پیری کلیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

Pericles

پیری کلیز کا مجسمہ

پیدائش: 495ق م

وفات: 429 ق م

قدیم یونان کا سیاست دان۔ ڈیموکریٹک پار ٹی کا لیڈر ۔ 460 ق م سے وفات تک ایتھنز کی شہری ریاست پر حکمرانی کی۔ ایتھنز کو سپارٹا کے خلاف فوجی اعتبار سے مضبوط کرکرنے کے ساتھ ساتھ شہر کو علوم کا مرکز اور دنیا کا حسین ترین شہر بنانے کی کوشش کی۔ پارتھینن ، اوڈین اور پروپائلا کے علاوہ اور بھی کئی عمارتیں تعمیر کرائیں۔ دربار میں ملک کے بڑے بڑے علما و فضلا کو جمع کیا جن میں فیدیاس اور انکسا غورث بھی شامل تھے۔ طاعون کا شکار ہو کر چل بسا۔

پیری کلیس کا خطاب: شہدا کو خراجِ عقیدت[ترمیم]

میرے ہموطنو، ہمارے آبا واجداد کا حق ہے کہ آج کے مقدس دن کی ابتدا ان کے نام سے کی جائے۔ ان کی ہر نسل اس مٹی کی گود میں پل کر جوان ہوئی اور انہوں نے اپنی جراُت اور شجاعت کے سبب اس بات کو ممکن بنایا کہ آج انکی آل اولاد اس سرزمین میں آزاد اور خود مختار ہے۔ اگر ہمارے اجداد تعظیم کے مستحق ہیں تو ان سے زیادہ ہماری پچھلی نسل تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے اپنی وراثت میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

آج میرے پاس شہدا کے والدین کے لیے تعزیت کے بجائے تسلی اور دلاسہ کے الفاظ ہیں۔ زندگی کی اونچ نیچ میں لاتعداد لمحے آتے ہیں جو انسان کی دنیا بدل سکتے ہیں لیکن ان کی اولاد کے حصے میں شہادت کا وہ جام آیا ہے جوکسی کسی کونصیب ہوتا ہے۔ میں جانتا ہوں میرے الفاظ وہ مرہم نہیں جو ان کے زخموں پر رکھے جا سکیں کیونکہ انکے زخم آس پاس سے ان پھولوں کی مہک سے تازہ ہو جائیں گے جو آج ان کے گھر نہیں رھے۔ دکھ اور الم کسی چیز کے سرے سے موجود نہ ہونا نہیں بلکہ کسی چیز کے چھن جانے کا نام ہے۔ آپ میں سے جن کی قسمت میں جوانی کی مزید بہاریں ہیں، انہیں خداووں سے اپنے آنگن میں مزید پھول کھلنے کی دعا کرنی چاہئے کیونکہ مزید اولاد جانے والوں کی جگہ لے سکتی ہے۔

مجھے مرنے والوں کے بیٹوں اور بھائیوں کا مستقبل کٹھن نظر آتا ہے کیونکہ انکی باقی زندگی اپنے عزیز شہید بھائیوں اور باپوں کی عظمت اور شہرت کے درجے کے برابر پہنچنے اور اسے داغ نہ لگنے کی کوشش میں گزرے گی۔ مرنے والوں کی بیواوّں کے لیے میں صرف اتنا کہوں گا کہ ان میں سب سے عظیم وہ ہو گی جو سب سے کم مردوں کی گفتگو کا موضوع بنے گی۔ شہدا کے خون کا حق ہم کبھی بھی ادا نہیں کر سکتے لیکن قوم کے دل میں انکی عظمت کی شمعیں ہمیشہ روشن رہیں گی اور تاریکی میں ہمیں راہ دکھائیں گی۔ شجاعت کی یہ بازی جیتنے والے شہدا ہمیشہ زندہ رہیں گے اور اس کے انعام میں ریاست ان کے ورثا کے اخراجات بلوغت کی عمر تک اٹھانے کا اعلان کرتی ہے۔

میرے ہموطنو، تم ہماری سیاسی اور فوجی تاریخ سے بخوبی آگاہ ہو جس میں ہماری فتوحات اوربیرونی جارحیت سے وطن عزیز کے دفاع کی کہانی سنہری حروف میں درج ہے۔ لیکن، میرا موضوع آج کچھ اور ہے۔ میرا موضوع وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم آج اپنی موجودہ طاقت و حشمت کے امین ہیں، وہ طریقِ حکمرانی ہے جس نے قوم کی عظمت کو جلا بخشی اور وہ معاشرتی رسوم و رواج ہیں جن سے وہ طریقِ حکمرانی اخذ ہوا۔

ہمارا آئین ہمسایہ ممالک کے دستورکی نقل نہیں ہے، بلکہ یہ ہم ہیں جو اپنے پڑوسیوں کے لیے ایک نمونہ ہیں۔ ہمارے دستورکے جمہوری ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی روح اکثریت کی ضروریات کو اقلیت کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہے۔ ہمارا دستوراور ہمارا معاشرہ ہر شخص کو قانون کی نظر میں برابر گردانتا ہے۔ سرکاری نوکریوں اور سیاسی عہدوں کے لیے مال و دولت اور طبقاتی برتری کی جگہ اہلیت کی موجودگی فیصلہ کن ہے۔ اسی طرح کسی کا غریب یا مفلس ہونا سیاسی معاملات میں اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں ہے۔

جن آزادیوں کو ہم اپنے سیاسی اور سرکاری نظام میں پاتے ہیں، انکی جھلک ہماری ذاتی زندگیوں میں بھی عیاں ہے۔ ایک دوسرے پر حسد بھری کڑی نگاہیں رکھنے کی بجائے ہم اپنے کسی ہمسائے کی ذاتی پسند و ناپسند یا مختلف اور قابل اعتراض طرزِ زندگی سے رنجیدہ نہیں ہوتے۔ بلکہ ہمارے معاشرے میں کسی کی ذاتی زندگی کو کسی شہری یا حکومت کی طرف سے قابل اعتراض قرار دینا اور اس کی اصلاح کی کوشش کرنے کو بد تہزیبی اور دخل اندازی سمجھا جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود ہم ایک سرزمینِ بے قانون نہیں ہیں۔ ان تمام نجی آزادیوں کے ہونے کے باوجود ہمارا معاشرہ بےلگام غیر قانونیت سے محفوظ ہے۔ بلکہ میں یہاں تک کہوں گا کہ ہمارے معاشرے میں قانون کا احترام ان آزادیوں ہی کی وجہ سے ہے۔ ان آزادیوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہ صرف قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں میں ہے بلکہ اس بے لکھے ضابطہءِحیات کا حصہ ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والے کے مقدر میں ذلت اور رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں۔

اس سے بڑھ کر، ہماری عوامی اور سیاسی زندگی دماغ کی تھکن کو دور کرنے اور روز مرہ کی اونچ نیچ اور نجی ناچاقیوں کو بھلانے کا بھرپور سامان مہیا کرتی ہے۔ ہمارے روزوشام فوجی مقابلوں، رقص و سرود کی محفلوں اور کھیل تماشوں کی رونق سے سجے رہتے ہیں۔ اپنے گھروں کی تزئِین وآرائش ہمیں اپنی ذاتی زندگیوں میں خوش اور مصروف رکھتی ہے۔ اور ہمارے ملک کی جاہ و حشمت کی بدولت دنیا بھر کی انواع و اقسام کی پیداواردور دور سے آ کر ہماری دکانوں اور منڈیوں کی زینت بنتی ہے۔ ہمارے باشندےغیر ممالک سے آنے والے پھل، سبزیاں اور دیگر پیداوارسے اسی طرح مانوس ہیں جیسے مقامی اشیاء سے۔

اگر ہم اپنی فوجی پالیسی کی طرف نظر ڈالیں تو ثابت ہوتا ہے کہ ہم اپنے دشمن ممالک سے بہت مختلف ہیں۔ ہم نے اپنے ملک کے دروازے دنیا کے لیے کھول دیے ہیں اورہر غیر ملکی کو اجازت ہے کہ وہ آئے اور ہمارے عسکری، معاشی اور سیاسی نظام کو دیکھے اور سیکھے۔ بے شک اس چیز میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ ہمارا دشمن ہماری اس کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے فائدہ اٹھا جائے، لیکن ہمارا بھروسہ نظام اور پالیسی کے بجائے اپنے شہریوں کی جدت طرازی، ایجاد پسندی، اصل شناسی اور روحِ تجدید پر ہے۔

اسی طرح، نظام تعلیم میں بھی، جہاں ہمارے دشمن اپنے بچوں کو بچپن سے ہی شدید فوجی اور مزہبی نظم و ضبط کی مدد سے مردانگی، جنگ و جدل اورجراُت پسندی کی تعلیم دیتے ہیں، ہم، اپنے ملک میں، اپنے بچوں کومکمل آزادی دیتے ہیں کہ وہ زندگی میں خوشی کے حصول کے لیے اپنا رستہ خود ڈھونڈیں، اورحیران کن طور پر، پھر بھی، ہمارے شہری، اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہمارے دشمن سے زیادہ تند و تیز اور جری و بہادر ثابت ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر، ہمارے دشمن ہم پر کبھی بھی، تنہا نہیں، بلکہ ہمیشہ اتحادیوں کے بل بوتے پر، یا چھپ کر، حملہ کرنے کی جراُت کرتے ہیں۔ دوسری طرف، ہم، اپنے دشمن کی زمین پر ہمیشہ تنہا حملہ آور ہوکر دشمن کو انتہائی آسانی سے اس کے پچھواڑے میں شکست دے دیتے ہیں۔ آج تک کسی دشمن کا سامنا ہماری متحد اور مربوط طاقت سے نہیں ہوا کیونکہ ہمیں اپنی بحری اور بری ضرورتوں کے سبب اپنی سپاہ کو ہمیشہ منقسم رکھنا پڑتا ہے۔ آبادی اور افرادی گنتی کی بنیاد پر ہمارے دشمن اور ہمارے درمیان مماثلت ہونے کے باوجود اگر ہمارے دشمن کو ہماری فوج کے چند دستوں پرفتح نصیب ہو جائے تو وہ اسے ہماری پوری قوم کی شکست تصور کر کہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ پھر بھی، آرام پسند، آرٹ و موسیقی کے دلدادہ، حسن و شاعری کے پرستاراور طاوس و رباب کے عاشق اس ملک کے شہری، بوقتِ جنگ، شمشیر و سناں سے خائف نہیں ہوتے۔ ہمارے دشمن اپنی آرام کی گھڑیاں جنگ کے خوف اور تیاری میں گزارتے ہیں اور بقوتِ جنگ اس خوف کے بوجھ تلے دب کر لڑتے ہیں، دوسری طرف، ہم، اپنی آرام کی گھڑیاں فنون لطیفہ کی جستجو اور حسن و عشق کی حمد و ثنا میں گزارنے کے بعد، بوقتِ جنگ، مسکراتے ہوئے میدانِ جنگ میں اترتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ، ہمارا آرٹ اور ہمارا فلسفہ، فرد کی شخصیت کوآرام طلب بنائے بغیر نفاست عطا کرتا ہے، عقل کو کج ارادہ کیے بغیر علم عطا کرتا ہے۔ ہم میں سے جو دولت مند اور صاحب ثروت ہے وہ اپنی دولت کی نمود و نمائش سے زیادہ اس کا معتدل استعمال کرنا جانتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں غربت اور پسماندگی باعثِ شرمندگی نہیں ہے، بلکہ، انکے خلاف جدوجہد کو ترک کر کے اپنی تقدیر سے سمجھوتا کرنا باعث ملامت سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے سیاستدان، سیاست سے ہٹ کر، اپنے ذاتی کاروبار بھی کرتے ہیں۔ ہمارے عام شہری، سیاسی اور عوامی معاملات میں بھرپور دلچسپی لیتے ہوئے انصاف پسندی سے اپنا ووٹ ڈالتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ، برعکس دیگر اقوام، ہمارے ہاں، سیاست اور عوامی معاملات میں شمولیت سے اجتناب کرنے والے کوشریف آدمی سمجھنے کی بجائے ، ناکارہ اور ناشکرا سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے شہری عدلیہ اور جیوری کے فرائض سر انجام دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ہم بحث مباحثہ کو عملی اقدام کی راہ میں بیکار رکاوٹ سمجھنے کی بجائے انہیں کسی بھی عملی قدم سے پہلے آنے والا انتہائی اہم ابتدائی مرحلہ سمجھتے ہیں۔

ہمارا شہرتمام یونان کا مدرسہ ہے۔ دنیا نے ایسے انسان ابھی پیدا نہیں کیے جو زمانے کی اونچ نیچ اور تقدیر کے مدوجزر سے مقابلے میں ایتھنز کے کسی باشندے کے برابر آ سکیں۔ ہماری ریاست کی طاقت اور حشمت ایتھنز کے شہریوں کی شخصیت اور انکی عادات کے ارتکاز کا نتیجہ ہے۔ ہر آنے والا زمانہ ہمارے شہر اور ہماری تہزیب و تمدن کے گن گائے گا ۔ ہم نے اپنی جمہوریت کی عظمت کے شواہد پہاڑوں اور سمندروں کو اپنے رستے کی گردِ پا بنا کر دیے ہیں۔ لہزا یہ وہ تہزیب ہے جس کے دفاع اور عظمت کے لیے ان شہیدوں نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔ یہ وہ شہر ہے جس کی مٹی کی آبیاری کے لیے ان جری بہادروں نے اپنی رگیں کھول دیں۔ یہ شہید مجاہد جانتے تھے کہ جن شہری اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ میں یہ جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں وہ انکے دشمن کو میسر نہیں ہیں اور انکے خلاف لڑنے والے انکا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ان شہیدوں نے مر کر اپنے ایتھنائی ہونے کا ثبوت دے دیا۔ اور تم، انکے وارث، اپنی تہزیب کی عظمت کو میرے الفاظ کا کرشمہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کی بجائے اپنی آنکھوں سے اپنے ملک اور اسکے اداروں کو دیکھو۔ اس نظامِ حکومت کے کرشموں کو سمجھو تا کہ تمہارا دل اپنے ملک، اپنی تہزیب، اپنے شہر اور اپنے ہموطنوں کی محبت سے لبالب بھر جائے اورتم اس جزبے کو سمجھ سکو جس سے سرشار ہو کر ان شھیدوں نے اپنی زندگیاں مقدس ایتھینا کے قدموں میں رکھ دیں۔ ہمت، جرآت، سوچ اور عمل کی آزادی، فرض شناسی، اور قومی غیرت و حمیت وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن کے ملنے سے ایتھنز کا آئین بنتا ہے۔ جاؤ اور ایتھنز کے دشمنوں سے کہ دو، ان شہیدوں کا مقبرہ اور انکے زخم خوردہ لاشے ہی ہمارے شہر کا آئین اور ہماری قوم کا دستور ہیں۔

بے شک خداوّوں کی یہ تمام زمین، مشرق سے مغرب تک، اس بہادر قوم کے سپوتوں کا مقبرہ ہے۔ اپنے وطن سے ہزاروں قوس دور اجنبی مٹی کی گود میں سوئے ہوئے ایتھنز کے بیٹوں کی یادگاریں اجنبیوں کے دلوں میں ہیں اور ہزاروں سال بعد بھی انکی عظمت کی داستانیں اجنبی زبانوں میں گائی جائیں گی۔ میرے ہموطنو، ان شہیدوں کی موت و حیات کی سرگزشت کو اپنی زدگیوں کے لیے چراغِ راہ بنا لو اور جان لو کہ خوشیوں کا پھل انفرادی آزادی کے تناور درخت پر لگتا ہے۔ اور آزادی کی کونپلیں بہادروں کے خون سے ہی سینچی جاتی ہیں۔ میرے ہموطنو گواہ رہنا کہ آج میں نے اپنا فریضہ ادا کردیا۔