کرنتھیوں کے نام کا پہلا خط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عہدنامہ جدید

سال تصنیف[ترمیم]

پولس رسول نے یہ خط افسس سے 56 عیسوی میں لکھا۔

مخاطب[ترمیم]

یہ خط پولس نے یونان کے شہر کرنتھس (کُرِنتھُس) کے مسیحیوں کو لکھا تھا ، جن میں بہت سے غیر یہودی شامل تھے۔

پس منظر[ترمیم]

جن دنوں دنوں یہ خط لکھا گیا کرنتھس رومی سلطنت کا ایک عظیم الشان شہر تھا مگر عیش پرستی اور بد کرداری کا اڈہ بنا ہوا تھا۔پولس نے اپنے دوسرے تبلیغی دورے کے وقت کرنتھس میں کلیسیا قائم کی تھی (اعمال باب 18 آیات 1 تا 11) لیکن اُس کے وہاں سے چلے جانے کے بعد حالات بگڑ گئے تھے۔ چنانچہ اُس نے وہاں کے مسائل کے بارے میں کلیسیا کو خط بھیجنے کا ارادہ کیا۔

مندرجات[ترمیم]

جن مسائل کی وجہ سے یہ خظ لکھا گیا ان مسائل کا تعلق پولس کی رسالت، عشائے ربانی کی بے حرمتی، بتوں کو بھینٹ چڑھائے جانے والے گوشت، مقدمہ بازی، فحاشی، قیامت کے انکار اور شادی بیاہ سے تھا۔پولس نے سوچا کہ اگر اُس نے جلد ہی کوئی اقدام نہ کیا تو کرنتھس کی کلیسیا کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ چنانچہ اُس نے اس خط کے ذریعہ ہر مسئلہ کا باری باری جائزہ لیا اور مسیحی ایمان کی صحیح اور واضح تعلیم کلیسیا کو دی۔ اُس نے اس خط میں محبت کے حقیقی مفہوم کو بھی واضح کیا ہے (باب 13)۔اس خظ سے پولس کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ کرنتھس کی کلیسیا میں پائی جانے والی برائیوں کی نشان دہی کر کے اُنہیں بتائے کہ مسیحی زندگی کیسے بسر کی جاتی ہے، اور محض یہ اعلان کر دینا کہ اب ہم مسیحی ہو گئے ہیں، کافی نہیں بلکہ سچے مسیحیوں کی طرح زندگی گذارنا بھی نہایت ضروری ہے۔ پولس اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ (مسیحی عقیدہ کے مطابق) خداوند مسیح ایمانداروں کی ضرورتوں کو پورا کرنے پر قادر ہے اور انہیں پاک صاف کر دیتا ہے تاکہ خدا کی نظر میں مقبول ہوں۔