کشان سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کشان سلطنت

یوچی[ترمیم]

چینی ماخذوں کی رو سے یوچیوں کا وطن شمالی چین تھا۔ 165 ؁ ق م میں وسط اشیاء کے ایک دوسرے قبیلہ ہیونگ نوHinng nu نے یوچیوں پر حملہ کردیا اور انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ یوچی سردار مارا گیا اور فاتح نے اس کی کھوپڑی کو جام شراب کے طور پر استعمال کیا۔ یوچیyuechi ترک وطن کے بعد مغرب کی طرف روانہ ہوئے تو ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ راستہ میں انہوں نے دریائے ایلیEaly کے کنارے دوسون Wn sun قبیلہ کو شکست دی۔ اس فتح کے بعد ان کی ایک شاخ جنوب کی طرف بڑھ گئی اور تبت Tibte کی سرحد پر آباد ہوگئی۔ یہ شاخ جسے تاریخ میں یوچی خورد Yuechi Miner کہلاتی ہے، جبکہ بڑی شاخ یوچی اعظم yuechi The Garet کہلاتی ہے۔ یوچی اعظم مغرب کی جانب بڑھتی چلی گئی، یہاں تک کہ دریائے سیحونOxus کے میدان میں پہنچے اور چند سال کی جنگوں کے بعد انہوں نے سیتھیوں کو مغلوب کرلیا اور انہیں جنوب و مغرب کی طرف ہٹنے پر مجبور کردیا۔ اب ساکاؤں کو نیا وطن اپنا نیا وطن تلاش کرنا پڑا، چنانچہ وہ جنوبی افغانستان کے علاقے میں آگئے۔ اس عرصہ میں دوسون سردار کا لڑکا جوان ہوچکا تھا۔ وہ یوچیوں کے مخالفین یعنی ہیونگ نو کے سرداروں سے مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور دوسون اور ہیونگ نو قبیلے نے مل کر یوچیوں کو اس علاقے سے بھی نکال دیا، جو کہ انہوں نے ساکاؤں سے چھین لیا تھا۔ اب یوچی مجبور ہوکر دریا جہیون کی وادی میں آگئے اور وہاں سے ساکاؤں کو نکال کر بلخ، باختراور سغدیانہ کے علاقے پر قابض ہوکر اس علاقے میں آباد ہو گئے۔ پہلی صدی کے آخر تک یوچی خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے رہے اور پہلی صدی کے آخر میں انہوں نے خانہ بدوشوں کی زندگی ترک کر کے ایک ممتذن قوم کی زندگی بسر کرنے لگے۔ ان کے پانچ قبیلے تھے اور انہوں نے پانچ ریاستوں کی بنیاد رکھی , جن میں ایک قبیلہ کشن یا کشان تھا اور جس کے نام پر ان کی ریاست کا نام بھی کشن یا کشان پڑا۔ یہ تمام معاشرتی اور سیاسی ارتقاء 10 ق م میں مکمل ہوگیا۔

کشان[ترمیم]

اس کی ایک صدی تک یوچی قوم کی سلطنت کی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ لیکن اس قوم کی پانچ ریاستوں میں جو ہندو کش کے شمال میں واقع تھیں منقسم ہوجانے کے بعد کم و بیش سو برس کے بعد کشان کا سردار جو کڈ فائسس اول کے نام سے مشہور ہے۔ اس کام میں کامیاب ہوا کہ اور اپنے ہم قوم و دیگر سرداروں کو اور خود کو تمام یوچی قوم کا سردار اور بادشاہ ہوجائے اس کی صحت کی تاریخ 15ء؁ تقریباً صحت کے ساتھ مقرر کی جاسکتی ہے۔

کڈ فائسس اول[ترمیم]

کشان کا پہلا بادشاہ کیو ٹسیو کیو Kieu Tsieu kio تھا، جو کجلو کڈ فائسس یا کڈ فائسس اولKujulo Kid Pheses or Kad Pheses 1th کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے اپنے مقبوضات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی اور اس نے کی پن (؟ کشمیر؟ کافرستان) اور کابل کے علاقہ پر قبضہ کیا، پھر اس نے اپنی طاقت مستحکم کرنے کے بعد وہ پاتھیوں پر حملہ آور ہوا اس طرح اس کی حکومت ایران سے لے کر دریائے جہلم تک پھیلی ہوئی تھی اس میں صغدانہ اور پورا افغانستان بھی شامل تھا۔ اس کو فتح کابل 20ء؁ کا واقع قردیا جاسکتا ہے۔ یوچی قوم کے آگے بڑھنے سے ہندی یونانی اور ہندی ہندی پارتھی ریاستوں کا خاتمہ اس لازمی نتیجہ تھا ان کی بتدریج مغلوبیت کا اظہار نہایت صراحت کے سے سکوں سے ہوتا ہے۔ پنجاب و وادی سندھ میں ان ریاستوں خاتمہ غالباً کنشک کی قسمت میں لکھا ہوا تھا۔

کڈ فائسس دوم[ترمیم]

خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 50ء؁ ؁ میں کڈفائسس اول نے اسی سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا ین کاؤ چن یا کڈفائسس دوم Yen Kao Chen or Kad Pheses 2ed تخت نشین ہوا۔ یہ بھی باپ کی طرح اولوالعزم جنگجو حکمران تھا۔ اس نے ہندو پاک کے سھتی اور پارتھی حکمرانوں کو زیر کرکے پنجاب وگنگا کے میدان کے کچھ حصہ پر قبضہ کرکے اپنے گورنر مقرر کردئے۔ اس کا دور حکومت 50ء؁ تا 78؁ء تک تھا۔ یہ باور کرنے کی وجہ ہے کہ اس نے پنجاب اور دریائے گنگا کی وادی کے ایک بڑے حصہ کو غالباً بنارس تک قبضہ کرلیا۔ دریائے سندھ کی وادی میں زیریں سندھ کا علاقہ بظاہر بدستور سابق پارتھی سرداروں کے ہاتھ ہی میں رہا۔ برصغیر کے مفتوحہ صوبہ جات پر فوجی نائب السلطنت کے ذریعہ نظم و نسق کیا جاتا تھا اور غالباً انہوں نے ہی وہ مضروب کرائے جن کو ماہرین مسکویات نے گمنام بادشاہ کے سکے کہتے ہیں اور تمام شمالی ہند میں وادی کابل سے لے کر گنگا کے کنارے غازی پور، بنارس اور کاٹھیاوار میں بکثرث اور عام پائے گئے ہیں۔ پہلی صدی کی آخری چوتھائی میں ۳۷ء؁ تا 102ء؁ کے تیس سال کے عرصہ میں چینی جنرل پان چاؤPan Chao فتوحات حاصل کرتا ہوا بحیرہ خزر کے کنارے تک پہنچ گیا اور ختن، کاشغر اور کشن سلطنت کے دوسرے علاقوں پر قبضہ کرلیا اور یہاں تک کے چینی سرحد رومی سرحد سے مل گئی۔ اس کے نتیجے میں اب مغرب کی طرف کا راستہ صحرا میں سے ہوکر چینی فتوحات اور تجارت کے لیے بالکل کھل گیا، بعینہ اسی طرح 94ء؁ میں کچا اور کر شہر کی فتح نے ان کے لیے راستہ بالکل صاف کردیا۔ کڈفائسس دوم یا اس کے جانشین کنشک کو اس کی فتوحات نے ہوشیار کردیا، چنانچہ اس نے اپنا اقتدار قائم کرنے کے لئے یہ مطالبہ کیا کہ ایک چینی شہزادی سے اس کی شادی کردی جائے۔ اس عرض سے اس کا ایک سفیر جنرل پاؤ چن کے پاس گیا۔ چینی جنرل نے اس مطالبعہ کو اپنے آقا کی توہین سمجھا اور سفیر کو قید کرلیا۔ اس پر کشن بادشاہ کڈفائسس دوم نے ایک فوج جس کی تعداد ستر ہزار تھی اپنے ایک سپہ سالار سی sie کے ماتحت چین پر حملہ کرنے کے لئے بھیجی۔ مگر جب یہ فوج کوہستانی سلسلہ تسنگ لنگ یا تالخ ومباش پامیر کے پار روانہ کردیا۔ یہ فوج غالباً دررہ تاشکرغان کے راستے روانہ ہوئی۔ جب سلسلہ کوہستانی غبور کرنے کے بعد کاشغر یا یا رقند کے میدانوں میں اتری تو اس کی حالت خستہ ہوچکی تھی، کیوں کہ اس کو راستہ میں سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لئے باآسانی پان چو کے شکنجہ میں آگئی اور بری طرح برباد ہوگئی۔ اس پر کڈفائسس دوم یا کنشک کو مجبوراََ خراج کے وعدے پر صلح کرنی پڑی اور چین کی حکومت نے کشان حکومت سے خراج وصول کیا۔ چینی تاریخوں میں ایسی چند سفارتوں کا ذکر ہے جو اس زمانے میں خراج لے کر چین آئی تھیں۔

رومی سلطنت سے تعلقات[ترمیم]

مگر کڈفائسس دومKad Pheses 2ed کے رومیوں سے تعلقات بڑھے خوشگوار تھے۔ یوچی فتوحات نے رومی سلطنت اور رومیوں کے درمیان تجارت کا دروازہ کھول دیا۔ کڈفائسس نے صرف تانبے اور چاندی کے سکے مضروب کروائے تھے۔ اس نے کابل کی فتح کے بعد اپنے سکے یا تو آگسٹس کے آخری سنین کے سکوں یا ویسے ہی ٹائبیرس کے سکوں کی نقل میں ڈھلوائے تھے۔ 14ء؁ تا 38ء؁ جب شروع کے زمانے میں قیاصرہ کے مضروبہ سونے کے رومی سکے مشرقی براعظم میں ریشم، مصالح، جوہرات اور رنگوں کی قیمت میں آنے لگے تو کڈ فائسس دوم کو سونے کے سکوں قدر معلوم ہوئی اور اس نے رومی سکہ اوری کی نقل میں بکثرت سکے مضروب کروائے جو وزن میں بالکل اصل کے مطابق تھے اور اسی طرح دھات کے خالص ہونے میں بھی کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ کڈفائسس دوم کی فاتحانہ حکومت کا زمانہ غالباً بہت دراز تھا۔ اس کے متعلق یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ اس نے تنتیس برس 45ء؁ تا 78ء؁ برس تک حکومت کی۔

کنشک[ترمیم]

کڈفائسس دوم کے بعد ۸۷ ء؁ اس خاندان کا سب سے نامور حکمران کنشک Kanshaka کشن یا کشان یا کوشان سلطنت کا بادشاہ ہوا۔ کنشک اپنی فتوحات اوربدھ مت کی سرپرستی کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن افسوس ہے ہمارے پاس اس کے عہد اور کارناموں کے بارے میں محدود معلومات ہیں۔ اس قدر پھر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس نے نہ صرف شمالی ہند و پاکستان کو ہی مکمل فتح کیا، بلکہ پامیر کے پار تک کے علاقے کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا۔ گمان ہوتا ہے وہ فتوحات حاصل کرتے ہوئے سار ناتھ (بنارس) تک چلا گیا تھا، کیوں کہ اس کے قریب اس کے 3 ؁ جلوس کے سکے دستیاب ہوئے ہیں۔ اس نے کشمیر بھی فتح کیا اور عمارتوں کے علاوہ کنشک پورہ شہر تعمیر کرایا۔ روایات کے مطابق وہ حملہ کے دوران میں ہی مشرقی علاقہ سے بزرگ اشواگہوش Asvaghochکو ہمراہ لایا تھا۔ کنشک کا پایہ تخت پرش پور Purshapura موجودہ پشاور تھا۔ یہاں اس نے ایک بڑا مینار جوکہ تیرہ منزلہ تھا اور ایک شاندار خانقاہ تعمیر کروائیں تھیں جو نویں صدی تک بدھ مت کے علوم کے مرکز کی حثیت سے مشہور تھی۔ ان ہندی فتوحات کے علاوہ کنشک کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے پارتھیا پر بھی کامیاب حملہ کیا تھا۔ لیکن اس کے جنگی کارناموں میں سب سے وہ نمایاں حملہ تھا جو اس نے پامیر کے پار کیا گیا تھا اور جس کے بعد اس نے کاشغر، یاقند اور ختن کے صوبوں کا الحاق کرکے اس طرح اس نے اپنے پیش رو کا انتقام لیا تھا۔ کنشک وہاں سے کچھ لوگوں کو یرغمال لایا تھا۔ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور ان کو خانقاؤں میں قیام کرنے کی اجازت دے دی۔ ان لوگوں کے متعلق جو یرغمال کے طور پر لائے گئے تھے ایک عجیب روایت مشہور ہے کہ انہوں نے ایک خزانہ اس عرض سے دفن کیا تھا کہ وہ خانقا کے لئے وقف کے طریقہ پر رہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی راجہ نے اور بعض راہبوں نے خزانہ پر قبضہ کرنے کی کوششیں کیں مگر انہیں کامیابی نہیں ہوئی، لیکن ہونگ سانگ کی موجودگی میں اور اس کے تقدس کی بدولت مزدوروں کو اس کے کھودنے میں کامیابی ہوئی اور انہوں نے ایک برتن نکالا جو سونے اور موتیوں سے بھرا ہوا تھا اور بعد میں اس دولت کو خانقا کی مرمت کے لئے استعمال کیا گیا۔

مذہب[ترمیم]

کنشک کو جو دائمی شہرت ہوئی وہ فتوحات کی بدولت نہیں بلکہ مذہبی خذمات کی وجہ سے حاصل ہوئی تھی۔ بدھ روایات میں کنشک کو اشوک کی طرح بدھ مت قبول کرنے سے پہلے ایک ظالم شخص بتایا گیا ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے عقیدے میں تبدیلی اس خیال سے پیدا ہوئی کہ ہزاروں آدمیوں کا خون اس کی گردن پر ہے، مگر دوسرے ذرائع اس کی تصدیق نہیں کرتے ہیں اور اس روایات سے معتبر بیان ان محققین کا ہے جنہوں نے اس کے مختلف سکوں کا بغور مطالع کیا ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کنشک نے بدھ مذہب قبول کرلیا تھا۔ لیکن اس کے سکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زرتشتی اور یونانی دیوتاؤں کی پوجا بھی کرتا تھا۔ کیوں کے اس کے سکوں پر جو عبادت موجود ہے وہ یونانی زبان میں ہے اور اس کے ساتھ سورج اور چاند دیوتاؤں بھی ہیں۔ ان میں یونانی، ایرانی اور ہندی دیوتا سب ملے جلے ہیں۔ لیکن اس کے کمیاب سکے جو بدھ کی مورتی کے ساتھ یونانی زبان میں لکھا گیا ہے، غالباََ آخری دور کے ہیں اور عمدہ بنے ہوئے ہیں شاید اس تاریخ سے پہلے کے نہیں ہیں جو عام طور پر اس کے اجزاء کی سمجھی جاتی ہے۔ قابل ذکر یہ بات ہے کہ کنشک کا مذہب مہایان Mahayana بدھ مت تھا۔ مہایانا میں بدھ کے ساتھ مختلف دیوتا بھی شامل ہیں۔ ان میں وہ دیوتا بھی شامل ہیں جن کے کان ایمان رکھنے والوں کی دعا سنتے ہیں اور جن کے ماتحت بہت بدھستواؤں اور دوسرے کارکنوں کا ایک سلسلہ ہے، جو ان کے اور گنہگاروں کے درمیان ایک واسطہ ہے۔ اس فرقہ میں بتوں کی پرستش بہت سی مفصل رسوم اور بذریعہ ایمان نجات پانے والوں کا عقیدہ بھی شامل ہے۔ ان روایات میں جو چینی اور تبتی تصانیف میں محفوط ہیں کہ مطابق اشوک کی طرح کنشک نے بدھوں کی ایک کونسل طلب کی اس کونسل بلانے کا مقصد یہ تھا کہ بدھ مذہب کے اختلافات کو ختم کیاجائے اور بدھ مت کے صحیح مطالب بیان کئے جائیں۔ کیوں کہ کنشک بدھ مت کے مختلف فرقوں کے اختلافات کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ چنانچہ کنشک کشمیر میں بدھ مت کے پیشواؤں کی مجلس منعقد کی۔ اس مجلس کا صدر واسومتر Vasumitra اور نائب صدر مشہور مصنف آسو گھوش Asvaghoch تھا۔ اس مجلس میں اختلافات دور کرنے کی کوشش کی گئی نیز کنشک کے ایما پر اس مجلس نے قدیم ترین مذہبی علوم کی کتابوں سے لے کر اس دور کی حاضر کتب کی چھان بین کی گئی اور گوتم بدھ کی تعلیمات پر صخیم تفسیریں تانبے کی چادروں پر کندہ کرا کے ایک خاص اسٹوپا جو اسی عرض سے تعمیر کیا گیا تھا اس میں محفوظ کی گئیں۔ کنشک کی موت کے متعلق ایک روایت میں کہا گیا ہے، کہ اس کے خود آدمی اس کی جنگجویانا پالیسی سے اس قدر دل برداشتہ ہوگئے تھے، کہ تنگ آ کر خود انہوں نے ہی اسے قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کنشک نے ۵۴ سال حکومت کی تھی اور یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ اس کی زندگی کا خاتمہ 123ء؁

ہوشک[ترمیم]

کنشک Kanshaka کے دو بیٹے واسشک Vasishka اور ہوشک Huvishka غالباََ اپنے باپ کی زندگی میں شمالی صوبوں کے گورنر تھے۔ واسشک کے نام کے سکہ نہیں ملتے ہیں، اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے باپ کی زندگی میں مرگیا تھا۔ کنشک کا جانشین اس کا دوسرا بیٹا ہوشک ہوا تھا۔ یہ امر یقینی ہے ہوشک کی سلطنت میں کشمیر اور متھرا شامل تھے۔ اس طرح اسے یونانی، ہندی اور ایرانی دیوتاؤں کا یکساں شوق تھا۔ ہوشک کے سکوں کی مورتوں میں میں ہر کلیس، سراپس (سراپو) سکندر مع اپنے بیٹے وساکھ، آگ کا دیوتا فیرو اور بہت سی تصویریں پائی جاتی ہیں۔ مگر بدھ کی مورت اور نام دونوں ان میں ندارد ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے ہوشک بادشاہ بدھ مت میں بہت کچھ راسخ الاعتقاد نہ تھا اور غالباً اس میں صداقت سے دور نہیں ہوگا کہ شاہی انعام و اکرام مذہب کے علاوہ ان کی زبر دست طاقتور خانقاؤں کو دیے جاتے تھے۔ اصل میں کوئی دور اندیش بادشاہ اس زمانے میں اتنی مجال نہیں رکھتا تھا کہ ان طاقت ور اور با اثر اور خانقاہوں کو نذر اندز کردے جس کی شاخیں سلطنت کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی تھیں۔ ہوشک نے ایک شہر ہشک پور بسایا۔ یہ شہر عین درہ بارہ مولا کے جو اس زمانے میں وادی کا مغربی دروازہ ہونے کی وجہ سے ایک خاص اہمیت رکھتا تھا اور صدیوں تک مشہور و معروف رہا۔ 631ء؁ میں ہیونگ سانگ کشمیر گیا تو کچھ چند روز تک ہشکپور کی خانقاہ میں ٹہرا، خانقاہ والوں نے اس کی مہمان نوازی کا پورا پورا حق ادا کیا اور وہاں سے اس کو عزت و احترام سے دارلسطنت پہنچایا گیا کہ پانچ ہزار بھکشو اس کے ہم رکاب تھے۔ ہشکپور کے مقام پر آج کل ایک چھوٹا سا گاؤں اشکور آباد ہے۔ جہاں ایک قدیم استوپ کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہوشک کا عرصہ حکومت زیادہ تھا۔ مگر اس کے عہد کے تمام سیاسی واقعات بالکل فراموش ہوگئے ہیں۔ اس کے کثیر تعداد سکے کنشک سے بھی زیادہ نوعیت کے ہیں اور اسی کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس زمانے میں فن سنگتراشی کی طرح ان میں بھی یونانی خیالات کا اثر برابر پایا جاتا ہے۔ چند سونے کے سکوں پر باشاہ کی نہایت عمدہ تصویر ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے ایک مسقل مزاج آدمی مگر بھدے نقوش کا آدمی تھا۔ جس کی آنکھیں اندر دھسی ہوئی تھیں اور لمبی سی ناک تھی۔ جہاں تک پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں کشان سلطنت میں کسی قسم کا رخنہ یا کمی نہیں ہوئی تھی۔ اس کی حکومت کے متعلق فرض کیا جاتا ہے کہ140۱ء؁ میں یا اس کے قریب ختم ہوئی تھی۔

باسودیو اول[ترمیم]

ہوشک کے بعد واسیودیو Vasudivaکا نام ملتا ہے، جو اس کا جانشین بتایا جاتا ہے۔ چونکہ اس کا نام خالص ہندی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کس قدر اجنبی حملہ آور اپنے گرد و پیش کے حالات سے متاثر ہوئے تھے۔ اس کے سکے بھی اس کی شہادت دیتے ہیں۔ چنانچہ تقریباً ان سب کی پشت پر شیو Shiva کی تصویر مع اس کے بیل نندی، ترشول اور ہندی بتوں کی دیگر علامتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ باسودیو کے کتبات جو اکثر متھرا میں ملتے ہیں 74 تا 98 کے بین بین ہیں یعنی اس سن کے جو کہ خاندان کشان کے زمانے میں مروج تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حکومت کا عرصہ کم و بیش پچیس برس کا تھا۔ ہم یہ فرض کرسکتے ہیں کہ اس کی حکومت کا خاتمہ 178؁ کے لگ بھگ ہوا ہے۔

ذوال[ترمیم]

باسودیو اول کی طولانی مدت حکومت کے اواخر میں سلطنت کشان پر ضرور ذوال آنا شروع ہوگیا ہوگا۔ بظاہر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے خاتمہ کے قریب یا فوراً اس کے بعد کنشک کی سلطنت بھی ایشیا کی دوسری سلطنتوں کے قانون زوال و انحطاط سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے سکی اور مختصر سے زمانے اتحاد و اتفاق کے بعد اس کے بھی پرخچے اڑا گئے۔ بادسیوں کے مرنے کے بعد ایک عرصہ کے بعد تک اس کے نام کے سکے مضروب ہوتے رہے۔ آخر کار ان میں بادشاہ کو ایرانی لباس پہنے ہوئے دیکھایا گیا ہے اور یہ صریحاً معلوم ہوتا ہے کہ ان میں شاہ پور اول ساسانی کی جس نے ایران پر 269ء؁ تا 138ء؁ تک حکومت کی تصویر کی نقل اتارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سکوں کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے ایران کا اثر پھر ہندوستان میں اندرون ملک پر پڑنا شروع ہوگیا تھا۔ لیکن جن ذرائع و وسال سے یہ اثر یہاں تک پہنچا ان کے متعلق کوئی بات یقینی طور معلوم نہیں۔ یہ بات معلوم ہے 277ء؁ تا 294ء؁ کے دوراب بہرام دوم نے سیستان میں لشکر کشی کی تھی۔ مگر تیسری صدی عیسویں میں ساسانیوں کے برصغیر پر کسی حملے کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ کیوں کہ اس زمانے میں تمام تاریخی ماخذ کے معمولی ماخذ منبعے بالکل خشک ہوچکے تھے۔ کوئی ایسا کتبہ ایسا دریافت نہیں ہوا جس کو اس زمانے کا کہا جاسکے اور سکے بھی جو مقامی باشندوں نے مضروب کرائے تاریخی طور پر روشنی نہیں ڈالتے ہیں۔ بہر حال یہ یقینی ہے کہ برصغیر دو زبردست اور عایشان خاندان یعنی کشان شمال میں اور اندھر دکن کے سطح مرقع ہیں ایران کے اشکانی خاندان کے ساتھ جس کی جگہ ساسانی قائم ہوگئے۔ ایک ہی وقت میں (266ء؁) میں برباد ہوئے۔ یہ بات دیکھتے ہوئے یہ اس خیال کو دل سے دور کرنا ناممکن ہے کہ کسی نہ کسی طریقے ان تینوں واقعات کا تعلق ایک دوسرے سے تھا اور شمالی ہند کے خاندان کشان کے سکوں پر جو اثر پایا جاتا ہے اس کی وجہ کوئی نہ کوئی ایرانی حملہ ہوگا جس کی خبر ہم تک نہیں پہنچی۔ مگر اس خیال کی تعائید کے لیے کوئی ثبوت بلا واسطہ نہیں ملتا ہے اور یہ حملہ ہوا بھی ہوگا تو وہ ان قزاق اور لیٹری اقوام کی طرف سے سیستان ہوا ہوگا۔جو ایران کے زیر اثر تھیں اور باقیدہ حملہ ایران نے برصغیر پر نہ ہوگا۔

  • == بیرونی حملہ ==

یہ بات یقینی ہے کہ شاہان کشان میں سے باسودیو آخری بادشاہ تھا جو برصغیر کے وسیع علاقے پر حکمران تھا۔ اس کی وفات کے بعد شمالی ہند میں کسی اعلیٰ حکومت کا کوئی وجود کا کوئی پتہ یا نشان نہیں ملتا ہے۔ غالباً جس طرح ایشائی سلطنتوں کی بربادی کے وقت بالعموم ہوا کرتا ہے کہ بے شمار چھوٹے چھوٹے راجوڑے خود مختیار ہوگئے اور بہت سی چند روزہ ریاستیں قائم کرلیں۔ لیکن تیسری صدی عیسوی کی تاریخ کے لیے مواد اس درجہ ناپید ہے کہ یہ بتانا ناممکن ہے کہ یہ ریاستیں کیسی تھیں اور تعداد میں کتنی تھین۔ باظاہر یہ تمام زمانہ پراز فتنہ و فساد تھا۔ جس میں شمال و مغرب سے بیرونی حملوں کی یاد باقی تھی اور جس کا اظہار پرانوں کے پریشان آمیز بیانات متعلقہ آبھیر، گرو بھل، سک، یون یا بالیک اور دوسرے اجنبی ناموں سے ہوتا ہے۔ جو خاندان اندھر کے جانشین ہوئے۔ مذکور بالا تمام خاندان صریحاً بڑی حد تک ایک دوسرے کے ہم عصر تھے نہ ایک دوسرے کے بعد برسر ھکومت ہوئے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی سلطنت اعلیٰ کا مستحق نہ تھا۔ اس پرفتن زمانے کے حالات جو پرانوں میں پائے جاتے ہیں، ترتیب و تہذیب بظاہر بالکل امکان سے باہر ہے

کابل و پنجاب کے شاہان کشان[ترمیم]

سکوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاندان کشان نے پنجاب و کابل پر ایک عرصہ تک اپنا سکہ جمائے رکھا تھا۔ یہ امر یقینی ہے کہ کابل کے شاہان کشان پانچویں صدی عیسوی تک جب کہ سفید ہنوں نے بالآخر ان کو مغلوب کیا خاصے طاقت ور تھے۔ چوتھی صدی عیسوی کے اوائل میں ان کے ایک بادشاہ نے اپنی بیٹی شاہ ایران ہرمز دوم سے بیاہی گئی تھی اور 360ء؁ میں جب شاہ پور دوم نے آمدہ کے مقام کا محاصرہ کیا تو رومی محصور پر اس کو ہندی ہاتھیوں اور سلطنت کشان کی فوج کی بدولت جو اس کے بڈھے بادشاہ گرمبٹیس کے زیر کمان تھی نصیب ہوئی۔ یہ گرمبٹیس وہ تھا جسے فوج میں سب سے زیادہ عزت دی جاتی تھی اور مدد کے لیے سیستان کے سک بھی موجود تھے۔

ماتحت سردار[ترمیم]

اس بات کا فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ تیسری صدی عیسوی کے دوران میں جو بیرونی سردار پنجاب میں حکمران تھے اور جو ٹھوری بہت تعریف کے ساتھ بادسودیو اول کے سے سکے مضروب کرائے تھے کہاں تک کشان سے تعلق رکھتے تھے اور کہاں تک وہ دیگر ایشیائی اقوام سے تھے۔ اس قسم کے تمام سکوں میں عبارتوں میں جو ذرا تبدیل شدہ یونانی طرز تعمیر میں لکھی ہوئی ہیں۔ کنشک بادسو (دیو) کشان شہنشاہ کا نام تو محفوظ ہے۔ مگر ہندی حروف میں جو نام لکھا ہوا ہے، وہ چینی الفاظ کی طرح ایک ہی حرکت کا لفظ ہے۔ مثلاً بھ ک وی وغیرہ۔ گمان غالب ہے کہ یہ وسط ایشیا کے مختلف اقوام کے سرداروں کے نام ہیں۔ جنہوں نے برصغیر پر حملہ کیا اور کشان یا کابل کے شاہی فرمان رواؤں کو اپنا حاکم اعلیٰ ہونا قبول کرلیا۔ ایک سکے پر ایک رخ کشان سکوں سے ذرا تبدیل شدہ ہے اور جس پر برصغیر کے براہمی حروف میں پاسن نُ شیلد کے نام پائے جاتے ہیں۔ اس کی دوسری طرف آگ کی قربان گاہ کی ایسی تصویر ہے جو قدیم ترین ساسانی بادشاہوں کے سکوں پر پائی جاتی ہے۔ اس طرح یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح تیسری صدی میں پنجاب کا براہ راست تعلق ایران سے قائم ہوگیا تھا۔ یہ بات یقینی ہے کہ کشان بادشاہوں کے سکے صریحاً ساسانی سکوں سے تعلق رکھتے تھے۔ تیسری صدی اور چوتھی صدی عیسوی کے اوئل میں کشان اور اندھر خاندانوں کے نیست و نابود کے قریب جتنا زمانہ گزرا وہ تاریخ ہند کا تاریک زمانہ ہے۔ پروفیسر مقبول بیگ درخشانی تاریخ ایران جلد اول میں لکھتے ہیں، ساسانیوں کے دور میں صوبہ خراسان کا حکمران ہمیشہ کوئی شہزادہ ہوتا تھا اور وہ شاہ کوشان کہلاتا تھا۔.مثلاََ شاپور اول کے بھائی پیروزPeiruz نے اپنا لقب کوشان بزرگElder of Kashan رکھا تھا، جب کہ اس کے بیٹے ھرمز کو شہنشاہ نے کوشان بزرگ کا خطاب دیا تھا، بہرام دوم کے زمانے میں اس کا بھائی ھرمز حکمران مقرر ہوا، اس نے بغاوت کردی تھی اور ساکا اقوام اور دوسرے قبائل کی مدد سے مشرق میں ایک آزاد سلطنت قائم کر نے کی کوشش کی تھی، جس کو بہرام دوم نے ناکام بنادیا۔

یوچی خوردYuechi Miner[ترمیم]

چوتھی صدی کی نصف دھائی کے بعد یوچیوں کی وہ شاخ جو تبت میں آباد ہوگئی تھی، ان پر مشرق کی جانب سے منگولی ترکوں نے حملے شروع کردیئے اور انہیں تبت سے نکل نے پر مجبور کردیا۔ چنانچہ وہ باختریہ آگئے۔ ان کے ساتھ ان کی ہی نسل سے تعلق رکھنے والے دوسرے قبائل کی جمیت بھی تھی جن میں ہن بھی شامل تھے۔ اگرچہ شاپور رومیوں کے مقابلے پر سرپیکار تھا، تاہم وہ لشکر لے کر ان قبائل کے مقابلے پر آیا مگر صلح پر مجبور ہوگیا اور نہیں باختریہ میں اس شرط پر آباد ہونے کی اجازت دی کہ وہ رومیوں کے مقابلے میں مدد دیں گے۔ یوچی خورد کے بادشاہ کیدار Kidaraنے جلد ہی فتوحات کے دائرہ کو کوہستان ہندو کش کے جنوب تک بڑھا کر کابل، غزنین، سوات و پشاور کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ بعد ازاں کیدار نے آزادی کا حق منوانے کی کوشش کی، تو جلد ہی ایرانی فرمانروا شاپور سے جنگ کی نوبت آگئی اور ہوا بھی یہی کیدار اور شاپور سے تصادم میں دوسرے ہم نسلی قبائل نے شاپور کا ساتھ دیا اور کیدار مملکت چھن گئی اور وہ مارا گیا۔

ماخذات[ترمیم]

  • افغان۔ معارف اسلامیہ
  • ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی
  • ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم
  • ویسنٹ اے سمتھ۔ قدیم تاریخ ہند
  • پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول