کھٹمنڈو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کھٹمنڈو ( نیپالبھاشا:येँ, انگریزی:Kathmandu ) نیپال کا سب سے بڑا شہر اور دارلحکومت ہے۔ دریائے باگمتی کے کنارے پندرہ لاکھ آبادی کا یہ شہر، شہری اور نیم شہری آبادی پر مشتمل ہے۔ شہر دریا کے ساتھ وادی میں آباد ہے جہاں دو مزید شہر پٹن اور بھگت پور واقع ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

خیال ہے کہ کٹھمنڈو کی وادی 900 سال قبل مسیح میں آباد ہوئي ہو گی جہاں سے کئی سو سال قبل مسیح کی اشیاء دستیاب ہوئی ہیں، اور 185ء کی تحریریں بھی دستیاب ہوئی ہیں۔ سب سے پرانی عمارت تقریبا ایک ہزار سال پرانی ہے۔ خیال ہے کہ چھٹی صدی عیسوی میں بدھ اور اس کے پیروکار آج کے پٹن کے علاقہ میں آباد تھے، جس کا بہرحال کوئ ثبوت دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔ پٹن کے گرد چار سٹوپا کے بارے میں خیال ہے کہ یہ تیسری صدی قبل مسیج میں مورین بادشاہ اشوکا نے تعمیر کیے تھے۔ بدھ کی کہانیوں کی طرح اشوکا کے بھی وہاں آنے جانے کی کہانیاں مشہور ہیں لیکن ثبوت دستیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن سٹوپا کے تیسری صدی قبل مسیح یا اس کے لگ بھگ کی تعمیر لگتے ہین۔ کیرانٹ کھٹمنڈو کی وادی کے پہلے حکمران ہیں جن کے بارے میں دستاویز دستیاب ہیں۔ ان کے محل کے باقیات پٹن کے قریب ہرنیاوارنا مہاویہارا میں موجود ہیں جس کو پاتوکودون کہتے ہیں۔ لچھاوی حکمران جنکی تحریریں 464ء کی ہیں کیرانٹ کے بعد دوسرے حکمران تھے اور جن کے ہندوستان کے گپتا حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ مالا حکمرانوں نے نیپال پر بارہویں صدی عیسوی سے سترہویں صدی تک حکومت کی جن سے کھٹمنڈو کی یہ وادی شاہ حکمران خاندان کے پرتھوی نارائن شاہ نے فتح کی اور موجودہ نیپال کی بنیاد رکھی۔ کٹھمنڈو میں موجود زیادہ تر تاریخی عمارات مالا دور حکومت کی ہیں۔

روایات کے مطابق ما‍ضی میں علاقہ ایک جھیل پر مشتمل تھا جس کا پانی شاکیامونی بدھ کے پیروکار منجوشری نے جنوب میں ایک چٹان کاٹ کر بہا دیا تھا اور اس طرح علاقہ میں رہنے کے لیے جگہ دستیاب ہوئی۔ موجودہ نام کا ماخذ واضح نہیں ہے لیکن خیال ہے کہ اس کا نام کشتہ (کاٹھ) منڈپ سے نکلا ہے جس کا مطلب سنسکرت میں لکڑی کا مندر ہے۔

موجودہ شہر[ترمیم]

کھٹمنڈو کی موجودہ وادی میں تین شہر ہیں۔ کھٹمنڈو، دریائے باگمتی کے جنوب میں پٹن اور بھگت پور۔ کھٹمنڈو اور پٹن ایک ساتھ دریا کے دونوں طرف کنارے کنارے چلتے ہیں جبکہ بھگت پور مشرقی طرف پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ پٹن میں کئی غیر ملکی رہتے ہیں اور وہاں ہی غیر ملکی امدادی ایجنسیوں کے دفاتر بھی ہیں۔