگہ نے احمد شاہ ابدالی کو افغانستان کا پہلا بادشاہ مقرر کیا تھا۔ پاکستان کی آزادی کے وقت ایک قبائیلی جرگہ نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔ جرگہ کی راویت صرف پٹھانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے قبائیل میں بھی ہے۔ آزادی سے پہلے قلات کا شاہی جرگہ ہوا تھا جس نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔ جرگہ کا طریقہ کار صرف پتھانوں سے ہی تعلق نہیں رکھتا ہے، بلکہ اس کا رواج وسط ایشیا اور منگولوں میں بھی تھا۔ چنگیز خان نے منگولوں کی قیادت سمھالنے سے پہلے منگولوں کی ایک نماندہ مجلس بلائی تھی جس نے اسے باقیدہ خان منتخب کیا۔ اس طرح تیمور کو امیر منتخب ایک قبائیلی مجلس نے کیا تھا جس میں قبائیلی سردار، عمائدین اور علماء تھے۔ چنگیز خان اور تیمور منتخب ہونے سے پہلے طاقت ور ہوچکے تھے اور دور دور تک ان کا کوئی مد،قابل نہیں تھا۔ مگر انہوں نے باقیدہ ایک اجلاس بلا کر خود کو منتخب کرا یا۔ یہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ جرگہ ان کی قدیم روایت میں سے ہے اور اس کی منظوری کے بغیر ان کا تقرر قانونی نہیں ہوتا ہے۔ غرض جرگہ کی روایات کی جڑیں قدیم زمانے سے آریاؤں اور وسط ایشیاء میں ملتی ہیں، اگرچہ اس وسیع پیمانے پر مقبولیت اور طاقت حاصل نہیں کرسکی، جس قدر پٹھانوں میں ہے۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جرگہ کو جہاں یا جس علاقے میں مقبولیت حاصل ہوئی وہاں جنگل کا قانون کے علاوہ کسی اور قانون کی عملدراری نہیں رہی ہے، اور اس کو روکنے کا موثر طریقہ جرگہ ہی ثابت ہوا ہے۔ سادات پشتونوں کی بعض شاخوں کا دعویٰ ہے کہ وہ سیّد النسل ہیں۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ دعویٰ چاہے کتنا ہی بے حقیقت ہو، لیکن ان کا نسلی تقدس ہی وہ حقیت ہے جس نے انہیں جذب ہونے سے روکے رکھا۔ ورنہ ایک فرد یا خاندان یا گروہ با آسانی ایک پشتون قبیلے میں مشترکہ مفاد کے تحت جذب ہوجاتا ہے۔ سادات عادات و اطوار اور قدو قدامت میں وہ برائے نام پشتونوں سے مختلف ہیں اور اکثر انہی میں شمار کئے جاتے ہیں۔ افغان دور حکومت میں وہ بہت بااثر تھے اور مقامی امیر ان پر شاذ نادر ان پر مالیہ نافذ کرنے کی جرت کرتے تھے۔ سیاسی وجوہات کی بنا پر برطانوی نظم و نسق کے تحت یہ معافی جاری رکھی گئی۔ گو پہلی سی بات نہیں ہے تاہم اب بھی لوگوں پر ان کا اثر ہے۔ ان کے کچھ معتبرین جرگوں میں بیٹھے ہیں۔ لیکن ان اثر رسوخ سیاسی مقاسد کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ لوگوں سے نذرانہ بطور ٹھک وصول کرتے ہیں اور اس کے لئے دور دراز کے علاقوں میں گشت کرتے ہیں۔ جب ہم ان کے سیّد کے شجروں کا مطالع کرتے ہیں تو گنجلک کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی ابتدا دیو مالائی داستان گوئیوں سے شروع سے ہوتی ہیں جو بہت حد تک ملتی جلتی ہیں، مگر ان کی تفصیلات مختلف لوگوں نے مختلف دی ہیں۔ یہ سید اکثر لے پالک بچے تھے اور ان کو پالنے والے افغان تھے اور اہم یہ ہے یہ تفصیلات تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں۔ مثلاً قیس جس کو ان کی روایتوں میں صحابی رسول بتایا گیا ہے، اس کے بعد کی عموماً چوتھی پشتوں نے ان سیّد کو لے پالک بنایا تھا، جس کی مدت دو سے تین سوسال ہوتی ہے اور اس دور میں یہاں اسلام آیا ہی نہیں تھا۔ دوسری طرف ان لے پالکوں کی پندرہ سے زائد پشتوں کے بعد ان کاشجرہ نسب حضرت علیؓ سے ملتا ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ عجیب تضاد ہے جس کی طرف دعویٰ کرنے والوں کی نظریں نہیں گئیں۔ یہی وجہ ہے حیات افغانی کے مصنف اور الفسٹن نے ان کے سیّد ہونے سے انکار کیا ہے۔ ان کے علاقے میں اسلام سے قبل اس علاقہ میں علوم و فنون سے دور اور جاہلیت کادور دورہ تھا اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ان کے ذہنوں میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں واقع ہوئی۔ کیوں کہ ایک جاہلی معاشرہ بظاہر مذہب کی تبدیلی کو تسلیم کرلیتا ہے اور اس کے ظاہری احکامات بھی پورے کرتا ہے۔ مگر اس کی کوتاہ بینی اور قدامت پسندی کے باعث زندگی، عقائد اور دستور میں تبدیلی کو پسند نہیں کرتی ہے۔ اس کے نذدیک قدیم مذہبی روایات بدستور مذہبی تقدس کے حامل رہتے ہیں۔ اس کی محدود عقلی سطح اپنے عقائد اور روایات کو درست ثابت کرنے کے لئے انہیں نیا لبادہ پہنا دیتی ہے اور اسے اس کی سچائی پر اصرار رہتاہے۔ کیوں کی اس کی ذہنی سطح اتنی بلند نہیں ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کو پرکھ سکیں اور حقائق کو جان سکیں۔ گویا مذہب کی تبدیلی سے ان کے تصورات اور خیالات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے اور بدستور ان سے چمٹا رہتا ہے۔ گویا صرف چولا بدل جاتا ہے۔ غالباً یہ خاندان مسلمان ہونے کے پہلے مذہبی تقدس کے حامل تھے اور مسلمان ہونے کے بعد بھی یہ بدستور تقدس کے حامل رہے اور ان کے تقدس کے پیش نظر ان کے جاہلی ذہن نے انہیں سیّد تسلیم کرلیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے اس کے پس منظر میں وہ مذہبی تقدس ہے جو عہد قدیم میں انہیں حاصل تھا اور وہ پشتونوں کے ذہنوں اور دلوں میں پوری طرح راسخ ہے جس کے وجہ سے انہیں سیّد کہلانے پر ان کا اصرار ہے۔ اخلاق و معاشرت اگلے وقتوں میں طاقت کو برحق سمجھا جاتا تھا اور سوگوار خاندان کی حثیت خون بہا کے تعین میں اہم ہوتی تھی۔ لہذا ایک ملا یا سیّد یا سردار خیل کے کسی فرد کا خون بہا ایک عام قبائل سے دوگنا ہوتا ہے۔ اس طرح ایک عورت اور کمین پیشہ ور کا خون بہا ایک قبائلی سے نصف ہوتا ہے۔ خون بہا میں روپیہ، لڑکیاں اور زمین دی جاتی ہیں۔ اس طرح بعض قبائیلوں مثلاً شیرانیوں میں لڑائی اصل مجرم تک محدود ہوتی ہے۔ اس قبیلے کی رسم ہے کہ اگر بدلہ فوراً لے لیا تو کوئی خون بہا نہیں ہے۔ اگر کچھ وقت گزر جائے تو خون بہا رہے گا۔ پشتون عموماً عورت، ہندو، معروف اور کمسن بچے کو مارنے سے احتراز کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض قبائل انہیں لڑائی میں حصہ لینے پر مار دیتے ہیں۔ اس آدمی کو بھی مارنے سے احتراز کیا جاتا جو کسی پیر کی زیارت گاہ میں داخل ہوجائے۔ اس کو اس جب تک وہ زیارت گاہ میں رہے گا محفوظ رہے گا۔ اس طرح جو شخص منہ میں گھاس لے کر یا گردن کے گرد کپڑا ڈال کر پناہ مانگے یا ہتھیار ڈال دے تو اس کو بھی قتل نہیں کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملا، سیّد یا عورت سرپر قران رکھ کر آجائے تو لڑائی بند کردی جاتی ہے۔ سیاہ کاری کی سزا موت ہے۔ یہ نظری طور پر لاگو ہے جس کے تحت آشنا اور عورت دونوں مارے جاتے ہیں۔ دونوں مارے جانے کی صورت میں کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔ اگر دونوں بچ جائیں تو عورت کو طلاق دے دی جاتی ہے اور مجروع شوہر معاوضہ میں لڑکیاں یا روپیہ لے کر مطمعین ہوجاتا ہے۔ اگرچہ بعض قبائل میں ناک، کان اور پیر کاٹنے کا دستور ہے۔ معاوضہ کی شرح مختلف قبائل میں مختلف ہے۔ یہ کیس کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے، جس میں لڑکیاں اور روپیہ دونوں ادا کیا جاتا ہے۔ پشتونوں کے ضابطہ حیات جس کا بالاالذکر کیا گیا ہے۔ چند تبدیلوں تک بلوچوں میں بطور ضابطہ کے استعمال ہوتا ہے اور اس کے اکثر اصولوں پر بلوچوں کے علاوہ افغانستان و ایران کی دوسری اقوام سندھ، پنجاب اور راجپوتوں پر اب بھی عمل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ماسوائے بلوچوں میں کے دوسری اقوام میں بطور ضابطہ استعمال نہیں ہوتا ہے۔ لیکن ان اصولوں پر سختی سے عمل کیا جاتاہے اور اس کی وجہ سے ان اقوام میں اکثر کشت و خون کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس کا سبب زیادہ تر زن، زر اور زمین ہوتا ہے اور پشتونوں کی طرح زیادہ تر سبب آخری الذکر بنتے ہیں اور کشت و خون کا لامحدود سلسلہ شروع ہوجاتا۔ انتقام لینے کا یہ سلسلہ جاٹوں اور راجپوتوں میں میں لازمی امر کی حثیت رکھتا ہے۔ اس لئے یہ پنجاب سندھ کے علاوہ شمالی ہند اور راجپوتوں میں عام ہے۔ گو یہ ضابطہ چند تبدیلوں کے ساتھ تمام آریائی قومیں استعمال کرتی ہیں اور اس کے اثرات ہمیں زمانہ قدیم میں بھی نظر آتے ہیں۔ پشتون اپنے آبائی علاقہ میں پشتون ولی پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن پشتون ولی مکمل لاحمہ عمل نہیں ہے، بلکہ ساتھ ساتھ وہ دوسرے مقامی رسم و رواج اور رسوم پر عمل کرتے ہیں۔ یہ بھی پشتون ولی کی طرح لازمی ہیں اور لوگ ان پر سختی سے عمل کرتے ہیں، اور اسی طرح اپنا تحفظ کرتے ہیں۔ اس لئے وہ علحیدہ علحیدہ گروہ کی صورت میں رہنے کی صورت میں مجبور ہیں۔ کیوں کہ دوسروں کے ساتھ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ کسی بااثر شخص کی پناہ حاصل ہو۔ علاوہ ازیں مختلف قبائلی گروہ کے اکٹھے رہنے پر ان کے مفادات جب آپس میں ٹکراتے ہیں تو اس کا نتیجہ خون و خرابہ کی شکل میں نکلتا ہے۔ کیوں کہ ان کے علاقہ میں کوئی حکومتی نظم و ضبط نہیں ہے اور حکومتیں بھی وہاں کے معملات کو قبائلی ملکوں اور جرگہ کے ذریعہ کنٹرول کرتی ہے۔ لیکن علحیدہ علحیدہ گروہ کی صورت میں رہنا ان کی فطرت نہیں ان کی مجبوری ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں بلوچستان کے پشتون علاقہ میں ملتا ہے۔ جہاں انگریزوں کے قبضہ کے وقت کوئٹہ کے علاوہ کوئی آبادی شہر تو در کنار قبضہ کہلانے کی بھی مستحق نہیں تھی۔ مگر انگریزوں کے قبضہ کے بعد وہاں کئی شہر اور قبضے وجود میں آگئے۔ کیوں کہ امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی تو لوگوں میں اکٹھے رہنے کا رجحان پیدا ہوا۔ شاید یہی وجہ ہے ایک پشتون کی وہاں سے نکلنے کے بعد ان کی فطرت میں تبدیلی آجاتی ہے۔ اس بات کو شیر شاہ سوری خوب سمجھتا تھا۔ اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کا بس چلے تو ان قوموں کو پنجاب کے دوآبہ میں بسا دوں تاکہ ان کی خصلت میں تبدیلی آئے۔ پشتونوں میں احساس برتری اس وقت سر اٹھاتا ہے، جب ان کا سامنا کسی ہم قوم سے ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے انہوں نے نہ ہی اپنے وطن میں کبھی کسی شخصیت کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا کہ جب تک انہیں خارجی معملات میں الجھایا۔ دوسری قوموں کی طرح انہوں نے کبھی اپنے وطن میں توارث کی عظمت کو تسلیم نہیں کیا۔ احمد شاہ ابدالی جسے وہ احتراماً بابا پکارتے ہیں اس کے خاندان کی حکمرانی بھی صرف تین پشت رہی۔ اس کے جانشین ہمشیہ عدم استحکام کا شکار رہے۔ انہیں قبائلی بغاو توں کے علاوہ بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح خلجی سلطان جلاالدین فیروز خلجی کو اس کے بھتیجے اور داماد نے قتل کرکے تخت پر قبضہ کرلیا تھا۔ بہلول لودھی نے پشتونوں کو حکومت میں شریک کرنے کے بہانے قابو میں رکھا۔ اس طرح اس کے بیٹے سکندر لودھی نے بھی اپنے فہم و فراست سے پشتونوں امیروں کو قابو میں رکھا۔ مگر اس کے بیٹے ابراہیم لودھی نے انہیں زیر دست سمجھا۔ لہذا پشتون امیروں نے اس کے خلاف سازشیں کیں اور بابر کو حملے کی دعوت دی۔ اس کے نتیجے میں لودھی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ کراچی جو پشتونوں کا دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہے اور جہاں بہت سی آبادیاں صرف پشتونوں پر مشتمل ہیں۔ یہ اس شہر میں اپنی محنت اور مسقبل مزاجی سے قدم جمالیے اور بعض شعبوں میں مکمل طور پر چھاگئے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ایک دوسرے کی مدد اور تعاون اور اپنے بھائی بندوں کو آگے بڑھانے کے جزبے سے ہی ممکن ہے۔ اس سے بھی ان کی قبائیلی اور خاندانی عصبیت کی نفی ہوتی ہے۔ اگرچہ ان کی یہ روش ماضی کی روشنی میں اور افغانستان کی حالیہ برسوں میں یعنی روسیوں کے جانے کے بعد کی صورت حال اس کی نفی کرتی ہے۔ یہ ان کی زندگی دو مختلف اور متضاد مگر عجیب و غریب پہلو ہیں۔ پشتونوں کے آبائی علاقے تعلیم و ہنر اور فنون لطیفہ سے دور رہے ہیں اور یہ زندگی کے معملات میں روایتوں اور آباء اجداد کی تقلید پر عمل پیرا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بظاہر مذہب پر عمل کرتے ہیں لیکن تعلیم کی دوری کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی اس کو عملی زندگی میں نہیں اپنایا بلکہ عملی زندگی میں روائتوں کی پیروی کی ہے۔ یہ اگرچہ اپنے عقائد اور روایات کے خلاف کسی دلیل اور حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ اس سے جہاں ان میں خود سری اور انفردیت آگئی ہے، وہاں یہ اپنے ارد گرد کی قوموں سے جو ان سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں ذہنی طور پر مرعوب رہے ہیں۔ جس کو یہ بظاہر تسلیم نہیں کرتے ہیں اور ان میں ایک طرح کی احساس کمتری غالب آگئی ہے۔ کیوں کہ ارد گرد کی قومیں ان سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب اور تعلیم یافتہ ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ کمتر تہذیب ہمیشہ ترقی یافتہ تہذیب کی تقلید کرتی ہے بظاہر وہ اس کا کتنا ہی ترقی یافتہ تہذیب کا مزاق اڑالیں لیکن لاشعوری طور پر اس کی تقلید پر مجبور ہوتی ہیں۔ اس لیے تہذیب یافتہ قوم کو شکست دی جاسکتی ہے لیکن اس کی تہذیب کو نہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال منگولوں کی ہے جنہوں نے مسلم اقوام کو شکست دے دی، مگر ان کی تہذیب کے ہاتھوں شکست کھا گئے اور اسے اپنانے پر مجبور ہوگئے اور دو ہی نسلوں کے بعد نہ صرف مسلم تہذیب کو اپنایا بلکہ مسلمان بھی ہوگئے۔ ہمارے سامنے مثالیں موجود ہیں کہ برصغیر میں پشتونوں کی آبادیاں قائم ہوئیں تو انہوں نے خود کو بڑی حد تک مقامی لوگوں سے دور رکھا، لیکن بالا آخر وہ بھی مقامی تہذیب کے ہاتھوں شکست کھا گئے اور جلد ہی ان میں اور مقامی لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہا۔

           عورت

پشتون کو عورت کو ماضی قریب میں کسی طرح کے حقوق حاصل نہیں تھے بلکہ سارا زور فرائض پر تھا۔ گویا عورت کی زندگی نہایت ذلت کی زندگی ہوتی تھی۔ لڑکی اگرچہ اپنے باپ کے لئے قیمتی اثاثہ ہوتی ہے، لیکن اس کی پیدائش پر کسی قسم کی خوشیاں نہیں منائی جاتی ہیں۔ جونہی لڑکی زرا کام کاج کے قابل ہوتی ہے، تو اس کے والدین روز مرہ کے کاموں کے علاہ مویشی چرانے بھیج دیتے ہیں۔ ولور کا طریقہ رائج ہونے کی وجہ سے اسے شادی کی عمر پہنچتے ہی عملی طور پر بڑھ کر بولی لگانے والے کے حوالے کردیتا ہے۔ دولت مند اور معزز افغان بھی اس سے مثتنیٰ نہیں ہیں اور وہ بھی اپنے سامان فروخت کی ترغیب و تحریض دلاتے ہیں۔ بلکہ دلہن کا باپ جتنا امیر ہوگا اتنی زیادہ قیمت ہوگی۔ لڑکیوں کی شادی شاز نادر ہی بلوغت کی عمر پہنچنے کی عمر سے پہلے کی جاتی ہے۔ جس کی ایک وجہ وہ گھریلو ذمہ داریاں ہیں جو ایک بیوی پر عائد ہوتی ہیں اور وہ ایک مکمل طور پر غالب عورت ہی نبھا سکتی ہے۔ بیوی کا کام صرف پانی لانا، خوراک تیار کرنا اور عام فرائض ادا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ روز مرہ کے دیگر فرائض جیسے اناج پیسنا، ایندھن لانا، سینا پرونا، کپڑے دھونا اون کانٹنا وغیرہ انجام دیتی ہے، بلکہ وہ ریوڑ چرانا، شوہر کا گھوڑا سنبھالنے، کاشتکاری میں ہاتھ بٹانے کی ذمہ داریاں بھی پوری کرتی ہے۔ اس کو اپنی شادی پر ملنے والے تحفہ تحائف پر بھی کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ طلاق کی صورت میں صرف اپنے بدن کے کپڑے ہی لے جاسکتی ہے اور بیوہ ہونے کی صورت میں اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد میں صرف گزارہ الاونس لینے کی حقدار ہوتی ہے۔ افغان عورت کا حق مہر نظری طور پر تسلیم کیا جاتا ہے تاہم یہ واجبی سا ہوتا ہے۔ عورتیں شاز نادر ہی مہر کا مطالعہ کرتی ہیں۔ کیوں کہ ان کے شوہر ان سے واپس لے لیتے ہیں۔ بعض قبائل میں یہ رسم ہے جس کے مطابق وہ بعد از مرگ ملنے والے ثواب کا حصہ اپنی بیوی کو بطور مہر دیتا ہے۔ جس اسے دوران حیات اپنے چولے چوکے سے کی جانے والی خیرات کے بدلے توقع ہوتی ہے۔ یہ چھٹے حصہ سے ایک تہائی حصہ ہوتا ہے اور شوہر کو اس کی زندگی میں ادا کرنے سے بچالیتا ہے۔ افغانوں میں طلاق معیوب سمجھی جاتی ہے اور شاد نادر ہی دی جاتی ہے۔ عام طور پر طلاق زنا کی صورت میں یا اس کے الزام دی جاتی ہے۔ جب کہ خلع کا تصور ہی نہیں پایا جاتا ہے۔ اگرچہ بعض قبائل میں نامرد ہونے پر عورت طلاق لے سکتی ہے۔ طلاق کی صورت میں مرد اپنے ولور کا ایک حصہ لینے کا حقدار ہوتا ہے اور زنا کی صورت میں وہ معاوضہ کا حقدار ہوتا ہے۔ افغانوں میں اب طلاق کا تصور کس قدر پایا جاتا ہے یہ ماضی میں بالکل ناپید تھا اس کو اپنی شادی پر ملنے والے تحفہ تحائف پر بھی کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ طلاق کی صورت میں صرف اپنے بدن کے کپڑے ہی لے جاسکتی ہے اور بیوہ ہونے کی صورت میں اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد میں صرف گزارہ الاونس لینے کی حقدار ہوتی ہے۔ افغان عورت کا حق مہر نظری طور پر تسلیم کیا جاتا ہے تاہم یہ واجبی سا ہوتا ہے۔ عورتیں شاز نادر ہی مہر کا مطالعہ کرتی ہیں۔ کیوں کہ ان کے شوہر ان سے واپس لے لیتے ہیں۔ بعض قبائل میں یہ رسم ہے جس کے مطابق وہ بعد از مرگ ملنے والے ثواب کا حصہ اپنی بیوی کو بطور مہر دیتا ہے۔ جس اسے دوران حیات اپنے چولے چوکے سے کی جانے والی خیرات کے بدلے توقع ہوتی ہے۔ یہ چھٹے حصہ سے ایک تہائی حصہ ہوتا ہے اور شوہر کو اس کی زندگی میں ادا کرنے سے بچالیتا ہے۔ افغانوں میں شادی کے بعد عورت مکمل طور پر اپنے والدین سے کٹ جاتی ہے۔ حتیٰ طلاق یا بیواہ ہونے کی صورت میں بھی اپنے والدین کے گھر نہیں جاسکتی ہے۔ اس کا اس کی والدہ کی جائیداد پر کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ شوہر کی موت کے بعد وہ اور اس کی بیٹیاں جائیداد کی تقسیم کے وقت اثاثہ میں شمار ہوتی ہیں۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے ایک بیٹا ولور لے کر ماں کا ہاتھ کسی کو پکڑا دیتا ہے۔ مرحوم کے بھائی کا مرحوم کے بھائی کا حق ہوتا ہے۔ اکثر یہ شادی اسے مجبوراً کرنی پرتی ہے یا کسی قریبی رشتہ دار سے اس کی شادی کرادی جاتی تھی۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ بھائی خود شادی نہیں کرنا چاہتا تو ولور لے کر کسی سے بھی اس کی شادی کرا دیتا ہے۔ ولور ولور وہ رقم ہے جو لڑکی کے بدلے لڑکی کا باپ لے یا لڑکے کی جانب سے شادی بلکہ منگنی سے پہلے لڑکی کے یہاں بھیجی جائے۔ ولور نقد رقم کے علاہ اسے عموماً بھیڑوں، بکریوں، گدھوں، اونٹوں، اناج، یا اسلحہ اور کبھی کبھار زمین کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔ تاہم رقم کا انتحصار دلہن کے خاندان، اس کی ذاتی خصوصیات اور شادی کرنے والے کی اسطاعت اور سماجی حثیت پر ہوتا ہے۔ لہذا اگر ایک آدمی اپنے سے بالا طبقے میں شادی کرنا چاہتا ہے، یا معمر آدمی ایک نوجوان لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک عام آدمی سے زیادہ ولور دینا ہوگا۔ جب کہ بیواہ سے شادی کے لئے ولور بانسبت ایک نوجوان لڑکی کے آدھا ہوتا ہے۔ تمام افغان قبائل میں ادلے بدلے ’سرائے یا سرائے پٹ‘ کا رواج ہے، اس کے تحت زیر تبادلہ لڑکیوں کی عمروں میں زیادہ فرق ہو یعنی ایک شادی کے لائق ہو اور دوسری ابھی نابالغ ہو تو نابالغ لڑکی کے والدین کو اضافی رقم دینی (برآور یا سُر) پڑتی ہے۔ اس طرح ایک معمر آدمی اپنی کسی رشتہ دار عورت کے بدلے ایک نوجوان عورت حاصل کرے تو اسے اضافی رقم ادا کرنی پڑے گی جو عموماً مروجہ ولور کی چوتھائی ہوتی ہے۔ شادی خوشحال لوگوں میں شادی کے وقت لڑکے کی عمر عموماً پچیس برس ہوتی ہے اور دلہن اس سے چار سال چھوٹی ہوتی ہے۔ لیکن غریب طبقہ میں دونوں بڑی عمر کے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ولور کی کی ادائیگی انہیں ادھیڑ عمر تک پہنچ جاتی ہے۔ بہت قریبی رشتہ داروں میں کبھی کبھار بچپن میں منگنیاں کر دی جاتی ہیں۔ گو قریبی رشتہ داروں میں شادی ضروری نہیں ہے لیکن قابل ترجیع ہے، کیوں کہ ادلہ بدلہ کم ہو جاتا ہے یا ولور کم ہوجاتا ہے اور طرفین ایک دوسرے سے آشنا بھی ہوتے ہیں اور یہ رشتہ ازواج ان کے قبائلی تعلقات مستحکم کرتا ہے۔ دلہن کے انتخاب میں مرد کی رائے نہیں لی جاتی ہے لیکن والدین شادی کرتے وقت مناسب لڑکی تلاش کرتے ہیں۔ پہلے پہل کسی رشتہ دار خاتون کو لڑکی کے گھر بھیجتے ہیں تاکہ لڑکی کی صورت و شکل و دیگر صفات کا اطمنان کرلے۔ غربا اور بڑی عمر کے امیر آدمی اپنی بیوی کا انتخاب خود کرتے ہیں۔ ہر شخص جتنی جلد ہو شادی کرلیتا ہے، لیکن ولور کی ادائیگی اکثر انہیں اڈھیر عمری تک پہنچادیتی ہے۔ لڑکی کی شادی لازماً بلوغت کے بعد ہوتی ہے، اس کی وجہ ایک بیوی کو ایک بار گراں سنھالنا پڑھتا ہے، جس کی اہل ایک بالغ لرکی ہی ہوسکتی ہے۔ کیوں کہ روزمرہ کی ذمہ داریوں کے علاہ اسے سامان اتارنا اور لادنا، کڑوی (خیمہ) گاڑنا اور اکھاڑنا، ڑیور چڑانا، اونی کپڑے بنانا، چارا کاٹنا اور گھر لانا اور زراعتی کاموں میں ہاتھ بٹانا ہوتا ہے۔ لڑکی پسند آجانے پر لڑکے کا باپ کچھ عزیزوں کے ساتھ (جنہیں مرکہ کہا جاتا ہے) لڑکی کے گھر جاتا ہے۔ اگر ابتدائی مزاکرات تسلی بخش ہوں تو ولور کی رقم اس کی نقد ادائیگی اور بصورت ادائیگی اور جہز (کور / غوٹہ / غوڑاشہ) جو باپ بوقت شادی اپنی بیٹی کو دے گا زیر بحث آتے ہیں اور ان کا فیصلہ ہوتا ہے۔ کبھی کھبار جہز کی قیمت ولور میں سے وضع کرلی جاتی ہے۷ اور اس صورت میں لڑکی کے والدین لڑکی کو جہز یا تحفے تحائف نہیں دیتے ہیں۔ بعض قبائل میں ہوکرہ کے وقت ملا کو بلا لیتے جو دعا کرتا ہے اور بعض اس وقت نکاح پڑھا دیتے ہیں اور دلہا کی نماندگی اس کا وکیل کرتا ہے۔ بعض قبائل میں دلہن کے بڑے بھائی اس موقع پر گاؤں چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض جگہ یہ رسم ہے کہ منگنی کے بعد داماد خسر کے یہاں رات میں بھی قیام کرتا ہے۔ اس کے لئے سسر سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ پھر دن اور تاریخ کے تعین کے بعد لڑکا اپنے چند دوستوں اور قریبی خواتین کے ہمراہ لڑکی کے گھر جاتے ہیں۔ رات کو سب کی ضیافت ہوتی ہے لڑکے کے دوست کھانا کھا کر واپس آجاتے ہیں۔ جب کہ لڑکا اور خواتین رہے جاتی ہیں۔ کبھی ایک رات کبھی مسلسل دو تین رات گزاتا ہے۔ تیسری رات گزانے کے بعد دن چڑھنے اور ناشتے کے بعد وہاں سے رخصت ہوتا ہے۔ اگر رات گزارے تو اعلیٰ الصبح ہی خسر کے گھر سے نکل جاتا ہے یہ رسم گرونے یا بازی کہلاتی ہے۔ کوژہ یعنی منگنی کے بعد دولہا کو ساس کی مرضی سے دلہن سے ملنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن کھلا کھلم نہیں۔ اس کو ’غل گرانی‘ (خفیہ انباط) کہتے ہیں۔ لیکن پشتہ حلاصول یا گردنی بھی رائج ہے۔ جس کے مطابق دولہان چند دوستوں کے ہمراہ دلہن کے گھر جاتا ہے اور دلہن کو ایک جوڑا جس میں چادر، پرونے، قمض، شلوار اور جوتا ہوتا ہے دیتا ہے۔ بعض اس موقعہ پر ایک ٹوپی بھی پیش کرتے ہیں۔ ساتھیوں کی ضیافت ہوتی ہے اور وہ ضیافت کے بعد واپس لوٹ جاتے ہیں۔ لیکن دولہا دلہن کے گھر ٹہرتا ہے۔ جس کے دوران اسے ہم خوابی کی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے بعد دولہا کو ایک جوڑا دے کر رخصت کردیا جاتا ہے۔ لیکن وہ دلہن سے کسی وقت بھی مل سکتا ہے اور اس کو شوہر کی تمام مراعت حاصل ہوتی ہیں۔ اس دوران لڑکی اپنے میکے میں حاملہ ہو جائے تو بعض میں لڑکے والوں کو جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ نکاح عموماً دلہن کے گھر ہوتا ہے بعض قبائل میں دلہن کو دلہا کے گھر لے جاکر وہاں نکاح پڑھایا جاتا ہے۔ (بلوچستان گزٹیر۔ ۹۱۔ ۴۹۔ ۹۹) ولور پورا ہوجائے تو نکاح کی تاریخ مقرر ہوجاتی ہے۔ اسے نیٹہ کخیول یعنی وقت مقرر کرنا کہتے ہیں۔ ار طریقہ شادی - کوئی شخص کسی لڑکی پر فریضہ ہوجائے، لیکن لڑکی کے والدین راضی نہ ہوں تو وہ اس کے گھر جاکر بھیڑ یا بکری کی سری پھینک دے گا اور گھر کے سامنے بندوق چلائے گا یا لڑکی کی زلفیں کاٹ کاٹے گا، زیور (ڈونگی) اتار دے گا، اس کی چادر (سری یا ٹکری) لے بھاگے گا اور ساتھ یہ اعلان کردے گا کہ وہ اس کی ہے اور اسی سے شادی کرے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ لڑکی کے والدین شادی کے لئے راضی ہوجاتے ہیں اور ولور ادا کردیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ شادی اب ناپید ہے۔ لمن شکول - دامن پھاڑنا۔ لڑکی زبردستی اپنے نام سے منسوب کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ جب وہ لڑکی کو ہر طریقہ سے مانگ چکتے ہیں اور والدین انکار پر بضد ہوتے ہیں تو لڑکا موقع پاکر لڑکی کا دامن پھاڑ ڈالتا ہے اور لڑکی کو کہتا ہے کہ ماں باپ کو جاکر دیکھا دو میں نے دامن پھاڑ دیا ہے اور ساتھ ہی مکان کے پاس جاکر ایک دو فائر کرکے چلا جاتا ہے۔ اب لڑکی کو کوئی دوسرا نہیں مانگ سکتا ہے۔ چاہے لڑکی ساری عمر یوں ہی بیٹھی رہتی ہے۔ اس طریقہ کو درست کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک جرگہ کے ذریعہ لڑکی کے والدین کو راضی کرنا اور دوسرا لڑکے کو مار کر مستقل دشمنی مول لینا۔ آر ڈڑے کول - کسی کی بہن بیٹی پر دعویٰ کرنا۔ دستور کے مطابق باقیدہ لڑکی مانگی جاتی ہے اور لڑکا ہر شرط پورا کرنے کو راضی ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی والدین لڑکی دینے سے انکار کردے تو اس صورت میں لڑکا لڑکی کے مکان کے قربب جاکر اعلان کردے گا کہ اس کا دعوے دار میں ہوں، یہ کہہ کر ایک دو فائر کر کے چلا آئے گا۔ اب اس لڑکی کو کوئی اور نہیں مانگ سکتا ہے۔ اگر کوئی اور اس کو بیاہ نے کو کوشش کرے گا تو وہ اتنا طاقتور ہو کے کہ ہر حال میں اس کا مقابلہ کرے اور اس پر غالب آسکے۔ مگر یہ معاملہ مخالفت بلکہ دشمنی کا سبب بن جاتا ہے۔ کیوں کہ لڑکی کے دعوے دار کو نہ صرف لڑکی کے گھر والوں سے خطرہ ہوتا ہے بلکہ لڑکی والوں کو دعوے دار کی طرف سے بھی خطرہ ہوتا ہے اور اس میں کبھی کبھی بڑا زبردست کشت و خون ہوتا ہے اور بڑی مشکلوں سے تصفیہ ہوتا ہے۔ مرندہ - کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک لڑکی سے شادی کرنے کے دو دعوے دار اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور جب تک ان کے جھگڑے یا دعوے کا فیصلہ کسی ایک کے حق میں نہ ہوجائے لڑکی کو مجبوراً بیٹھا رہنا پڑتا ہے۔ یہ لڑکی جس کی شادی نہیں ہوسکتی ہے ’مرندہ‘ کہلاتی ہے۔ شادی کی یہ رسوم چند تبدیلیوں کے ساتھ تمام پشتون قبائل میں رائج میں ہیں۔ توہمات پشتونوں کے ہر دیہہ اور گاؤں کے باہر ایک نہ ایک بزرگ ہستی کا مدفن ہوگا۔ جو اپنے زمانے میں قبیلے یا گاؤں کا رہنما، اخلاف یا کوئی سادات میں سے کوئی ہوسکتا ہے۔ جس سے وابستہ بہت سی روایات اور کرامات ہوتی ہیں۔ یہ مدفون ہستی گاؤں کی محافظ ہوتی ہے جو گاؤں کو آفات اور دیگر تکالیف سے بچاتی ہے۔ پشتونوں میں روز مرہ کے کاموں میں ان ہستیوں، یعنی آبا اجداد اور اولیا کی مداخلت اور دستگیری کا عقیدہ عام ہے اور ان سے بیمار کے علاج، آفات کے دفیعہ، بارش کے لئے اولاد یا باآور کرانے کے لئے ان سے فریاد کی جاتی ہے۔ ان ہستیوں کے مزارات عام طور پر پھتر کے یا مٹی کے ڈھیر اور پھتر کے احاطے پر یا کبھی کبھار کچی جھونپڑی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جن کے گرد بانس گاڑے ہوتے ہیں، جن پر کپڑوں کے چھیچڑے، سینگ یا گھنٹیاں لٹک رہی ہوتی ہیں اور ان کے متعلق عجیب وغریب عقیدہ رکھتے ہیں۔ مثلاً پشین کے بابا فرید کا مزار ہے، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آب سرخاب کی نمود ان کی کرامت ہے۔ پشین کے ہی شمو زئی کاکڑ پیر عبدالحکیم کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیچھے آنے والے پستے کے درختوں کو درہ خوستک پر روک لیا اور ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے توبہ کے سانپوں کو بے ضرور بنا دیا۔ اس طرح قطب نیکہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے مزار کی بدولت حاجی جان (پشین) کے علاقہ ہیضہ سے محفوظ ہے اور ان کا مزار بالخصوص بے اولاد عورتوں کا مرجع ہے۔ اس طرح ہندو باغ کے قریب سخی نیکہ تارن نے ایک کھیت کے خربوزوں کو پتھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ ہندو باغ کے شاہ حسین کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بکری کی طرح سینگوں کے مالک تھے۔ قلعہ سیف اللہ کے بیکر نیکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ احمد شاہ ابدالی نے انہیں قندھار بلایا اور مالیہ مانگا اور انہیں ابلتے ہوئے پانی میں میں ڈالا گیا اور وہ محفوظ رہے۔ احمد شاہ ابدالی ان کی بزرگی کا قائل ہوگیا۔ اس طرح افغان قبیلے زمرے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے مورث اعلیٰ نے ایک دفعہ عارضی طور پر زمرے (شیر) کی شکل اختیار کرلی تھی۔ جلال زئیوں کے مورث اعلیٰ سیّد نے ایک دفعہ پونی ندی میں ہاتھ دھو کر پانی کو دودھ کی شکل میں بدل دیا تھا اور بعد میں لوگوں کی التجا پر اسے واپس پانی میں بدل دیا تھا۔ کوئٹہ کے قریب خواجہ مودود چشتی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کوہ چیر میں شگاف اندازی ان کی کرامت بتائی جاتی ہے۔ افغانوں کی اکثریت سنی العقیدہ ہے، مگر صرف ملا اور سادات ہی اپنے مذہب کے ظاہری اطور کو کسی حد تک سمجھتے ہیں اور عام لوگ اگرچہ نماز روزے کے پابند ہیں مگر دیگر امور میں توہمات مذہب پر غالب ہیں۔ ایک عام وہم ہے کہ کسی کو اس وقت پکارے جب ہوہ عازم سفر ہو تو اسے قدم اٹھانے سے پہلے لازماً بیٹھنا چاہیے۔ اگر روانگی کے فوراً خرگوش اس کا راستہ کاٹے، بعض جگہ جنازہ دیکھے، بعض جگہ جولاہا ملے تو اسے لازماً گھر لوٹ کر واپس جانا چاہیے۔ اس طرح بعض جگہوں پر گیڈر راستہ کاٹے تو اسے اچھا شگون سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بعض مقامات پر منگل اور ماہ صفر میں سفر نہیں کیا جاتا ہے۔ اس طرح کاکڑ جمع کے روز مغرب کی طرف سفر نہیں کرتے ہیں۔ علی زئی اچکزئی اپنی موسمی ہجرت کے دوران کوچ کی پہلی رات کسی مہمان یا رشتہ دار کو اپنے خیمہ میں داخل ہونے نہیں دیتا ہے۔ شادیاں عموما محرم اور صفر کے ابتدائی بارہ دنوں میں نہیں کی جاتی ہیں۔ جب کہ خرشین سادات مہینے کی تیسری، آٹھویں، اٹھارویں اور اٹھائیس تاریخوں میں نہیں کی جاتی ہیں اور سنزر خیلوں میں ماہ شبعان میں شادیاں نہیں کی جاتی ہیں۔ بابو زئی دومڑ جمع یا مہینے کی آخر تاریخوں میں کوئی نیا کام نہیں کرتے ہیں۔ اسوٹ اتوار سودا نہیں کرتے اور نہ ہی قرض دیتے ہیں۔ شاہ زئی ترین مکھن نہیں کھاتے ہیں۔ پہلے موسم کے دودھ کا مکھن کسی کو نہیں دیا جاتا ہے تادقتیکہ اس کا گھی نہ بنالیا جائے۔ پشین کا ترین اورسید عصر اور مغرب کے درمیان چائے یا پانی نہیں پیتا ہے۔ ایک یاسین زی یا بازئی کاکڑ بید کے سائے میں نہیں سوتا ہے۔ ایک دومڑ عورت جانور کا کلیجہ نہیں کھاتی ہے۔ کاکڑ عورت غروب آفتاب کے وقت کسی کو نمک نہیں دیتی ہے۔ ایک ترین یا سیّد عورت بھی کسی کو نمک نہیں دیتی ہے کہ مبدا کہیں تقدیر نہیں پلٹ جائے۔ اچکزئی خاتون دودھ ابالتے وقت آگ کسی کو نہیں دیتی ہے۔ لوہار ایسا تو بیچ نہیں سکتے ہیں جسے ایک دفعہ آگ پر رکھا جاچکا ہے۔ اس طرح کی مختلف امتیای پابندیاں افغانوں میں عام ہیں۔ افغانوں میں سادات اور ملا کی اہمیت بہت ہے۔ ان میں سے بعض بارش برسانے، بیماری دور کرنے، اولاد بخشنے، فضلوں کو پھپوندی اور ٹڈی سے بچانے اور آسیب اتارنے کی طاقت منسوب کی جاتی ہیں۔ مثلاً سنڈیمن کے ٹارن اور خوستی سادات دشمن کی گولیوں کو بے ضرر بنانے اور جلال زئیوں کے شاہ زئی اپنے جادو ٹونے سے ٹڈی دل کو بھگانے کے اہل سمجھے جاتے ہیں۔ لوگ ان سے مسلسل تعویز گنڈوں اور دعاوئں کا تقاضہ کرتے ہیں۔ بدروحوں اور ان کے اناج چرانے کی قوت کا عقیدہ عام ہے۔ بٹائی تک اناج کے گرد تلوار سے دائرہ کھنچ دیا جاتا ہے اور اس پر قران شریف اور ننگی تلوار رکھ دی جاتی ہے کہ مبادا بھوت پریت کا پہرا ہوجائے۔ لڑائی یا چھاپہ پر جانے سے پہلے اپنے معتبروں یا مقدس طبقے کے دو آدمیوں کی پھیلائی ہوئی چادر نیچے سے گزرتے ہیں۔ یہ رسم انہیں تلوار سے تو نہیں البتہ گولیوں سے محفوظ رکھنے کا شگون سمجھاجاتا ہے۔ اس طرح یہ رسم ہیضہ سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی کی جاتی ہے۔ بعض قبائل میں دستور ہے جب گھر کا مرد سفر پر جاتا ہے تو اسے قران کے نیچے سے گزارا جاتا ہے اور جونہی دہلیز سے باہر پاؤں رکھتا ہے تو گھر کی بڑی بوڑھیاں تھوڑا سا پانی دہلیز پر انڈیل کر مٹھی بھر کھڑی معاش کی دال بکھیڑ دیتی ہیں۔ یہ ایک طرح کا شگون ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ شخص سفر میں بھوکا پیاسا نہ رہے اور کچھ روزی کماکر لائے۔ بت پرست جن میں قدیم آریابھی شامل ہیں کے مذہب میں قوق البشر قوتوں کی رضا جوئی یا استالیت ہے۔ جن کے متعلق یہ باور کیا جاتا ہے کہ فطرت اور انسانی حیات ان کی دست قدرت میں ہیں اور وہی ان کی راہ معین کرتی ہیں۔ اس طرح ایک طرف ان فوق البشر قوتوں اپر اعتماد اور دوسرا انہیں راضی خوشی کرنے کی کوشش، ان دونوں میں اولیت اعتماد کو حاصل ہے۔ کیوں کہ کسی برتر ہستی کی رضا جوئی سے اس پر اعتماد لازمی ہے۔ یہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کے باوجود فوق البشتر یا برتر قوتوں اور ان کی رضا جوئی کو تسلیم کرتے رہے ہیں بلکہ ان مقتدد ہستیوں کو فطرت جن کے قبضے میں ہے اور واقعات کا رخ موڑ نے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ گویا صنم کدہ ڈھے گیا مگر بت دلوں میں آویزاں رہے اور اگرچہ انہوں نے مذہب اور مذہب کی ظاہری پابندی اور اس کے اصولوں کا زبانی اقرار ضرور کرلیا، لیکن ان کے ذہنوں پر ماضی کے افکار اور توہمات کے پردے بدستور پڑے رہے اور ان توہمات کو مذہب ممنوع قرار تو دے سکتا ہے لیکن جب تک وہ ان کے ذہن اور مزاج میں رچھ بسے ہوئے ہوں تو مذہب ان کی بیچ کنی نہیں کرسکتا ہے۔ کیوں کہ ان ذہنوں اور خیالات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے اور ان کے ذہن مذہب (اسلام) کی بلندی کو نہیں پاسکتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اس قدر تنگ نظر ہیں کہ اسی کو جزو ایمان بنا لیا ہے کہ یہ تقدس کی حامل شخصیت اپنی فسوں سازی سے، فطرت اور قدرت کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے یا ڈھالنے پر قادر ہیں اور اسی عقیدے نے ان شخیصات کو ربانی تقدس بخشا ہے۔

    یہ وہ ربانی تقدس کی حامل شخصیات جو کہ مذہبی تقدس یا ملکوتی تقدس کی مالک بھی ہیں اور ان سے بہت سی مادرائی قوتیں منسوب کی جاتی ہیں اور اس طبقہ کے ربانی تقدس کے پیش نظر ان کے کوتا بینی یا کوتا ذہنیت نے ایسی داستانیں تخلیق کی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ برتر ہستیاں اس کی رضا کے تابع یا قدرت میں ہوتی ہیں۔ یہی سبب ہے یہاں کے لوگوں میں سیّد یا مذہبی طبقہ کا وہی درجہ ہے، جو ہندؤں میں رشی، مہنتوں اور برہمنوں کا ہے۔ کیوں کہ یہی طبقہ ہے، جو ان پرتر ہستیوں کی نمائندگی کرنے لگتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ مہربان ہوجائیں تو ہر مشکل دور ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ فطرت اور قدرت ان کے تابع میں ہوتی ہے اس لئے ان سے مسلسل تعویزوں، گنڈوں اور دعاؤں کی التجا کی جاتی ہے۔ 

پشتونوں کے چند توہمات کا جن کا بالاالذکر ہوچکا ہے۔ یہ توہمات صرف پشتونوں کی میراث نہیں ہیں بلکہ برصغیر کی تمام قومیں ان کی اسیر ہیں۔ اگر ہم فکر کے ان عناصر کا تجزیہ کریں تو جو اصول مرتب ہوں گے ان میں سے ایک یہ ہے کہ مثل سے مثل پیدا ہوتا ہے یا یہ کہ نتائج اسباب کے مشابہ ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ چیزیں جو کبھی باہم مربوط رہی ہیں، علحیدہ ہونے کے بعد بھی ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اول الذکر کو قانون تماثل کہا جا سکتا ہے اور دوسرے اصول کو قانون ارتصال یا قانون تعدی۔ اس میں پہلے اصول قانون مماثل سے اتباع پابندی کا یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ محض کسی واقعہ کی نقل اس کا باعث بن سکتی ہے۔ دوسرے اصول کی بنا پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ کسی شے پر جو عمل کرے گا بعینہ وہی اثر اس پر مرتب ہوگا۔ ایک معاشرے میں لوگ بہت سی باتوں کی امتیناعی پابندیاں کرتے ہیں۔ ان میں ہم بعض کو مقدس اور پاک اور بعض کو ہم ناپاک اور نجس کہتے ہیں۔ لیکن ایک جاہلی معاشرے میں اس قسم کی کوئی تمیز نہیں ہوتی ہے۔ یہ اپنے اوپر جو پابندیاں عائد کرتے ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ ان کا مقاطعہ کرکے ان آفتوں کا سدباب کیا جائے جن کا ان کو یا ان کی وجہ سے دوسرے لوگوں دھڑکا لگا ہو۔ امتناع کے ذریعے ان آفات کا دفعیہ کیا کرتا ہے۔ یہ امتناعات پشتونوں کی طرح پاک و ہند میں عام ہیں مثلاً کسی بزرگ ہستی کا نام نا لینا، بیوی کا شوہر کانام لینے سے پرہیز، چھوت چھات اور اس طرح کی بہت سی پابندیاں ہیں جن سے لوگ عام طور پر واقف ہیں۔ آزمائش برصغیر کی دوسری قوموں کی طرح پشتونوں میں بھی آگ و پانی کی آزمائش کے ذریعے مجرم کے گناہ گار یا بے گاہ ہونے کا فیصلہ کیا جاتا تھا اور ان کی آزمائشوں پر جو پورا اترتا تھا اسے بے گناہ سمجھا جاتا تھا اور دوسری صورت میں اس کے گناہ گار ہونے کا یقین کرلیا جاتا تھا۔ ماضی میں ایک پٹھان بادشاہ جلال الدین فیروز شاہ خلجی نے بغاوت کے شبہ میں ان کے گناہ کے بارے فیصلہ آگ میں سے گزار نے کا سوچا تھا۔ ساز و آواز اور رقص پشتو زبان کی ادبی اصناف پاک و ہند کی دوسری زبانوں سے ملتی جلتی ہیں۔ اس علاقے کے باشندوں کی زندگی قدرتی طور پر پھولوں کی طرح سیج نہیں ہے۔ اس لئے اس کے کتنے پہلو ہیں جو سنگین بھی اور نرم و نازک بھی ہیں، ان کا عکس ان کی موسیقی بھی دیکھائی دیتا ہے۔ ان میں مردانگی کی روایات بھی، رومان کی جھلکیاں بھی، زندگی کے میلے و نفیس بہاریں، رنگینیاں اور رعانیاں بھی ہیں۔ جو شادی بیاہ، رسموں ریتوں اور تہواروں میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ یہاں کے لوگ راگ و رنگ کے شوقین ہیں۔ ان کی زندگی میں حجرہ کو خاص دخل ہے۔ جہاں گاؤں کے لوگ جمع ہوکر مختلف معملات پر گفت و شندد کرتے ہیں۔ کوئی حجرہ ایسا نہیں ہے جہاں اسباب طرب یعنی رباب، گھڑا اور ڈھول نہ ہو۔ یہیں موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے اور رقص کا بھی۔ یہ حقیقت ہے ہر پشتون دل و جان سے موسیقی کا دلدادہ ہوتا ہے۔ گیت ایک ایسی قوم جس کی زندگی ہی رزم کے لئے وقف ہو ایسے میں زندگی کے اس اہم پہلو سے ربط کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے ابتدا میں ہی لمبی چوڑی نظموں میں جنگ و جدل کے معرکوں اور لڑائیوں کی داستانیں قلمبند کی جاتی تھیں اور انہیں فخریہ مجلسوں، حجروں، میلوں اور تہواروں میں سنایا جاتا تھا۔ گویا شروع میں شاعری اور موسیقی کے ڈانڈے ملتے تھے۔ گیت اور نظمیں خود بخود خاص قسم کے ناچوں میں ڈھلتے چلے گئے۔ جن میں زندگی کے واقعات اور تاریخ کی رفتار اور چال دھال بھی تصرف اور رنگ آمیزی پیدا کرتی چلی گئی۔ تاآنکہ اس کی نمایاں اقسام یا اصناف مقرر ہوگئیں جو آج سنڈے، ٹپہ، لوبہ، رباعی، لہکتی، بدلہ، چار بیت اور غزل کے نام سے نمایاں ہیں۔ چنانچہ جو سات اصناف پشتو شاعری کی ہیں وہیں موسیقی کی بھی۔ گویا دونوں کی کائنات ایک ہی ہے۔ ساز پشتونوں میں بجائے جانے والے ساز عموماً قدیم ساز ہیں۔ ان سازوں کی خوبی یہ ہے کہ ان کی آواز سخت اور کڑخت ہے اور اس کو بجانے میں خاصہ زور لگانا پرھتا ہے اس لئے یہ جنگی ساز کہلاتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کے مزاج جس میں ایک قسم کا کڑخت پن آگیا کے مزاج کے مطابق ہیں۔ اس علاقہ میں جو ساز رائج ہیں ان میں رباپ (رباب) سریندہ، سرنا، زنگہ اور زیر بغلئی ہیں۔ یہ ساز اصل میں قدیم زمانے میں برصغیر میں بھی رائج تھے۔ مگر مسلمانوں نے نئی نئی جدتیں اور اختراع کیں اور نہ صرف ان میں تبدیلیاں کیں بلکہ نئے ساز بھی ایجاد کئے۔ صوبہ سرحد میں رائج سازوں دھنوں کو بجانے کے لئے موزوں ہیں، لیکن یہ راگ اور راگنیاں بجانے بجانے کے لئے یہ موزوں نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں صلاحیت ہے۔ پشتو دھنوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ سادی اور جوش سے بھری ہوئی ہے اور ان میں والہانہ پن ہے جو بے اختیار دل کو جھنجور دیتی ہیں۔ رقص صوبہ سرحد یا پٹھانوں میں جو ناچ مروج ہیں وہ زیادہ تر ملی ناچ ہیں۔ ان میں بہت سے افرد ایک دائرے میں رقص کرتے ہیں، جس کے بیچ میں عموماً ڈھول نفری بجانے والے ہوتے ہیں۔ یہ بھنگڑا سے ملتے جلتے ہیں۔ بعض رقص میں نوجوان تلواریں ساتھ رقص کرتے ہیں اور بعض رقصوں میں چھڑیاں اور بعض رقصوں میں رومال استعمال کرتے ہیں اور ساتھ تالیاں بجاتے ہیں۔ اس طرح بعض جگہوں پر عورتیں اور مرد مخلوط ہوکر رقص کرتے ہیں اور کہیں صرف عورتیں ہی رقص کرتی ہیں۔ ان کے نام خٹک، انترا، بنگرہ، متاڈولہ اور بلبلہ وغیرہ ہیں۔ اس طرح کے دراصل صوبہ سرحد سے لے کر شمالی علاقوں، کشمیر، پنجاب،بلوچستان، راجپوتانہ میں عام ملتے ہیں، یہ دراصل ایک طرح کی قدیم زمانے کی جنگی مشق ہیں، جو فراغت کی وقت کی جاتی تھیں، تاکہ چاق وچوبن رہیں اور انہیوں نے رفتہ رفتہ رقص کی صورت اختیار کرلی ہیں اور اس میں عورتیں بھی حصہ لینے لگیں ہیں۔ یہ رقص برصغیر کی جنگی قوموں میں یا برصغیر پر حملہ آور قوموں میں قدیم زمانے سے عام رائج ہیں۔ معین انصاری ماخذ

افغان۔ معارف اسلامیہ 
پ۔ معارف اسلامیہ 
سلم۔ معارف اسلامیہ 
بلخ۔ معارف اسلامیہ 
آذری زبان۔ معارف اسلامیہ 
فارسی۔ معارف اسلامیہ 
ترک۔ معارف اسلامیہ
مولانا عبدالقادر، پشتو۔ معارف اسلامیہ 
غوری۔ معارف اسلامیہ 
افغانستان۔ معارف اسلامیہ
عبدالحئی حبیبی۔ تقلیمات طبقات ناصری جلد دوم
ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دوم  
ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی
ڈاکٹر ابولیث صدیقی۔ ادب و لسانیات 
ہیرالڈیم۔ سکندر اعظم 
نعمت اللہ ہراتی، مخزن افغانی 
ابو القاسم فرشتہ۔ تاریخ فرشتہ، جلد اول
ابو القاسم فرشتہ۔ تاریخ فرشتہ، جلد دوم

سدھیشورورما، آریائی زبانیں

یحیٰی امجد۔ تاریخ پاکستان قدیم دور 

مفتی ولی اللہ فرح آبادی۔ عہد بنگیش۔ (احمد یحیٰ سرہندی تاریخ مبارک شاہی۔

آبو۔ معلومات شہکار انسایئکلوپیڈیا 
سر جارج فریزر۔ شاخ زرین۔ جلد اول 
سیّد انوار الحق جیلانی۔ پشتو نامہ 
ویمرے۔ تاریخ بخارا 
جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول 
جیمزٹاڈ۔تاریخ راجستان جلد دوم
بھارت۔ اردو جامع امسائیکلوپیڈیا 
ڈاکٹر شیر بہادر پنی۔ تاریخ 
میر گل خان نصیر۔ بلوچستان
تیمور۔ تزک تیموری 
ابن بطوطہ۔ سفرنامہ ابن بطوطہ، جلد اول 
مرزا غلام محمد قادیانی۔ مسیح ہندوستان میں  
علامہ سیّد سلیمان ندوی۔ عرب و ہند کے تعلقات  
سیّد مناظر حسین گیلانی۔ ایک ہزار سال پہلے  
لیفتنٹ جنرل جارج میکمن۔ شمال مغربی پاکستان اور برطانوی سامراج        
بلوچستان گزیٹیر 
شیر محمد گنڈا پور۔ تاریخ پشتون 
ہیرالڈلیم۔ منگول اور ان کا سردار   

سبط حسن، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء

ولیم ایل لینگر۔ انسائیکلوپیڈیا تاریخ عالم جلد دوم 
جی لی اسٹریج۔ خلافت شرقی 
احمد یار خان آف قلات۔ مختصر تاریخ قوم بلوچ 

منو، منو ساشتر

چودہدری وہاب الدین امرتسری۔ تاریخ کمبوہان 
مصتنسر حسین تاڑر۔ کے ٹو کہانی 
عاصمہ حسین۔ مغربی پاکستان کے لوک گیت 
اشفاق احمد۔ ہفت ابانی لغت 

سیّد جمال الدین افغانی۔ الافغان

  1. ^ Swarup, Shubhangi (29 January 2011). "The Kingdom of Khan". OPEN. http://www.openthemagazine.com/article/art-culture/the-kingdom-of-khan. Retrieved 2014-07-17. "Salim Khan, scriptwriter and father of سلمان خان, remembers the Afghan tribe his family historically belongs to. “It is Alakozai,” he says."
  2. ^ http://daily.bhaskar.com/article/HAR-the-afghanistan-connection-with-saif-ali-khans-pataudi-family-and-his-begum-kare-4349905-PHO.html#seq=11
  3. ^ Ethnologue
  4. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام CIA-Pak-pop کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  5. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام CIA-Afghan-pop کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  6. ^ The History, Antiquities, Topography, and Statistics of Eastern India: In Relation to Their Geology, Mineralogy, Botany, Agriculture, Commerce, Manufactures, Fine Arts, Population, Religion, Education, Statistics, Etc., by Robert Montgomery Martin, Cambridge University Press. [1], pg. 145. "Of the Pathans, there are above 6,000 families, chiefly settled in Nawada, Sheykhpura, and پٹنہ." Link here
  7. ^ "United Arab Emirates: Demography". Encyclopædia Britannica World Data. Encyclopædia Britannica Online. http://www.britannica.com/new-multimedia/pdf/wordat207.pdf. Retrieved 15 March 2008.
  8. ^ 42% of 200,000 Afghan-Americans = 84,000 and 15% of 363,699 Pakistani-Americans = 54,554. Total Afghan and Pakistani Pashtuns in USA = 138,554.
  9. ^ 9.0 9.1 "Ethnologue report for Southern Pashto: Iran (1993)". SIL International. Ethnologue: Languages of the World. http://www.ethnologue.com/show_language.asp?code=pbt. Retrieved 5 May 2012.
  10. ^ Maclean, William (10 June 2009). "Support for Taliban dives among British Pashtuns". Reuters. http://www.reuters.com/article/latestCrisis/idUSL861250. Retrieved 6 August 2009.
  11. ^ Relations between Afghanistan and Germany: Germany is now home to almost 90,000 people of Afghan origin. 42% of 90,000 = 37,800
  12. ^ "Ethnic origins, 2006 counts, for Canada". 2.statcan.ca. 2006. http://www12.statcan.ca/english/census06/data/highlights/ethnic/pages/Page.cfm?Lang=E&Geo=PR&Code=01&Data=Count&Table=2&StartRec=1&Sort=3&Display=All&CSDFilter=5000. Retrieved 17 April 2010.
  13. ^ "Perepis.ru" (in ru). perepis2002.ru. http://www.perepis2002.ru/ct/doc/TOM_04_P1.doc.
  14. ^ "20680-Ancestry (full classification list) by Sex – Australia" (Microsoft Excel download). 2006 Census. Australian Bureau of Statistics. http://www.censusdata.abs.gov.au/ABSNavigation/prenav/ViewData?breadcrumb=POLTD&method=Place%20of%20Usual%20Residence&subaction=-1&issue=2006&producttype=Census%20Tables&documentproductno=0&textversion=false&documenttype=Details&collection=Census&javascript=true&topic=Ancestry&action=404&productlabel=Ancestry%20(full%20classification%20list)%20by%20Sex&order=1&period=2006&tabname=Details&areacode=0&navmapdisplayed=true&. Retrieved 2 June 2008. Total responses: 25,451,383 for total count of persons: 19,855,288.