پہلوی خاندان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شاہی ایرانی ریاست
Imperial State of Persia (Iran)
دولت شاهنشاهی ایران
Dowlat-e Shâhanshâhi-ye Irân

1925–1979
پرچم قومی نشان
شعار
مرا داد فرمود و خود داور است
"Marā dād farmūd-o khod dāvar ast"
"انصاف اس نے مجھ کہا ہے, اور وہ میر فیصلہ کرے گا "[1]
ترانہ
None
شاہی ترانہ
سرود شاهنشاهی ایران
Sorood-e Shâhanshâhi Irân
ایران کا شاہی سلام
دارالحکومت تہران
زبانیں فارسی
حکومت آئینی بادشاہت (1925–53)
آمرانہ مطلق شہنشاہیت (1953–79)
شاہ
 - 1925–1941 رضا شاہ پہلوی
 - 1941–1979 محمد رضا شاہ پہلوی
وزیر اعظم
 - 1925–1926 (آخر) محمدعلی فروغی
 - 1979 (اول) شاپور بختیار
تاریخ
 - قیام 15 دسمبر 1925
 - ایران پر اینگلو سوویت حملہ 25 اگستt – 17 اگست 1941
 - 1953 ایرانی بغاوت 19 اگست 1953
 - انقلاب اسلامی ایران 11 فروری 1979
Warning: Value specified for "continent" does not comply
تاریخ ایران

ایران کا آخری شاہی خاندان، جس کی حکومت کا آغاز 1925ء میں رضا شاہ پہلوی کی تخت نشینی کے ساتھ اور خاتمہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح ایران میں ملوکیت کی قدیم روایت کا خاتمہ ہوا۔


سلطنت کا آغاز[ترمیم]

1921ء میں رضا خان (بعد ازاں رضا شاہ پہلوی) جو ایران کی فوج میں ایک افسر تھے اپنے دستوں کو استعمال کرتے ہوئے قاچار خاندان کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ چار سالوں کے اندر تمام مخالفتوں کو کچل انہوں نے خود کو ملک کا طاقتور ترین فرد ثابت کر دیا۔ 1925ء میں وہ قاچار خاندان کے آخری فرمانروا احمد شاہ قاچار کو معزول کر کے خاص طور پر بلائے گئے ایوان کے ذریعے نئے بادشاہ بن گئے۔

محمد رضا شاہ پہلوی، پہلوی خاندان کے پہلے سربراہ

وہ ایران کو جدید ریاست بنانے کے وسیع تر منصوبے کے حامل تھے اور اس میں بڑے پیمانے پر صنعتوں کے قیام کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی توسیع، ذرائع نقل و حمل کی ملک بھر میں تیاری، قومی سرکاری تعلیمی نظام کے قیام، عدلیہ میں اصلاحات اور صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی کے منصوبہ جات شامل تھے۔ وہ ایک مستحکم اور مرکزی حکومت پر یقین رکھتے تھے۔

انہوں نے اپنے صاحبزادے سمیت سینکڑوں ایرانیوں کو یورپ تربیت کے لیے بھیجا۔ ان کے 16 سالہ دور اقتدار (1925ء تا 1941ء) میں ان کے منصوبہ جات نے ایران کو ایک ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ ان کی اصلاحات سے ایک پیشہ ور متوسط اور صنعتوں میں کام کرنے والے طبقات ابھرے۔

لیکن 1930ء کی دہائی میں رضا شاہ کے آمرانہ انداز کے طرز حکومت نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصا مذہبی طبقے میں شدید بے چینی پیدا کر دی۔ 1935ء میں رضا پہلوی نے فارس کی جگہ ملک کے لیے ایران کا لفظ منتخب کیا۔ چند دانشوروں کے احتجاج کے بعد ان کے جانشیں محمد رضا شاہ پہلوی نے 1959ء میں اعلان کیا کہ فارس اور ایران دونوں ہی قابل قبول ہیں۔

رضا شاہ نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی پوری کوشش کی۔ حالانکہ ان کے ترقیاتی منصوبہ جات کو غیر ملکی تکنیکی تجربات کی ضرورت رہی لیکن انہوں نے برطانوی اور سوویت اداروں کو ٹھیکے دینے سے ہمیشہ اجتناب کیا۔ حالانکہ برطانیہ نے اینگلو-ایرانین آئل کمپنی کے ذریعے ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا لیکن رضا شاہ نے تکنیکی مدد جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک سے حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ اس لیے 1939ء کے بعد اس وقت ایران کے لیے مسائل کھڑے ہو گئے جب جرمنی اور برطانیہ دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے دشمن کے طور پر آمنے سامنے ہوئے۔ رضا شاہ نے ایران کے غیر جانبدار ہونے کا اعلان کیا لیکن برطانیہ بضد رہا کہ ایران میں جرمن مہندس اور تکنیکی ماہرین جاسوسی کر رہے ہیں جن کا مقصد جنوب مغربی ایران میں برطانیہ کی تیل کی تنصیبات کو سبوتاژ بنانا ہے۔ برطانیہ نے تمام جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا لیکن رضا شاہ نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام ترقیاتی منصوبہ جات پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔


دوسری جنگ عظیم[ترمیم]

جون 1941ء میں جرمنی کی سوویت یونین میں مداخلت کے بعد برطانیہ اور سوویت روس اتحادی بن گئے۔ دونوں نے اپنی توجہ ایران کی جانب مبذول کی۔ برطانیہ اس وقت حال ہی میں تیار ہونے والی ریل کے نظام کو خلیج فارس کے راستے سوویت روس کو ذرائع نقل و حمل کی فراہمی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے سے انکار پر اگست 1941ء میں برطانیہ اور روس نے ایران پر چڑھائی کر دی اور رضا شاہ کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا اور ایران کے ریل راستوں پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کے دوران برطانیہ اور روس کے اتحادی امریکہ نے ریل راستوں کی دیکھ بھال اور اسے رواں رکھنے میں مدد کے لیے فوجی دستہ بھیجا۔ برطانیہ اور سوویت یونین نے رضا شاہ کے نظام حکومت کو ختم کرتے ہوئے آئینی حکومتی اختیارات کو محدود کر دیا۔ انہوں نے رضا شاہ کے صاحبزادے محمد رضا پہلوی کو تخت پر فائز کرنے کی اجازت دی۔

جنوری 1942ء میں انہوں نے ایران سے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں ایران کی آزادی کے احترام اور جنگ کے خاتمے کے چھ ماہ کے اندر فوج نکال دینے کا اعلان کیا گیا۔ 1943ء میں تہران کانفرنس میں ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اس وعدے کا اعادہ کیا۔ 1945ء میں روس نے ایران کے شمال مغربی صوبوں مشرقی آذربائیجان اور مغربی آذربائیجان سے نکلنے کے لیے نظام الاوقات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان دونوں علاقوں میں روس کی مدد سے خود مختاری کی تحریکیں تیار کی گئیں۔

روس نے مئی 1946ء میں اپنے دستے واپس بلا لیے لیکن تناؤ کی کیفیت کئی ماہ برقرار رہی۔

غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد ایران کے سیاسی نظام میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی مکمل اجازت دی گئی اور 1944ء میں مجلس کے انتخابات ہوئے جو 20 سے زائد سالوں کے عرصے میں پہلے حقیقی انتخابات تھے۔ غیر ملکی مداخلت تمام جماعتوں کے لیے بدستور سب سے حساس مسئلہ تھا۔ اینگلو-ایرانین آئل کمپنی جو حکومت برطانیہ کی ملکیت تھی، ایران کا تیل پیدا اور فروخت کرتی جا رہی تھی۔ 1930ء کی دہائی کے اوائل میں چند حلقوں سے ملک کے تیل کے ذخائر کو قومیانے کی صدا بلند ہوئی اور 1946ء تک یہ مطالبہ ایک مقبول سیاسی تحریک بن گیا۔

سرد جنگ[ترمیم]

محمد رضا پہلوی نے 16 ستمبر 1941ء کو والد کی جگہ تخت شاہی سنبھالا۔ وہ اپنے والد کی اصلاحات کی پالیسیوں پر قائم رہے لیکن جلد ہی حکومت پر اثر و رسوخ رکھنے کے لیے شاہ اور معروف سیاست دان محمد مصدق کے درمیان کشمکش کا آغاز ہو گیا۔

آئینی شہنشاہ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے اور پارلیمانی حکومت کو جوابدہ ہونے کے دعووں کے باوجود محمد رضا پہلوی حکومت معاملات میں بہت زیادہ مداخلت کرتے۔ ان کی توجہ افواج میں اصلاحات اور اس امر کو یقینی بنانے پر مرکوز رہی کہ وہ بدستور شاہی اثر و رسوخ کے زیر اثر رہے۔ 1949ء میں شاہ پر ایک قاتلانہ حملے کے بعد سیاسی جماعتوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور شاہ کے آئینی اختیارات میں اضافہ ہو گیا۔

1951ء میں برطانوی تیل نکالنے والی صنعت کو قومیانے (دیکھیے: ابادان بحران) کے فورا بعد مجلس نے محمد مصدق کو 12 کے مقابلے میں 79 ووٹوں سے نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ شاہ اس معاملے پر مصدق کے مخالف تھے کیونکہ انہیں مغرب کی جانب سے تیل پر پابندی عائد کرنے کا خطرہ تھا جو ایران کو اقتصادی طور پر بحران سے دوچار کرسکتا تھا۔ شاہ ایران سے فرار ہو گئے لیکن جب برطانیہ اور امریکہ نے اگست 1953ء میں مصدق کے خلاف بغاوت ترتیب دی (دیکھیے آپریشن ایجیکس) تو وہ وطن واپس آ گئے۔ مصدق کو شاہ نواز افواج نے گرفتار کر لیا۔

علاقائی بے چینی اور سرد جنگ کے تناظر میں شاہ نے خود کو مغرب کا اہم اتحادی قرار دے دیا۔ اس دوران انہوں نے مزید اصلاحات کیں جنہیں انقلاب سفید کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں ملکیت زمین، عورتوں کے حق رائے دہی اور ناخواندگی کے خاتمے کے حوالے سے اعلانات شامل تھے۔ ایران میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے عظیم تر منصوبہ جات ترتیب دیے گئے جس کے نتیجے میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گیا اور صرف دو دہائیوں میں ایران غیر متنازع طور پر مشرق وسطٰی کی بڑی اقتصادی و فوجی قوت بن گئی۔ لیکن ساتھ ساتھ معاشرے پر مغربی اثرات گہرے ہوتے گئے۔

عوام میں غیر اسلامی اقدار کے فروغ کے باعث مذہبی رہنماؤں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی اور آمرانہ طرز حکومت کے باعث سنجیدہ حلقے بھی جمہوری اصلاحات کے خواہشمند تھے۔ ان مخالفین نے شاہ کی اصلاحات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں آئین کی خلاف ورزی قرار دیا کیونکہ وہ شاہی اختیارات کو محدود کرتا تھا۔

شاہ خود کو قدیم ایران کے شہنشاہوں کا جانشیں سمجھتے تھے اور 1971ء میں انہوں نے فارسی شہنشاہیت کے ڈھائی ہزار سال کی تکمیل پر جشن کا اہتمام کیا۔ 1976ء میں انہوں نے اسلامی ہجری تقویم (سال 1355ھ) کی جگہ شمسی "شاہی" تقویم (سال 2595) کو رائج کر دیا جو 25 صدی قبل پہلی فارسی سلطنت کے قیام سے شروع ہوتا ہے۔ شاہ کے ان اقدامات کو غیر اسلامی سمجھا گیا اور اس کے نتیجے میں ان کے خلاف مذہبی رہنماؤں کی مخالفت میں مزید شدت آ گئی۔

خاتمہ[ترمیم]

ایران کی آخری ملکہ دیبا فرح۔ زیر نظر تصویر 30 مئی 1972ء کو دورۂ امریکہ کے موقع پر امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کے موقع پر لی گئی

عوامی سطح پر ردعمل کو دبانے کے لیے شاہ کی حکومت اپنے خفیہ جاسوسی کے ادارے ساواک کے ذریعے مخالفین کے بے دردی سے کچلنے لگی۔ ان مخالفین میں مذہبی طبقات کے علاوہ اشتراکی نظریات کی حامل تودہ پارٹی بھی شامل تھی جس نے کئی مرتبہ شاہ اور ان کے صاحبزادوں کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

1970ء کی دہائی کے وسط تک تیل کے ذریعے بڑھتی ہوئی آمدنی کے نتیجے میں شاہ نے ملکی ترقی کے لیے مزید اہم اور بڑے منصوبہ جات کے سلسلے کا آغاز کیا۔ لیکن مغربی اثرات کے تلے روز بروز دبنے کی وجہ سے مذہبی طبقے کی بے چینی میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ اسلامی رہنماؤں خصوصا جلا وطن آیت اللہ روح اللہ خمینی نے شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اسلامی روایات کی جانب واپس پلٹنے کا اعلان کیا جسے اسلامی انقلاب کا نام دیا گیا۔ 1978ء اور 1979ء میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کے بعد شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ شاہ ملک سے فرار ہو گئے اور مصر اور پاناما سے ہوتے ہوئے دوبارہ مصر میں انور سادات کے مہمان بنے۔ ان کے انتقال پر ان کے صاحبزادے شہزادہ رضا پہلوی نے پہلوی خاندان کے سربراہ کی حیثیت سنبھالی۔ آج پہلوی خاندان امریکہ کی ریاست میری لینڈ میں تقریباً گمنامی کی زندگی گذار رہا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]