پیر روشان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پیر روشان

بایزید خان، (1582/1585 - 1525) جن کو پیر روشان یا پیر روخان کے نام سے جانا جاتا ہے، پشتون جنگجو، شاعر اور دانشور تھے۔ ان کا تعلق باراک/ارمار (جسے آجکل برکی قبیلے سے جانا جاتا ہے) قبیلے سے تھا۔ ان کی مادری زبان اورماری تھی، اور پشتو بھی بول سکتے تھے۔ آپ کی پیدائش پنجاب کے علاقے جالندھر میں ہوئی مگر آپ کے والدین ان کے بچپن میں جنوبی وزیرستان کے علاقے قونیگرام ہجرت کر گئے، جو آج برکی قبائل کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
بایزید خان، جو کہ پیر روشان کے نام سے مشہور ہوئے، اپنے نقطہ نظر اور مضبوط صوفی سوچ کی وجہ سے جانے جاتے تھے، اور ان کا نظریات کا خطہ کے غیر معمولی حالات اور اوقات میں گہرا اثر دیکھا گیا۔ پیر روشان کا تعلق برکی قبیلے سے تھا، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کا تعلق عربوں میں انصاریوں کے ساتھ جا ملتا ہے، مگر ایک انگریز مصنف ہینری والٹر بیلیو نے اپنی ایک تصنیف میں بایزیدی لوگوں بارے لکھا ہے کہ ان کو برکی کہا جاتا ہے جو کہ بیسیویں صدی کے شروع تک باراک یا باراکی کہلاتے تھے، اور وزیرستان کے علاقے میں ان کی بڑی آبادیاں موجود تھیں۔ یہ لوگ یونانیوں کے زمانے سے یہاں آباد تھے۔ مزید تفصیلات میں ہینری والٹر نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ برکی قبائل کے اوائل زمانہ کے حالات کسی کو معلوم نہیں ہیں اور ان کے آباؤاجداد بہرحال عرب یا انصاری نہیں ہیں۔
پیر روشان، اپنے صوفی نظریات اور انتہائی پُراثر خیالات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، اور ان کے یہ نظریات اپنے وقت میں اس خطے کے غیر معمولی حالات پر شدید اثرانداز ہوئے۔ دوسرے پشتون قبائل کی طرح برکی بھی قبائلی آزادی کے حامی ہیں اور اس طرح ان کے مرکزی علاقے قونیگرام کی اہمیت بڑھ گئی اور قبیلے کے لیے تاریخ میں اس مقام کو اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یہ قبیلہ اپنی پہچان مادری زبان اورمار کی صورت بھی زندہ رکھنا چاہتا تھا، جس پر پشتو کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔
پیر روشان، جو کہ بایزید خان کی پہچان بنا، پشتو زبان کا لفظ ہے جس کہ مطلب “روشن خیال پیر“ یا “روشنی سے منور پیر“ کے ہیں۔ مغل سلطنت کے بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے خلاف پشتونوں کی مہم جو تحاریک میں سب سے پہلے پیر روشان نے اپنے دستے کی سپہ سالاری کی۔
پیر روشان اعلیٰ تعلیم کے حصول اور خواتین کے لیے یکساں حقوق کے حامی تھے۔ یہ اس وقت کے مطابق، اور یہاں تک آج بھی جنوبی وزیرستان میں انتہائی انقلابی سوچ سمجھی جا سکتی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں اپنے آبائی علاقے قونیگرام سے انھوں نے ایک تحریک “روشنیا تحریک“ کا آغاز کیا، جو کہ شہنشاہ کے خلاف شروع ہوئی اور اس کا بیڑہ بعد ازاں پیر روشان کے بچوں، پوتوں اور ان کے بچوں تک نے اٹھایا۔ یہ تحریک تقریباً ایک صدی تک جاری رہی۔
انیسویں صدی میں تاریخ دان، جنھوں نے پشتو زبان اور دوسرے علاقائی حوالوں سے جب نظریات پیر روشان کے تراجم کیے تو ان کی تحریک کو باقاعدہ ایک فرقے کے طور پر پیش کر دیا، جو کہ ایک فاش غلطی تھی اور یہ غلطی آج تک، یہاں تک کہ یورپی محققین تک دہرا رہے ہیں۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد مردوں اور عورتوں میں برابری کی سطح کے نظریات کو پروان چڑھانا تھا، جس میں عورتوں اور مردوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع تک رسائی دلانا ضروری نکتہ تھا۔ اس تحریک کے باقی مقاصد میں مغل بادشاہ، جلال الدین محمد اکبر کے بنائے ہوئے دین الہیٰ کے خلاف جہاد کرنا بھی شامل تھا۔

مزید دیکھیے [ترمیم]

حوالہ جات [ترمیم]

  • نقاطی فہرست کی مَد
  • [7-A] امین اللہ گنڈہ پور; تاریخ سرزمین گومل نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد; 2008ء ; صفحہ - 61
  • [8-A]امین اللہ گنڈہ پور, باب:- 4, صفحہ:- 55
  • تاریخ سرزمین گومل,(Urdu) امین اللہ گنڈہ پور; نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد۔ 2008ء

بیرونی روابط [ترمیم]

  • [1] پیر روشان ویکی میر پر