کارل فریڈرک گاؤس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کارل فریڈرک گاؤس

Carl Friedrich Gauss (1777–1855), painted by Christian Albrecht Jensen
پیدائش 30 اپریل 1777 (1777-04-30)
برانشویگ، مقدس رومی سلطنت
وفات 23 فروری 1855 (عمر 77 سال)
گوٹنگن, مملکت ہنور
سکونت مملکت پروشیا، مملکت ہنور
قومیت جرمن
میدان ریاضیات و طبیعیات
اِدارے جامعہ گوٹنگن
مادر علمی جامعہ گوٹنگن
علمائی مشیر جون فریڈرک پفاف
علمائی طلباء Friedrich Bessel
Christoph Gudermann
Christian Ludwig Gerling
Richard Dedekind
Johann Encke
Johann Listing
Bernhard Riemann
Christian Peters
Moritz Cantor
وجہِ معروفیت مکمل فہرست ملاحظہ کریں
اہم انعامات کوپلے میڈل 1838ء
مذہبی وابستگی لادینی شاید عیسائی
دستخط

کارل فریڈرک گاؤس (انگریزی: Carl Friedrich Gauss) ایک جرمن ریاضی دان اور سائنسدان تھا جو 30 اپریل 1777ء کو پیدا ہوا۔ اس نے ریاضی اور سائنس کی کئی شاخوںنظریۂ عدد (number theory)، احصاء (statistics)، ریاضیاتی تحلیل (mathematical analysis)، مساحیات (geodesy)، ارضی طبیعیات (geophysics)، برقی سکونیات (electrostatics)، فلکیات (astronomy)، بصریات (optics) اور بہت سی شاخوں میں قابل ذکر کام کیا۔ وہ ریاضی کا شہزاہ اور سب سے عظیم ریاضی دان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ ریاضی کی تاریخ میں ریاضی اور سائنس کی مختلف شاخوں میں سب سے زیادہ اثرانداز ہونے والوں میں سے ایک ہے۔ وہ ریاضی کو سائنس کی ملکہ کا لقب دیا تھا ".[1] ۔ اس کا 23 فروری 1855ء کو انتقال ہو گیا۔

کارل فریڈرک گاؤس کی کتاب تحقیق حساب (Disquisitiones Arithmeticae) کا سرورق
کارل فریڈرک گاؤس کی قبر

ابتدائی زندگی (1777 - 1798)[ترمیم]

گاؤس ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ درحقیقت اس کی ماں پڑھی لکھی نہیں تھی بلکہ اس نے تو گاؤس کی تاریخ پیدائیش بھی کہیں نہیں لکھی تھی۔ اسے صرف یہ یاد تھا کہ وہ بدھ والے دن عید العصود (feast of the ascension) سے آٹھ دن پہلے پیدا ہوا تھا جو کہ ایسٹر کے 40 دن بعد ہوتا ہے۔ گاؤس نے بعد میں خود اپنی تاریخ پیدائیش کا مسئلہ ایسٹر کی تاریخ معلوم کرنے کا طریقہ دریافت کرتے ہوئے حل کیا اس کی مدد سے وہ ماضی اور مستقبل دونوں کی ایسٹر کی تاریخ معلوم کر سکتا تھا۔

وہ ایک غیر معمولی ذہانت والا بچہ تھا۔ اس کی صلاحیتیں کم عمری میں ہی سامنے آنے لگ گئی تھیں اور اس نے اپنے لڑکپن ہی میں ریاضی کی زبردست دریافتیں کی تھیں۔ اس نے اپنی شاہکار درسی کتاب تحقیق حساب (Disquisitiones Arithmeticae) صرف 21 برس کی عمر میں 1798ء میں ہی لکھ لی تھی مگر اسے اس نے 1801ء تک شائع نہیں کیا تھا۔ اس کتاب میں اس نے لیونہارڈ اویلر، پیر ڈی فرما، جوزف لوئی لاگرانج اور ایڈری ماری لژاندر کے نتائج اور کچھ اپنے اہم تنائج جمع کیے تھے۔ یہ کتاب نظریۂ عدد کی ایک بنیادی کتاب تھی اور اس کتاب نے اسے وہ شکل دی جس شکل میں ہم اسے آج دیکھتے ہیں۔

گاؤس کی ذہانت سے ڈیوک نے بھی اس میں دلچسپی لی اور اسے کولگیم کارولینم (collegium carolinum) جو کہ آج جامعہ علم و صنعت برانشویگ (Braunschweig University of Technology) کے نام سے جانی جاتی ہے، پڑھنے کے لیے بھیجا۔ وہاں اس نے 1792ء سے 1795ء تک پڑھا اور پھر جامعہ گوٹنگن (university of göttingen) چلا گیا جہاں اس نے 1795ء سے 1798ء تک پڑھا۔ وہاں پڑھتے ہوئے ہی اس نے بہت سے نہایت اہم قضیے (theorems) دریافت کیے۔ اس نے نہایت اہم پیش رفت 1796ء میں کی جب اس نے ثابت کیا کہ کوئی بھی باقائدہ (منظم) کثیرالاضلاع (polygon) جس کی سطحیں (sides) فرما اولی (fermat prime) ہوں صرف پرکار اور سیدھے خطوط کے ذریعے بنائی جاسکتی ہے۔ یہ ریاضی کی ایک بہت اہم دریافت تھی جس کو قدیم یونان سے ریاضی دان حل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ مزید یہ کہ اسی مسئلے کی وجہ سے گاؤس نے فلسفہ کے بجائے ریاضی اپنے مستقبل کے لیے پڑھنا پسند کیا۔ گاؤس اس نتیجے سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے اپنے سنگ قبر کے لیے سترہ اضلاع (heptadecagon) نقش کرنے کی درخواست کی۔ معمار نے اس درخواست کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ مشکل تعمیر بالکل دائرے کی طرح لگے گی [2]۔

1796ء گاؤس اور نظریۂ عدد (number theory) کے لیے بہت ہی کارآمد رہا۔ اس نے 30 مارچ کو سترہ اضلاع بنانے کا طریقہ دریافت کیا [3]۔ اسی سال اس نے مطابقت (modular arithmetic) میں بھی کافی کام کیا جس کی وجہ سے نظریۂ عدد (number theory) کا کام کافی آسان ہو گیا۔ 8 اپریل کو اس نے چکوری متکافیت (quadratic reciprocity) کا قانون ثابت کیا۔ 31 مئی کو اس نے اولیٰ عدد قضیہ (prime number theorem) کے بارے میں گمان کیا جس نے اولی اعداد (prime numbers) کیسے صحیح اعداد (integers) میں تقسیم ہوتے ہیں۔ 10 جولائی کو اس نے دریافت کیا کہ ہر مثبت صحیح عدد زیادہ سے زیادہ 3 مثلثی اعداد کا مجموعہ ہوتا ہے اور اس نے اپنی ڈائری میں وہ مشہور جملہ لکھا num = ∆ + ∆ + ∆۔ 1 اکتوبر کو اس نے کثیر رقمی (polynomials) کے حل دیے جن کے عددی سر (coefficients) متناہی میدان (finite fields) میں تھے، 150 سال بعد یہ حل ویل گمان (weil conjectures) کا سبب بنا۔

درمیانی عمر (1799 - 1830)[ترمیم]

1799ء میں گاؤس نے علمائی (PhD) مکمل کیا۔ اس نے الجبرا کے بنیادی قضیے (fundamental theorem of algebra) کو ثابت کیا جو یہ کہتا ہے کہ کسی بھی ایک متغیر (single variable) کثیر رقمی (polynomials) جس کا عددی سر (coefficients) مختلط عدد (complex number) ہو اس کا کم اس کم ایک جزر (root) مختلط عدد (complex number) ہوتا ہے۔ ایک فرانسیسی ریاضی دان ژان لرونڈ ڈالمبر (Jean le Rond d'Alembert) اس سے پہلے اس مسئلے کا غلط حل دے چکا تھا گاؤس نے اپنے مقالے میں اس پر تنقید کی تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خود گاؤس کا حل آج کے معیار کے حساب سے قابل قبول نہیں ہے۔ تاہم اس نے بعد میں اس مسئلے کے اور بھی حل پیش کیے، آخری حل اس نے 1849ء میں پیش کیا جو کی آج کے معیار پر پورا اترتا ہے۔

اس نے نظریۂ عدد (number theory) سے متعلق بہت سی اہم دریافتیں اپنی درسی کتاب تحقیق حساب (Disquisitiones Arithmeticae) میں لکھیں۔ اسی میں اس نے مطابقت کے لیے ≡ کی علامت استعمال کی اور چکوری متکافیت (quadratic reciprocity) کے پہلے دو حل پیش کیے۔ اس نے ثنائی اور ثلاثی چکوری ہئیت (quadratic forms) کا بھی نظریہ پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ منظم سترہ اضلاع (regular heptadecagon) کو صرف پرکار اور خط کی مدد سے بنایا جا سکتا ہے۔

اسی سال اطالوی ماہر فلکیات جوزپہ پیاتسی (giuseppe piazzi) نے بونا سیارہ سیرس دریافت کیا۔ وہ سیرس کا صرف کچھ مہینے ہی مشاہدہ کر سکا اور رات کے آسمان پر صرف تین ڈگری ہی کا مشاہدہ کر سکا۔ اس کے بعد سیرس سورج کی روشنی کے پیچھے چھپ گیا۔ کئی مہینوں بعد جب سیرس سورج کے پیچھے سے دوبارہ سامنے آیا تو پیاتسی اس وقت کی ریاضی کی مدد سے اُسے ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ اس زمانے کی ریاضی اتنے کم معطیات (data)، جو کے پورے مدار کا ایک فیصد سے بھی کم تھے، سے پورے مدرا کی پیشن گوئی نہیں کر سکتی تھی۔

گاؤس جو اس وقت صرف 23 سال کا تھا اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کا سوچا اور تین مہینے کے انتھک کام کے بعد دسمبر 1801ء میں سیرس کے پہلے مشاہدے کے صرف ایک سال بعد، اس نے سیرس کے مقام کی پیشن گوئی کی جو کہ بعد میں آدھے ڈگری تک صیح ثابت ہوئی۔

گاؤس نے اپنے طریقے میں خلا (space) تکونی قطعات (conic section) معلوم کیے اور سورج کو ایک مرکز نما (focus) پر رکھا اور تین خطوں کے ساتح تقطع (intersection) معلوم کیے جو کہ زمین کے مشاہدے سے بنتی ہے۔ زمیں چونکہ ایک بیضہ (ellipse) کی شکل میں سورج کے گرد گھومتی ہے تو تین خطوط تین مختلف اوقات کے منحنی (curve) کے مقامات کپلر کے دوسرے قانون کی مدد سے اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے ایک 8 درجہ کے مساوات بنتی ہے جس کا صرف یک حل زمین کا مدار معلوم ہے۔ اُس نے اس مساوات کے 6 حل مخلتف طبعی حالات کی وجہ سے مسترد کیے۔ یہاں اس نے جامع تخمینی طریقہ (approximation method) استعمال کیا جو کہ اُس نے اسی مقصد کے لیے بنایا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Quoted in Waltershausen, Wolfgang Sartorius von (1856, repr. 1965). Gauss zum Gedächtniss. Sändig Reprint Verlag H. R. Wohlwend. ISBN 3-253-01702-8. ISSN B0000BN5SQ ASIN: B0000BN5SQ.
  2. ^ Pappas, Theoni: Mathematical Snippets, Page 42. Pgw 2008
  3. ^ Carl Friedrich Gauss §§365–366 in Disquisitiones Arithmeticae. Leipzig, Germany, 1801. New Haven, CT: Yale University Press, 1965.

بیرونی روابط[ترمیم]