کشمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ریاست کشمیر کے دیگر علاقوں کے لئے دیکھئے کشمیر (ضد ابہام)

کشمیر، سبز علاقہ پاکستان کے زیر انتظام ہے، نارنجی بھارت کے انتظام میں ہے جبکہ اسکائی چن پر چین کا کنٹرول ہے

کشمیر برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر کشمیر وہ وادی ہے جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہے۔

آجکل کشمیر کافی بڑے علاقے کو سمجھا جاتا ہے جس میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ بھی شامل ہے۔ ریاست کشمیر میں آزاد کشمیر کے علاقے پونچھ، مظفرآباد، جموں کے علاوہ گلگت اور بلتستان کے علاقے بھی شامل ہیں۔گلگت اور بلتستان پر 1848 میں کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے قبضہ کیا تھا۔ اس سے پہلے یہ آزاد ریاستیں تھیں۔ پاکستان بنتے وقت یہ علاقے کشمیر میں شامل تھے۔ وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے۔ یہ اپنے قدرتی حسن کے باعث زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے۔

اس وقت خطہ تنازعات کے باعث تین ممالک میں تقسیم ہے جس میں پاکستان شمال مغربی علاقے (شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیربھارت وسطی اور مغربی علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ)، اور چین شمال مشرقی علاقوں (اسکائی چن اور بالائے قراقرم علاقہ) کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ بھارت سیاچن گلیشیئر سمیت تمام بلند پہاڑوں پر جبکہ پاکستان نسبتا کم اونچے پہاڑوں پر قابض ہیں۔

بھارتی کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کی خوبصورت ڈل جھیل

کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے۔ پاکستان پورے خطہ کشمیر کو متنازعہ سمجھتا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور یہ متنازعہ علاقہ نہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں جس کے با‏عث مسئلہ کشمیر دنیا کے خطرناک ترین علاقائی تنازعات میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ شامل ہیں۔

بھارت اس وقت خطہ کشمیر کے سب سے زیادہ حصے یعنی 101،387 مربع کلومیٹر پر جبکہ پاکستان 85،846 اور چین 37،555 مربع کلومیٹر پر قابض ہیں۔

آزاد کشمیر کا 13،350 مربع کلومیٹر (5134 مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کا رقبہ 72،496 مربع کلومیٹر (27،991 مربع میل ) ہے جو گلگت اور بلتستان پر مشتمل ہے۔ تقسیم ہند سے قبل بلتستان صوبہ لداخ کا حصہ تھا اور اس کا دارالحکومت اسکردو لداخ کا سرمائی دارالحکومت تھا۔

اسلام[ترمیم]

کشمیر میں اسلام چودھویں صدی کے شروع میںترکستانسے صوفی بلبل شاہ قلندراور انکے ایک ہزار مریدوں کے ساتھ پہنچا۔ بودھ راجہ رنچن نے دینی افکار سے متاثر ہو کر بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔یوں راجہ رنچنسلطان صدر الدین کے نام سے کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران بنا۔بعد ازاں ایک ایرانی صوفیمیر سید علی ہمدانی سات سو مبلغوں ، ہنرمندوں اور فن کاروں کی جماعت لے کر کشمیر پہنچے اور اس ثقافت کا جنم ہوا جس نے جدید کشمیر کو شناخت مہیا کی۔ اسی دور میںشمس الدین عراقی اور انکے پیروکاروں نے کشمیر میں قدم رکھا۔ انہوں نے چک خاندانکی مدد سے ہزاروں ہندوؤں کو شیعہ اسلام میں داخل کیاآزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی 99 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ بلتستان میں اکثریت شیعہ جبکہ گلگت میں اکثریت اسماعیلیوں کی ہے۔ آزاد کشمیر میں اکثریت سنی مسلم ہے۔

چین کے زیر انتظام حصے میں اسکائی چن 37،555 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

بھارت کے زير انتظام کشمیر میں بھارتی ذرائع کے مطابق 70 فیصد آبادی مسلمان ہے (2001ء)۔ بقیہ آبادی بدھ، ہندو،سکھ اور دیگر پر مشتمل ہے۔

زیر انتظام علاقہ جات آبادی  % مسلمان  % ہندو  % بدھ  % دیگر
پاکستان شمالی علاقہ جات ~0.9 ملین 99%
آزاد کشمیر ~2.6 ملین 99%
بھارت جموں ~3 ملین 30% 66% 4%
لداخ ~0.25 ملین 49% 50% 1%
وادی کشمیر ~4 ملین 95% 4%
چین اسکائی چن
اعداد و شمار از بی بی سی In Depth رپورٹ

بیرونی روابط[ترمیم]

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔