کتب خانہ اسکندریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کتب خانہ اسکندریہ

کتب خانہ اسکندریہ کی بنیادبطلیموسی فرمانروا سوتر اول نے اسکندریہکے مقام پر رکھی لیکن اس کے بیٹے فیلاڈلفس (Philadelphus) کی علم پروی اور کتابوں سے دلچسپی نے کتب خانہ اسکندریہ کوجلد ہی اس قابل بنا دیا کہ ایتھنز کی علمی وثقافتی مرکزیت وہاں سمٹ آئی۔اصحاب علم وفضل دور دور سے اس علمی مرکز کی طرف جوق در جوق کھنچے چلے آتےتھے۔

تاریخ[ترمیم]

کتب خانہ اسکندریہ کا قیام بھی نینواکے کتب خانہ کی طرح شاہی سرپرستی میں عمل میں آیا۔ اگرچہ دونوں کتب خاننوں کے قیام کا درمیانی وقفہ چار صدیوں پر محیط ہے لیکن ان دونوں کتب خانوں میں بعض امور میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ باوجود مطالعاتی مواد میں اختلاف (نینوا کا کتب خانہ جوکتب خانہ اشور بنی پالکے نام سے جانا جاتا ہے اس میں الواح سفالی یعنی مٹی کی تختیوں پر لکھا جاتا تھااور اسکندریہ کے کتب خانے میںقرطاس مصریپر) کے ماہرین نے ان دونوں کی اندونی تنظیم، مواد کی درجہ بندیاور کتب کی پیداوار کے طریق کار میں کافی حن تک مطابقت موجود ہے۔ یہ کتب خانہ ایک کثیر المقاصد عجا ئب گھرمیں قا‏ئم کیا گیا تھا جو کہ رصدگاہ، ادارہ علم الابدان، ادارہ نشر و اشاعت اور کتب خانہ کی عمارت پر مشتمل تھا۔ مورخین کے نزدیک اس علمی ادارے کو دنیا کی سب سے پہلی جامعہ یا سائنسی اکادمیہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

تحریری مواد[ترمیم]

کتب خانہ اسکندریہ میں کتابوں کا ذخیرہ زیادہ تعداد میںپیپرس اورجھلیکے رول یا پلندوں پر مشتمل تھا۔چونکہ مصری لوگ پہلےپیپرس(قرطاس مصری) کو بطور تحریری مواد دریافت کر چکے تھے۔جس کی دریافت کا نوع حضرت مسیح علیہ السلام سے کم و پیش چار ازار برس پہلے عام ہو چکا تھا۔ اس پر لکھے ہوۓ نوشتے رول یاپلندہ کی شکل میں ہوتے تھے اور ان کے دونوں کناروں پر دو گول لکڑی کے ٹکڑے لگا دیےجاتے تھے جن پر اس کو لپیٹ دیا جاتا۔

کتب کی فراہمی[ترمیم]

یونانی عہد کے کتب خانون کا ایک اہم پہلو یہ بھی رہا ہے کہ ان کے ذخیرہ علمی میں غیر ملکی کتب بھی موجود تھیں جن میں زرتشت کی تحریریں اور بعض سنسکرت کی کتابوں کی موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ کتب خانوں میں کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقداقات کئے جاتے تھے۔یونانیجالینوسلکھتا ہے کہ

بادشاہ بطلیموسسوم کے حکم کے مطابق جونہی کوئی جہاز بندرگاہ میں داخل ہوتا تو سیاحوں اور مسافروں کی تلاشی لی جاتی اگر ان کے پاس کتابوں کا کوئی ذخیرہ ہوتا تو بحق سرکار ضبط کر کے کتب خانے کی زینت بنا دیا حاتا اور ان کتب کی نقول تیار کرا کرمالکوں کو تبادلہ میں فراہم کر دی جاتی تھیں۔

مزید برآںایتھنزمیں قحط سالی کے دوران یونان کو غلہ اس شرط پربھیجا جاتا تھا کہ وہاں سےایسکیوسسوفا کلینراوریوری پائیڈزکی تصانیفاسکندریہکے کتب خانےکو منتقل کردی جائیں۔ مشہورمستشرقدیورنٹکے بیان کے مطایق لوگ دور دور سے پرانے نسچے اور نادر محظوحات اسکندریہ کے کتب خانے میں منہ مانگے داموں فروخت کرتے تھے۔لیکن سب سے اہم اضافہ اس وقت ہوا جب بطلیموس سوم نے286ق-م میںکتب خانہ ارسطواورتھیوفریسٹسکا بڑا حصہ حاصل کر کے اس میں مدغم کر دیا۔

ذخیرہ کتب[ترمیم]

کتب خانے میں کتابوں کی تعداد میں اگرچہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم مورخین اس بات پر متفقہ ہیں کہ اس زمانے میں اس عظیم کتب خانے سے بڑھ کر کوئی دوسرا سرمایہ علمی موجود نہ تھا۔بعض مورخین نے کتب خانے میں مسودات کی تعداد 2لاکھ اور بعض نے 5 لاکھ تک بیان کی ہے، جبکہ کے کچھ کے نزدیک یہ تعداد 7 لاکھ تھی۔کیلی ماکسکے بیان کے مطابق اس کتب خانے کے دو حصے تھے۔بیرونی حصے میں 42ہزار اور اندرونی حصے میں 4 لاکھ نوے ہزار کتابیں تھیں جو کہ مصری،عبرانی،لاطینیاور دیگر زبانوں میں لکھی گئی تھیں۔50ق-م میں اس عظیم کتب خانے میں سات لاکھ کتابیں موجود تھیں۔اس کتب خانہ کی نصف کتابیں47ق-م میں جولیس سیزرکے لشکر نے جلا کر خاکستر کر دیں۔

تنظیم[ترمیم]

اس عظیم کتب خانے کی ترتیب و تنظیم کے بارے میں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گيا ہے ، اس کو متعدد شعبوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جن میںدارلآثار(عجائب گھر)،دارالترجمہ، شعبہ نشر و اشاعت اوردارالمطالعہ(لاہبریری) قابل ذکر ہیں۔کیلی ماکسکے ذمہ جو کہ اس کتب خانے کے مہتم کا دست راست تھا، کتابوں کی مضمون وار تقسیم اور کیٹلاگ سازیکا کام تھا۔کتاب کا اندراج کرتے وقت عنوان، مصنف کا علمی منصب، علمی استعداد اور مصنف کی دیگر تصانیف کے بارے میں ضروری معلومات وغیرہ تک شامل کی جاتی تھیں۔ کیلی ماکس کوقومی کتابیاتمرتب کرنے کی پوری ذمہ داری سونپی گئی تھی جس کا ذکر اوپر آیا ہے۔

درجہ بندی[ترمیم]

تاریخ کتب خانہ کے ماہر "ہیسل"(Hessel)کے بقول کتابوں کی درجہ بندی مضمون وار کی جاتی تھی۔کتابیںابجدی ترتیبسے آراستہ کی جاتی تھیں یہ 120 بڑے بڑے موضوعات میں کی گئی تھی۔ جس کو مزید ذیلی موضوعات میںتقسیمکیا گیا تھا۔کالی ماکسکی درجہ بندی کی تقسیم مندرجہ ذیل 12 موضوعات یعنی

پر مشتمل تھی۔ کتابیں ایک طویلقرطاس مصری(پیپرس)کے رول یا پلندہ کی شکل میں ہوتی تھیں۔ جنہیں یا توافقیشکل میں الماریوں کے خانوں کے اندر یا پھرعمودیطورپرمخروطیمرتبانوں میں رکھا جاتا تھا۔ ان رول کو حوالہ کے لیے بار بار کھولنے اور لپیٹنے میں خاصی دقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اور بقول کیلی ماکس

ایک بڑی کتاب ایک بڑی مصیبت ہوتی ہے(تھی)۔

اس نے اس مشکل پر قابو پانے کے لیے کتابوں کو حصوں میں تقسیم کرنے کی "طرح" ڈالی۔جس سے کتابوں کے مطالعہ کرنے میں کافی آسانی پیدا ہوگئ۔بقول جالینوس(Galen)نئی حاصل شدہ کتابوں کو فوری طور پر الماریوں کی زینت نہ بنائی جاتیں بلکہ ایک ہی مضمون کی کتابیں یکجا کی جاتیں۔ بعد میں ماہرین مضامین رولز کو ان کے مندرجات کے مطابق ترتیب دیتے تھے۔

عملہ[ترمیم]

کتب خانہ اسکندریہ کے عملے میں یونان کے نامور اہل قلم اور علماء شامل تھے۔ جن میں مشہور ماہر لسانیاتاورشاعرکیلی ماکس،ایراٹوستھینز(Eratosthenes)مشہوربازنطینیفلسفیارسٹوفینز(Aristophanes),ارسٹاکساورزینوڈوٹس(Zenodotus)قابل ذکر ہیں۔

کتب خانے کا انجام[ترمیم]

تقریبا" سات صدیوں تک قائم رہنے والے اس کتب خانے کا انجام بڑا عبرتناک ہوا۔391 میںتھیوفلس اعظم(Patriarch Theophilus)کے حکم سے عیسائیوں نے اس کی کتابوں کو نیست و نابود کر دیا۔کیونکہ ان کے خیال میں اس سے کفرپھیلنے کا اندیشہ تھا۔ رہی سہی کسراورلین(Aurelian)کے عہد میں خانہ جنگی کے دوران پوری کر دی گئی۔

مسلمانوں پر الزام[ترمیم]

ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ اس کو مصرکی فتح کے وقت مسلمانوں نے نذرآتش کر دیا اس الزام کی تردید خودمستشرقین مثلا"ایڈورڈ گبن(Gibbon)اورقلپ کے ہٹی(P.K Hitti)وغیرن نے بھی کی ہے، ان کی تحقیق کے مطابق 47 ق-م جب قیصر نےاسکندریہکا محاصرہ کیا تو تباہی اس کتب خانہ کا مقدر بن گئی۔ یہ کتب خانہ ظہوراسلام سے 200 سال پہلے مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکا تھا۔

مزید دیکھیں[ترمیم]