کرکٹ عالمی کپ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کرکٹ عالمی کپ
منتظم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل
طرز کرکٹ ایک روزہ کرکٹ
پہلا 1975
آخری 2011
طرز ٹورنامنٹ متعدد
مشترکہ ٹیمیں 19
موجودہ فاتح Flag of India.svg بھارت
سب سے کامیاب Flag of Australia.svg آسٹریلیا (4 مرتبہ)
سب سے زیادہ دوڑیں Flag of India.svg بھارت سچن ٹنڈولکر (2278)
سب سے زیادہ وکٹ Flag of Australia.svg آسٹریلیا گلین میگرا (71)

کرکٹ کا عالمی کپ ایک روزہ کرکٹ کا ایک اہم ٹورنامنٹ ہے جو ہر چار سال بعد منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کا اہتمام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کرتی ہے۔ اس کے شروع ہونے سے پہلے آزمائشی ٹورنامنٹ ہوتے ہیں۔ کرکٹ کے عالمی کپ کو کرکٹ کا سب سے اہم ٹورنامنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلا عالمی کپ 1975ء میں برطانیہ میں کھیلا گیا۔ 1973ء سے خواتین کا علیحدہ عالمی کپ کھیلا جاتا ہے۔

عالمی کپ دس ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک اور ICC ٹرافی میں اچھی کارکردگی دکھانے والے ممالک کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ اب تک 10 عالمی کپ کھیلے جا چکے ہیں۔ آخری کپ 2011ء میں بھارت،،سری لنکا اور بنگلہ دیش میں کھیلا گیا۔ آسٹریلیا کی ٹیم سب سے کامیاب ٹیم ہے جو اب تک چار دفعہ فاتح رہ چکی ہے۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت دو دو دفعہ، جبکہ پاکستان،، اور سری لنکا ایک ایک بار کرکٹ کے عالمی کپ کے فاتح رہ چکے ہیں۔

کرکٹ عالمی کپ 2007ء مارچ 2007ء میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا جس میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا۔ فائنل میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو ہرا کر چوتھی بار عالمی کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

تاریخ[ترمیم]

پہلے کرکٹ عالمی کپ سے پہلے[ترمیم]

سب سے پہلا بین الاقوامی کرکٹ میچ امریکہ اور کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان 24 اور 25 ستمبر، 1844ء میں کھیلا گیا۔ لیکن سب سے پہلا ٹیسٹ میچ 1877ء میں آسٹریلیا اور برطانیہ کے درمیان کھیلا گیا۔ کرکٹ کو 1900ء کے المپکس کا حصہ بنایا گیا جس میں برطانیہ نے فرانس کو شکست دے کر سونے کا تمغہ جیتا

سب سے پہلا کرکٹ کا ٹورنامنٹ 1912ء میں منعقد کیا گیا جس میں برطانیہ، آسٹریلیا، اور جنوبی افریقہ نے حصہ لیا۔ لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد میں جوں جوں کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کی تعداد بڑھتی گئی توں توں ٹیسٹ کرکٹ کا معیار بڑھتا گیا اور کرکٹ کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ 1960ء تک اسی طرز کی کرکٹ کھیلی جاتی رہی جس میں ٹیمیں ایک دوسری سے تین، چار یا پانچ دن تک کھیلتے رہتے۔

1962ء میں انگلینڈ نے ایک نئی طرز کی کرکٹ متعارف کرائی جس کو آج ہم ایک روزہ کرکٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ کرکٹ ابتدائی طور پر برطانیہ کی کاؤنٹی کی ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی جو لوگوں میں کا مقبول ہوئی۔ لیکن یہ کرکٹ دوسرے ممالک کے درمیان شروع کافی عرصے بعد کی گئی۔ پھر 1971ء میں برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والا ٹیسٹ میچ کے دوران خراب موسم کی وجہ سے چار دن تک کوئی کھیل نہ ہو سکا۔ دونوں ٹیموں نے چالیس 40 اوور کی ایک ایک اننگز کھیلنے کا فیصلہ کیا جس میں ہر اوور آٹھ گیندوں پر مشتمل تھا۔ جو کافی پسند کیا گیا۔ ایک روزہ کرکٹ کی مقبولیت دیکھتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سب کرکٹ کھیلنے والی ٹیمون کے درمیان مقابلوں کا فیصلہ کیا جو آج کرکٹ کپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پروڈینشل عالمی کپ[ترمیم]

سب سے پہلا عالمی کپ 1975ء میں برطانیہ میں منعقد کیا گیا۔ جو پروڈینشل کپ کے نام سے کھیلا گیا۔ اس میں پہلی مرتبہ سرخ رنگ کی گیند استعمال کی گئی اور پہلی مرتبہ ٹیموں نے سفید رنگ کا لباس پہنا۔ اس میں آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا۔ ان میں برطانیہ، آسٹریلیا، پاکستان، بھارت، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز (اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیمیں) اور سری لنکا اور مشرقی افریقہ کی ٹیمیں شامل تھیں۔

اس میں جنوبی افریقہ کو کھیلنے کی اجازت اپارتھائیڈ کی وجہ سے نہ دی گئی۔ اس میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کو 17 رنز سے شکست دی۔ پہلے عالمی کپ کا فا‎‎ئنل لورڈز کے میدان میں کھیلا گیا۔ ابتدائی تین عالمی کپ برطانیہ میں کھیلے گئے۔

پہلا عالمی کپ[ترمیم]

سات سے اکیس جون 1975 کے درمیان کھیلے گئے پہلے ورلڈ کپ میں آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا تھا جن میں ٹیسٹ سٹیٹس کی حامل چھ ٹیموں ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، آسٹریلیا، بھارت، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے علاوہ سری لنکا اور مشرقی افریقہ شامل تھیں۔اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں کلائیو لائیڈ کی قیادت میں کھیلنے والی ویسٹ انڈین ٹیم نے آسٹریلیا کو سترہ رنز سے شکست دی۔

دوسرا عالمی کپ[ترمیم]

1979 میں کھیلا گیا۔ان مقابلوں کا میزبان ایک مرتبہ پھر انگلینڈ تھا اور اس ٹورنامنٹ میں بھی پہلے ورلڈ کپ کی طرح آٹھ ٹیمیں شریک ہوئیں۔ تاہم آسٹریلیا کی ٹیم اس کے بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل نہیں تھی جبکہ مشرقی افریقہ کی جگہ اس بار کینیڈا کی ٹیم ٹورنامنٹ کا حصہ بنی۔پہلے ورلڈ کی ہی طرح اس ٹورنامنٹ میں بھی میچ کی ہر اننگز ساٹھ اوورز پر مشتمل تھی۔ ان مقابلوں کو شائقین کی عدم دلچسپی اور خراب موسم کا بھی سامنا رہا۔اس بار فائنل میں دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز اور میزبان انگلینڈ کی ٹیمیں مدِ مقابل آئیں اور ویوین رچرڈز کی شاندار سنچری اور جوئیل گارنر کی عمدہ بالنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے بانوے رنز سے میچ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا۔

تیسرا عالمی کپ[ترمیم]

1983 میں کھیلا گیا۔ان مقابلوں میں بھی آٹھ ٹیمیں شریک ہوئیں جن میں نئے نئے ٹیسٹ سٹیٹس کی حامل سری لنکا کے علاوہ آئی سی سی ٹرافی کی فاتح زمبابوے کی ٹیم بھی شامل تھی۔بھارتی ٹیم نے کپل دیو کی قیادت میں اس ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سیمی فائنل میں میزبان انگلینڈ کو ہرانے کے بعد فائنل میں فیورٹ ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ویسٹ انڈیز کے علاوہ کوئی ٹیم یہ عالمی مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

چوتھا عالمی کپ[ترمیم]

سنہ انیس سو ستاسی کا کرکٹ ورلڈ کپ پہلی مرتبہ انگلینڈ سے باہر منعقد کیا گیا اور اس بار میزبانی کا شرف بھارت اور پاکستان کے حصہ میں آیا۔برصغیر میں دن میں روشنی کے اوقات میں کمی کی وجہ سے پہلی مرتبہ اننگز کا دورانیہ ساٹھ اوورز سے کم کر کے پچاس اوورز کر دیا گیا۔ اسی ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ غیر جانبدار امپائر متعارف کروائے گئے۔ٹورنامنٹ کے میزبان ممالک بھارت اور پاکستان مقابلوں کے سیمی فائنل مرحلے تک تو پہنچے مگر وہاں انہیں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے جانے والے فائنل میں آسٹریلیا نے سخت مقابلے کے بعد انگلینڈ کو سات رنز سے شکست دے کر پہلی مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتا۔

پانچواں عالمی کپ[ترمیم]

تفصیلی مضمون کے لئے دیکھیے کرکٹ عالمی کپ 92 پانچواں کرکٹ عالمی کپ 22 فروری سے لیکر 25 مارچ 1992 تک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں پر کھیلا گیا جوکہ پاکستان نے فائنل میں انگلستان کو 22 دوڑ سے ہرا کر جیتا۔ اس ورلڈ کپ میں کل نو ٹیموں نے حصہ لیا اور فائنل ملا کر 39 مقابلے کھیلے گئے۔

چھٹا عالمی کپ[ترمیم]

سنہ انیس سو چھیانوے کے ورلڈ کپ کی میزبانی ایک مرتبہ پھر برصغیر کے حصے میں آئی اور اس مرتبہ ٹورنامنٹ پاکستان، بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر منعقد ہوا۔اس ٹورنامنٹ میں کل بارہ ٹیمیں شریک ہوئیں جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ متحدہ عرب امارات، کینیا اور ہالینڈ کو ان مقابلوں میں شرکت کا موقع ملا۔لاہور میں ہونے والے فائنل میں اروندا ڈسلوا کے 124 گیندوں پر 107 رنز نے آسٹریلیا کے خلاف سری لنکا کو ایک بڑی فتح دلوا دی اور یوں وہ ٹورنامنٹ جیتنے والا پہلا میزبان ملک بن گیا۔

ساتواں عالمی کپ[ترمیم]

1999 میں منعقد ہوا۔س مرتبہ کرکٹ ورلڈ کپ چار برس کے وقفے کی بجائے تین برس کے بعد منعقد ہوا اور اس کی میزبانی سولہ برس بعد ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کے حصے میں آئی۔یہ ٹورنامنٹ راؤنڈ رابن اور ناک آؤٹ سسٹم کے تحت کھیلا گیا اور اس میں ٹیسٹ اور ون ڈے سٹیٹس کی حامل نو ٹیموں کے علاوہ آئی سی سی ٹرافی ٹورنامنٹس کی فاتح بنگلہ دیش، سکاٹ لینڈ اور کینیا کی ٹیمیں شریک ہوئیں۔یہ ٹورنامنٹ اپنے اس سیمی فائنل کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا جب آسٹریلیا کے خلاف میچ میں جنوبی افریقہ کے ایلن ڈونلڈ ایک رن نہ بنا سکے اور رن آؤٹ ہو گئے۔ یہ میچ ٹائی ہوا لیکن آسٹریلیا بہتر ریکارڈ کی وجہ سے فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس نے پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد ہرا کر دوسری بار یہ ٹورنامنٹ جیت لیا۔

آٹھواں عالمی کپ[ترمیم]

2003 میں منعقد ہوا۔نئی صدی کے پہلے اور مجموعی طور پر آٹھویں ورلڈ کپ کی میزبانی مشترکہ طور پر جنوبی افریقہ، زمبابوے اور کینیا کے حصے میں آئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ یہ عالمی مقابلے براعظم افریقہ میں منعقد ہوئے۔نو فروری سے چوبیس مارچ تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں دو گروپس میں تقسیم کی گئی چودہ ٹیمیں شامل تھیں جنہوں نے چوّن میچوں میں حصہ لیا۔ یہ ٹورنامنٹ بھی راؤنڈ رابن اور ناک آؤٹ سسٹم کے تحت کھیلا گیا۔اس ٹورنامنٹ کے دوران انگلینڈ نے زمبابوے میں اور نیوزی لینڈ نے کینیا میں کھیلنے سے انکار کیا۔دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا نے اس ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھائی اور ایک مرتبہ پھر فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں رکی پونٹنگ کے دھواں دار 140 رنز نے انڈیا کو کچل ڈالا اور یوں آسٹریلیا تین مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔

نواں عالمی کپ[ترمیم]

2007 میں منعقد ہوا۔ نویں ورلڈ کپ کا میزبان پہلے دو ورلڈ کپ مقابلوں کا فاتح ویسٹ انڈیز بنا۔ تیرہ مارچ سے اٹھائیس اپریل تک جاری رہنے والے ان مقابلوں میں کل سولہ ٹیمیں شریک ہوئیں جنہیں چار گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ہرگروپ میں سے دو بہترین ٹیموں نے سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنائی اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور سری لنکا کی ٹیمیں سیمی فائنل مرحلے میں پہنچیں۔ماضی میں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل مرحلے سے آگے بڑھنے میں ناکام رہنے والی نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں اس بار بھی اس مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکیں اور 2007 ورلڈ کپ کا فائنل میچ ٹیموں کے لحاظ سے سنہ 1996 کے فائنل کا ری پلے ثابت ہوا۔تاہم اس بار نتیجہ سنہ چھیانوے کے ورلڈ کپ سے الٹ رہا اور آسٹریلیا نے اٹھائیس اپریل کو کنزنگٹن اوول میں کھیلے گئے فائنل میں سری لنکا کو چھ وکٹ سے ہرا کر لگاتار تیسری بار اور مجموعی طور پر چوتھی مرتبہ یہ مقابلے جیت لیے۔

دسواں ورلڈ کپ[ترمیم]

12 فروری 2011 سے 2 اپریل 2011 تک کھیلا گیا۔ اس کی میزبانی پاکستان ، سری لنکا ، ہندوستان، بنگلہ دیش کے حصے میں آئی تھی۔ مگر ناسازگار حالات کی وجہ سے پاکستان میں کھیلے جانے والے میچز ہندوستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں منتقل کر دئیے گئے.ان مقابلوں میں کل چودہ ٹیمیں شریک ہوئیں جنہیں دو گروپ میں تقسیم کیا گیا گروپ اے میں پاکستان ، سری لنکا ،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، زمبابوے، کینیا، کینیڈا اور گروپ بی میں ہندوستان، بنگلہ دیش ، جنوبی افریقہ، انگلینڈ ، ویسٹ انڈیز ، آئر لینڈ ، ہالینڈ نے شرکت کی کہ جن میں سے چار چار ٹیمیں کوارٹر فائنل میں پہنچیں، گروپ اے میں سے پاکستان ، سری لنکا ،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور گروپ بی میں سے ہندوستان، جنوبی افریقہ، انگلینڈ ، ویسٹ انڈیز۔ ان میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے کرسیمی فائنل میں مقام بنایا اور اس کے مقابلے مین ہندوستان نے سابق چیمپین آسٹریلیا کو ہرا کر دوسرے سیمی فائنل کو رونق بخشی، اور پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا نے انگلینڈ کو اور نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر حصہ لیا، پھر پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچی اوردوسرے سیمی فائنل میں ہندوستان نے پاکستان کو ہرا دیا،اس طرح 2011ء کے دسویں عالمی کپ کا فائنل 2/ اپریل کو ممبئی میں سری لنکا اور ہندوستان کے درمیان کھیلا گیا کہ جس میں ہندوستان نے سری لنکا کو چھ وکٹ سے شکست دے اٹھائیس سال بعد دوسری مرتبہ عالمی کپ کا سہرا اپنے سر باندھا۔ اس بار مجموعی طور پر اڑتالیس مقابلے ہوئے

سال میزبان قوم (قومیں) فائنل مقام فائنل
فاتح نتیجہ رنر اپ
1975
تفصیلات
Flag of انگلستان
انگلستان
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ, لندن  ویسٹ انڈیز
291/8 (60 اوورز)
ویسٹ انڈیز 17 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  آسٹریلیا
274 تمام آؤٹ (58.4 اوورز)
1979
تفصیلات
Flag of انگلستان
انگلستان
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ, لندن  ویسٹ انڈیز
286/9 (60 اوورز)
ویسٹ انڈیز 92 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  انگلستان
194 تمام آؤٹ (51 اوورز)
1983
تفصیلات
Flag of انگلستان
انگلستان
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ, لندن  بھارت
183 تمام آؤٹ (54.4 اوورز)
بھارت 43 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  ویسٹ انڈیز
140 تمام آؤٹ (52 اوورز)
1987
تفصیلات
Flag of بھارت Flag of پاکستان
بھارت, پاکستان
ایڈن گارڈنز, کولکاتہ  آسٹریلیا
253/5 (50 اوورز)
آسٹریلیا 7 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  انگلستان
246/8 (50 اوورز)
1992
تفصیلات
Flag of آسٹریلیا Flag of نیوزی لینڈ
آسٹریلیا, نیوزی لینڈ
میلبورن کرکٹ گراؤنڈ, میلبورن  پاکستان
249/6 (50 اوورز)
پاکستان 22 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  انگلستان
227 تمام آؤٹ (49.2 اوورز)
1996
تفصیلات
Flag of بھارت Flag of پاکستان Flag of سری لنکا
بھارت, پاکستان, سری لنکا
قذافی اسٹیڈیم, لاہور  سری لنکا
245/3 (46.2 اوورز)
سری لنکا 7 وکٹوں سے کامیاب اسکورکارڈ  آسٹریلیا
241/7 (50 اوورز)
1999
تفصیلات
Flag of انگلستان
انگلستان
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ, لندن  آسٹریلیا
133/2 (20.1 اوورز)
آسٹریلیا 8 وکٹوں سے کامیاب اسکورکارڈ  پاکستان
132 تمام آؤٹ (39 اوورز)
2003
تفصیلات
Flag of جنوبی افریقہ
جنوبی افریقہ, زمبابوے, کینیا
وانڈررز اسٹیڈیم, جوہانسبرگ  آسٹریلیا
359/2 (50 اوورز)
آسٹریلیا 125 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  بھارت
234 تمام آؤٹ (39.2 اوورز)
2007
تفصیلات
Flag of ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ
ویسٹ انڈیز
کنسنگٹن اوول, برج ٹاؤن  آسٹریلیا
281/4 (38 اوورز)
آسٹریلیا 53 رنز سے کامیاب (ڈک ورتھ لیوس) اسکورکارڈ  سری لنکا
215/8 (36 اوورز)
2011
تفصیلات
Flag of بھارت Flag of بنگلہ دیش Flag of سری لنکا
بھارت, بنگلہ دیش, سری لنکا
وینکاڈے اسٹیڈیم, ممبئی  بھارت
277/4 (48.2 اوورز)
بھارت 6 وکٹوں سے کامیاب اسکورکارڈ  سری لنکا
274/6 (50 اوورز)

ٹیموں کی کارکردگی[ترمیم]

ٹیم 1975 1979 1983 1987 1992 1996 1999 2003 2007 2011 2015 2019 2023
Flag of انگلستان Flag of انگلستان Flag of انگلستان Flag of پاکستان
Flag of بھارت
Flag of آسٹریلیا
Flag of نیوزی لینڈ
Flag of پاکستان
Flag of بھارت
Flag of سری لنکا
Flag of انگلستان Flag of جنوبی افریقہ Flag of ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ Flag of بھارت
Flag of سری لنکا
Flag of بنگلہ دیش
Flag of آسٹریلیا
Flag of نیوزی لینڈ
Flag of انگلستان Flag of بھارت
 آسٹریلیا دوم راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 اول راؤنڈ 1 دوم اول اول اول فائنل کوارٹر اہل
 بنگلہ دیش راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سپر 8 راؤنڈ 1 اہل
 برمودا راؤنڈ 1
 کینیڈا راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
مشرقی افریقہ راؤنڈ 1
 انگلستان سیمی فائنل دوم سیمی فائنل دوم دوم فائنل کوارٹر راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سپر 8 فائنل کوارٹر اہل اہل
 بھارت راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 اول سیمی فائنل راؤنڈ 1 سیمی فائنل سپر 6 دوم راؤنڈ 1 اول اہل
 جمہوریہ آئرلینڈ سپر 8 راؤنڈ 1 اہل
 کینیا راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سیمی فائنل راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
 نمیبیا راؤنڈ 1
 نیدرلینڈز راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
 نیوزی لینڈ سیمی فائنل سیمی فائنل راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سیمی فائنل فائنل کوارٹر سیمی فائنل سپر 6 سیمی فائنل سیمی فائنل اہل
 پاکستان راؤنڈ 1 سیمی فائنل سیمی فائنل سیمی فائنل اول فائنل کوارٹر دوم راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سیمی فائنل اہل
 سکاٹ لینڈ راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
 جنوبی افریقہ سیمی فائنل فائنل کوارٹر سیمی فائنل راؤنڈ 1 سیمی فائنل فائنل کوارٹر اہل
 سری لنکا راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 اول راؤنڈ 1 سیمی فائنل دوم دوم اہل
 متحدہ عرب امارات راؤنڈ 1
 ویسٹ انڈیز اول اول دوم راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سیمی فائنل راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سپر 8 فائنل کوارٹر اہل
 زمبابوے راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سپر 6 سپر 6 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 اہل

اب موجود نہیں

ظہور اول برائے ٹیم[ترمیم]

سال ٹیمیں
1975  آسٹریلیا, مشرقی افریقہ,  انگلستان,  بھارت,  نیوزی لینڈ,  پاکستان,  سری لنکا,  ویسٹ انڈیز
1979  کینیڈا
1983  زمبابوے
1987 کوئی نہیں
1992  جنوبی افریقہ
1996  کینیا,  نیدرلینڈز,  متحدہ عرب امارات
1999  بنگلہ دیش,  سکاٹ لینڈ
2003  نمیبیا
2007  برمودا,  جمہوریہ آئرلینڈ

اب موجود نہیں

انعامات[ترمیم]

مین آف ٹورنامنٹ [1][ترمیم]

سال کھلاڑی کارکردگی کی تفصیلات
1992 Flag of نیوزی لینڈ مارٹن کرو 456 رنز
1996 Flag of سری لنکا سناتھ جے سوریا 221 رنز اور 7 وکٹیں
1999 Flag of جنوبی افریقہ لانس کلوزنر 281 رنز اور 17 وکٹیں
2003 Flag of بھارت سچن ٹنڈولکر 673 رنز اور 2 وکٹیں
2007 Flag of آسٹریلیا گلین میکگرا 26 وکٹیں
2011 Flag of بھارت یوراج سنگھ 362 رنز اور 15 وکٹیں

ورلڈ کپ فائنل میں مین آف دی میچ[ترمیم]

سال کھلاڑی کارکردگی کی تفصیلات
1975 Flag of ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کلائیو لائیڈ 102 رنز
1979 Flag of ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ ویوین رچرڈز 138*
1983 Flag of بھارت موہندر امرناتھ 3/12 اور 26
1987 Flag of آسٹریلیا ڈیوڈ بون 75 رنز
1992 Flag of پاکستان وسیم اکرم 33 اور 3/49
1996 Flag of سری لنکا اورندا ڈی سلوا 107* اور 3/42
1999 Flag of آسٹریلیا شین وارن 4/33
2003 Flag of آسٹریلیا رکی پونٹنگ 140*
2007 Flag of آسٹریلیا ایڈم گلکرسٹ 149
2011 Flag of بھارت مہندر سنگھ دھونی 91*

حوالہ جات[ترمیم]