ڈونلڈ بریڈمین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سر ڈان بریڈمین کی ایک دستخط شدہ تصویر

ڈونلڈ جارج بریڈمین (انگریزی: Donald George Bradman) المعروف ڈان بریڈمین (27 اگست 1908ء – 25 فروری 2001ء) آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک کرکٹر تھے جنہیں کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی مانا جاتا ہے۔ [1] وہ آسٹریلیا کی تاریخ کے مشہور ترین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ ان کا بلے بازی کا اوسط 99.94 تھا جسے کسی بھی بڑے کھیل میں اعداد و شمار کے لحاظ سے عظیم ترین کارکردگی سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تقابل اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کے بعد بہترین اوسط 75.56، 60.97 اور 60.83 ہیں۔ اس طرح بلے بازی کے اوسط میں ان کا کوئی دور دور تک مد مقابل نہیں دکھائی دیتا۔ 1948ء میں آسٹریلیا کے دورۂ انگلستان کے آخری ٹیسٹ میں اگر وہ 4 رنز بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو آج ان کا اوسط 100 رنز ہوتا لیکن بدقسمتی سے وہ صفر پر آؤٹ ہو گئے اور یوں ان کا اوسط 99.94 فیصد ہے۔

آپ نے 52 ٹیسٹ مقابلوں میں 99.94 کے اوسط سے 6996 دوڑیں بنائیں۔ آپ بہترین انفرادی کارکردگی 334 رنز تھی۔ آپ نے 29 مرتبہ 100 سے زیادہ دوڑیں بنائیں۔ جس میں دو مرتبہ 300 سے زیادہ دوڑیں بھی شامل ہیں۔ آپ عرصہ تک واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے دو مرتبہ 300 سے زائد دوڑیں بنانے کا اعزاز حاصل کیے رکھا۔ دونوں مرتبہ اس زبردست کارکردگی کا مظاہرہ انہوں نے انگلستان کے خلاف ہیڈنگلے کے میدان میں کیا۔ آپ نے پہلی مرتبہ 1930ء میں 334 اور دوسری مرتبہ 1934ء میں 304 دوڑیں بنائیں۔ آپ کا یہ کارنامہ 2004ء میں ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے بلے باز برائن لارا نے برابر کیا تاہم انہوں نے اس کارنامے کو انجام دینے کے لیے بریڈمین سے دوگنے مقابلے کھیلے۔ بریڈمین ایک مرتبہ 300 دوڑیں بنانے کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے جب 1932ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف وہ 299 دوڑوں کے ساتھ میدان میں موجود تھے لیکن ان کے ساتھی بلے باز رن آؤٹ ہو گئے۔

آپ 1931ء میں وزڈن کے سال کے 5 بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ 1949ء میں آپ کو "سر" کا خطاب دیا گیا اور 1979ء میں آسٹریلیا کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کمپینین آف دی آرڈر آف آسٹریلیا سے نوازا گیا۔ 2000ء میں بریڈمین کو ماہرین نے وزڈن کی صدی کے بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا، بریڈمین واحد کھلاڑی تھے جسے ماہرین کے گروہ کے تمام 100 اراکین نے منتخب کیا تھا۔ اس فہرست کا حصہ بننے والے دیگر کھلاڑیوں میں گارفیلڈ سوبرز (90 آراء)، جیک ہوبس (30 آراء)، شین وارن (27 آراء) اور ویوین رچرڈز (25 آراء) شامل تھے۔ 2002ء میں وزڈن نے بریڈمین کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین بلے باز قرار دیا۔ اس فہرست میں ٹنڈولکر، گیری سوبرز، ویوین رچرڈز بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے درجے پر تھے۔ انگلستان کے خلاف ملبورن میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ مقابلے میں بریڈمین کی 270 رنز کی باری کو وزن کی جانب سے ٹیسٹ کی عظیم ترین باری قرار دیا گیا تھا۔

بریڈ مین کا نام اب آسٹریلیا میں محفوظ کر لیا گیا ہے اور ڈونلڈ بریڈمین کے نام سرکاری طور پر منظور شدگی کے علاوہ کسی استعمال نہیں کیا لایا جا سکتا۔

آپ کی تصویر ڈاک ٹکٹوں اور سکوں پر چھپی اور آپ آسٹریلیا کی پہلی شخصیت تھے جن کی زندگی ہی میں ان سے موسوم ایک عجائب گھر قائم کیا گیا۔

ڈان بریڈمین 2001ء میں 92 برس کی عمر میں ایڈیلیڈ میں چل بسے۔ آپ کے انتقال کے بعد آسٹریلیا کی حکومت نے 20 سینٹ کے یادگاری سکے جاری کیے۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ سر ڈان بریڈمین کا خاکہ کرک انفو ویب سائٹ سے۔
  2. ^ ڈان بریڈمین کی یاد میں 5 ڈالرز کا یادگاری سکہ