پطرس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پطرس

حضرت مسیح کے ممتاز ترین حواری ۔(انگریزی:Saint Peter) یونانی نام "پتروس" جس کا معنی ہے "پتھر"۔[1]اس کا اصل نام "شمعون" تھا۔[2]۔ مسیحی کیتھولک کلیسا اس کو اپنا بانی سمجھتا ہے اس سے کچھ کتب بھی منسوب ہیں۔ یہی پہلا پوپ مانا جاتا ہے۔ رومی بادشاہ نیرو کے عہد میں اس کو اس x طرح کی صلیب پر پھانسی دی گئ۔[3]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پطرس بیت صیدا کا باشندہ تھا۔[4]اس کے باپ کا نام "یوحنا" تھا۔وہ ان پڑھ تھا۔[5]ارامی اور یونانی زبانیں بول سکتا تھا۔ اس نے جوانی میں ماہی گیری کا پیشہ اپنایا۔اناجیل ہمنوا کے مطابق پطرس کی ساس کو حضرت عیسی علیہ السلام نے ان کے کفر ناحوم کے گھر میں شفا دی۔[6] [7][8] یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پطرس ایک شادی شدہ شخص تھا

پطرس اور مسیح[ترمیم]

اناجیل ہمنوا کے مطابق پطرس کی ساس کو حضرت عیسی علیہ السلام نے ان کے کفر ناحوم کے گھر میں شفا دی۔[9] [10][11] یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پطرس ایک شادی شدہ شخص تھا۔انجیلی روایت کے مطابق پطرس کے بھائی اندریاس نے پطرس کا تعارف مسیح سے کروایااور اسطرح پطرس ایمان لایا، جس پر حضرت مسیح نے اس کو کہا

تو یوحنا کا بیٹا شمعون ہے، تو کیفا یعنی پطرس کہلائے گا۔

[12]عہد نامہ جدید میں پطرس نام اس کے علاوہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔جب گلیل میں تبلیغ کا شروع کیا جانے لگا تو تب پہلی بار 12 افراد چنے گئے جن کو میں مسہمان حواری اور مسیحی شاگرد اور رسول کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پطرس بھی تھا۔پ[13]پطرس کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ جلد باز تھا، اور رہنما بننے کی کوشش کرتا تھا جس بنا پر باقی افراد اختلاف کرتے تھے۔[14][15][16]انجیل کے بیان کے مطابق پطرس نے آخری دنوں میں کچھ باتوں مین مسیح پر شک کیا۔اور آخری دن تین بار مسیح کا انکار کیا۔[17]اور اس کے بعد وہ غیب ہو جاتا ہے اور واقعہ صلیب کے بعد نظر آتا ہے۔ اس کے بعد یہ دعوا کیا جاتا ہے کہ بعد وصال جب مسیح جی اٹھا تو اس نے پطرس کو بحال کر دیا۔[18]

پطرس مسیح کے بعد[ترمیم]

مسیح کو تین بار رد کرنے کے بعد پطرس غیب ہوگیا، جب واقعہ صلیب ہوا تو تب وہ وہاں نہیں تھا، لیکن اگلے دن وہ صبح مسیح کو زندہ دیکھتا ہے۔ اس کے بعد پطرس انطاکیہ چلا گیا جہاں پہلی مسیحی کلیسا قائم کی،اور اس طرح پطرس پہلا پوپ بنا، اس کے بعد روم چلا گيا اور 25 برس تک تبلیغ میں مشغول رہا، آخری عمر میں نیرو نے پطرس کو بد مذہبی پھیلانے کے الزام میں x اس طرح کی صلیب پر پھانسی دی، کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی صلیب پر پھانسی کی خواہش خود پطرس نے کی تھی۔ اس طرح کی صلیب کو آج بھی پطرس کی صلیب کہا جاتا ہے۔[19]

پطرس سے منسوب تصانیف[ترمیم]

پطرس کی دو کتابیں وہ ہیں جن کو مسیحی الہامی مانتے ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ کتب بعض غناسطی اور مسیحی فرقے پطرس سے منسوب کرتے ہیں۔

  • پطرس کی انجیل
  • پطرس کے اعمال یا اعمال پطرس۔
  • مشاہدات پطرس
  • مشاہدات پطرس دوم
  • مباحثہ پطرس وای پین۔
  • تعلیم پطرس
  • وعظ پطرس
  • آداب دعا پطرس
  • کتاب مسافرت پطرس
  • کتاب قیاس پطرس
  • کلیمنس کی جانب ایک[21]

اثرات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ قاموس الکتاب، صفحہ 190
  2. ^ متی، 2:10
  3. ^ قاموس الکتاب، 190
  4. ^ یوحنا، 44:1
  5. ^ رسولوں کے اعمال، 13:4
  6. ^ متی:8:14-17
  7. ^ مرقس: 1:29-31
  8. ^ لوقا: 4:38
  9. ^ متی:8:14-17
  10. ^ مرقس: 1:29-31
  11. ^ لوقا: 4:38
  12. ^ یوحنا، 42:1
  13. ^ مرقس،19:3
  14. ^ متی، باب20
  15. ^ مرقس، 33:9
  16. ^ لوقا،27:22
  17. ^ متی، باب26؛ مرقس ،باب 14؛ لوقا، باب 22 ؛ یوحنا، باب 18
  18. ^ یوحنا، باب 20، باب21
  19. ^ قاموس الکتاب، 192
  20. ^ عہد نامہ جدید
  21. ^ اکسی ہومو، مطبوعہ 1813، لندن