چارلٹن ہسٹن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چارلٹن ہسٹن

مشہور امریکی اداکار۔چارلٹن ہسٹن الےنوائے کی ایوانسٹن نامی جگہ پر 4 اکتوبر 1923ء کو پیدا ہوئے، اداکاری کی تربیت حاصل کی اور تین برس کے لیے امریکی ایئر فورس میں خدمات انجام دیں۔ جب وہ واپس سویلین زندگی میں لوٹے تو اداکاری کا موقع ملنے کے انتظار میں ان کی شریکِ حیات لِڈیا اور انہیں بہت سخت دن دیکھنے پڑے۔ وہ دونوں شکاگو میں ایک کمرے میں رہتے تھے اور مقامی آرٹسٹ حلقوں میں سوا ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے لائف ماڈلنگ کیا کرتے۔

فلم کی دنیا[ترمیم]

انیس سو باون میں براڈوے میں کام کرنے کے بعد ہیسٹن کو فلم ’دی گریٹیسٹ شو آن ارتھ‘ میں رنگ ماسٹر کا رول ملا۔ چار برس بعد انہوں نے ’دی ٹین کمانڈمینٹس‘ میں حضرت موسیٰ کا کردار ادا کیا جو بعد میں ان کے کیرئیر کی شہ سرخیوں میں سے ایک ثابت ہوا۔ خواہ بِن حُر کا کردار ہو یا مائیکل اینجلو یا موسیٰ کا، ہالی وڈ کی ایپک فلموں کے دیو مالائی کرداروں میں ان کے افسانوی قد وکاٹھ جیسی جان ڈال دینا چارلٹن ہِسٹن ہی کو آتا تھا۔ ساٹھ کی دہائی کی سائنس فکشن ’پلینٹ آف دی ایپس‘ نے چارلٹن ہسٹن کے لیے کامیابی کے دروازے یوں وا کیے کہ وہ ستر کی دہائی میں ’ارتھ کوئیک‘ اور ’سکائی جیک جیسی آفاتی فلموں کے لیے لازم و ملزوم سمجھے جانے لگے۔ ماحولیاتی سائنس فکشن ’سوئیلینٹ گرین‘ کے سنسنی خیز ڈرامے میں ان کی مرکزی اداکاری سے نئے فلم بینوں میں ان کا درجہ عقیدت کی حد تک بڑھ گیا۔

شخصیت[ترمیم]

چھ فٹ چار انچ کے قد، کسی سنگ تراش کے تراشے ہوئے نقوش اور ایک گہری، گونج دار آواز کے ساتھ فلم سکرین پر ان کی موجودگی کرشماتی ہوتی تھی۔ جہاں فلم بینوں کے لیے مائیکل اینجلو اور اور بن حُر کا حقیقی روپ چالٹن ہسٹن ہی تھے تو سٹیج بینوں کے لیے وہ شیکسپیئر کے میکبیتھ اور انٹونی تھے۔

سیاسی نظریاتی[ترمیم]

گو بعد وہ میں رجعت پسندانہ تحریکوں سے وابستہ رہے لیکن وہ مارٹن لوتھر کنگ اور امریکہ میں انیس سو ساٹھ کی سول رائٹس موومنٹ کے بڑے حامیوں میں سے بھی رہے۔ مارٹن لوتھر کنگ اور رابرٹ کینیڈی کے قتل کے بعد انہوں نے امریکہ میں اسلحہ کی آزادانہ فروخت کےخلاف آواز اٹھائی لیکن بعد میں اسے اپنی ’غلطی‘ قرار دیا۔ اسی کی دہائی میں انہیں ٹیلیویژن سیریز ’دی کولبی‘ میں جیسن کولبی کے روپ میں دیکھا گیا لیکن اپنے کیریئر کے آخری دنوں میں ان کی زیادہ توجہ سٹیج اور اپنے ریپبلکن نظریات کے دفاع پر مرکوز رہی۔ وہ امریکہ میں گن کنٹرول کے اتنے خلاف ہوئے کہ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے ایک جانے پہچانے صدر کے طور پر ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا کہ امریکی حکومت ان کے ’سرد و مردہ ہاتھوں‘ سے ہی اسلحہ لے سکتی ہے۔ 5 اپریل 2008ء کو ان کا انتقال ہوا۔