کمپیوٹر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
  • اسی موضوع پر مقالۂ دیکھیے بنام کمپیوٹر۔
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)

ادارۂ فروغِ قومی زبان آن لائن قومی انگریزی اُردو لُغت کے مطابق کمپیوٹر کی تعریف یوں ہے۔

کمپیوٹر؛ شمارندہ:ایک برقیاتی آلہ جو حساب کے سوال اور پیچیدہ شماریاتی مسئلے، مقررہ اور پروگرامی ہدایات کے مطابق آسانی سے حل کر لیتا ہے، پھر ان حسابات کے نتائج یا تو ظاہر کر دیتا ہے یا اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے؛ حساب کار؛ وہ جو حساب لگائے؛ شمار کرنے والا؛ تخمینہ کرنے والا؛ گنتی کرنے والا؛ کیلکولیٹر۔

عام بول چال اور تحریر میں اسے کمپیوٹر ہی لکھا اور بولا جاتاہے۔
اسے (عربی: كمبيوتر اور حاسوب ، فارسی:کامپیوتر اور رایانہ، فرانسیسی: Ordinateur، انگریزی: computer، سونسکا: Dator ) کہا جاتاہے۔ یہ ایک برقیاتی آلہ ہے جو حساب کے سوال اور پیچیدہ شماریاتی مسئلے، مقررہ اور پروگرامی یعنی مہیا کی گئی ہدایات کے مطابق آسانی سے حل کر لیتا ہے، پھر ان حسابات کے نتائج یا تو ظاہر کر دیتا ہے یا اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے۔آج کی زندگی میں کمپیوٹر کی حیثیت عمومی مقاصد میں استعمال ہونے والے ایک ایسے پرزہ (tool) کی ہے جو کہ بنیادی طور پر ایک خورد عامل (microprocessor) پر انحصار کرتا ہے۔ یہاں عمومی مقاصد سے مراد کمپیوٹر کے شعبہ زندگی کے مختلف آلات میں استعمال سے ہے ، کیونکہ آج کمپیوٹر نہ صرف ایک ذاتی شمارندہ (PC) میں بلکہ گھریلو بجلی کے آلات اور صنعتی اور دفتری مقامات سمیت ہر جگہ پاۓ جانے والے آلات میں کسی نہ کسی طور پر موجود ہوتا ہے۔

اردو ترجمہ

لغات کے مطابق کمپیوٹر کا اردو ترجمہ شمارندہ اور حساب کار ہے۔

تعارف

کمپیوٹر یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب کمپیوٹ کرنا یا حساب کرنا ہوتا ہے۔ ماضی میں اس لفظ کو حسابگر (Calculator) کیلیۓ بھی استعمال کیا جاتا تھا لیکن حالیہ دور میں یہ اصطلاح ایک ایسے آلہ (Machine) کیلیۓ اختیار کی جاتی ہے جو معلومات کو اپنے اندر داخل کرنے کے بعد، ایک مقرر شدہ حکمت عملی کے مطابق انکا تجزیہ کرسکتا ہو۔ یعنی اسکا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوا کہ عموماً کمپیوٹر بذاتِ خود كچھ نہیں كرسكتا، بلكہ اسے بتانا اور سمجھانا پڑتا ہے كہ وہ ہماری بہم پہنچائی گئی معلومات اور ہدایات پر كیا اور كیسے كام كرے۔

کمپیوٹر ہماری جانب سے بہم پہنچائی گئی معلومات کو اکھٹا کرتا ہے، انہیں ذخیرہ کرتا ہے اور آپس میں مربوط و ہم بستہ (correlate) کرتا ہے ۔ حسابگر اور کمپیوٹر میں اہم ترین فرق یہ ہے کہ کمپیوٹر پیچیدہ کمپیوٹر پروگرام کو اپنے اندر ذخیرہ کرسکتا ہے اور اسی خصوصیت کے باعث انسان کی مدد کے بغیر منطقی تجزیات (logical analysis) انجام دینے کی اہلیت کا حامل ہوتا ہے۔

آغوشیہ (laptop) کمپیوٹر وں نے کمپیوٹروں کے مانیٹر ، کی بورڈ اور کیس کے تصور کو یکسر بدل دیا ہے۔

اگر اوپر کے بیان کو مختصر بیان کرکہ لب لباب پیش کرنے کی کوشش کی جاۓ تو کمپیوٹر کی دو اہم خصوصیات یوں بیان کی جاسکتی ہیں کہ

مثالی کمپیوٹر کے اجزاء

ایک مثالی کمپیوٹر میں بہت سے اجزاء ہوتے ہیں اور انکو مختلف انداز میں ترتیب دے کر مطالعہ کیا جاسکتا ہے، مثلاً ساخت کے لحاظ سے اور افعال کے لحاظ سے ، دو ایسے طریقۂ مطالعہ ہیں کہ جن کی مدد سے ایک نۓ شخص کیلیۓ کمپیوٹر کی ساخت و فعل کا ایک خاصا بہتر خاکہ ذہن میں آسکتا ہے لہذا یہ دونوں ترتیب ذیل میں دی جارہی ہیں۔

ساخت کے لحاظ سے

ظاہری ساخت کے لحاظ سے جو اجزاء ایک کمپیوٹر میں ہوتے ہیں انکو بھی پھر دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جو اندرونی میں شمار ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو کہ بیرونی شمار کیۓ جاتے ہیں۔

بیرونی اجزاء

  1. کمپیوٹر ڈسپلے ، یہ ٹیلی وژن نما حصہ ہے جو کہ monitor بھی کہلاتا ہے (شکل ا: 1)
  2. صندوقچہ (case) ، جو کہ مانیٹر کے ساتھ ایک چھوٹے ڈبے یا صندوق کی شکل میں لیٹا یا ایستادہ ہوتا ہے
  3. کلیدی تختہ (keyboard) جو کہ کمپیوٹر میں اطلاعات کو داخل (input) کرنے کے لیۓ استعمال کیا جاتا ہے (شکل ا: 9)
  4. فارہ (mouse) یہ ایک چھوٹی سی اختراع ہے جو کہ کمپیوٹر کے ساتھ تفاعل یا انٹرایکشن کے لیۓ کام میں لائی جاتی ہے (شکل ا: 10)

اندرونی اجزاء

  1. تختۂ ام (motherboard) یہ ایک ایسا تختہ ہوتا ہے کہ جس پرکمپیوٹر کے اہم ترین اجزاء یعنی سی پی یو اور یاداشت واقع ہوتے ہیں۔ (شکل ا: 2)
    شکل ب: این ویڈیا شرکہ کا تیار کردہ ایک تخطیطی بطاقہ (graphics card) جو GeForce 6600GT کہلاتا ہے۔
  2. عامل (processor) اسے مرکزی عملی اکائی اور مختصراً CPU بھی کہا جاتا ہے۔ (شکل ا: 3)
  3. یاداشت (memory)، یہ کمپیوٹر میں کیۓ جانے والے کام کو ذخیرہ کرنے کیلیۓ ایک برقی یاداشت کے طور پر کام آتی ہے۔
  4. تخطیطی بطاقہ (graphics card)، یہ ایک ایسی اختراع ہوتی ہے کہ جو تخطط (graphics) کے ساتھ ساتھ متن کو بھی ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، آج کل تقریبا تمام منظرہ بطاقات (video cards) اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ (شکل ب:)
  5. قرص کثیف (hard drive)، یہ زیادہ گنجائش (capacity) والا ایسا واسطہ (medium) ہوتا ہے کہ جو بیانات (data) کو ذخیرہ کرنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔ (شکل ا: 8)
  6. قرص مدمج (Compact Disc)، یہ ایک ایسی بصری قرص (optical disk) ہوتی ہے کہ جس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں مثلاً ؛ CD-ROM ، CD-RW، DVD-RAM ، رقمی منظری قرص ۔ (شکل ا: 7)

افعال کے لحاظ سے

یوں تو یک کمپیوٹر کے وہ حصے جنکے زریعہ وہ اپنے افعال انجام دیتا ہے وہ سارے اجزاء ہوتے ہیں جو کہ ایک کمپیوٹر میں موجود ہوں۔ مگر بنیادی طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ کمپیوٹر کے اہم افعالی حصے وہ ہوتے ہیں کہ جن کی مدد سے مرکزی عملی اکائی (CPU) اندرونی طور پر اپنے افعال انجام دیتي ہے اور یاداشتی پتے (memory address) تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔ ان فعالی اجزاء کو تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

  1. عمارت ہدایتی مجموعہ (instruction set architecture) :
  2. خورد معماری (microarchitecture) :
  3. نظامی طرحبندی (system design) :

کمپیوٹر کی تاریخ

کہا جاتا ہے کہ Jacquard loom کو تاریخ کی پہلی قابل برنامج (programmable) اختراع ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

کسی بھی ایک اختراع یا ڈیوائس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کمپیوٹر کی پہلی شکل تھی۔ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر کی تعریف تاریخ کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیل ہوتی رہی ہے اور اسی وجہ سے یہ ناممکن ہے کہ کسی ایک کمپیوٹر کو پہلا کمپیوٹر کہا جاسکے۔ مثلا کئی اختراعات جن کو کبھی کمپیوٹر تسلیم کیا جاتا تھا آج وہ کمپیوٹر تسلیم نہیں کی جاتیں۔

اصل میں کمپیوٹر کی اصطلاح تو ایک ایسے شخص کے لیۓ استعمال کی جاتی تھی کہ جو حساب کتاب رکھ سکتا ہو (دیکھیۓ انسانی شمارندہ) اور اکثر وہ شخص ایسا کسی ریاضیاتی اختراع مثلا حسابگر یا کسی اور بنیادی پیمائشی آلے وغیرہ کی مدد سے کرتا تھا یا ہے۔

کچھ آلاتی اختراعات ایسی بھی استعمال کی جاتی رہی ہیں جن کو کمپیوٹر کی انتہائی ابتدائی شکل یا اسکی جانب پیشرفت تو کہا جاسکتا ہے مگر انکو آج کی تعریف کے مطابق کمپیوٹر تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان میں کوئی قابل برنامج (programmable) طرز ناپید تھی۔ ان کی مثالوں میں گنتارا (abacus)، حسابی پیمانہ (slide rule)، اسطرلاب ، انٹیکتیرا آلیہ (antikythera mechanism) اور مسلمان سائنسدانوں کے بناۓ ہوۓ متعدد آلات بھی شامل کیۓ جاسکتے ہیں ، (دیکھیۓ مسلم سائنسدان

ذخیرۂ برنامج

اصل مضمون: کمپیوٹر


شمارندی برمجہ (computer programming) اور شمارندی برنامج (computer program)

ذخیرۂ برنامج (program storage) کسی بھی کمپیوٹر کی ہدایات اور پروگرامز کو ذخیرہ کرنے کی استعداد کو کہا جاتا ہے اور ایک کمپیوٹر کی سب سے اہم خصوصیت ہی یہ تسلیم کی جاتی ہے کہ اسکو برمجہ (programmed) کیا جاسکتا ہے۔ یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ ان آلات (کمپیوٹروں) میں ہدایات (پروگرامز) کی ایک فہرست کو ڈالا جاسکتا ہے اور یہ اسکو اپنے اندر ذخیرہ کرلیتے ہیں تاکہ مستقبل میں ان ہی کو استعمال کیا جاسکے اور بار بار یہ عمل دہرانا نہ پڑے۔


ایک جانب تو اکثر کمپیوٹروں کو دی جانے والی یہ ہدایات سادہ اور عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں: مثال کے طور پر کسی ایک عدد میں کوئی عدد جمع کرنا، کوئی ایک بیان (data) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا، کوئی ایک پیغام کمپیوٹر سے کسی بیرونی اختراع (device) تک بھیجنا وغیرہ۔ شمارندہ ان ہدایات کو کمپیوٹر یاداشت (memory) کی مدد سے پڑھتا ہے اور پھر انکا اس ہی ترتیب میں اجراء (execution) کرتا ہے کہ جس میں انکو دیا گیا ہو۔ دوسری جانب کمپیوٹر کو دی جانے والی ایسی ہدایات اختصاصی نوعیت کی بھی ہوتی ہیں مثال کے طور پر برنامج یا پروگرامز میں ایسی ہدایات کہ جو کمپیوٹرکو برنامج کے کسی ایک حصے سے چھلانگ (جست) لگا کر دوسرے حصے پر پہنچنے کا اور وہاں سے مزید کام شروع کرنے کا کہتی ہیں، ان کو جستی ہدایات (jump instructions) یا شاخیں (branches) کہا جاتا ہے۔ ایک اہم بات ان شاخوں میں یہ ہوتی ہے کہ یہ مشروط (conditional) ہوا کرتی ہیں یعنی اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہدایات کے مختلف متوالیات (sequences) کو اس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے کہ انکے فعل و نتائج کو گذشتہ کیۓ گۓ تجزیات و حسابات یا کسی بیرونی واقعہ کے ساتھ مشروط کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے کمپیوٹر براہ راست ذیلی معمول (subroutine) کو حمایت فراہم کرتے ہوۓ اس مقام کو بھی یاد رکھتے ہیں کہ جہاں سے انہوں نے کسی برنامج میں جست (jump) لگائی ہو اور پھر وہ ہدایت بھی یاد رکھتے ہیں کہ کب انہیں اس مقام پر واپس آنا ہے۔

اوپر جست کے تصور کو آسان انداز میں سمجھنے کیلیۓ یوں کہا جاسکتا ہے کہ جیسے کوئی قاری ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا ہو، وہ اگر ضرورت پڑے تو جست لگا کر کسی پچھلے صفحے پر واپس بھی آسکتا ہے اور اگر کتاب کا کوئی حصہ غیر متعلقہ محسوس ہو تو اسکو نظر انداز کرتے ہوۓ اگلے صفحات کی جانب بھی جست لگا سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح ایک کمپیوٹر بھی برنامج کے کسی گذشتہ حصے پر واپس جست لگا سکتا ہے اور وہاں سے اپنے اجراء کو ایک بار پھر دہرا سکتا ہے اسے کمپیوٹر کی زبان میں کسی بھی برنامج کا روانِ کار (flow of work) کہا جاتا ہے اور اسی خصوصیت کے باعث ایک کمپیوٹر انسانی عمل دخل کے بغیر بھی کوئی طے شدہ کام انجام دیتا رہتا ہے۔ عام طور پر اگر کوئی سادہ سا حسابی عمل ہو تو اسکو تو حسابگر (calculator) کی مدد سے باآسانی کیا جاسکتا ہے لیکن اگر حسابی عمل طویل اعداد سے متعلق ہو تو پھر اسکو اگر حسابگر یا روایتی طریقہ سے کیا جاۓ تو بہت اضافی وقت درکار ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر 1 تا 1000 تمام اعداد کی جمع کا عمل ہو تو اسکے لیۓ قریبا ایک ہزار سے زائد بار تو حسابگر کی گھنڈیاں دبانی پڑیں گی اور وقت بھی زیادہ درکار ہوگا ، لیکن ایک کمپیوٹر کو اگر ایک بار اس عمل کا تجزیہ کرنے کی ہدایات فراھم کر دی جائیں تو وہ انکو اپنے اندر ذخیرہ کر لیگا اور اگلی بار سے انہی کو استعمال میں لاکر یہ حسابی عمل انجام دے سکے گا جس میں چند لمحات ہی درکار ہوں گے۔ اس قسم کی ہدایات کا ایک نمونہ درج ذیل ہوگا۔


        mov      #0,sum            ; set sum to 0  
        mov      #1,num           ; set num to 1
loop: add      num,sum          ; add num to sum
        add      #1,num            ; add 1 to num
        cmp      num,#1000      ; compare num to 1000
        ble        loop                ; if num <= 1000, go back to 'loop'
        halt                             ; end of program. stop running

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تمام سرعت اور حسن کار کے باوجود کمپیوٹرہے ایک آلہ اور جو کہ خود کار طور پر منطق بھی لاگو نہیں کرسکتا اور سوچ بھی نہیں سکتا۔ مثال کے طور پر اوپر والے کام کی ہدایات کو پاکر ایک کمپیوٹر اس حسابی عمل کو شائد ایک ثانیۓ کے بھی کئی ہزار حصے سے قبل مکمل تو کردیگا [1] مگر وہ کبھی بھی اسی حسابی عمل کو کسی اور نسبتا آسان انداز میں کرنے کے بارے میں نہیں سوچے گا۔ جبکہ اگر یہی کام ایک انسان کو دے دیا جاۓ تو وہ اپنی سوچ استعمال کرتے ہوۓ یہی حسابی عمل کسی سہل طریقے سے انجام دینے کے بارے میں سوچ سکتا ہے، مثال کے طور پر وہ کوئی ریاضیاتی صیغہ استعمال کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے جس کو لاگو کر کہ یہی کام جلد اور سہولت سے انجام دیا جسکے، جیسے ایک انسان ہوگا تو وہ مندرجہ ذیل مساوات استعمال کرنے کا سوچ سکتا ہے [2]

1+2+3+...+n = {{n(n+1)} \over 2}

اور اس متبادل راہ کے استعمال سے انسان وہی درست جواب (500500) نکال لیتا ہے جو کمپیوٹر اوپر دی گئی ہدایات سے نکالے گا۔ بس یہ فرق (سوچنے کا) کمپیوٹر اور انسان میں ایسا ہے کہ جس کی بنا پر کمپیوٹر مکمل خود مختار نہیں ہوتے۔

کمپیوٹر پروگرام

1970ء کا ایک سوراخی بطاقہ (punch card) جو FORTRAN برنامج میں استعمال ہوا تھا۔
اصل مضمون: کمپیوٹر

شمارندی برنامج (computer program)

کمپیوٹر پر ہم جو بھی کام کرتے ہیں اسکے پیچھے ایک برنامج یا پروگرام موجود ہوتا ہے جس میں وہ ہدایات دی گئی ہوتی ہیں جن پر چل کر شمارندہ ہمارے مطلوبہ کام انجام دیتا ہے۔ یہ ہدایات مختصر یا درجن بھر سے ہزاروں تک ہو سکتی ہیں۔ عہد حاضر کا ایک کمپیوٹر ایک ثانیۓ میں ایک ارب ہدایات پر کام کرسکتا ہے یا انکا اجراء کرسکتا ہے اور برسوں اس عالجے (operation) میں کوئی ایک غلطی بھی نہیں کرتا۔

بڑے ش کمپیوٹر پروگرام کو تیار کرنے یا لکھنے میں شمارندی مبرمج (computer programmer) کی ایک پوری جماعت کو کام کرنا ہوتا ہے جس میں کئی سال لگ جاتے ہیں پھر بھی اس بات کا امکان باقی رہ جاتا ہے کہ شائد پروگرام توقعات کے مطابق کامل نہ ہوسکا ہو اور اس میں کوئی خامی رہ گئی ہو۔ اور اس طرح کی کوئی خامی جو کہ کسی کمپیوٹر پروگرام میں اسکی تیاری کے دوران رہ گئی ہو اسے کھٹمل (bug) کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ کھٹمل ایسے ہوتے ہیں کہ انکی موجودگی کے باوجود پروگرام کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ایسے کھٹملوں کو حلیم (benign) کہا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری صورت ایسے کھٹملوں کی ہوتی ہے کہ جن کی موجودگی کسی بھی برنامج کو مکمل طور پر ناکارہ اور منہدم (crash) کردیتی ہے۔ کھٹمل ، شمارندے کی کوئی خرابی نہیں ہوتی بلکہ یہ کمپیوٹر برنامج میں رہ جانے والی کوئی خامی ہوتی ہے۔

کمپیوٹر میں انفرادی ہدایات ، ایک آلی رمز (machine code) کی صورت میں موجود ہوتی ہیں اس طرح کہ ہر ہدایت کو ایک مخصوص عدد دیا گیا ہوتا ہے جسکو اسکا عالجہ رمز (operation code) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر دو اعداد کو جمع کرنےکی ہدایت کے لیۓ ایک الگ عالجہ رمز ہوگا اور ان کو آپس میں ضرب دینے کی ہدایت کیلیۓ ایک الگ عالجہ رمز ہوگا۔

چونکہ شمارندی یاداشت اعداد کو ہی ذخیرہ کرتی ہے اس لیۓ یہ ہدایات بھی اعداد میں ہی دی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے تمام شمارندی برنامج (یعنی ہدایات کا مجموعہ) دراصل ایک قسم کا اعدادی بیان ہی ہوتا ہے۔ کمپیوٹر میں یہ برنامجات کا ذخرہ ان بیانات (data) کے ساتھ بھی رکھا جاسکتا ہے کہ جن پر عمل کر کہ وہ کمپیوٹر کام کرتا ہے اسے اِشکالِ فون نیومان (crux of the von Neumann) سے تشبیہ دیتے ہیں۔ بعض اوقات ان برنامجات کیلیۓ بیانات سے الگ جگہ مخصوص ہوتی ہے اور ایسی صورت میں اسے ہاورڈ مارک 1 کمپیوٹر کی مناسبت سے تعمیر ہاورڈ (Havard architecture) کہا جاتا ہے۔

گویا کہ شمارندی برنامجات (کمپیوٹر پروگرامز) کو اعداد کی ایک طویل فہرست کی صورت میں بھی لکھا جاسکتا ہے جسکو آلاتی زبان (machine language) کہتے ہیں اور ایسا پرانے شمارندوں میں کیا جاتا تھا۔ مگر یہ ایک بہت تھکا دینے والا کام ہوتا ہے جسے آج کل کے پیچیدہ کمپیوٹر میں انجام دینا نہایت دشوار گذار ہے ، اس مشکل پر قابو پانے کے لیۓ ایک اسم حفظی (mnemonic) کی طرز پر ایک طریقہ اپنایا گیا جس میں کسی بھی ایک قسم کی کمپیوٹر ہدایت کیلیۓ کوئی ایک لفظ چن دیا جاتا ہے ، مثال کے طور پر ADD, SUB اور JUMP وغیرہ کے اسم حفظی۔ اور ان اسماء حفظی کو جو شمارندی برنامج لکھنے کے لیۓ استعمال کیۓ جاتے ہیں ، اجتماعی زبان (assembly language) کہا جاتا ہے۔ اب اسکے بعد ہوتا یوں ہے کہ اجتماعی زبان میں برنامجات (programs) کو لکھ کر ایک مصنع لطیف (soft ware) کے زریعہ آلاتی زبان میں تبدیل کر لیا جاتا ہے تاکہ ایک کمپیوٹر اس کو سمجھ لے اور اس قسم کی تبدیلی کرنے والا برنامج ، اجتماع ساز (assembler) کہلایا جاتا ہے۔

حوالہ جات و تبصرے

  1. ^ یہ برنامج ایک PDP-11 نامی چھوٹے کمپیوٹروں کیلیۓ بنایا گیا تھا جو کہ ایک کمپیوٹر کے مثالی افعال کا ایک خاکہ پیش کرتا ہے۔ واوین منقوطہ کے بعد کی تحریر انسانی امداد کیلیۓ فراھم کیا گیا تبصرہ ہے جسکو کمپیوٹر نظر انداز کردیتا ہے۔
  2. ^ ایسی کوششیں بھی کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں کہ جو کمپیوٹروں کی اس کمی (خود سوچنے کی) کو پورا کرسکیں اور اس سلسلے میں مصنع لطیف اور برنامج بنانے کی پیش رفت حیات اصطناعی کے شعبے میں آجاتی ہیں۔







شمارِندہ (computer) - شمارندیات (computer science) - شمارندکاری (computing)

شمارندگی (computation) - شمارندیت (computerization)


شمارندہ اور انٹــرنیٹ میـں شــامل دیگــر ذیـلی شعـبہ جات
مصنع لطیف | شکلبندی | مصنع کثیف | شمارندہ کے ہنر | رقمی معاون ذاتی | شبکۂ معلومات | برنامہ نویسی