پیغمبر اسلام کی جانشینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

610ء میں قرآن کی پہلی صدا کی بازگشت ایک صدی سے کم عرصے میں بحر اوقیانوس سے وسط ایشیا تک سنائی دینے لگی تھی اور پیغمبرِ اسلام کی وفات (632ء) کے عین سو سال بعد ہی اسلام 732ء میں فرانس کے شہر تور (tours) کی حدود تک پہنچ چکا تھا۔ لیکن 632ء کا زمانہ (مسلم علماء کی توجیہات سے قطعۂ نظر کرتے ہوئے) تمام مسلم اور غیر مسلم مورخین کی نظر میں تاریخ اسلام پر آنے والا ایک ایسا زمانہ ہے کہ جس نے مسلمانوں کو بہت واضح طور پر مختلف تفرقات میں تقسیم کر دیا[1]، اس زمانے میں پیش آنے والے واقعات کو (انسانی افکار کی آمیزش کرتے ہوئے) بنیاد بنا کر مسلمان امت مسلمہ کو چھوڑ کر اپنی اپنی الگ الگ امتیں بنا بیٹھے یعنی باالفاظ دیگر تفرقات میں بٹ گئے؛ رسول اللہDUROOD3.PNG کی جانشینی کے وقت رونما ہونے والے ان واقعات کے نتیجے میں بننے والے وہ فرقے جو انتہائی بڑے اور واضح سمجھے جاتے ہیں وہ سنی اور شیعہ کے ہیں۔ عنوان پیغمبر اسلام کی جانشینی میں استعمال ہونے والا کلمہ ، پیغمبر اسلام ، مسلم نقطۂ نگاہ سے اللہ کے مذہب کے پیغمبر کا مفہوم رکھتا ہے کہ مسلم عقیدے کے مطابق دنیا میں آنے والے تمام انبیاء جو مذہب لائے وہ اسلام ہی تھا یعنی پیغمبر اسلام سے مسلمانوں کی مراد اسلام کو نیا یا الگ مذہب قرار دیتے ہوئے رسول اللہDUROOD3.PNG کے دائرۂ پیغمبری کو محدود کرنا ہرگز نہیں ہوتا ؛ یہاں یہ وضاحت اس لیۓ ضروری بنتی ہے کہ مسلمانوں کے اسی آفاقی تصور کو رسول اللہDUROOD3.PNG کی جانشینی کا تنازع کھڑا کرنے والے تفرقے اپنے مقاصد میں استعمال کرتے ہیں ، مزید یہ کہ پیغمبر اسلام کا یہ اسلامی تصور اس تصور سے برعکس ہے جس میں یہ لفظ ، پیغمبر اسلام ، غیرمسلم استعمال کرتے ہیں۔

مسئلۂِ جانشینی؟[ترمیم]

رسول اللہDUROOD3.PNG کی وفات پر جانشین یا نائب کی مقرری واقعی کوئی مسئلہ تھا یا ایسا محض بنا کر پیش کیا گیا ؟ اس بات کا جواب اس مضمون میں تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن اس سے قبل ان واقعات کا مکمل ادراک ضروری محسوس ہوتا ہے کہ جو رسول اللہDUROOD3.PNG کی رحلت پر رونما ہوئے۔ ہمارے پاس ان واقعات کا ترتیب زمانی تسلسل دو ذرائع سے آتا ہے ؛ اول ، مذہبی کتب اور دوم ، تاریخی کتب ؛ پھر تاریخی کتب کو بھی دو اقسام میں رکھا جاسکتا ہے اول ، مسلم مورخین کی کتب اور دوم غیرمسلم مورخین کی کتب۔ متعدد مسلم اور غیرمسلم مورخین کے مطابق مسلمانوں میں تفرقہ سازی کی ابتداء پیغمبر اسلامDUROOD3.PNG کی جانشینی پر شروع ہوئی[2] [3] اور اس بات سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کے جانشینی رسول اللہDUROOD3.PNG پر واقعی تنازعہ موجود تھا؛ لیکن کیا یہ تنازعہ واقعی ان افراد میں تھا کہ جن کو آج خلفائے راشدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے؟ کیا یہ تنازعہ اس عہد میں موجود (خلفائے راشدین اور اہل بیت کے علاوہ) دیگر افراد کی جانب سے پیدا کیا گیا؟ کیا ان افراد کو مسلم نقطۂ نظر سے صحابہRAZI.PNG کا درجہ دیا جاتا ہے یا منافقین کا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو اس موضوع کا مطالعہ کرنے والے ہر متلاشی ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری جانب سنی اور شیعہ تفرقات کے علماء میں مختلف افکار پائے جاتے ہیں اور اکثر سنی و شیعہ تفرقے کھل کر سامنے آنے کا زمانہ عثمانRAZI.PNG کی شہادت سے بیان کیا جاتا ہے[4] [5] اور یہاں سے مذکورہ بالا سوالات کا جواب تلاش کرنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے۔

عہدِ حیات[ترمیم]

570ء ، حضرت آمنہRAZI.PNG کا حضرت عبداللہRAZI.PNG سے نکاح عمل میں آیا اور اس کے چند روز بعد وہ حضرت عبداللہ کے ساتھ مکہ سے شام کی جانب ایک تجارتی قافلے میں گئیں جہاں سے واپسی کے دوران مدینے میں حضرت عبداللہ کا انتقال ہوا اور اسی سال ان کے ہاں حضرت محمدDUROOD3.PNG کی ولادت ہوئی۔ کوئی 5 سال بنو سعد سے اپنی رضاعی والدہ حضرت سیدہ حلیمہ سعدیہ اور پھر 1 سال مکے میں والدہ کے ساتھ گذارنے کے بعد 576ء میں حضرت آمنہ ، رسول اللہ کو والد کی قبر کی زیارت پر مدینے لے کر گئیں اور ایک ماہ بعد واپسی کے دوران ابواء کے مقام پر ان کا انتقال ہوگیا؛ وہاں سے ام ایمن ، رسول اللہ کو مکے تک واپس لائیں اور حضرت عبد المطلب نے محمدDUROOD3.PNG کی پرورش سنبھالی جو 578ء میں انتقال کر گئے، ان کے بعد آپDUROOD3.PNG کی دیکھ بھال حضرت ابو طالب کی ذمہ داری بنی۔ اپنی عمر کے 11 تا 14 سال 594ء تک کے دوران محمدDUROOD3.PNG نے گلہ بانی بھی اور حضرت ابوطالب کے ساتھ تجارتی قافلوں پر بھی گئے؛ 595ء میں حضرت خدیجہRAZI.PNG سے نکاح عمل میں آیا جس کے بعد 610ء میں پہلی وحی نازل ہوئی اور حضرت فاطمہRAZI.PNG (615ء) سمیت تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کی ولادت ہوئی۔ 619ء میں حضرت خدیجہ اور کچھ عرصے بعد حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد 52 برس کی عمر میں محمدDUROOD3.PNG نے 622ء میں مکہ چھوڑ کر مدینے کو ہجرت کی۔
ہجرت کے بعد کچھ عرصہ نسبتاً پرسکون رہا؛ 623ء میں قبلہ ، بیت المقدس سے کعبہ کی جانب کیا گیا اور ابتدائی دوسال میں عید الفطر و عیدالاضحٰی کا قرار ہوا۔ اب ایک بار پھر مکے والوں سے معاملات اسقدر رنجیدہ ہوگئے کہ 624ء میں غزوہ بدر اور پھر 625ء میں غزوہ احد کا وقوع ہوا۔

واقعاتی ترتیب زمانی[ترمیم]

پیغمبر اسلامDUROOD3.PNG کی وفات پر رونما ہونے والے واقعات کو یہاں تاریخی کتب کے حوالہ جات کے ساتھ مختصراً لکھا جارہا ہے؛ اسی موضوع پر ایک نسبتاً مفصل بیان مسلمانوں میں تفرقات پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

پرانا اندراج[ترمیم]


دین اسلام ، ھر انسان ، ھر زمانہ اور ھر جگہ کے لئے آیا ھے ۔ اسلام کے قوانین ساری دنیا کے لئے ھیں اور ھمیشہ باقی رھنے والے ھیں ۔ ایسا نھیں ھے کہ دین اسلام صرف پیغمبر اسلام(ص) کے زمانہ سے مخصوص رھا ھو اور ان کی وفات کے بعد دین اسلام کے احکام معطل ھو گئے ھوں نیز رسول خدا (ص)کے بعد کے زمانہ کے لئے کوئی منصوبہ(plan) موجود نہ ھو ۔

اسی وجہ سے پیغمبر اسلام (ص)ھمیشہ اپنے بعد اسلام کے لئے فکر مند رھے ۔ پیغمبر(ص)کامشن صرف اسی وقت آگے بڑھ سکتا تھا جب انکے بعد انکا کوئی جانشین ھو جو دین ، اخلاق ، شرافت ، پاکیزگی ، غلطی اور خطا سے دور، کام کرنے کی لیاقت ، خوف خدا ، عزم محکم ، تقویٰ اور شجاعت میں خود رسول خدا (ص) کی شبیہ ھو ۔ جن صفات اور خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ھے وہ ایک مکمل اور نمونہٴ عمل رھبر کے لئے ضروری ھیں ۔ یہ سارے صفات پیغمبر(ص) میں موجود تھے ۔ اگر کوئی شخص ان کا جانشین بنے اور انکے بعد انکے مشن کو آگے بڑھائے تو اسکے لئے ضروری ھے کہ وہ بھی انھیں صفات کا مالک ھو جن صفات کے مالک پیغمبر(ص) تھے ۔

اب سوال یہ ھے کہ جانشین کو ن ھوتا ھے ؟ اور کس طرح اسکی شناخت ممکن ھے ؟ اور کس طرح ا س کا انتخاب ھو نا چاھئے ؟ ۔

شیعوں کے عقیدے کی رو جس طرح نبوت اور پیغمبری کے لئے کسی شخص کا اتنخاب خدا کی طرف سے ھوتا ھے اور یہ ایک الٰھی عھدہ ھے ، ٹھیک اسی طرح پیغمبر(ص) کے ” وصی“ اور جانشین کا اتنخاب بھی خدا کی جانب سے ھوتا ھے اور یہ عوام کی ذمہ داری اور ان کا وظیفہ نھیں ھے کہ پیغمبر (ص)کے جانشین کا انتخاب کریں ۔ کیونکہ پیغمبر (ص)کے جانشین کی ولایت بھی ایک الٰھی عھدہ اور منصب ھے جسے خدا معین کرتا ھے. شیعوں کے بارہ امام ہیں جن میں اولین حضرت علی (ع)اور آخری حضرت مھدی(ع) ھیں جو خدا کی جانب سے لوگوں کی ھدایت کے لئے منتخب ھوئے ھیں اور ان کا انتخاب بھی انکے کمال اور صفات کی وجہ ھی سے ہے نا کہ رسول خدا (ص)سے رشتہ دار ی کی بنا پر ۔ اس حوالے سے سُنیوںکا موقف یہ ہے کہ شیعوں کے عقیدہ امامت کا ثبوت قرآن سے نہیں ملتا۔ کوئی ایک بھی واضح آیت نہیں جو اس عقیدے کی حمایت میں پیش کی جاسکے۔ اور تو اور شیعوں کے پہلے امام حضرت علی سے منسوب خطبات اور اقوال پر مبنی کتاب "نہج البلاغہ" میں بھی کہیں حضرت علی کا یہ دعویٰ نہیں ملتا کہ وہ خدا اور رسول کے مقرر کردہ امام ہیں۔

شیعوں کا موقف ہے کہ حضرت رسول خدا (ص)نے اپنی بعثت کے پھلے سال ھی حضرت علی (ع)کو اپنے جانشین کے عنوان سے پھچنوا دیا تھا اور بھت سے دیگر مواقع کے علاوہ جب رسول خدا (ص)آخری بار خدا کے گھر کی زیارت کر کے لوٹ رھے تھے تو غدیرخم میں ھزاروں حاجیوں کے مجمع میں حضرت علی(ع) کو جانشین معین کیا اور حضرت علی (ع)کو اپنے بعد کے لئے مسلمانوں کا مولیٰ ، سر پرست ، رھبر اور پیشوا بنایا ۔ جس وقت رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع)کی جانشینی کا اعلان کیا تو اسی وقت لوگ آئے اور اس جانشینی کے لئے حضرت علی (ع) کو مبارکباد دی اور انکے ھاتھوں پر بیعت کی خدا کا حکم تھا اس لئے رسول خدا (ص)نے حکم خدا کی اطاعت کی اور غدیر خم میں حضرت علی (ع) کو اپنا خلیفہ اور جا نشین بنا دیا ۔ قرآن فرماتا ھے :” اے پیغمبر ! آپ اس حکم کو پھونچا دیں ، جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ھے اور اگر آپ نے یہ نھیں کیا تو گویا اس کے پیغام کو نھیں پھونچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا “ (۱) مگر اس حوالے پیش کردہ روایات بھی عقدیہ امامت کی وضاحت نہیں کرتیں۔ بلکہ یہ سوال مزید شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ اگر امامت اللہ کا شروع کردہ کوئی سلسلہ ہے اور مذکورہ روایات کی رو سے بہت اہم معاملہ اور ایمان کا حصہ ہے تو اس کا تذکرہ قرآن میں کیوںنہیں. اشیعوںکا کہنا ہے کہ "یک سماج میں کیسی حکومت ھو ، کون حاکم ھو ، حاکم کے لئے کیا شرائط ھونے چاھئیں اور خود قوانین بنانا وغیرہ مسائل فلسفہ سیاست کے تحت آتے ھیں ۔ اسلام میں فلسفہٴ سیاست سمٹ کر ” امامت “ میں آجاتا ھے ۔ امام ھی لوگوں کے اتحاد اور انکے افکارکو بلند کرنے کا مرکز ھوتا ھے ۔ نھج البلاغہ میں ارشاد ھوتا ھے کہ امامت تسبیح یا ھار کی اس ڈوری کی طرح ھے جو اپنے دانوں کو بکھیرنے اور غائب ھونے سے بچاتی ھے ۔ امامت اسلامی امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ھے اس کو ایک نظام اور نظم و نسق دیتی ھے (۲) امامت اور ولایت، پیغمبر اسلام (ص)کے بعد ، سماج کو کنٹرول اور منسجم کرنے کا ایک ایسا پلان اور پروگرام ھے جس کا اعلان خدا نے کیا ھے ۔ پیغمبر اسلام(ص) نے جانشینی کے سلسلہ میں لوگوں کی ذمہ داری کو اپنی طرف سے پوری طرح روشن اور واضح کر دیا تھا لیکن پھر بھی پیغمبر(ص) اپنے بعد کے آنے والے دنوں کے لئے مضطرب تھے ۔ افسوس ھے کہ پیغمبر (ص)کوجس بات کا خوف اور ڈر تھا ان کی وفات کے بعد وھی پیش آیا یعنی کچھ مسلمانوں نے انکی وصیت کی پروا نھیں کی اور انکے حکم کے خلاف غلط الکشن ، وحشت اور خوف کا ماحول ایجاد کر کے ایک دوسرے شخص کو انکی جگہ پر منتخب کر لیا اور لوگوں سے خواھش کی کہ اسکی بیعت کریں ۔ اسکے بعد دو دوسرے اشخاص بھی غلط طریقہ سے اس الٰہی منصب پر قابض ھو گئے ۔ "

لیکن ایسا ہے تو پھر گیارہ اماموںکے بعد یہ سلسلہ ختم کیوں ہوگیا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ The succession to Muhammad: Madelung; Cambridge university press
  2. ^ shi'ite (islam) at britannica encyclopedia (روئے خط ربط)
  3. ^ Historical atlas of Islam; Malise Ruthven, Azim Nanji: Harvard University Press (May 28, 2004) ISBN-10: 0674013859
  4. ^ Differences in the Ummah and the Straight Path by Maulana Yusuf Ludhyanwi پیڈی ایف ملف
  5. ^ imamat and khilafat by Ayatullah Murtada Mutahhari (روئے خط ربط)