چچا سام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چچا سام

حکومت جمہوریہ امریکا کا مزاحیہ نام جو غالباً 1812ء کی لڑائی میں وضع کیا گیا۔ اس نام کی علت غائی یہ ہے کہ 1812ء میں سیمویل وِلسن نام کا ایک شخص امریکی فوج کو گوشت سپلائی کرتا تھا۔ مزدوروں اور دیگر کارکنوں میں یہ ٹھیکے دار انتہائی مقبول تھا اور سب ملازمیں اسے انکل سَیم کہ کر پُکارتے تھے۔

جب ٹھیکے دار سَیم (سیموئل) کا کاروبار بہت پھیل گیا تو ملازموں کی تعداد بھی بڑھ گئی، گویا ’انکل سَیم‘ کا وِرد کرنے والے کافی تعداد میں ہو گئے۔ اِس ٹھیکے دار کا جو مال پیٹیوں اور ڈبوں میں بند ہو کر فوجی چھاؤنیوں میں جاتا تھا اس پر ’یو ۔ ایس ‘ کا ٹھپّہ لگا ہوتا تھا۔ یعنی یونائیٹڈ سٹیٹس۔ یہ ٹھپّہ سازو سامان پر اسے سرکاری مال قرار دینے کے لئے لگایا جاتا تھا لیکن چہیتے کارکنوں نے مشہور کر دیا کہ یو ایس کا اصل مطلب انکل سیم ہے۔ اور پھرU.S کا مطلب انکل سَیم لیا جانے لگا اور پھر آہستہ آہستہ واقعی ہر طرح کا سرکاری مال انکل سَیم کا مال کہلانے لگا۔

ایک نسل بعد انکل سَیم کا مطلب ہی’ امریکی سرکار‘ ہو گیا اور ہر کس و ناکس اسے امریکی انتظامیہ کے مفہوم میں استعمال کرنے لگا۔ اس تصّور کو مزید شہرت بیسویں صدی کے آغاز میں ملی جب پہلی جنگِ عظیم کے لئے امریکہ میں بھرتی شروع ہوئی۔ اس زمانے میں جیمز منٹگمری فلیگ کا بنایا ہوا وہ پوسٹر منظرِ عام پر آیا جس میں انکل سَیم اُنگلی سے اشارہ کر کے امریکی قوم کے نوجوانوں سے کہہ رہا ہے:

I want you for U.S army Contact nearest recruitment station

انکل سَیم کا لفظ ُسن کر ایک عام امریکی کے ذہن میں آج جو شبیہ ابھرتی ہے وہ اُسی کُوچی داڑھی اور اونچے ہیٹ والے بوڑھے کی ہے جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اورانگلی تان کر فوج میں بھرتی ہونے کا حُکم صادر کر رہا ہے۔

اُردو میں اس نام کا امریکی تلفظ رائج نہ ہو سکا اور اسے چچا سام کہہ کر پکارا گیا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اُردو میں اس کردار کو مقبول بنانے کا سہرا سعادت حسن منٹو کے سر ہے جنھوں نے چچا سام کے نام متعدد خطوط لکھ کر نہ صرف سیاسی طنز کی صِنف کو آگے بڑھایا بلکہ حکومتِ امریکہ کی نمائندگی کرنے والے اس کردار کا بھرپور تعارف بھی اُردو داں طبقے سے کروایا