ڈاکٹر رشید جہاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ذاکٹر رشید جہاں (5 اگست 1905 - 29 جولائی 1952)، ہندوستان میں اردو کی ایک ترقی پسند مصنفہ، قصہ گو، افسانہ نگار اور ناول نگار تھیں، جنہوں نے خواتین کی طرف سے تحریری اردو ادب کے ایک نئے دور کا آغاز کیا. وہ پیشے سے ایک ڈاکٹر تھیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

رشید جہاں 5 اگست سنہ 1905 کو اترپردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ڈاکٹر رشید جہاں کا تعلق علی گڑھ کے ایک روشن خیال خاندان سے تھا۔ ان کے والد شیخ عبد اللہ علی گڑھ کے مشہور تعلیم اور مصنف اور علی گڑھ خواتین کالج کے بانیوں میں سے ایک تھے، جنہیں ادب و تعلیم میں سن 1964 میں حکومت ہند کی طرف سے پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا. انہوں نے علی گڑھ میں تعلیم نسواں کا پہلا اسکول اور کالج قائم کیا تھا جو آج بھی عبد اللہ گرلس کالج کے نام سے معروف ہے اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا ایک ادارہ ہے۔ ان کی والدہ وحید شاہجہاں بیگم بھی بہت روشن خیال تھیں اور ایک رسالہ ’خاتون‘ نکالتی تھیں۔ جس کا مقصد مسلم خواتین میں بےداری پیدا کرنا تھا۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کرنے کے بعد ان کا داخلہ لکھنو کے مشہور ازا بیلا تھوبرون کالج میں کروا دیا گیا تھا۔ وہاں دو سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ دہلی کے لارڈ ہارڈنگ میڈیکل کالج میں داخل ہوئیں اور وہاں سے سنہ 1934 میں ڈاکٹر بن کر نکلیں۔ سنہ 1934 میں ہی ان کی شادی محمود الظفر کے ساتھ ہوئی جو اردو کے ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ امرتسر کے اسلامیہ کالج میں پرنسپل تھے۔ وہیں ڈاکٹر رشید جہاں کی ملاقات فیض احمد فیض سے ہوئی اور وہ با قاعدہ ترقی پسند تحریک کی سرگرم رکن بن گئیں۔

ادبی زندگی[ترمیم]

رشید جہاں پہلی بار 1932 میں زیر بحث آئیں جب ان کے افسانوں اور ڈرامے کا مجموعہ ‘‘انگارے’’ شائع ہوا، افسانہ نگاری انہوں نے اپنی شادی سے پہلے سے شروع کر دی تھی، اور سنہ 1931 میں سجاد ظہیر کی ادارت میں ” انگارے “ کی اشاعت ہوئی تو اس میں ان کا افسانہ ’ پردے کے پیچھے ‘ اور’ دلی کی سیر ‘ شامل تھا۔ کیونکہ ان کے افسانے اس وقت کے سماج میں رائج بنیاد پرستی اور جنسی اخلاقیات کے لیے چیلنج تھے۔ ’ انگارے‘ کی اشاعت کے بعد اس کے خلاف زبردست احتجاج ہوا تھا اور جگہ جگہ اس کی کاپیاں جلا دی گئی تھیں۔ بعد میں برطانوی حکومت کی طرف سے اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اس کی کاپیاں ضبط کر لی گئی تھیں۔ ڈاکٹر رشید جہاں ایک رسالہ ” چنگاری “ کی بھی مدیرہ تھیں جس کا مقصد خواتین میں ذہنی بیداری پیدا کرنا تھا۔ لکھنﺅ کے دوران قیام انہوں نے کئی ڈرامے لکھے اور انہیں اسٹیج بھی کیا۔ ان کا افسانوی مجموعہ ” عورت“ اور دوسرے افسانے سنہ 1937 میں لاہور سے شائع ہوا تھا۔ دوسرا افسانوی مجموعہ ان کے انتقال کے بعد ’ شعلہ جوالہ ‘ کے عنوان سے سنہ 1968 میں اور تیسرا ’ وہ اور دوسرے افسانے ‘ سنہ 1977 میں شائع ہوا۔

اہم تخلیقات[ترمیم]

  • انگارے
  • عورت اور دوسرے افسانےو ڈرامے
  • شعلۂ جوالہ
  • وہ اور دوسرے افسانےو ڈرامے

ترقی پسند تحریک[ترمیم]

بحیثیت ڈاکٹر ان کا تقرر لکھنو میں ہوا تھا جہاں انہوں نے ترقی پسندو ں کے ساتھ مل کر انجمن ترقی پسند مصنفین کو بہت تقویت پہنچائی تھی۔ اس زمانے میں سید سجاد ظہیر، مجاز لکھنوی، علی سردار جعفری وغیرہ لکھنو میں ہی تھے جو سب کے سب ترقی پسند تحریک میں سرگرم طور پر شامل تھے۔

انتقال[ترمیم]

ڈاکٹر رشید جہاں 29 جولائی سنہ 1952 میں کینسر کا شکا رہوئیں انہیں علاج کے لئے ماسکو لے جایا گیا جہاں 13 اگست سنہ 1952 کو ان کا انتقال ہو گیا۔