چیچک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چیچک
جماعت بندی اور بیرونی ذرائع
Child with Smallpox Bangladesh.jpg
1973ء میں بنگلہ دیش میں چیچک کا شکار ایک بچی
آئیسیڈی-10 B03.
آئیسیڈی-9 050
معطیات 12219
میڈلائین 001356
ایمیڈ emerg/885 
عنوانات D012899


چیچک یا "ماتا" یا "سیتلا" (انگریزی: Smallpox) ایک بہت عام وبائی مرض ہے ۔ اس بیماری میں چھوٹے بڑے دانے یا پھنسیاں تمام بدن اور کبھی بعض دوسرے مقام پر نکلتی ہیں، اس کے ساتھ عموماً درد سر اور بخار اور درد کمر ہوتا ہے، یہ دانے ابتدا میں سرخ اور پکنے پر سفیدی مایل ہوجاتے ہیں اور ان میں پیپ پڑ جاتی ہے۔

اقسام[ترمیم]

چیچک کی عام طور پر دو اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ "چھوٹی چیچک" اور "بڑی چیچک" اسے چیچک متصلہ بھی کہتے ہیں۔ [1]

1912ء میں امریکہ میں چیچک کا ایک مریض

اسباب[ترمیم]

۔یہ مرض دو وائرسوں کے باعث ہوتا ہے جسے "ویری اولا کبیر" اور "ویری اولا صغیر" کہتے ہیں۔ یہ مرض بچوں میں ہلکی نوعیت کا ہوتا ہے۔ لیکن نوزائیدہ بچوں اور با لغ افراد میں اگر چھوٹی چیچک ہوجا ئے تو وہ بہت زیادہ بیمار ہو سکتے ہیں۔

چیچک کی علامات[ترمیم]

چیچک عام طور پر بخار کے ساتھ شروع ہو تی ہے۔ ایک یا دو دن کے بعد مریض کی جلد پر دھبے نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو بہت خارش دار ہو سکتے ہیں۔ دھبے کی ابتدا سرخ نشانات سے ہوتی ہے۔ یہ سرخ دھبے بہت جلد مائع سے بھرے ہوئے چھا لوں میں بد ل جا تے ہیں۔ کچھ لوگوں میں صرف چند چھا لے ہوتے ہیں۔ دیگر افراد کو 500 تک ہو سکتے ہیں ۔ یہ چھا لےچار سے پانچ دن کے بعد خشک ہو کر کھرنڈ بن جاتے ہیں۔

علاج[ترمیم]

حکیم ابن ذکریا رازی اس مرض کے ماہر معالج تھے۔ دسویں صدی عیسوی میں یہ وبا مشرق وسطیٰ میں عام ہو چکی تھی اور طبیب اس کے علاج سے عاجز تھے۔ اس موقع پر اسلام کے مشہور طبیب حکیم ابو بکر محمد بن زکریا رزای نے چیچک کا کامیاب علاج تجویز کی۔ اس مرض پر ایک مستقل کتاب لکھی جس میں مرض کے تمام پہلوئوں پر مفصل بحث کی۔ چنانچہ اٹھارھویں صدی تک مشرق میں حکیم محمد بن زکریا کے تجویز کیے ہوئے علاج سے بے شمار آدمی صحت یاب ہوتے رہے۔ حکیم موصوف کی یہ کتاب چھپ چکی ہے اور آج بھی انسانیت کے اس محسن کی عظمت کا ثبوت پیش کررہی ہے۔ طبی دنیا میں وہ پہلا شخص ہے جس نے چیچک کا علاج دریافت کیا اور اس کا اعتراف انسکائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی کیا گیا ہے۔


اٹھارھویں صدی میں ایڈورڈ جینر نام ایک انگریز نے چیچک کا علاج دریاف کرنے کی طرف توجہ کی، وہ ہر چھوٹے بڑے معاملے پر غور کرنے اور اس کی تہ تک پہنچنے کا عادی تھا۔ علاج کی دریافت کا واقعہ بڑا عجیب ہے۔ گلائوسٹر شائر کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ گئوتھن سیتلا چیچک کا تریاق ہے، اس لیے کہ جو لوگ گائیوں کا دودھ دوہتے تھے، وہ عموما چیچک کی بیماری سے بچے رہتے تھے، بس اس عدیقے کی بنا پر جینر چھان بین کرتا رہا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ گئوتھن سیتلا دو قسم کی ہوتی ہے اور ان میں سے صرف ایک قسم چیچک کو روکتی ہے۔[2]


چینی ما ہرین کی ایک حا لیہ تحقیق کے مطا بق نیم کے پتوں کے استعمال سے چیچک جیسے مرض کا علا ج ممکن ہے۔ما ہر ین کا کہنا ہے کہ نیم کے درخت پر تا زہ اگنے والے ننھے پتوں کو کھانے سے نا صرف چیچک بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خسرہ اور کیل مہا سوں سے بھی نجا ت پائی جا سکتی ہے۔ما ہر ین کے مطابق نیم کے پتوں میں ایسے قدرتی اجزا پا ئے جا تے ہیں جو جسم کے اندر داخل ہو کر خون اور جگر کو صاف کرنے کے ساتھ خارش اور کھجلی کو بھی ختم کر تے ہیں ۔تحقیق کے مطا بق نیم کے پتے ذائقے میں انتہا ئی ترش ہو تے ہیں جنھیں کھا نا مشکل ہے لیکن ان معمولی پتوں میں انسانی صحت کے لئے لاتعداد طبی فوائد پو شیدہ ہیں۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=چیچک&oldid=734245’’ مستعادہ منجانب