کارگل جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کارگل جنگ
Kargil.jpg
کارگل کے مقام پر پاکستانی فوجی
تاریخ مئی تا جولائی 1999
مقام کارگل
نتیجہ
متحارب
پاکستان بھارت
قائدین
پرویز مشرف وید پرکاش ملک
قوت
5000 30000
نقصانات
453 جاں بحق، 665 زخمی 527 جاں بحق، 1363 زخمی

کارگل جنگ کنٹرول لائن پر ہونے والی ایک محدود جنگ تھی جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1999ء میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں واضح کامیابی کسی ملک کو نہ مل سکی۔

کارگل کا جغرافیہ[ترمیم]

لداخ اور سری نگر کا واحد زمینی راستہ یہاں سے گزرتا ہے۔ سیاح چین پر موجود بھارتی افواج کی کمک و رسد کے لئے کارگل کا راستہ ہی بہتر راستہ ہے۔ کارگل تا سیاچن تک کا راستہ سال کے دس مہینوں تک برف کی قید میں رہتا ہے اور صرف دو ماہ کے لئے یہ شاہراہ سیاچن کے برف پوش پہاڑوں تک پہنچنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔بھارت کو انہی مہینوں میں فوجی چیک پوسٹس اور فوجی یونٹوں میں کام کرنے والے بھارتی لشکر کی خوراک اور دیگر ضروریات کو سیاچن کی چوٹیوں تک لیجانے کا ٹاسک پورا کرنا ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں پہاڑیاں اور سیاچن پاکستانی ملکیت تھے جہاں بعد ازاں بھارتی فورسز نے قبضہ جمالیا تھا۔[1]

حقائق[ترمیم]

واجپائی کا بیان[ترمیم]

ایک بار اس وقت کے بھارتی وزیراعظم واجپائی پاکستانی دورے پر آئے اور لاہور میں انہوں نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے گلہ کیا کہ ہم آپکی میزبانی سے مستفید ہو رہے ہیں مگر آپ کی فوج نے کارگل پر قبضہ کرلیاہے۔ وزیراعظم کی صدارت میں27 مئی 1998 کو پاکستان میں ہنگامی دفاعی اجلاس منعقد ہوا جس میں بحری، بری اور فضائی افواج کے سربراہان شامل تھے۔ بری اور فضائی سربراہان نے نواز شریف کو بتایا کہ ہمیں اس مہم جوئی کی بھنک تک معلوم ہے۔ [2]

نواز شریف کا بیان[ترمیم]

اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ کارگل جنگ کے ذمہ دار پرویز مشرف تھے، سیاسی خلاء ہمیشہ آمریت کے دور میں پیدا ہوتا ہے۔بھارتی میگزین تہلکہ کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کارگل جنگ کے ذمہ دار تھے۔ جب ان سے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائن کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد پاکستان میں سیاسی خلاء پیدا ہوجائے گا تو اس کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ سیاسی خلاء ہمیشہ آمریت کے دور میں پیدا ہوتا ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان امن عمل جاری رہنا چائیے، انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرے اور حل ایسا ہونا چائیے جسے خطے کے عوام قبول کریں۔ [1]

بھارتی جنرل کش پال کا اعتراف[ترمیم]

بھارتی فوج کے سابق جنرل کشن پال نے اعتراف کیا ہے کہ کارگل جنگ حقیقت میں بھارت نے نہیں جیتی۔ نئی دہلی میں بھارتی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں کارگل جنگ میں فارمیشن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ کشن پال کا کہنا تھا کہ 1999 میں کارگل جنگ میں527 فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور بھارت نے علاقہ واپس حاصل کرلیا تھا۔ انہوں نے کہا ”میرے خیال میں جنگ میں اتنی جانیں ضائع ہونے کو کامیابی نہیں کہا جاسکتا“۔ کشن پال نے کہاکہ جنگ میں بھارت نہ صرف میدان جنگ میں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ناکام رہا۔[3]

بھارتی فوجی ٹریبونل کا کارگل جنگ کی تاریخ دوبارہ لکھنے کا حکم[ترمیم]

بھارت میں ایک فوجی ٹریبونل نے حکم دیا ہے کہ 2009 میں وقوع پذیر ہونے والی کارگل جنگ کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے۔ فوجی ٹریبونل نے یہ حکم اس انکشاف کے بعد دیا کہ کارگل جنگ میں باٹالیک سیکٹرمیں تعینات بریگیڈیر دیوندر سنگھ کی جنگ کی رپورٹس کو لیفٹیننٹ جنرل کشن پال نے تبدیل کردیا تھا جس کے یہ رپورٹ فوجی تاریخ کا حصہ بن گئی۔بھارتی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیر دیوندر سنگھ نے کہا کہ کارگل پر ان کی رپورٹ کو ان کے سینئر افسران نے غیر حقیقی قرار دے کر اس میں تبدیلیاں کی تھیں۔تاہم گیارہ سال بعد فوجی ٹریبونل نے ان کی اصل رپورٹ کی حمایت کی۔ [4]

پرویز مشرف کا متنازعہ کردار[ترمیم]

سابق پاکستانی جنرل و صدر پرویز مشرف کا کردار کارگل جنگ کے حوالے سے منتازعہ رہا ہے۔ پرویز مشرف نے بھارت کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کارگل کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے سبب ہی کشمیر کے مسئلے پر بھارت پاکستان سے مذاکرات کے لیے رضامند ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ سے نئی دہلی کے روئیے میں تبدیلی آئی تھی اور وہ مذاکرات کے ذریعے کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے تیار ہوا تھا۔ [5]

بھارتی فوج کے سابق سربراہ وی پی ملک نے کہا کہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کارگل جنگ کے بارے میں جھوٹ بولا۔ انھوں نے کہا کہ کارگل جنگ کے بارے میں پرویز مشرف نے مسلسل اپنے بیانات تبدیل کئے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مشرف نے کہا تھا کہ کارگل میں فوج کے بجائے مجاہدین لڑ رہے ہیں، اس کے بعد مشرف نے تسلیم کیا کہ کارگل جنگ فوج نے لڑی۔ کارگل کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کرنے کے پرویز مشرف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کارگل میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں کو پاکستان نے تسلیم نہیں کیا اور ان کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کردیا۔ اردو پوائنٹ

کارگل جنگ میں اسرائیل کا کردار[ترمیم]

10فروری 2008 کو نئی دہلی میں اسرائیل کے سفیر مارک سوفر نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک نے 1999ء میں پاکستان کے ساتھ کارگل کی جنگ کا رخ بدلنے میں بھارت کی مدد کی تھی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک ہفت روزہ "آﺅٹ لک" کو انٹرویو میں اسرائیلی سفیر نے بتایا کہ کس طرح کارگل کے بعد دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کو فروغ حاصل ہوا جب اسرائیل نے ایک نازک مرحلے پر زمینی صورتحال بدلنے میں بھارت کو بچایا۔ سفیر نے کہا:

میرا خیال ہے ہم نے بھارت کو ثابت کیا کہ وہ ہم پر بھروسہ کر سکتا ہے اور ہمارے پاس اسکے لئے وسائل موجود ہیں۔ ضرورت کے وقت ایک دوست ہی حقیقی دوست ہوتا ہے۔

اسرائیلی سفیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارت اسرائیلی تعلقات اسلحے کی خرید و فروخت سے آگے بڑھیں گے۔ اس نے مزید کہا:

ہمارے بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات خفیہ نہیں، تاہم جو بات خفیہ ہے وہ یہ ہے کہ دفاعی تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور تمام احترام کے ساتھ خفیہ حصہ ایک راز رہے گا۔"[6]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]