کلیسائے انگلستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(کلیساۓ انگلستان سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کلیسائے انگلستان
Church of England
The Church of England badge is copyright  The Archbishops' Council, 2000.
سپریم گورنر ایلزبتھ دوم
پرائمیٹ جسٹن ویلبی, ارچ بشپ اف کنٹربری
ہیڈکوارٹر چرچ ہاؤس
گریٹ سمتھ سٹریٹ
لندن SW1P 3AZ
برطانیہ
علاقہ انگلستان
آئل آف مین · رودبار جزائر
جبل الطارق ·
کانٹنےنٹل یورپ
اراکین 27 ملین بپتسما ارکان[1]
موقع حبالہ کلیسائے انگلستان

کلیساۓ انگلستان، (انگریزی :Church Of England) انگریز عیسائیوں کا موجودہ مذہبی نظام ہے۔ انگریزی کلیسا بھی پہلے پاپائے روم کے ساتھ ملحق تھا۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ عیسائی مذہب انگلستان میں روممن حکومت کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے 597ء میں مقدس آگسٹین نے انگریزوں کو عیسائی مذہب سے روشناس کرایا۔ اور کینٹر بری ’’کینٹ‘‘ کو اپنا مرکز بنایا۔ اوائل میں مقدس آگسٹین کی جماعت بھی کلیسائے روم کا ایک جزو تھی۔ لیکن صحیح معنوں میں انگریزی چرچ نارمن فتح کے بعد یورپ کے انتظامی اقتدار کے تحت آیا۔ تاہم یہ جماعت مکمل طور پر کسی وقت بھی پوپ کے ماتحت نہ آئی اور اس کا نام کیتھولک چرچ آف انگلینڈ ہی رہا۔

پروتستان اصلاحات کے دوران ہنری ہشتم نے پوپ کے جوئے کو مکمل طور پر اتار پھینکا اور شاہ انگلستان امیر جماعت و محافظ دین قرار پایا۔ یہ جماعت اب حسب ضابطہ انگلستان کی شاہی مذہبی جماعت ہے اور ملک کا ایک اہم محکمہ بنی ہوئی ہے۔ اس جماعت کے بشپ یعنی لاٹ پادری اپنے عہدے کی بنا پر برطانوی پارلیمنٹ کے دارالامراء کے ممبر ہوتے ہیں اور قانون سازی کے موقع پر مزاحم ہوسکتے ہیں۔ اڈورڈ ہشتم کی تخت سے دستبرداری میں اسی طبقے کا ہاتھ تھا۔

سولہویں صدی عیسوی میں مذہبی آزادی کا اصول تسلیم کر لیا گیا اور ہر مذہب و ملت کے لوگ انگلستان میں بلا خوف و خطر زندگی بسر کرنے لگے۔ مگر انگلستان کے دو تہائی نوزائیدہ بچے چرچ آف انگلینڈ ہی کے گرچوں میں جاکر ’’بپتسمہ‘‘ لیتے ہیں۔

کینٹر بری کا آرچ بشپ کال نظام کا سردار ہے۔ اس کے انتظامیہ عہدے کا نام پرائمیٹ ہے۔ اس کے ماتحت انگلینڈ ، ویلز اور آئرلینڈ ہے۔ ہر صوبے کا علیحدہ علیحدہ سالانہ کنونشن یا جلسہ ہوتا ہے۔ اس میں عقیدے کے مطابق تمام امور فیصلہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک چرچ اسمبلی ہے ، جس میں پادریوں کے علاوہ دیگر ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ صرف انتظامی امور کے لیے منعقد ہوتی ہے۔ اس اسمبلی کے وضع کردہ قوانین پارلیمنٹ میں جاتے ہیں۔، جو ان کو رد کر سکتی ہے۔ لیکن ان میں ترمیم نہیں کر سکتی اور اگر منظور کرے تو شاہی مہر لگ کر دیگر قوانین کی طرح نافذ العمل ہوتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]