کاشغر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کاشغر عوامی جمہوریہ چین کے حودمختار علاقے سنکیانگ کا ایک شہر ہے جس کی آبادی 205،056 (بمطابق 1999ء) ہے۔

یہ شہر صحرائے تکلامکان کے مغرب کی جانب کوہ تیان شیان کے دامن میں دریائے کاشغر کے کنارے پر واقع ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 1290 میٹر (4232 فٹ) ہے۔

وادئ جیحوں کی جانب سے خوقند، سمرقند، الماتے اور دیگر شہروں سے آنے والے راستوں کے وسط میں واقع ہونے کے باعث ماضی میں یہ شہر سیاسی و کاروباری مرکز رہا ہے۔

موجودہ شہر کے 200 کلومیٹر دور مغرب سے کرغزستان کی سرحد کے قریب شاہراہ ریشم گذرتی ہے جہاں سے جنوب مغرب کی جانب بلخ اور شمال مغرب کی جانب فرغانہ کے آسان راستے جاتے ہیں۔

کاشغر بذریعہ شاہراہ قراقرم و درہ خنجراب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے منسلک ہے اور درہ تورگرت اور ارکشتام سے کرغزستان سے ملا ہوا ہے۔

دریائے کاشغر سے زرخیز ہونے والی زمینوں پر کپاس، اناج اور پھل کاشت کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں قریبی چرا گاہوں میں گلہ بانی بھی کی جاتی ہے۔ قدیم شاہراہ ریشم کے کنارے واقع اس شہر میں صدیوں سے تاجروں کے کاروانوں کے لیے روایتی ہاتھ سے بنے کپاس اور ریشم کے پارچہ جات، قالین، چمڑے کی مصنوعات اور زیورات تیار کیے جاتے تھے جو آج بھی یہاں کی اہم صنعت ہیں۔ ترکوں کے اویغور قبیلے سے تعلق رکھنے والے مسلمان یہاں اکثریت میں ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

چینی اس شہر کو پہلے شو-فو کہا جاتا تھا اور یہ 206 قبل مسیح سے 220ء تک ہان اور 618ء سے 907ء تک تانگ خاندان کے زیر اقتدار رہا۔

751ء میں جنگ تالاس میں چینیوں کو عربوں کے ہاتھوں زبردست شکست ہوئی اور کاشغر ملت اسلامیہ میں شامل ہوگیا اور آج بھی یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہ شہر 1219ء میں چنگیز خان کے حملوں سے تباہ ہوا۔ مارکو پولو نے 1273ء میں کاشغر کی سیر کی۔

1389ء میں کاشغر امیر تیمور کے عتاب کا نشانہ بنا۔

ترک، اویغور، منگول اور دیگر وسط ایشیائی سلطنتوں کا حصہ بننے کے بعد 1759ء میں چنگ خاندان کے عہد میں کاشغر ایک مرتبہ پھر چین کا حصہ بن گیا، یوں مشرقی ترکستان چینی ترکستان بن گیا۔ مسلمانوں نے کئی مرتبہ حکومت وقت کے خلاف بغاوت کی لیکن ہر مرتبہ اسے کچل دیا گیا۔

ان میں مشہور ترین بغاوت یعقوب بیگ کی زیر قیادت ہوئی تھی، جن کے عہد میں آزاد ترکستان کی حکومت 1865ء سے 1877ء تک قائم رہی اور اس کا دارالحکومت کاشتر تھا۔ یعقو بیگ کے انتقال کے بعد 1877ء میں چنگ خاندان نے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔

قابل دید مقامات[ترمیم]

  • آفاق خواجہ کا مزار شہر سے 5 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ وسط کاشغر میں ان کے اہل خانہ کے کے دیگر ارکان کے مزارات ہیں۔

نگار خانہ[ترمیم]