کرپس مشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پس منظر[ترمیم]

عالمی سطح پر دوسری جنگ عظیم کے کئی ایک نتائج برآمد ہوئے ۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جنگ کے آغاز پر جب انگریزوں نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کرکے اور ہندوستان کو بالواسطہ طور پر اس میں ملوث کیا تو انگریز کے اس اقدام کے نتیجے میں کانگریسی وزارتیں مستعفی ہوئیں۔

دسمبر 1940ء میں جاپان جرمنی کی طرف سے جنگ میں کود پڑا جس سے جنگ کا نقشہ یکسر تبدیل ہوا۔ جاپان کے پے درپے حملوں اور کامیابیوں سے جنوب مشرقی ایشیاء جاپانیوں کے ہاتھ لگا اور اس کے ایک ماہ بعد رنگون پر بھی جاپانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اب وہ ہندوستان کی سرحدوں پر دستک دینے والے تھے۔ جاپانیوں کے ان پے درپے کامیابیوں نے ہندوستان میں انگریزوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ۔ان کی سلطنت کی بنیادیں متزلزل ہونے لگیں۔ کیونکہ ایک طرف ان کو جاپانیوں کا سامنا تھا تو دوسری طرف ہندوستان کے اندرونی حالات بھی سازگار نہ تھے۔ کانگریسی وزارتیں احتجاجاً مستعفی ہو گئیں تھیں۔ مسلم لیگ نے قرارداد لاہور کے ذریعے اپنے لیے ایک علیحدہ منزل مقصود کا تعین کیا تھا۔ جاپانیوں کا بہاؤ روکنے کے لیے انگریزوں کو ہندوستانیوں کے تعاون اور مدد کی اشد ضرورت تھی۔ اس خیال کے پیش نظر حکومت برطانیہ نے اپنے رویے میں تھوڑی نرمی اور لچک پیدا کردی ۔


کرپس مشن[ترمیم]

مذکورہ حالات کے پیش نظر برطانوی وزیراعظم چرچل نے مارچ 1942ء میں سر سٹیفورڈ کرپس کو ایک اہم مشن پر ہندوستان بھیجا۔ یہ مشن ’’کرپس مشن‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔کرپس مشن نے جو منصوبہ پیش کیا اس کے اہم نکات مندرجہ ذیل تھے۔

1۔ جنگ کے خاتمے پر ایک کمیٹی منتخبہ کو ہندوستان کے لیے نیا آئین نانے کی ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔

2۔ مجوزہ آئین کے مطابق کوئی بھی صوبہ یا صوبے اگر چاہیں تو ہندوستان کی یونین سے الگ ہوسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے ایک علیحدہ حکومت کا قیام عمل میں لاسکتے ہیں۔

3۔ جنگ کے دوران موجودہ آئین میں کوئی بڑی تبدیلی نہ ہوگی اور ہندوستان کی دفاع انگریز حکومت کی ذمہ داری ہوگی ۔ کوشش کی جائے گی کہ ہندوستان کی بڑی بڑی قومیتوں کے زعماء کو ملکی کونسلوں ، دولت مشترکہ اور اقوام متحدہ میں فوری اور مؤثر طریقے سے شرکت دلائی جائے۔


ردعمل[ترمیم]

کانگریس نے کرپس مشن کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اور فوری طور پر ملک میں کانگریس کی خودمختار حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا۔ مسلم لیگ نے بھی کرپس مشن کے منصوبے کو اس جواز پر مسترد کر دیا کہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کے لیے کوئی ٹھوس ضمانت نہیں دی گئی تھی۔

کرپس مشن کی ناکامی کے بعد کانگریس نے ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ کی تحریک کا نعرہ بلند کیا۔ اور ساتھ ہی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا بھی عندیا دیا اس پر برطانوی حکومت مشتعل ہوگئی اور کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں کو پابند سلاسل کردیا۔ جس سے ملکی سیاسی فضا اور بھی مکدر ہوگئی اور پورے برصغیر میں تشدد کے واقعات کا آغاز ہوا۔ مسلم لیگ نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا،کیونکہ بقول قائداعظم اس تحریک کا مقصد نہ صرف انگریزی حکومت کو اس پر مجبور کرنا ہے کہ وہ کانگریس کو اختیارات منتقل کردے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ ہم اپنے لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ کانگریس کے آگے اپنا ہتھیار ڈال دیں۔

یہی وہ وقت تھا جب آل انڈیا مسلم لیگ قائداعظم کی قیادت میں اپنی سیاست کے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ قائداعظم کی سیاست ہند کے اُفق پر عروج کو چھوتی ہے۔ لیگ اور انگریزوں کے درمیان گہری مفاہمت جنم لیتی ہے جس کے نتیجے میں انگریزوں کی سوچ میں مسلمانان ہند کے لیے کافی مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے۔